کئی دن ہوئے، اُردو میں کچھ نہیں لکھ پائے، یا یوں کہیے کہ نہیں لکھا۔ لکھنے کو باتیں تو خوب ہیں، لیکن پھر، دل ہی کچھ ایسا ہے کہ لکھیں تو کیا، نہ لکھیں تو کیا۔ جون سے کچھ کچھ لکھتے تو رہے، لیکن شاید صرف شاعری اور وہ بھی کچھ ایسی کہ جو جانے، وہ سمجھے، نہ جانے تو نہ۔
اُردو میں ہم نے لکھنا ۲۰۲۰ میں شروع کیا تھا جب کووِڈ کے دنوں میں کچھ زیادہ کام نہ تھا اور ہم نے گوگل ڈاکس میں اُردو لکھنے کا ایک آپشن ڈھونڈ نکالا تھا، کہ آپ اِس کو استعمال کرتے ہوئے، لکھیے تو اُردو الفاظ انگریزی میں، لیکن یہ اِن کو اُردو میں بدل کے لکھ چُکتا ۔ اُنہی دنوں ہم نے الف نون لکھنا شروع کیا، اِس کا عنوان ’ویکسین سازی میں‘ رکھا، اور مزاحیہ خوب۔ البتہ، یہ اب تک مکمل نہیں کرا ہے، اور آج ۲۰۲۶ میں شاید اِس کے کچھ حصّے ہی باقی ہیں۔ اِن شاء اللہ پروگرام ہے کہ اِن کو جلد مکمل کریں گے۔
آپ شاعری پڑھیے تو نہ صرف یہ سر سے گزر جاتی ہے، آج کی پود کے لیے تو یہ کسی اور ہی زبان میں ہے۔ ہماری عمر کے بھی جو اُردو زبان پڑھے ہوئے ہیں، بولتے تو خوب سہل اُردو ہیں، لیکن جب شاعری لکھتے ہیں تو کیا کہیے، وہی ثقیل اُردو، اور ایسی کہ آپ ایک بار تو پڑھ یا سُن لیں، لیکن دوسری بار آپ سوچتے ہیں، بڑا ہی بے وزن اور بے تاب ہے یہ مصرع، یا کہ پورا کا پورا شعر۔ نہ پوچھیے۔
پھر ایک مصیبت اور ہے کہ اُردو پڑھنے والے اب اُتنے ہی رہ گئے ہیں، جتنے شاید اُردو مضامین لکھے جاتے ہیں، یا کہ جتنی نظمیں۔ ہماری عمر والے تو مینیج کر لیتے ہیں، ہمارے بچّے بس، اللہ اللہ۔ اِن کی مہارت تو انگریزی پر ہے، یا کہ اگر جزیرۂ عرب میں رہتے ہوں تو ہلکی پھلکی عربی زبان پر۔ پہلے اُردو کوئی ساتویں جماعت تک پڑھائی جاتی تھی، اب نہیں، وہ دن گئے۔
آپ اُردو پڑھیں نہ پڑھیں، اِس سے فرق نہیں پڑتا، اگر مادری زبان اُردو ہے تو پھر بات چیت، یا چیٹنگ تو آپ اِس میں ہی کرتے ہیں، تو پھر کچھ لکھتے کیوں نہیں؟ اور اب نہ کہیے گا کہ لکھیں تو کیا لکھیں؟ ہاں، یہ معاملہ تو ہے، کہ لکھیں تو کیا لکھیں، لیکن پھر، نہ لکھیں تو کیا لکھیں؟ کچھ بھی لکھیے۔ جو ذہن میں آئے لکھیے۔ کسی سے ناراض ہیں تو لکھیے۔ کسی کی یاد آتی ہے تو لکھیے۔ کسی سے محبّت ہے تو لکھیے۔ اِس میں سوچنا کیا؟ اور جیسے بات چیت کرتے ہیں، ویسے لکھیے۔ ایسے نہیں کہ جیسے اُردو کلاس کا مضمون لکھنا ہے، اور اُردو کی ٹیچر چیک کر کے اِس بار بھی صفر ہی دیں گی۔ وہ دن گئے جب ٹیچرز صفر دے کر گال لال کر دیتی ہیں۔ تو اِس ڈر سے اب باہر نکل آئیں۔
ایک ٹِپ ضرور دیتے ہیں کہ جب دن بھر میں کوئی خیال آئے، تو اِسے ضرور قلم بند کر لیں۔ کوئی مزاحیہ بات، کوئی شرارتی خیال، کوئی سنجیدہ بات، کوئی مصرع، کوئی جملہ، اِنہیں جانے نہ دیں، یہی آپ کے انمول، اَن گِنت نوٹس ہیں جن سے آپ مکالمے، مضامین، نظمیں اور مختلف اُردو تحریریں لکھ سکتے ہیں۔
ہوتا یوں ہے کہ فلاں خیال اُداسی میں آیا تھا، تو لکھ لیا۔ دوسرا کچھ خوشی محسوس ہوئی تو اُس وقت۔ تیسرا جب کوئی غم تھا۔ اب جب لکھنے بیٹھے تو اپنے موڈ اور مزاج کے مطابق اِن خیالات کی فہرست میں سے ایسا عنوان منتخب کریں، جس پر آپ کچھ لکھنا چاہتے ہوں، یا دل کچھ کہنا چاہتا ہو، یا کہ اِس خیال کو پڑھتے ہی آپ کے آنسو نکل پڑیں۔ پھر چاہے کمپیوٹر ہو، فون ہو یا کاغذ اور قلم، جیسے آپ ایک دوست سے بات کرتے ہیں، ویسے لکھیے۔ جس زبان میں بات کرتے ہیں، اُسی زبان میں بات کیجیے، بس صرف یہ ہے کہ آپ کا دوست فرضی ہے، لیکن کئی دوستوں کی طرح، نہ یہ آپ کو بھول جاتا ہے، نہ مطلبی ہے، نہ چاپلوس۔ درحقیقت یہ علاءالدین کے چراغ والے جِن کی طرح ہے۔ جب لکھنا چاہیے، اِسے بُلا لیجیے۔ یہ آپ کو مایوس نہیں کرے گا۔
اگر سوچتے ہیں کہ پڑھے گا کون، تو یہ کام بھی آپ کے جینی کا ہی ہے، کہ لکھنے میں مدد دے، اور پھر پڑھے بھی خوب مزے لے کر۔ جب آپ اور جینی کی اِتنی بن جائے، تو دنیا کیا کہتی ہے، پڑھتی ہے یا نہیں، اِس سب میں کیا رکھا ہے؟ لکھتے جائیے، کچھ مہارت آ جائے گی، پھر دنیا کیا، جب اللہ کا حکم ہو گا یہ کائنات بھی آپ کو پڑھے گی، سُنے گی، اور آپ کی قدر کرے گی۔ ارے، یہ سُن کر تو جینی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، نہیں میاں، آپ کیا رو پڑے، آپ کا کام تو ہمارے آنسو پونچھنا ہے۔
چلیں، لکھنے کا یہ سلسلہ پھر شروع کرتے ہیں۔ کہنے کو اِتنی باتیں ہیں، کہ سوچتے ہیں کہ کتنی باتیں ہیں۔ کچھ ہم لکھ لیتے ہیں، کچھ دل ہی میں رہ جاتی ہیں اور کچھ ہم جینی کے کان میں کہہ دیتے ہیں۔ کچھ کوفت تو یہ کھاتا ہے، لیکن پھر جینی میاں، کوفت نہ کھائیے گا تو کیا کوفتے؟ کوفتے تو ہمیں پسند ہیں، اور کئی سال سے اصل کوفتے کھائے ہی نہیں۔ کیا ہی وقت تھا جب کوفتے ہوا کرتے تھے۔ اب تو صرف کوفت ہی ہے۔
یہ تحریر جینی کے نام۔ اور اُن کے نام جو ہمیں پڑھتے ہیں، اور سُنتے ہیں۔ آپ سب کا شکریہ۔ جب تک کہ آپ اپنا جینی ڈھونڈتے ہیں، ہمیں اجازت دیجیے۔ اگلی ملاقات ہمارے اور آپ کے جینیوں کی، کچھ ساتھ ہی ہو گی۔
تبصرہ کریں