بچپن کی کچھ یادوں میں، سُپَر کرسپ ایک ایسی یاد ہے جو یہ جملہ لکھتے ہوئے منہ میں پانی لا رہی ہے۔ کراچی میں ہم سُپَر کرسپ اپنے کزن سے منگواتے اور خوب کھاتے تھے۔ وہ ہمارے رائٹ ہینڈ ہوا کرتے، اور کیوں کہ وہ کراچی میں ہی رہتے تھے، جمشید روڈ نمبر دو کی قریبی دکانوں کو خوب جانتے تھے۔
ہمارا پاکستان جانا سال میں ایک بار ہوا کرتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا مختلف تھی، محبتیں زیادہ تھیں اور آنسو کم۔ ہمارے گھر کے باغ کی وہ روشن تصویر آنکھوں میں آ رہی ہے، جسے کوئی دیکھے تو رشق کرے۔ یہ باغ اتنا بڑا تھا کہ اگر ہم اِس کے گرد بھاگتے، تو کوئی دو تین منٹ کی دوڑ تھی۔ اور بچے ہوتے ہوئے بھی تھک جاتے۔ شاید یہ کوئی ۱۰۰۰ مربع گز کا باغ تھا۔ آج کل کے گھروں میں باغ کہاں۔
شام ہوتی تو پیپسی، فانٹا، سیون اَپ اور سُپَر کرسپ۔ نہ جانے کیوں ہمیں باربی کیو فلیور ہمیشہ اچھا لگا۔ خوب کھاتے تھے اور اُس کی خاص کرنکل کٹنگ اپنا ہی مزہ رکھتی تھی۔ آج سُپَر کرسپ والے ٤٠ سال کی سالگرہ منا رہے ہیں۔ اور ہم نے ٤٧ سال کی سالگرہ جولائی میں منائی۔ منائی کیا، بس آئی اور گئی۔ ہاں کیک آپ سب کی خوشی کے لئے ضرور کھایا۔
کوئی سات سال کے ہی ہوں گے تو اتنی سمجھ آئی کہ ہمارے دادا مرحوم حاجی عبد الوہاب صاحب کی انتہائی کامیاب، پچاس سالہ، پشتوں سے چلی آ رہی جائیداد اور خاندانی کاروبار، ۱۹۶۵ میں اُن کے انتقال کے بعد، کوئی ۱۹۷۰ تک ختم کر دیا گیا تھا۔ ہاں جائیداد تو کافی ہندوستان ہی میں دہلی چھوڑ آئے تھے، اور کاروبار کیوں کہ کراچی میں تھا، پارٹیشن کے بعد لاہور میں بھی شروع کیا۔
ہم کبھی اپنے دادا سے نہیں ملے، پیدا ہی ١٩٧٦ میں ہوئے۔ ہاں اگر عالمِ برزخ میں کوئی ملاقات ہوئی ہو تو یاد نہیں، لیکن شاید، یہ کان میں کہہ گئے تھے کہ اپنے باپ دادا کی طرح کاروبار کرنا۔ اللہ بہتر جانے لیکن اُن کی کچھ باتیں ہم میں ہیں، اور کچھ نہیں۔
یہ ضرور ہے کہ کبھی اپنے والد صاحب سے اور عزیز پھوپھی اچی آپ سے سنا کہ اُن کی شباہت آ رہی ہے۔ والد صاحب نے یوں کہا کہ ہم دادا جان کی طرح کسی بات پر للکارتے ہیں۔ اور پھوپھی نے یوں کہ ہم اُن کے سامنے قدرتی طور پر، اپنے دادا کی طرح آلتی پللتی مار کر، دونوں گھٹنوں پر ہاتھ کی مٹھیاں بند کئے بیٹھے تھے۔ پھوپھی نے کہا، ایسے مت بیٹھ، لگ رہا ہے ببا جی بیٹھے ہوئے ہیں۔ پورا کنبہ ہمارے دادا کو ببا جی کے نام سے یاد کرتا ہے۔
سُپَر کرسپ ہمیں پسند، اور ببا جی کا نصیب یہ تھا کہ اُن کے بڑے بیٹے، یعنی ہمارے تایا کو جب اُس وقت ایک بڑی رقم دی کہ کاروبار بڑھاؤ، تو انہوں نے چپس کی فیکٹری کا ارادہ کیا اور لگائی بھی۔ جب ہمارے والد صاحب نے ببا جی کو کہا کہ چپس کی فیکٹری لگائی ہے، تو وہ نہایت خوش ہوئے اور کہا کے خوب چلے گی۔ پھر ہمارے والد صاحب نے بات واضح کی کہ کھانے والے چپس۔ ببا سمجھے تھے کہ کنسٹرکشن میں استعمال ہونے والے چپس، ٹائلز، وغیرہ کی فیکٹری۔ کہا کہ بند ہو جائے گی۔
فیکٹری کی مشینیں لندن سے آئیں۔ نام چپس کا رکھا گیا کرسپی چپس اور جب پیکیج مارکیٹ میں پہنچے تو کون ہی خریدتا۔ ایک پیکٹ کوئی ساٹھ پیسے کا تھا۔ ببا جی کے منشی یا کسی اور نے، ہمیں اب یاد نہیں، ہمارے والد صاحب سے کہا کہ مسعود بھائی یہ کیسے بکے گا؟ آلو ایک کلو ساٹھ پیسے کا ہے، اور یہ پیکٹ بھی۔ ایک سینما والے نے کچھ اور ہی کہا، کہ ہر پیکٹ پر ٦٠ پیسہ لکھا ہے، آپ یہ ہٹا دیں، تو ہم جس دام پر چاہیں بیچیں۔ یہ ایک تصویر ہے، اُس وقت کی، جب آلو کا کلو ٦٠ پیسے کا اور سینما جانے والے کی طاقتِ خرید اِس سے کہیں زیادہ۔ شاید آج بھی یہی ہے۔
جو کچھ ہوا، اور بہت کچھ ہوا، فیکٹری بند ہو گئی۔ کچھ سالوں میں کاروبار قرضوں میں اڑ گیا۔ بینکوں کے قرضے، جو اگر کسی کاروباری خوشحال گھرانے کے بچے لینے لگیں، تو گھر کی نعمتیں گل ہو جاتی ہیں۔ آج سُپَر کرسپ کا خیال ایسے آیا کہ سُپَر کنگ کا لفظ سیاست میں لیا جا رہا ہے۔ ہمیں یہ بالکل اچھا نہیں لگا، کیوں کہ، پاکستانی سیاست میں، نہ ہی کوئی سُپَر ہے، اور نہ ہی کوئی کنگ۔ سُپَر کنگ سن کر ذہن اللہ باری تعالی کی طرف مائل ہوا تو اور بھی کراہیت آئی، کہ کسی نفس کے لیے سُپَر کنگ کا لفظ استعمال کیا جائے، یہ کچھ فضول سا ہے۔ سُپَر کنگ تو صرف ایک ہی ہے۔
پھر اِس اصطلاح کے معنے گوگل پر چیک کئے تو پہلا جواب سُپَر کنگ سائز بیڈ کا آیا۔ گوگل سے مزید پوچھا کہ سیاست کے زمرے میں ایسی کوئی اصطلاح ہے یا نہیں، تو کچھ نہیں، صرف چینائی سُپَر کنگز کا ذکر آیا۔ ہاں کچھ نیچے، گوگل نے وہ خبر لگائی جس میں عمران خان نے یہ اصطلاح استعمال کی، اور ہمیں یاد آیا کہ، کل ہی تو ایک نئی کلپ میں انہوں نے یہ اصطلاح سُپَر کنگ ایک بار پھر استعمال کی۔ اور کچھ پہلے بھی کر چکے ہیں۔
ہم سمجھ رہے تھے، کوئی سیاسی اصطلاح ہو گی۔ لیکن یہ تو انہوں نے ایک نئی اصطلاح بنا دی، اور وہ بھی غیر سیاسی۔ بادشاہ ہو تو سیاست کیسی؟ سب سیدھے سیدھے چلتے ہیں۔ جو سیدھا نہیں چلتا اُسے سیدھا کر دیا جاتا ہے، یا کرسپ کی طرح توڑ دیا جاتا ہے۔ اور بچپن میں سُنی کیسٹ کہانی کے مطابق، بادشاہ بھی اپنے کنگ سے مانگتا ہے، تو پھر اِس دنیا میں سُپَر کنگ کون، یا کیا؟
سُپَر کنگ، یعنی زبردست بادشاہ۔ دل کرتا ہے یہیں مضمون ختم کر دیا جائے، یا یہیں دنیا ختم ہو جائے۔ کیسا زبردست اور کیسی بادشاہت۔ بادشاہت کے نام پر ایک دھبہ۔ یہ زبردست نہیں، زبردستی ہے، اور رہی ہے۔ زبردستی کی بادشاہت۔ اگر شیخ رشید اِس خیال کی ترجمانی کرتے تو کہتے، سُپَر امپوزڈ، سُپَر فیشل، سُپَر فلوئس، سُپَر سیلیئس*۔ شیخ صاحب یہ چار لفظ کہہ دیں، تو مزہ ہی آ جائے۔ جیسے سوشی کو ایک بار کہا سشھی۔ وہ ایسے تین چار الفاظ کو ایک ساتھ ملا کر خوب کوئی بات کہتے ہیں، یا چٹکلا چھوڑتے ہیں۔
سُپَر کنگ کی نئی اصطلاح کے اب معنی یہ ہیں، اور انگریزی میں کہہ دیتے ہیں، تاکہ دیگر دنیا بھی اسے سمجھ لے:
noun
A term coined by Pakistan’s ex-Prime Minister, Imran Khan, used to define an institutional figure whose position of power allows them to assimilate, absorb, and exercise the powers of other state functionaries, institutions, and branches of government, thereby giving them an undemocratic, dictatorial say in the state of affairs of their nation, country beyond constitutional boundaries, void of accountability and consequence.
آپ جو بھی ہوں، سمجھ لیجیے کہ آپ سے اوپر بھی ایک کنگ ہے، بادشاہوں کا بادشاہ (سورہ آل عمران 3:26):۔
قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ◯
اگر یہاں تک پڑھا، تو ہائے، ایک آت پیکٹ سُپَر کرسپ باربیکیو فلیور کا ہی پکڑ لیتے، مزہ دگنا ہو جاتا۔ ہے کہ نہیں سوپرکالیفراجیلیسٹکیکسپیالیڈوشس!
