اسٹوڈیو چودہ

August 14, 2023

آج چودہ اگست کا دن ہے۔ ایک سنجیدہ مضمون لکھتے ہوۓ انور مقصود صاحب اور معین اختر صاحب مرحوم کا خیال آیا۔ پھر کچھ شرارت سوجھی تو یہ مکالمہ لکھنا شروع کیا۔

معین اختر صاحب ٹیبل پر ایک کالا ماسک پہنے بیٹھے ہیں اور ایک کالی ٹی شرٹ پھن رکھی ہے، جس پر ایک بڑا سا X چھپا ہوا ہے۔ انور مقصود صاحب اِن کے سامنے بیٹھے ہیں اور ایک زبردست سُوٹ پہنے ہوۓ ہیں۔ پیچھے دیوار پر لکھا ہے اسٹوڈیو چودہ، جو ایک نۓ چینل پر نیا شو ہے۔

انور: (کیمرے میں دیکھتے اور مُسکُراتے ہوۓ ) چودہ اگست…
معین: تو؟
انور: آج چودہ اگست ہے۔
معین: ہر سال ہوتی ہے۔
انور: اِس سال بھی ہے۔
معین: چِکنا اندر ہے، اِس لئے تڑپ رہے ہو؟
انور: آپ کیا کہ رہے ہیں؟ ٹیوی پہ لائیو ہے شو۔
معین: کوئی نہیں دیکھ رہا تمہارا ٹیوی۔
انور: لوگ دیکھ رہے ہیں، شو۔
معین: تمہارا شو نہیں دیکھ رہے، ہمارا شو دیکھ رہے ہیں۔
انور: کیوں نہیں دیکھ رہے لوگ ٹیوی؟
معین: سب X پر ہیں۔
انور: کیا فالتو بات کر رہے ہیں آپ۔
معین: X سب کا باپ X، بار بار X۔
انور: شو پر پابندی لگ جائے گی۔
معین: چِڑ گئے؟ اب صرف X۔
انور: آپ ٹویٹر کی بات کر رہے ہیں؟
معین: بات تم کر رہےہو، ہم صرف X۔
انور: یہ X سے اتنی قُربت کیوں؟
معین: (مُسکُراتے ہوۓ ) چکنا X، ورکر X، پارٹی X …
انور: (منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے) یہ کیا بات ہوئی؟
معین:  کہانی X۔
انور: عمران X ہو گۓ؟
معین: ایسے ویسے X، (آواز نکالتے ہوئے، اور پستول کا نشان بناتے ہوۓ) ٹھیشوں!
انور: ملک کے لیڈر ہیں وہ۔
معین: ملک بھی X۔
انور: (غصے میں) آج چودہ اگست ہے۔
معین: و اور ہ ہٹا دو، الف لگا دو۔
انور: (اچھمبے میں، کچھ کہ نہیں پاتے۔)
معین: X — اب بولو بچو، ہو گئی نہ بولتی بند۔
انور: عوام پُرجوش ہے، منائے گی یہ دن۔
معین: عوام X۔
انور:(خفا ہو کر) پیشہ کیا ہے آپ کا؟
معین: جانتے تو ہو تم، اِسی لئے بُلایا ہے تم نے۔
انور: آپ نے پروگرام سے پہلے کہا، میں X میکر ہوں۔
معین: ویڈیو چل جاۓ گی تمہاری، اور تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔اب سمجھ گئے، X میکر؟
انور: نہیں، میں کچھ نہیں سمجھا۔
معین: A سے لے کر بات جب W تک سمجھ نہ آئے ، تو X، پھر Y، پھر Z، عزت، وقار، چادر، چار دیواری، سب X۔
انور : انگریزی حروف کیوں؟ اُردو کیوں نہیں۔
معین : انپڑھ، جاہل، غریب، بھیک منگے۔
انور : آپ زبان سمبھال کر بات کریں۔
معین : تم نہیں، وہ سب۔
انور : وہ سب کون۔
معین : رعایا۔
انور : یہاں کوئ بادشاہت نہیں۔
معین : (بُری طرح ہنستے ہوۓ) کیا عمر ہو گئی ہے تمہاری، ہیما مالینی؟
انور : (کوفت کھاتے ہوۓ) وہ چھوڑیے۔
معین : ہماری بادشاہت ہے۔
انور : آپ کی…؟ آپ کون ہے بتائیں۔
معین : X۔
انور : اردو میں X کا کوئ مترادف نہیں۔
معین : تم ژ سے کام چلا لو، اردو میڈیم۔
انور : آپ ژ ہیں؟
معین : ہاں X، ژ۔
انور : کیا ہے X؟
معین : جب بس نہ چلے، ہمارے پاس آ جاؤ، جسے چاہو گے اُسے دو منٹ میں X۔
انور : X؟
معین : اپنے ننھے منُے ذہن پر زور دو، میان انور۔
انور : آپ کِنگ میکر ہیں؟
معین : لیفٹ رائیٹ،لیفٹ رائیٹ، پاجامہ ڈھیلا ٹوپی ٹائیٹ۔ جب کِنگ نہ مانے، نہ سنے، مَن مانی کرے، جب چاہو، X۔
انور : یہ X کیا ہے؟
معین : ژ بول جاہل۔
انور : ذرا تمیز سے، شو لائیو جا رہا ہے۔
معین : شو لائیو ہے تمہارا، قوم X۔
انور : قوم زندہ ہے۔
معین : ملک سے X رہی ہے۔ سب نِکلو، جہاز پکڑ کے۔
انور : ملک کی یاد آتی ہے اُن کو۔
معین : اور ہمیں ڈالر آتے ہیں۔
انور : انسان ہیں وہ، ڈالر نہیں۔
معین : انسان X۔
انور : کیا نام ہے آپ کا؟
معین : ذاتیات پر مت آؤ۔
انور : نام پوچھ رہا ہوں، اس میں ذاتیات کیسی؟
معین : نام لائیو بتا دوں، واہ میاں واہ۔
انور : نام ہی تو ہے، کوئی گناہ نہیں۔
معین : X کا نام لینا گناہ ہی نہیں، گناہِ کبیرہ ہے۔
انور : اُوپر خدا دیکھ رہا ہے۔
معین : نیچے ہم دیکھ رہے ہیں۔
انور : نیچے بللہ ہے۔
معین : بلے کی تو ہو گئ X۔
انور : ڈر نہیں لگتا آپ کو؟
معین : ڈر نہیں، انور ڈارلنگ، خوف۔
انور : خوف آتا ہے آپ کو؟
معین : بہت۔
انور : کس چیز سے؟
معین : کہ یہ آزادی نہ چھن جائے ہماری۔
انور : کیسی آزادی؟
معین : حقیقی آزادی۔
انور : یہ حقیقی آزادی ہے؟
معین : تمہاری نہیں ہماری۔
انور : آپ کی حقیقی آزادی؟
معین : ہماری اور ہمارے پاکستان کی۔
انور : آپ کے پاکستان کی؟
معین : آزادی ہماری ہے، تم رَس گلُے کھاؤ۔
انور : رَس گلُے کہاں سے آ گئے اِس وقت؟
معین : آ نہیں گۓ، میں بھیج دوں گا۔ دبا کر کھانا۔
انور : اس عمر میں رَس گلُے ٹھیک نہیں۔
معین : یہی سمجھا دو اپنے لونڈے کو۔
انور : میرا لونڈا اب نہیں گاتا۔
معین : ارے ڈفر، اپنے چکنے کو۔
انور : تمیز سے بات کریں، وہ مُرشِد ہیں۔
معین : امیتابھ کی پکچر دیکھو، میں آزاد ہوں، رَس گلُے کھاؤ، اور کود جاؤ، دھڑام سے، X۔
انور : آپ کا دھڑنتختہ الٹا دیا ہے انہوں نے۔
معین : ارے عمران کی یہ ہمّت جو ہمارا دھڑنتختہ اڑائے۔
انور : میرا مطلب ہے، ہمارا پڑوسی ملک، 600 بلین ڈالر ہیں اُن کے پاس۔
معین : اچھا، گُھما پِھرا کر یہاں لائے ہو بات، ایک بم چاہئے، بلین X۔
انور : یہ کیسی سوچ ہے آپ کی؟
معین : (گاتے ہوئے) ماریں گے یا مر جائیں گے، وہ تماشہ کر جائیں گے، دیکھو دیکھو غور سے دیکھو، آگے آگے ہوتا ہے کیا…
انور : کوئی پاکستانی گانا گائیے۔
معین : پاک سر زمین شاد باد …
انور : (بات کاٹتے ہوۓ) یہ قومی ترانہ ہے۔ کوئی پاکستانی پوپ سونگ سنا دیجیے۔
معین : جنون اور عشق تم کرو، اور دل دل مت کرنا، اِس عمر میں دل سٹک جائے گا۔
انور : شو کا وقت ختم ہو رہا ہے۔
معین : تیری شوبازی X۔
انور : کیا ہے یہ X؟
معین : الن مستانے سے پوچھو۔
انور : (سانس بھرتے ہوئے) کون الن مستانہ۔
معین : SpaceX, Model X, X۔
انور : Elon Musk؟ وہ کیا بتائیں گے۔
معین : یہی، کہ سب کچھ X، سب کی X، X ہی X۔
انور : آج چودہ اگست ہے، کیا سوچ رہے ہیں؟
معین : گولف، گھر، پلاٹ، کھیت، اور X۔
انور : (کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے) کہاں آ گئے ہیں ہم؟
معین : وہیں ہیں، ٹیبل پر، جہاں پہلے تھے۔
انور : دنیا کیا کہے گی؟
معین : وہی، جو کہتی آئی ہے۔
انور : یہ ہیں مسٹر X۔
معین : نام مت دو، ورنہ۔
انور : ورنہ کیا؟
معین : X ہو جاؤ گے۔
انور : سب کا وقت آنا ہے۔
معین : دھمکی دیتا ہے؟!
انور : دھمکی نہیں ہے، سچ ہے، آپ، میں اور سب کا وقت آنا ہے۔
معین : (لال بگولہ ہوتے ہوئے، انگوٹھے اور شہادت کی انگلی قریب لاتے ہوئے) اتنا سا کیمرا آتا ہے۔ سمجھے تم؟
انور : (کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے) آج آپ کی ملاقات ہوئی، اِن سے جو X کرنے میں ماہر ہیں۔ یہ آپ کو دکھتے نہیں، ملتے نہیں، سمجھتے نہیں،لیکن آپ کو پھنسا کر، لپٹ لپٹا کر، کبھی بہلا پُسلا کر، ٹھکانے لگانے میں ماہر ہیں۔ اِن کو نام دیا جائے تو گرم، اور سمجھایا جائے تو بھرم۔ وقت کے اِس موڑ پر، ہر موڑ پر، آپ اِن کو پائیں گے۔ اسیX-بازی میں ملک ٧٦ سال کا ہو چکا ہے۔
معین : ٧٦ سال X۔
انور : آپ سب کو یوم آزادی مبارک۔ وَسلام۔

شو ختم ہو جاتا ہے اور پردے کے پیچھے سے آواز آتی ہے، ’پکڑے تو نہیں جائیں گے یار؟‘ ’معین، تمھیں کیا فکر ہے، تم تو یہاں ہو ہی نہیں۔‘

3 thoughts on “اسٹوڈیو چودہ”

Leave a Comment