پانی

June 6, 2025

دو مئی کی صبح اُٹھے تو کچھ گُنگُنانے لگے اور ایک جملہ ذہن میں آیا تو کمپیوٹر کی طرف لپکے کہ اسے لکھ لیں۔ سچ جانیے، ایسی باتیں دل میں آئیں تو فوراً لکھ لیا کریں، بعد میں یہ یاد نہیں رہتیں۔ جملہ مصرعہ بن گیا اور پھر ایک قطعہ۔

کچھ دن سے پڑوسی ملک نے اپنا خود ہی نقصان کر کے، چوڑیاں توڑ کر وائے ویلا مچایا ہوا تھا کہ سوتے شہزادوں کے ملک نے ہمارے ساتھ ہاتھ کر دیا۔ سوتے شہزادے خود سوچ رہے تھے کہ بھائی ابھی ستّو کا مزہ کچھ اور لے لیں، یہ سب کیا؟ ہم تو ابھی چیزوں کی الف بے سنبھال رہے ہیں۔

چلیے، دو مئی کو ہم نے اپنے ملک کی محبت میں اور ظالم کو اُس کے ظلم کا احساس دلانے کے لئے اپنا پہلا نغمہ مکمل کیا۔ پھر اُسے پڑھ کر جاری کرنا چاہتے تھے کہ سوچا ہماری وجہ سے کہیں جنگ ہی نہ چھڑ جائے، تو کچھ رُک گئے، لیکن گھر میں تو سب کو اتنا مزہ آیا کہ جیسے روزوں کے بعد آپ کو روح افزا پینے مین آتا ہے، اور ہمیں جامِ شیریں۔

سات مئی کو جب جنگ چھڑی تو بے حد دل تھا کہ نغمہ لانچ کیا جائے کیونکہ عوام پُرجوش ہے اور نغمہ سُن کر جنگ جیتی جا سکتی ہے، لیکن پھر یہ خیال آیا کہ کہیں ہماری وجہ سے نغمہ آگ ہی نہ لگا دے اور جنگ بھڑک جائے۔

اُس  رات ایک جگری دوست کو کہا کہ ایک قومی نغمہ لکھا ہے اِس ہفتے، اب لانچ کرتا ہوں، لیکن ڈر ہے کہ کہیں آگ ہی نہ لگ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، گوڈ ٹائمنگ ہے، پر تیرا لکھا ہوا ہے، کہیں تو آگ لگے گی۔ پھر اُن کو کچھ مصرعے سنائے، اور وہ بولے، کیا بات ہے، چلو پورا ریلیز کرو۔

دس مئی کو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا۔ موقع تو یہ تھا کہ نغمہ لانچ کر دیتے، لیکن پھر خیال آیا کہ پوری قوم خبریں لینے دینے میں لگی ہوئی ہے، اور ہنسی مذاق تو اِس قدر ہو رہا ہے کہ دشمن ایڑیاں بھی رگڑے تو اِس پر میم بن جائے۔ ہم نے سوچا، پھر کبھی۔ اِس وقت ہمیں کون سنے گا؟

آپ کچھ لکھنا شروع کریں تو بس کیسے کیسے خیال آتے ہیں کہ نہ جانیے۔ خلاصہ یہ کہ آپ صرف لکھیے اور باقی سب جانے دیجیے، جو ہو گا سو ہو گا۔ تو چلیے، زیادہ سوچے بغیر، دس مئی کے اُن مشہور الفاظ میں:

In the name of Allah, today on 6th June at the time of Asar, we have given a strong punch to our coward enemy. Alhumdolilah. Narah takbeer، Allah Ho Akbar:

ہوں گے، ہوں گے جھگڑے اپنے، جن کا ہم کو ہوش نہیں۔
آنے والے، تیرا جھگڑا، اس میں اپنا دوش نہیں۔
روز کے، روز کے، تیرے نخرے، اس کا تجھ کو ہوش نہیں۔
رونے والے، تیرا رونا، کس کے دل میں موم نہیں۔
برسوں، برسوں نفرت، نفرت، ایسا تیرا زَعْم نہیں۔
بیٹھے بیٹھے، بین بجائے، ناچے، تیرا مور نہیں۔
کس کو، کس کو, دوست بنائے، وار ترا، او کوئی نہیں۔
ایویں ایویں، جوش دلائے، رستہ تیرا رَوش نہیں۔
بلا بال، خود ہی چلائے، گیم تیرا آن نہیں۔
اِس کو، اُس کو، آنکھیں دکھلائے، دل ترا، دل نوش نہیں۔
روتا روتا، گھر کو جائے، ٹَبَّر کچھ پُرجوش نہیں۔
وڈا وڈا، ہوں ہوں، میں میں، بھرم کرم او کوی نہیں۔
مَمّی پپّا کو بتلائے، اساں نوں کوئی فرق نہیں۔
اِتھے اُتھے، چِک چِک، چِک چِک، اِک اور چِک، کوئی نہیں۔
پا کَس تان کہتا جائے، اردو ہے، یہ ہندی نہیں۔
مسلیں، وصلیں یہ دکھلائے، پانی خُدا کا، اُت ترا نہیں۔
فصلیں، وصلیں کھلتی جائیں، انا تری، سوئے نہیں۔
بالٹی بھر کے، خوب نہلائیں، چائے ہماری، بھولی نہیں۔
جنگ کا پرچہ، خوب پڑھائیں، محبت، تجھ کو چھُوئی نہیں۔
پھر بھی، دوستی کر لے جانی، پاکستان، کوئی بھوت نہیں۔

1 thought on “پانی”

Leave a Reply to MB Cancel reply