چیف صاب

August 10, 2023

آپ کیا سمجھے؟ ہمیں تو پرانا گانا یاد آیا، جو سب ہی گاتے تھے، بچوں سے لے کر، بڑوں تک۔ سجاد علی کا چیف صاحب۔

حکومت گئی۔ اللہ کی طرف سے ایک بڑی آزمائش ختم ہوئی۔ ہم کوئی اور لفظ لکھنا چاہتے تھے، لیکن پھر اللہ کا معاملہ ہے، اور ہمیں ہر لفظ کا حساب دینا ہے۔ ہاں یہ ہے کہ، ختم تو ہوئی، ایک بڑی لعنت۔ کل پاکستان کے صدر نے جو سائن کئے، ہم نے سب کو گھر میں مبارکباد دی اور کہا، نون اب آخری بار نون غنّہ ہو گئی۔

روز خیال آ رہے ہیں، کھانا کھاتے ہوئے، جا نماز پر بیٹھے ہوئے، کہ خان صاحب جیل میں ہیں۔ ہم کچھ کھائیں تو یہی خیال آتا ہے، کچھ کر رہے ہوں تو بھی۔ آپ آزاد اور وہ قید۔ آپ کا ملک کے لئے کام صفر، اور ان کا کوئی سو سے کیا، ہزار سے زیادہ۔ ایک امتحان ختم، تو دوسرا شروع۔ امتحان کیا، عمران ہی کہئے۔

پھر دو دن پہلے بیٹی سے کہا، موسیٰ اور فرعون کی کہانی ختم۔ وہ کافی حیرت میں سوچنے لگیں۔ پھر ہم نے دُہرایا، موسیٰ اور فرعون کی کہانی ختم، اب ایک اور کہانی شروع ہوئی۔ بچے بھی اتنے باشعور ہیں کہ وہ اِن حالات کو خوب سمجھتے ہیں، لیکن ہم بھی چیف ہیں۔ نہیں بوجھ سکیں تو ہم نے کہا، موسیٰ اور فرعون کی کہانی ختم، اب یوسف کی کہانی شروع۔ دونوں پیارے اللہ کے انبیاء اور ان پر سلامتی ہو۔

آنکھوں میں آنسو آئے جب یہ جملہ کہا کہ اب تو خان کی یاد آ رہی ہے۔ ہر روز پوری قوم ان کے نشے میں دھت ہے۔ جیسے جیسے نشہ کم ہوتا ہے، نشئی اور لپکتا ہے نشے کی طرف۔ آہستہ آہستہ عوام مائل ہو گی اِس طرف۔ ایک دوست نے خوب کہا، خان صاحب اندر ہیں، اور عوام کُتے کی طرح پڑی سو رہی ہے۔ ہم خوب ہنسے۔ نشئی کیا کر سکتے ہیں؟

کل صدر صاحب نے جب حکومت کو ٹھکانے لگایا، تو دِی انٹرسیپٹ نے ‘خفیہ پاکستان کیبل دستاویزات عمران خان کو ہٹانے کے لیے امریکی دباؤ‘ مضمون چھاپ کر، لفظ ریجیم کے آگے، شیطان آڑا دیا۔ آپ اعوذباللہ کہیے اور سوچیے، ایک طرف وہ حکومت ختم ہو رہی ہے جس کی بنیاد ایک سازش تھی، اور دوسری طرف اُس سازش کے پیچھے سچ چھپ رہا ہے۔ انصاف کا ہے، انداز اپنا اپنا۔

کسی کا بھی نام لیتے ہیں تو دل کہتا ہے، کون ہو بھائی؟ نوکری پیشہ تھے، اچھا، ٹیسٹ، امتحان، وغیرہ دے کر اِس پوزیشن پر آۓ ، اچھا، اب کیا کریں، سر پر بٹھائیں؟ ارد گرد دیکھیں، جس کا نام لیا جاتا ہے، جو آتا ہے، سینہ تان کر، اِس سے زیادہ کچھ لے کر نہیں آتا۔ ہاں لینے ضرور آتا ہے۔ اسی لئے، کون ہو بھائی کے بعد، کیا لینے آۓ ہو لگا کر سوال مکمل کر لینا چاہیے۔ نا معلوم کس کو ٹیکر لگا رہے ہیں، کیئر کا۔

قرآن مجید میں یوسف علیہ السلام کی کہانی میں ایک عورت کا ذکر ہے۔ جو وہ چاہتی تھی، اُسے نہیں ملا۔ اِس لئے کچھ عرصے کے لئے، یوسف علیہ السلام کو قید کر دیا گیا۔ وجہ یہ کہ اُن کا حُسن اور کشش ایسی تھی کہ برداشت سے باہر تھی، اور یہ کہ شہر میں یہ بات چل پڑی تھی کہ اُس عورت کا قصور ہے، اور یوسف کا صرف اتنا، کہ اُنہیں اللہ نے بچایا۔

قید کچھ سال چلی۔ رہائی ہوئی جب ایک قیدی نے، جس کے خواب کی تعبیر یوسف علیہ السلام نے قید میں دی تھی، کہ بادشاہ کا غلام ہو جائے گا، بادشاہ سے کہا کہ آپ کے اِس خواب کی تعبیر میں ایک شخص سے لے سکتا ہوں، کہ مجھے اس کی طرف بھیجیے۔ یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی، اور بادشاہ کو کہلادیا کہ میں جس جرم میں اندر ہوں، اُس کا انصاف کیجیے، اور اُن عورتوں سے پوچھیے، کہ اب اُن کا کیا حال ہے۔ کہانی کافی لمبی ہے، لیکن اُس عورت نے، جس نے ظلم کیا تھا، اپنی غلطی مانی، اور یوں، یوسف علیہ السلام کو بادشاہ نے رہا بھی کیا اور ملک کے ذخائر کی چابی بھی دی۔ چنانچہ بادشاہ نے کہا، ‘آج تُو ہمارے پاس مقام والا اور معتبر ہے۔’

بادشاہ ہو تو ایسا، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے۔ اب خان صاحب کی قید کتنی لمبی ہو گی، یہ اللہ بہتر جانے۔ کل رات دِی انٹرسیپٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ سائفر کی لیک اُنہیں ایک فوجی نے ہی کی ہے۔ اب عوام تو کیا، پوری فوج جان گئی ہے کہ سائفر کی حقیقت خان صاحب نے صحیح بتائی تھی۔ آسان حل ہے، حکومت ختم ہو گئی ہے، ساری تکلیفیں، سارے درد، ساری مارا ماری، ملک کی تباہی، اِن کے کھیسے میں ڈالیں اور صاف شفاف الیکشن ہونے دیں۔ پچھلے صاحب چلے گئے، آپ تو ہیں، اُن کی گند اون نہ کیجیے۔

آخر میں کچھ خیالات سجاد علی صاحب کے اِن تین گانوں میں بیان کر دیتے ہیں:

چیف صاحب – عوام کا پیغام آپ کے نام:
یہاں سنیے

بولو بولو – چیف کا عوام سے سوال:
یہاں سنیے

آتش – عمران خان کا خاتون کو پیغام:
یہاں سنیے

اللہ اللہ خیر سللہ۔ گیم آن ہے۔

2 thoughts on “چیف صاب”

  1. ماشاء الله ماشاء الله
    Now you are becoming a good writer my friend . Very well written and thoughtful piece with very interesting and relevant references. Keep up the good work. Soon you can publish your book collection of these articles .

    Reply

Leave a Comment