ایک دفعہ کا ذکر ہے، کسی ملک میں، کہیں دور، ایک بادشاہ کو اپنے کئی جائز اور کچھ نہ جائز کاموں کے لئے، ایک وزیرِ اعلیٰ کی ضرورت پڑی۔ بادشاہ اور اُس کے چیلوں نے کئیوں کو ٹول، ٹھٹول کر، ہمپٹی ڈمپٹی پر آمادگی کا اظہار کیا، اور اُسے اپنی سلطنت کا پہلے وزیرِ اعلیٰ، اور پھر وزیرِ اعظم بنا دیا۔
ہمپٹی ڈمپٹی کی معصومیت ایسی تھی کہ جو اُسے دیکھتا، اُس کا ہی ہو جاتا۔ جو نہ دیکھتا اُسے، ہمپٹی اپنے کئی تحائف، احسانات اور چاپلوسی سے قائل کر لیتا۔ چَلو یون وقت گزرتا گیا اور آہستہ آہستہ، ہمپٹی کا اثر و رسوخ سلطنت کے کم و بیش اکثر علاقے پر چھا گیا۔ اگر بادشاہ کوئی چیز تھا، تو ہمپٹی بھی ایک چیز تھا۔
وقت کچھ ایسا گزرا کہ جب ہمپٹی نے جانا کہ بادشاہ کی ساری طاقت اُس کی فوج میں ہے تو اُس نے فوج میں ہی کچھ کھیل کھیلنا شروع کیے۔ وہ چاہتا تھا کہ اگر طاقت کا سرچشمہ فوج ہے، تو کیوں نہ دوسرے ریاستی اداروں کی طرح، اِس میں بھی اپنے کچھ وفادار ڈھونڈے۔ ایسے کھلاڑی جو ہمپٹی ڈمپٹی کی آنی جانی حکومت کو، ایک بار ہمیشہ کے لئے قائم دائم کر دیں۔ اور پچھلی صدی کے آخری سالوں میں، وہ ایسا کرنے کے کافی قریب آ گیا۔
کیونکہ بادشاہت ہمیشہ فوج ہی کے کسی نہ کسی کی رہی، تو ہر بار کی طرح، جب کوئی وزیرِ اعظم اپنی لائن سے باہر نکل کر کھیلتا، تو امپائر فوراً اُسے کسی نہ کسی بے معنی انداز سے آؤٹ دے دیتا۔ ہمپٹی کئی بار بادشاہ کو للکار چکا تھا، ایک بار اُس کی حکومت بھی ختم کر دی گئی تھی، لیکن، اگر ملک میں کسی کا ڈنکا تھا تو وہ ہمپٹی۔ اُسے اگر کسی نے کبھی ہرایا تھا تو وہ لِٹل بو پیپ نے، جو ایک گئے زمانے کے وزیرِ اعظم کی بیٹی تھی۔ لاڈلے وہ بھی بادشاہ کے رہے تھے۔
ہمپٹی ڈمپٹی اور لِٹل بو پیپ جب بادشاہی حکومت کو ایک کے بعد دوسرے چلا رہے تھے، تو اُن کے بیچ، ایک جَیک نامی لڑکے نے اپنی گائیں بیچ کر مٹُھی بھر جادُوئی پَھلیاں خرید لین۔ وہ ہر کچھ سال اِن کچھ پَھلیوں سے ایک آت کو بوتا رہا اور آہستہ آہستہ اِن پَھلیوں کے ڈنٹھل آسمانوں تک پہنچے لگے۔
قصہ یہ ہے کہ ہر ڈنٹھل سے ایسی برکت پھوٹی کہ جَیک کا نام دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔ کوئی ایسا نہ تھا جسے اِس لڑکے، اُس کی کہانی، اور اُس کے اِن ڈنٹھلوں کی برکت کا علم نہ تھا۔ وہ جہاں جاتا، اُس کی شان کیا ہی ہوتی۔
پھر جَیک کی زندگی بدل گئی۔ ہمٹی اور بو پیپ کے چیلوں نے سلطنت کا جو حال بگاڑا، جَیک سے دیکھا نہ گیا اور اس نے اِن دو بڑے دیؤں کے سایے میں، اِس سلطنت کو بچانے کے لئے اینٹیں لگانا شروع کیں۔
سال ہا سال وہ اپنے کچھ دوستوں اور چاہنے والوں کے ساتھ اینٹیں لگاتا رہا، جو کوئی اِس نیک کام کو دیکھتا، اور سمجھ رکھتا، وہ جَیک کے ساتھ شامل ہو جاتا۔ وقت کے ساتھ کچھ لوگ، کئیوں میں بدل گئے، پھر سمندر کی لہروں میں، اور پھر ساری سلطنت اُٹھ کھڑی ہوئی، اینٹیں لگانے کو۔
لِٹل بو پیپ کو وقت کے ایک اُداس موڑ پر، بِگ بیڈ وولف کھا گیا۔ اِس نے پہلے بھی ملک کے نامور وزراءِ اعلیٰ کو کھایا چبایا۔ اسِے جو چاہے معاف کر دے، اِس کا رَب معاف نہیں کرے گا۔
جَیک کی دیوار اتنی اونچی ہوئی کہ دیکھنے والوں سے رہا نہ گیا۔ بادشاہ کا دل بھی ایک وقت موم ہو گیا اور اُس نے ہمپٹی کو ہٹا کر جَیک کو ہی ملک کا وزیرِ اعظم بنا دیا۔ ہمپٹی کے ہوتے ہوئے، کوئی اور ملک کا وزیرِ اعظم؟ لو، وہ جنگ شروع ہوئی جو کبھی ہمپٹی اور لِٹل بو پیپ میں نہ ہوئی تھی۔
جَیک سلطنت کے حال کو بگاڑنے والوں کے پیچھے لگ گیا، اُس کی حکومت کمزور، ہر محکمے میں ہمپٹی کے چیلے، اور جَیک، کہ اُسے یہ نہ دِکھے کہ ہمپٹی چال کیا کھیل رہا ہے۔ اللہ الحق ہے، اِس نعرے کے ساتھ جَیک کام کرتا رہا۔
سلطنت انگڑائی لینے لگی* اور ملک کی عزت اور وقار میں وہ کِرن پھوٹی، جو شاید کئی صدیوں میں دیکھی نہ گئی تھی۔ پھر یَک دم بادشاہ کی آنکھ کھلی۔ اُس نے دیکھا کہ جَیک نے دنیائی طاقتوں کو یوں للکارا جیسے کہ یہ اُس کا مقام تھا۔ کچھ لمحوں کو بادشاہ کو اپنی بادشاہی جاتی نظر آئی۔
ہر کہانی میں ایک سوتا شہزادہ ضرور ہوتا ہے۔ لِٹل بوئ بلو نے جب اپنے بھائی ہمپٹی کو جاتے دیکھا اور ہمپٹی کے کئی پیتروں کو ناکام ہوتے دیکھا، تو اُس نے بادشاہِ اعظم، دِی پائیڈ پائپر سے بات کی، کہ جَیک اور اُس کے تمام چوہوں سے جان چُھڑوائے۔
پائیڈ پائپر نے ملک اور بیرونے ملک اپنی بے سُری دھن بجانی شروع کی اور یہ وقت آ گیا کہ اُس کی دھن نے سارے ملک کو گھٹنوں پر لگا دیا۔ جَیک کو ایک ایسے موڑ پر ہٹا دیا گیا جب سلطنت سنبھل رہی تھی۔ لِٹل بوئ بلو اور اُس کے ٹولے نے مل کر، گرتی سلطنت کو سنبھالنا چاہا، لیکن یون گری کہ ٹھوڑی پر چوٹ کھائی۔
جَیک نے بہت شور مچایا۔ پائیڈ پائپر آپے سے باہر ہو گیا، اُس نے چاہا کہ وہ منظرِ عام پر چھا جائے، لیکن جَیک اور اُس کی دیوار کے پار نہ جا سکا۔ انہی دنوں بِگ بیڈ وولف نے بھی جَیک کو کھانے کی کوشش کی، لیکن ناکام ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ اُس دن اللہ کا ایک فرشتہ کام کر گیا۔ جَیک بچ گیا، اور اُس کی قوم صدمے میں چلی گئی۔
بِگ بیڈ وولف رُکا نہیں، اُس کا معمول تھا کہ اگر خون نہ ملے تو ایسا پینترا لگاؤ کہ جَیک کے اپنے ہی اُسے کھا جائیں۔ لیکن جَیک، جَیک تھا، وہ جو کر سکتا تھا کرتا رہا، ملک کے لیے، اُس کے ننھے منہے بچوں کے لیے۔ لیکن بِگ بیڈ وولف نے جَیک کو ایک دن ایسے جکڑا کہ ساری سلطنت باہر آن پڑی۔ اِس بیچ بِگ بیڈ وولف اور اُس کے چیلے بھیڑ کے لباس میں باہر نکلے اور بادشاہ کی فوج پر حملہ کر دیا۔
پھر ہر دن ایسا گزرا کہ جیسے ایک بھاری سال ہو۔ کِسی کا لہو گرا، کِسی کا دُپٹا۔ جَیک کو سلطنت کے آلی جناب اولڈ کِنگ کول نے رہا تو کیا، لیکن جھوٹ کی آگ نے جَیک کو لپیٹ لیا اور بادشاہ کی فوج نے جَیک کے چاہنے والوں کو۔ اِس آگ نے دِلوں کو جُدا کیا، اور جَیک کی دیوار کو ریزہ ریزہ کرنے کی مہم شروع ہوئی۔
کتاب میں جتنے گُر ہیں، سب آزماۓ گئے۔ جَیک تم ملک چھوڑ دو، جَیک تم اِس دیوار کی رکھوالی کسی اور کو دے دو۔ جَیک تم اپنے ڈھنڈلوں پر چڑھ کر ہمیں اوپر جانے دو۔ جَیک یہ کرو، یہ نہ کرو، جَیک ڈر جاؤ، جَیک تم مر جاؤ۔ جَیک نے ہر دم یہ کہا کہ، اللہ تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔
آج جَیک قید میں ہے۔ پائیڈ پائپر کی جگہ، دِی ایمپرر نے لے لی ہے۔ لِٹل بوائی بلو کے دئے کپڑے اتنے حسین ہیں کہ ایمپرر کی آنکھوں کو اُن کی چمک نے چُندیا دیا ہے۔ اگلے انتخابات سر پر ہیں۔ بادشاہ کی اگر سلطنت ہوا کرتی تھی تو وہ آج نہیں۔ آج جَیک کی دیوار اِس سلطنت کے چاروں طرف حائل ہے۔ کریں تو کیا کریں۔ ہمپٹی کو لے آئیں؟
اِس سب کے بیچ مَیری بھی ہے، جس کا باغ اُجڑ چکا ہے، سجاوٹ اور نوکرانیاں ابھی بھی باقی ہے۔ یہ ہمپٹی کو واپس لانا چاہتی ہے، کہ آئے اور انتخابات میں جَیک کو کیا، بادشاہ خود کو شکست دے۔ لیکن جَیک کی دیوار کا معاملہ ہے۔ اِسے کون پار کرے۔
کیا ہمپٹی واپس آئے گا؟ کیا جَیک اپنے آخری جادُوئی ڈھنڈل پر چڑھ کر اُن خزانوں کو ڈھونڈ لائے گا جس کا اِس کی سلطنت کو انتظار ہے؟ کیا کوئی بچہ ایمپرر کو حقیقت دکھا سکے گا؟ جائیے، یہ سب غیب کی باتیں ہیں، ہمیں تو صرف یہ پتا ہے کہ:
ہمپٹی ڈمپٹی دیوار پر بیٹھا،
ہمپٹی ڈمپٹی ڈھرام سے گرا۔
تمام بادشاہ کے گدھے اور تمام بادشاہ کے احمق،
لا نہ سکے پھر، ہمپٹی کی جَھمک اور تَمق۔
* This phrase was first used by Pakistan’s former Foreign Minister, Shah Mahmood Qureshi in one of PTI’s massive public gatherings.
For a quick recap of the rhymes and tales mentioned, explore: Humpty Dumpty, Little Bo Peep, Jack and the Beanstalk, The Big Bad Wolf, Little Boy Blue, The Pied Piper of Hamelin, The Emperor’s New Clothes and Mary, Mary, Quite Contrary.
