آخری مکالمے نے کافی تھکا دیا تو کچھ دن کالم نہیں لکھا۔ سوچتے رہے، خیالات آتے رہے، اور ہم مسکراتے رہے۔ آئیے کچھ آپ بھی سن لیجیے۔
یہ قوم پیانو سے پہلے پیانو پین سے، اور ڈالر سے پہلے ڈالر اِنک سے متعرف ہوئی۔ اگر قلم اور دوات تک رہتی تو آج کہیں کسی اُنچے مقام پر ہوتی۔ پیانو اور ڈالر نے بگاڑ کر رکھ دیا۔
عمران خان صاحب کو جیل میں کچھ ۳۳ دن ہوئے ہیں، اور معاملہ وہیں کا وہیں ہے، مزید بگڑ رہا ہے۔ پہلی بار سب کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ یہ ایک آدمی کی لڑائی نہیں، سب کی ہے۔ ہم نے یہی کہا تھا کہ آہستہ آہستہ قوم اِس طرف مائل ہو گی۔ اب ہو رہی ہے۔
“تو کیا ہوا” ہمیں کافی دن تنگ کرتا رہا۔ پھر خیال آیا کہ ہاں، یہی تو وہ کچھ جملے ہیں جنہوں نے سِمرن کے دل کو موم کی طرح پگھلا دیا تھا۔ آپ سے کوئی یہ اتنے پیار سے کہے تو آپ اِسے اپنے دل کا پرائم منسٹر ہی نہ بنا لیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے بنا لیا:
تو کیا ہوا اگر میں نے جھوٹ صرف تمہیں پانے کے لئے کہا تھا۔
تو کیا ہوا اگر تمہارے چہرے کے سِوا مجھے کوئی اور چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔
تو کیا ہوا اگر تمہارے نام کے سِوا مجھے کوئی اور نام یاد نہیں رہتا۔
تو کیا ہوا اگر یہ آوارہ تمہیں دیوانوں کی طرح پیار کرتا ہے۔
تو کیا ہوا۔
پیار سب کچھ تو نہیں ہوتا نا؟
پیار کے بعد پیاز۔ شادی شدہ انسان کی آج یہی کہانی ہے۔ پیاز کی تیزی زیادہ اور آنکھیں ایسی کہ ان میں نکھار ہی نہ آئے۔ بس بہتی جائیں۔
اللہ اللہ کر کے کیر ٹیکر آ گئی اور آفریدی جیسی اننگز کھیل رہی ہے۔ عوام کا دل کبھی منہ کو آتا ہے، اور کبھی گالی نکلتی ہے، آنسو بھی۔ خود آپ ہی کو عقلِ کُل سمجھ کر میچ بھی جیتنا ہے اور بلا بھی گھمانا ہے کہ سب کھیں، ہائے رے قسمت۔
انگریزی میں کہتے ہیں کہ ‘شِی وآز پریٹی انٹل شِی اوپنڈ ہر ماؤتھ۔’ وہ تب تک خوبصورت تھی جب تک بولی نہیں تھی۔ کیر ٹیکر کچھ بولی، اب بھیگی بلی کی طرح اِدھر اُدھر میؤن میؤن کر رہی ہے۔ اِسے پتہ چل رہا ہے کہ یہاں تو ہر شخص باشعور ہے۔ کَس کَس کے دے رہا ہے۔ چھکے چوّے۔
۲۰۰۳ سے ۲۰۱۱ تک ہمارے دفتر کا نمبر ۸۰۴ تھا۔ عمران خان قیدی ۸۰۴ ہیں، یہ سن کر کافی مُسرت ہوئی۔ یہاں ملک سے باہر ہم آزاد بھی ہیں اور قید بھی۔ ایک آزاد انسان قید میں ہی پنپتا ہے۔ لوہا فولاد بنتا ہے اور زندگی کیا ہے اس کا مطلب سمجھ آتا ہے۔ خان صاحب قید نہیں، چھٹیوں پر ہیں۔ ہر کتاب جو پڑھتے ہیں، انہیں اپنی اگلی منزل کے لیے تیار کر رہی ہے۔ کلام مجید اِن سب میں اول فہرست پر ہے۔ قید کرنے والے جانتے ہی نہیں کہ کیا کر بیٹھے۔
پارٹی ہائجیک مہم تباہ ہو گئی۔ ٹوٹی کیا کہ خَٹک گئ۔ دلاور کا کارتوس فائر تو ہوا، پھر سب کو کراہیت بھی آئی۔ سائفر پر شک شبہات دفن ہوئے، منہ صفر ہو گئے۔ لنڈے میں کپڑے بکے نہیں تو صاحب لندن چلے گئے۔ آنے والے کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ جانے والے واپس نہیں آیا کرتے۔ کراچی سے دبئی کتنا اچھا ہے، بنٹی اور ببلی چلے گئے۔ مہنگائی کیا ہے، اِس کی ہوا مساجد کو بھی لگی۔
بلنڈر کرنے والے بنڈل مار رہے ہیں۔ عوام کا موڈ بنڈل سننے کا نہیں۔ الیکشن ہوتے ہیں یا نہیں، اس کا بھی نہیں۔ عوام کا موڈ ہے کہ اینٹھ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔بڑے پتھر سے۔ پہلے صرف ایک بولتا تھا، اب سب بول رہے ہیں۔ وہ اکیلا تھا… چلیے چھوڑ دیجیے۔ ایسے جملے تو عمران ریاض خان ہی کہتے تھے خوب۔
کچھ معنوں میں اللہ تعالیٰ نے سب کو اُس دن کا کچھ مزہ چکھایا جب عمران خان نہیں ہوں گے۔ مووی کا ٹیزر ٹریلر ہی کہیے۔ اگر دل برداشتہ ہوئے یہ پڑھ کہ تو جان لیجیے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺبھی اپنے رب کو پیارے ہوئے تھے۔ وہ چلے گئے، اُن کا دین ہے، اور بڑھتا گیا۔ اس کے باوجود کہ ہم مسلمان کچھ احمق الوجود ہی ہیں۔
ہماری آزادی قلم دوات میں ہے۔ خان صاحب کو جب جیل میں پیپر پن اِستعمال کرنے کی اجازت ملی تو وہ انتہائی خوش ہوئے۔ شاید کوئی کتاب ہی لکھ ڈالیں۔ آپ بھی لکھیے۔ جو بُت ہاتھ سے نہیں ٹوٹتے، قلم سے مٹ جاتے ہیں۔ قلم کہاں مارنا ہے، یہ ضرور بُوجھیے۔
کیا پتا آپ ہی کل کے جَان وِک ہوں۔

Wah meray dost Zabar10… Ab tu real main writer bunta ja raha hai, aur bauth impactful likh raha hai.. is ki audio video rights mughey dey day thakur main apna YouTube channel chamka lun 😂 on a serious note its really interesting work keep it up brother Allah keray zoor e qalam aur zida… Aameen… not the dollar pen 😜
بہت ہی عمدہ تحریر۔ہلکے پھلکے انداز میں سوچ کے تاروں کو چھیڑتی ہوئی۔ بیشک قوم آہستہ آہستہ جاگ رہی ہے، مگر اب بھی منزل دھندلی ہے۔ قہط الرجال، باطنی کرپشن نے ابھی تک صراطِ مستقیم کو دھندلایا ہوا ہے۔ خان صاحب کی شخصیت کا ارتقائی پروسس جاری ہے۔ان کے دراجات قول و فعل کے ترازو میں پیمائش کے بعد بلندی کی جانب گامزن ہیں۔ امید ہے آپ کی یہ کاوش بھٹکی ہوئی قوم کے لئے مشعلِ راہ بنے۔ آمین