شربتی آنکھیں

اللہ جانے کیوں، کئی مہینوں سے شربتی آنکھوں کا فکرہ  ذہن میں آتا ہے۔ کچھ شرارتی خیالات بھی آئے، لیکن پھر ہم اِس موضوع پر لکھنا بھولتے رہے۔ قصہ یہ ہے کہ جامِ شیریں کا دور دورہ تھا اور رمضان کے بعد بھی خوب رہا۔ روزانہ دودھ میں ڈال کر، یا شربت بنا کر۔ پھر شربت کے لفظ سے شربتی، اور آنکھوں میں کچھ تکلیف تھی، تو دونوں کو ملا کر، شربتی آنکھوں کا خیال آیا۔ آنکھیں شربتی کیسی ہوتی ہیں، کسی دیوی سے پپوچھئے۔ بس کسی شریف سے نہ پوچھئے  گا۔

جب ہم چھوٹے تھے، یہی کوئی 40 سال پہلے، صرف ایک ہی شریف ہوا کرتی تھیں، بابرا شریف۔ اُن دِنوں اِن کا ذکر تب آتا جب ہم پاکستان جایا کرتے، یا پھر کبھی کسی مزاحیہ اداکار نے اِن کا نام لیا ہوتا۔ ٹی وی پر اُنہیں دیکھتے اور سوچتے کہ اتنی مشہور کیوں ہیں۔ ہمیں تو صرف اپنے پیارے آبائ گھر مبارک منزل میں کھیلنے کودنے سے لگاؤ تھا۔ اب سوچتے ہیں تو بابرا، ٹی وی پر پہلی شریف تھیں۔ اور حسین بھی۔

کہاں سے، لیکن اگر اِس ملک نے کوئی مسخرہ شریف پیدا کیا تو وہ عمر شریف۔ لوگ اِن کے لئے لفظ چھچھورا استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ ظلم ہے۔ عمر بھائی نے ہمیشہ اچھی بات کی۔ کافی باتیں دینی بھی وہ کہہ جاتے تھے، اور وہ وزن رکھتی تھیں۔ آنکھوں کے بارے میں ایک اینکر کو کہا، بیٹے یہ آنکھیں نکلوا دو، آنکھیں نہیں ہوں گی تو یہ گناہ بھی نہیں ہوں گے۔ اینکر ہنستے ہی رہے، اور مشکل سے ہنسی روکی۔

رفتہ رفتہ ملک کو شرافت نے لپیٹے میں لے لیا اور  شرافت کا ایک انوکھا دور آیا۔ اِس نے پنجاب کو خوب متاثر کیا۔ ہمپٹی ڈمپٹی اور لِٹل بَائے بُلو نے شرافت نیلام پر لگا دی، اور پھر خوب بکی۔ دنیا کی کشش کو ٹھکرانے والے حکومتی ملازم اِس ملک نے پیدا تو کئے ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ملک کی پہلی کھیپ، گزر گئی۔ پھر اگر کوئی شریف تھا، تو کوئی شرافت کا پیروکار۔ دولت کی کشش کو ٹھکرانے والے، حکومت میں کچھ کم رہ گئے۔

عمر شریف چلے گئے۔ آخری دنوں میں اللہ کو کافی یاد کیا۔ ہم سوچتے ہیں کہ قیامت کے دن عمر شریف صاحب جب اُٹھیں گے تو فرشتوں کو دیکھ کر معین اختر صاحب سے پہلا جملہ کیا کہیں گے۔ ‘معین بھائی، معین بھائی، اِن سے کہو حوریں دکھا دیں۔’ اور پھر اپنے انداز میں چیخ پڑیں گے، ‘ارے کوئی حوریں دکھا دو!’ معین اختر صاحب انور مقصود صاحب کی طرف دیکھیں گے کہ اِسکرپٹ تو لیا نہیں کھڑا۔ پھر کہیں گے، آج بھی ایک ایک لفظ بُلواؤ گے؟ اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟ جواب آئے گا، بول لیجیے، آج میری بولتی بند ہے۔

سانس اندر کھینچیے، گالوں کو اندر دبائیے۔ ناک کو سیدھا کیجیے، ایسے کہ ناک کی نوک پر کھینچاؤ پیدا ہو۔ اب آنکھوں کو بھینچیے اور سامنے والے کی طرف نفرت سے دیکھئے۔ یہ شرافت کی اگلی کھیپ ہے۔ جس نے اپنے بزرگوں کی سیاست دھبرڈوس کر دی۔ یہ شربتی آنکھیں نہیں، شَر بھری آنکھیں ہیں۔ ایک شریف زادی کی۔ اِن آنکھوں سے بچ کے رہیے گا، کہیں سئو موٹو ہی نہ لے لیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں اِس وقت لوگوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہوں۔ کسی ہوشیار نے یکدم مذاق کرتے ہوئے کہا کہ جنوں کی طرح۔ کہ جن بھی انسان کے خون میں دوڑتے ہیں۔ ہم نے دل میں سوچا کہ پھر نعرے کیوں نہیں لگاتے، ایسا خون نہ منظور۔ جنوں کے ساتھ اگر عمران خان خون میں دوڑ رہا ہے تو کیا ہی بات ہے۔ خون لہو بن کر پھٹ پڑے گا۔ یہ جِن ؤ  ٹَانِک ضرور لیجیے گا۔

کسی نے خواہش کی کہ عمران خان کو پھانسی کی سزا سنا دی جائے۔ آئے ہائے ہائے! وہ غالب نے کیا کہا تھا کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ ملک کا دم نکل رہا ہے اِس چوتھے جبری نکاح سے۔

آنکھیں ہوں تو ہیما مالنی جیسی۔ شیخ رشید صاحب کی آنکھیں آج کل گِری گِری ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ یہ سمجھ گئے ہیں کہ اِس بار آنکھوں میں بہار نہیں آئے گی۔ سیٹ ہار جائیں گے اور سیاست بھی۔ ویسے کافی کمزور بھی لگ رہے ہیں کئی مہینوں سے۔ کپتان کے لئے ۱۹۹۲ کی ٹیم کے سلیم ملک ثابت ہوئے۔

کپتان کو سزا ملی، دس اور چودہ سال کی۔ پھانسی کی خواہش رکھنے والے اپنا بندوبست کریں۔ خان کچھ کر لے، پھر پھانسی دے دیجیے گا۔ کوئی قتل شتل، کوئی مارا ماری، کوئی غداری وداری، پھر خوشی سے۔ آپ کے پاؤں پر  یارکر مارنے اور منہ کے بل گرانے کے لئے نہیں۔ ۱۹۸۴ کی فلم، انقلاب میں چیف منسٹر امر (امیتابھ بچن) ساری کابینہ کا مشین گن سے صفایا کر دیتے ہیں۔ اب ہم سمجھے کہ خان صاحب پارلیمنٹ کیوں نہیں جایا کرتے۔ مووی یاد آتی ہو گی۔

نواز شریف ہر شہر میں ایئرپورٹ بنانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کی ۲۵۰ ملین کو چُھوتی آبادی کے لئے  پورے ملک کی ایئرلائنز کے پاس مر مر کے کوئی چالیس کے قریب جہاز ہیں۔ اِن میں سفر کرنے کا پیسہ کوئی پانچ فیصد آبادی کے پاس ہو گا؟ اِس ملک کے عام آدمی کو ایئرپورٹ نہیں چاہیے۔ جہاز میں آپ چڑھ کر واپس چلے جائیں، یہ اُس کو منظور ہے۔

آنکھیں تو ٹرمینیٹر کی ہیں۔ سرخ، گول گول اور آپ کے اندر جھانکتی ہوئی۔ اِن کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اِن آنکھوں کے پیچھے کوئی روح نہیں۔ ایک بے روح، انسانی شکل کے مشینی ڈھانچے کی، جن کا مقصد اپنا مقصد پورا کرنا ہے، انسانیت کی حقیقی موت۔ ہمارے ہاں ایسی کئی آنکھیں ہیں۔ بدروح، بد رَو اور بدفعل۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ انسان ہیں، چلتے پھرتے ڈھانچے۔

ایک لمبے چوڑے، قدآور، انگریزی کوٹ پہنے، ماسک لگائے، مِسٹر ایکس نے ایک موٹر سائیکل پر اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ بیٹھے عام پاکستانی سے جھنڈا چھینا چاہا۔ جھنڈا آدھا پی ٹی آئی کا اور آدھا پاکستان کا۔ اِس سے زیادہ پاکستانی جھنڈا آج کونسا ہو سکتا ہے؟ چلیے، موٹر سائیکل پر صاحب نے جلدی سے جھنڈا اپنی اہلیہ کو دیا لیکن مِسٹر ایکس نے جھنڈا جھپٹنا چاہا۔ اِس سب میں، موٹر سائیکل گری، اور سوار کی اہلیہ اور بیٹی بھی۔ وہ دونوں اُٹھنے لگے کہ جھنڈا اب چار ہاتھوں کے بیچ کھنچنے لگا، جھولنے لگا۔ موٹر سائیکل والے نے نقاب پوش کے چہرے پر ہاتھ ڈالنا چاہا تو جیسے مِسٹر ایکس پُھس ہی ہو گئے۔ اور جھنڈا جھنڈے والے کے ہاتھ واپس آ گیا۔ اِرد گِرد لوگوں نے بھی جھنڈے والے کی مدد کی۔ یہ ویڈیو ہم نے بار بار دیکھی۔ اِس جھنڈا بردار عام پاکستانی نے بتا دیا کہ دِل والے جھنڈا لے جائیں گے۔ تم کَٹ لو گُلجیت۔

ایک دن آئے گا جب عمران خان جیل سے باہر نکل کر حقیقی آزادی کی پہلی سانس لیں گے۔ اُس دن پاکستان کی آب و ہوا اور ہو گی۔ ویسی کہ جب جناح ۱۹۴۷ کراچی آئے تھے۔ ہم ناشکروں کو اللہ نے اتنے بڑے لیڈر دئے اور ہم ہیں خود غرض، بُزدل، بے ایمان۔ ایمان وہاں سے پھوٹتا ہے جہاں سے روشنی کی نئی کرن پھوٹنی ہو۔ تنخواہ، بینک بیلنس، بچت، جائداد، وراثت، اور فرنگی پاسپورٹ سے نہیں۔

إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ —  یہ اللہ کا کلام ہے۔ یہ ایمان ہے۔

شربت سا میٹھا، آنکھوں سا نم۔

ترجمہ: ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے —  بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

2 thoughts on “شربتی آنکھیں”

Leave a Comment