شرارت کیا ہے، یہ آپ انور مقصود صاحب سے سیکھئے۔ اِن سے زیادہ شرارتی بَڑا کوئی نہیں۔ شرارتی بچے تو بہت ہیں۔ پچھلے سال اسٹوڈیو چودہ ایجنٹ ایکس لکھا تو کافی دوستوں کو پسند آیا، اور ہمیں بھی۔
جیسے ملک کی سیاست موڑ پکڑتی رہی، کچھ مزاحیہ باتیں ذہن میں آتی رہیں، اور ہم نوٹ کرتے رہے۔ سوچا کہ چودہ اگست کو نیا مکالمہ جاری کریں گے تو اِسے لکھنے بیٹھ گئے۔ آئیے انور مقصود صاحب کی اِسٹڈی میں چلتے ہیں۔
اِسٹڈی میں ہوں ہوں کی آواز آ رہی ہے۔ رات کا گیا پہر ہے۔ آواز آتی ہے، پھر تھم جاتی ہے، اور پھر ہوں ہوں ۔ انور مقصود صاحب اپنے سلیپنگ گاؤن میں چلتے ہوئے اِسٹڈی میں آتے ہیں۔ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی ماتھے پر ہے جیسے کچھ سوچ رہے ہیں، اور نیند توڑ کر آئے ہیں۔
اِسٹڈی میں کوئی نہیں۔ دو کُرسیاں ہیں، ایک ٹیبل پر فون ہے اور ایک پنکھا ہلکے سے چل رہا ہے۔ انور مقصود صاحب پَلٹ کر واپس اپنے کمرے کی طرف جانے لگتے ہیں تو ہوں ہوں کی آواز آتی ہے۔ دو لمحوں کے بعد پھر آتی ہے۔ ہوں ہوں ، ہوں ہوں، ہوں ہوں۔
انور: (دھیمی آواز میں) کیا آواز آ رہی ہے؟
معین: ہوں ہوں، ہوں ہوں۔
انور: پنکھے میں سے ہے؟
معین: میں ہوں۔
انور: میں کون؟
معین: آواز پہچان لو۔
انور: معین؟
معین: ہوں ہوں، ہوں ہوں۔
انور: کیا ہوں ہوں؟ آپ دکھائی نہیں دے رہے۔
معین: جہاں میں ہوں، وہاں ایک کِھڑکی ہے۔ اِس کی منڈیر پر ایک کبوتر آ بیٹھتا ہے۔ پھر ہوں ہوں، ہوں ہوں، ہوں ہوں۔
انور: (اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے) آواز کہاں سے آ رہی ہے؟
معین: یہاں دیکھو۔
انور: (مڑتے ہوئے) کہاں؟
معین: ٹیبل پر۔ بُڈھے آنکھیں کھول۔
انور: کیا بدتمیزی ہے۔
معین: ٹیبل کو دیکھ بُڈھے۔ اور کیا کہا تُو نے؟
انور: ذرا تمیز سے، ٹیبل پر فون ہے۔ اور کیا ہے؟
معین: ہاں انوڑ ، ٹیبل پر فون ہے۔ اِسے اُٹھا لو۔
انور: (فون سے بات کرتے ہوئے) انوڑ؟ رئے ہے وہ، ڑ ئے نہیں۔ انور۔
معین: اِسے اُٹھا لو۔
انور: کیا کہہ رہے ہیں؟ فون اُٹھا لوں؟
معین: اُٹھا لو، اُٹھا لو، اُٹھا لو۔ جو نظر آئے، اُسے اُٹھا لو۔
انور: (غصے میں) استغفراللہ۔
معین: کیا کہا تم نے؟
انور: استغفراللہ۔
معین: عرب ہو تم؟
انور: مسلمان ہیں ہم۔
معین: ہائے ہائے، پہلے تم مسلمان تھے، پھر پاکستانی ہوئے، پھر صوبوں میں بٹ گئے، پھر شہروں میں، اب ٹوٹ کر بکھر گئے ہو۔ دِھشوم۔
انور: دِھشوم؟
معین: دِھشوم، دِھشوم، گولی چلی۔
انور: گولی کہاں سے آ گئی۔
معین: ہاستہ لاویستا بےبی۔
انور: کیا کہا آپ نے؟
معین: ہاستہ لاویستا بےبی، انوڑ–
انور: آپ کا تلفظ ٹھیک نہیں۔ میرا نام انور ہے۔
معین: تیرا نام انوڑ۔ ہاستہ لاویستا بےبی۔
انور: کیا ہے یہ فالتو زبان۔
معین: وڑ مینیٹر دیکھو۔
انور: ٹرمنیٹر ، مشہور فلم ہے۔
معین: ہاں ہاں وہی۔
انور: میں انگریزی فلمیں نہیں دیکھتا۔
معین: کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ ابھی نہیں دیکھی تم نے، کِنگ کون؟
انور: کِنگ کونگ۔
معین: کِنگ کون دیکھی نا؟ مزا آیا تمہیں اور تمہارے مُرشد کو؟
انور: (غصے سے ہونٹ بھینچتے ہوئے) کون ہیں آپ؟
معین: وڑکر
انور: وڑکر؟ یہ کیا ہے؟
معین: سیاسی وڑکر۔
انور: سیاسی ورکر۔ ڑئے پر اتنا زور کیوں؟
معین: شیر سے پوچھو۔
انور: شیر کون؟ نون؟
معین: ہٹاؤ نون۔ وہ تو نون غنہ ہو گئ۔ اصل شیر سے۔
انور: وہ جیل میں ہیں۔
معین: پکڑے جاؤ گے تو جیل جاؤ گے۔ اُٹھا لیے جاؤ گے تو گُم ہو جاؤ گے۔ غائب ہو جاؤ گے تو، ہوں ہوں۔ ہوں ہوں۔
انور: کیا ہے یہ ہوں ہوں؟
معین: تم میرے پاس ہوتے ہو گویا، جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔
انور: بہت خوب کہا۔
معین: ہوں ہوں، ہوں ہوں۔
انور: شائد لائن خراب ہے، بار بار یہ ہوں ہوں۔
معین: اِس پہر دروازہ کھول سکتے ہو؟
انور: کیا فالتو بات ہے یہ، کیوں؟
معین: شو نہیں کرنا تمہیں؟
انور: شو کیسا، وہ بھی اِس وقت؟
معین: آج کل اِسی وقت شو چل رہا ہے، کبھی کسی کے گھر، کبھی کسی کے گھر۔
انور: ویسے شو اب بند ہو گئے ہیں۔ پہلے ہوا کرتے تھے۔
معین: شو آف پاوڑ کہہ رہا ہوں بُڈھے۔
انور: تُت تُت، کیسی تربیت ہے یہ؟
معین: پارٹی کی ہے۔ اوئے سے شروع کرو، پھر بیل ڈالو۔
انور: کس پارٹی سے ہیں آپ؟
معین: دستک دیتا ہوں۔ چٹخنی گِرا دو۔ کُنڈی کھول دو۔
انور: فالتو بات نہ کریں۔
معین: اتنی دیر سے فون پر لگے ہوئے ہو، بیٹری نہیں پُھنک رہی تمہاری؟ وہاں آ جاتا ہوں، اِنٹرویو کر لو۔
انور: کہاں ہیں آپ؟
معین: یہ نہ پوچھو۔ بس قریب ہی ہوں۔
انور: اپنا نام بتا دیں۔
معین: وڑ کر۔
انور: وڑ کر۔ لاحول ولا قوۃ۔ ورکر ہوں گے، نام کیا ہے آپ کا؟
معین: فالسہ۔
انور: فالسہ؟ یہ کیسا نام ہے؟
معین: جب کبھی ایئر پر آؤ، یہی نام کہنا، فالسہ۔
انور: آپ فون پر ہیں، آن ایئر نہیں۔ کس نے کہا آپ کو یہ کہنے کو؟
معین: گمشدگی۔
انور: (کچھ سوچتے ہوئے) کیسی گمشدگی؟
معین: ارے اُس کا نام، گمشدگی۔
انور: گمشدگی نے کہا کہ اپنا نام فالسہ بتائیں؟
معین: اب سمجھے تم، انوڑ۔
انور: میرا نام انوڑ ہے۔ لا حول ولا قوۃ۔ میرا نام انور ہے۔
معین: تم ڈی لکھ لو پڑوسی ملک والوں کی طرح۔ ڑئے کو ڈی لکھ لو۔
انور: (دروازے پر دستک سنتے ہوئے) کون آیا ہے اِس وقت؟
معین: میں ہی ہوں۔ اور کون ہو گا۔ کھولو۔
انور: یہ کوئی بھلا وقت ہے کسی کے ہاں آنے کا؟
معین: کھولو ورنہ وہ آ جائیں گے۔
انور: (گھر کے دروازے کی کنڈی کھولتے ہوئے) وہ کون آ جائیں گے؟
معین: (ہوا کے ایک جھونکے کے ساتھ) بِلّے اور کون۔
انور: محلے میں کوئی بِلّے وِلّے نہیں۔
معین: ارے سٹھیا گئی ہے تمہاری؟ کندھوں پر بِلّے والے۔ ہر چیز کیا سمجھاؤں تمہیں؟ ہر لفظ کوئی اور لفظ ہے اب۔ یہ تمہاری نہ وہ والی اردو رہی ہے جو تم ستر سال پہلے سیکھ کر بیٹھے ہو، نہ وہ ادب ہے کہ آداب آداب میں نواب صاحب کی گاڑی نکل جائے۔ سردی سے جُھرجُھری چڑھ رہی ہے، بارش ہے کہ پڑے جا رہی ہے۔ پَرے ہٹو۔
انور: اِسٹڈی دائیں طرف ہے۔
معین: میں کوفی بنانے جا رہا ہوں۔ پیو گے؟
انور: آہستہ بولیں، گھر میں سب آرام کر رہے ہیں۔
معین: (آنکھیں گول گول کرتے ہوئے) اِس وقت یا تو تمہارے جیسا کوئی جاگ سکتا ہے یا میرے جیسا۔ تم چلو اِسٹڈی میں، میں آتا ہوں۔ چلو چلو۔
انور: (اِسٹڈی میں پہنچتے ہوئے) کیا وقت ہو رہا ہے؟
معین: بُرا وقت۔
انور: (فون کو دیکھتے ہوئے) لائن نہیں کاٹی آپ نے؟
معین: ارے، میں کوئی کالا بِلا ہوں جو تمہاری لائن کاٹوں؟ (بےتحاشا گھبراتے ہوئے) گمشدگی، گمشدگی، کوئی سُن تو نہیں رہا! غلطی ہو گئی بھائی، کالا بِلا مطلب وہ بِلی والا بِلا۔ بِلی بِلا۔ کندھوں پر بِلے والا بِلا نہیں۔ وہ تم نے نہیں دیکھا پڑوسی ملک کی فلموں میں؟ وہ والی لائن۔ گمشدگی؟ گمشدگی؟ کوئی بُرا وقت نہ آ جائے انوڑ۔ کوئی بُرا وقت۔
انور: وقت سب اچھے ہوتے ہیں۔ آپ اپنی ڑئے سنبھالیے۔
معین: ڑئے کے طعنے مجھے مت دو، مسٹر انوڑ۔ ایک کیا جملہ اُس نے بولا کہ ہماری ساری وفاداریاں ختم ہو گئیں۔
انور: جملہ کون سا؟ کیسی وفاداری؟
معین: پروگرام تو وڑ گیا۔
انور: (سانس بھرتے ہوئے) لوگوں کو مزا آیا۔
معین: (کوفی کے دو کپ اِسٹڈی میں لاتے ہوئے) کیوں نہیں کہتے کہ تمہیں بھی مزا آیا۔
انور: سب کو مزا آیا۔
معین: اِتنا کیا بچ بچا کے چل رہے ہو، یہاں کون تمہیں (ہاتھ کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے) کچھ لگائے گا؟
انور: میری عمر اَسی سال سے زیادہ ہے، مجھے کوئی کچھ لگائے گا تو میں آدھا رہ جاؤں گا۔
معین: آدھے تو تم رہ گئے ہو انوڑ۔
انور: (آنکھیں دو لمحوں کے لیے بند کرنے کے بعد) ٹھیک کہا آپ نے۔
معین: کچھ نہ کچھ تو لگ جاتا ہے تم پر۔
انور: پابندی لگ جاتی ہے۔ کئیوں پر لگتی ہے۔ کوئی نئی بات نہیں۔
معین: ہوش کے ناخن لو! کیا کہہ رہے ہو۔ مت کہو پابندی، پابندی، پابندی۔
انور: پابندی میں کیا بُری بات ہے؟
معین: تُو خود بھی مرے گا بُڈھے اور مجھے بھی مروائے گا۔
انور: آپ کا اشارہ پنڈی کی طرف تو نہیں؟ پنڈی سے آپ کو اتنا خوف کیوں ہے؟
معین: بھنڈی۔ بھنڈی، تک محدود رکھو اپنی یہ زبان۔
انور: بھنڈی کہاں سے آ گئی؟ میں پابندی کی بات کر رہا ہوں۔
معین: گمشدگی، اِس پر پابندی کیوں نہیں لگاتے تم؟ اِس انوڑ پر۔
انور: لگی ہے مجھ پر، کئی بار۔ سٹوڈیو ڈھائی بند ہو گیا تھا۔ ایک قسط میں عمران کا کردار دکھایا تھا۔ پھر کچھ ہفتوں میں پابندی لگ گئی تھی۔
معین: اِس نے کہاں پابندی لگوائی ہوگی تم پر۔ کسی اور کو چھیڑ دیا ہوگا تم نے۔
انور: میں نے کبھی کوئی بیہودہ حرکت نہیں کی۔
معین: کیسی باتیں کرتے ہو۔
انور: کبھی نہیں کی۔ ہرگز نہیں۔
معین: ارے اِس عمر میں بھی تمہارا ذہن وہیں جا رہا ہے جہاں تم اپنی جوانی چھوڑ آئے ہو۔ میں کہہ رہا ہوں کسی بڑے کو چھیڑ دیا ہوگا تم نے۔ بڑا گھوما کرتے تھے تم اِن کے ساتھ۔
انور: آپ کا اشارہ وردی والوں کی طرف تو نہیں؟
معین: وڑ دی۔
انور: سوچ کر بولیں۔ کچھ بھی بول دیتے ہیں آپ لوگ۔ خُدا کا خوف کریں۔
معین: آپ لوگ ایسے بول رہے ہو جیسے تم نہیں بولتے۔
انور: میں لکھتا ہوں۔
معین: جہاں جاتے ہو، ایک ہاتھ میں پرچی پکڑے بولتے رہتے ہو۔ کسی کو تمہاری بولتی سمجھ میں آئے یا نہ آئے، تمہارے قدیم الزمان شعروں پر تالیاں بجا کر ہنستے ہیں، اور تحریر پر مکرر ارشاد مکرر ارشاد کہتے ہیں۔
انور: آپ اُلٹا بول گئے۔
معین: اور تم کبھی سیدھا بولے ہو اپنی زندگی میں؟
انور: میری نہیں، اپنی بات کریں۔ کہاں سے آئے ہیں آپ؟ کون ہیں آپ؟
معین: (زور دیتے ہوئے) مِسٹر انوڑ، آئ ایم فالسہ اینڈ آئ ھیو کم فَرام پابندی۔
انور: (کافی مسکراتے ہوئے) آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں، مجھے کُچہ سمجھ نہیں آیا۔
معین: سائیفر تو اِس کا خوب سمجھ گئے تھے تم۔ جیسے کسی ملک کے ایجنٹ ایکس ہو۔
انور: ایجنٹ ایکس اپنا نام لینا نہیں چاہتے تھے۔
معین: کون ایجنٹ ایکس؟
انور: وہ چھوڑیے۔ عمران کا نام کیوں نہیں لیتے آپ؟ یہ اِس کا، اُس کا مت کریں۔
معین: آئی اَیم ھِذ ایکس۔
انور: خوف کھائیے۔
معین: خوف ہی تو ہے اب اِس وڑ کر کا نصیب۔
انور: کیا ہے یہ وڑ کر، وڑ کر؟!
معین: جو آتا ہے وڑ کر ہی آتا ہے۔ چاہے اندر سے۔ چاہے گمشدگی سے۔ چاہے چُھپا چُھپی کھیل کر۔ سب اِس کے وڑ کر ہی ہیں۔
انور: ورکر ورکر ہوتا ہے، محبت رکھتا ہے۔
معین: ہاۓ کیسی محبت؟ تمہارا دماغ سٹھیا گیا ہے، انوڑ؟ تم ہمیشہ ایسی ہی تَصوری باتیں کرتے ہو۔ تم جیسے بُڈھوں نے اِس کا دماغ ساتویں آسمان تک پہنچا دیا۔ اِسے تم سب نے بِگاڑا ہے۔ دو چار چھکے کیا لگائے، سر پر بٹھا لیا۔
انور: آپ کس طرف ہیں؟
معین: (کڑوے کریلے کی طرح تکبر سے) نیوٹڑ ل۔ ایک دم بیچ میں۔
انور: گھڑی میں ماشاء، گھڑی میں تولہ، یہ کیسا ورکر ہے۔
معین: ورکر کہہ کر گالی مت دو، انوڑ۔ میں سیاسی قیادت میں تھا۔ اِس سے صرف کچھ سیڑ یاں نیچے۔
انور: لیڈر بھی پارٹی کا ورکر ہوتا ہے۔
معین: میں وڑ کر ہوں۔ اِس نے مجھے جانے دیا۔ میں کیا دو میل بھاگا جان بچانے کو، اِسے پسند ہی نہیں آیا- اور پھر کچھ دوستوں نے کہا کہ دعوت پر آ جاؤ، نئی پارٹی ہے۔ تو میں چلا گیا، اِس میں کیا بُرائی ہے؟ سب جاتے ہیں پارٹیز میں، خاص طور پر نئی پارٹیز میں، نئے لوگوں میں، وغیرہ، یہ سب چلتاہے۔ لیکن نہیں، یہ بِلکل پیپل کا درخت ہے۔ چِڑ کھا کر بیٹھ گیا۔
انور: آپ کو پیپل نے رد کر دیا۔ عمران تو کسٹڈی میں تھا، اُسے کیا معلوم باہر کیا ہوا۔
معین: کچھ پارٹیاں ہوئیں، لوگ اِدھر اُدھر گئے، یہ سب ہوتا ہے، کوئی بَڑی بات نہیں۔ آپ کو آگے چلنا پڑتا ہے، لوگوں کی دال روٹی چلنی ہے، میں نے کوشش کی کہ دونوں طرف پیڈنگ کروں…
انور: پیڈنگ نہیں بتٹنگ۔
معین: ارے جب گیند دونوں طرف دائیں بائیں چپکنے کا ڈر ہو تو اِدھر پیڈنگ، اُدھرپیڈنگ۔ آپ اپنے آپ کو بچاتے ہو۔
انور: پھر چھپنا کیسا؟ آپ نیوٹرل ہیں، آپ کا تو استقبال ہونا چاہیے۔
معین: جائیں تو جائیں کہاں؟ وڑ گئے انوڑ، آگے پیچھے، اوپر نیچے، دائیں بائیں، ایک بھیانک وڑ۔ اِسے تم ایک عظیم وڑ ہی کہو۔ میں نے وکٹیں گرتی دیکھیں، پھر کچھ لوگوں نے پولین بدلی، میں نے دونوں سے بچ بچاؤ کرتے ہوئے سوچا کہ گمنامی میں چلا جاؤں۔
انور: گمشدگی۔
معین: ہاں وہی… نہیں نہیں! اگر تم سُن رہے ہو گمشدگی تو یہ انوڑ نے کہا ہے، میں نے نہیں۔ میرا مطلب چُھپا چُھپی۔
انور: گمنامی اچھی ہوتی، بدنامی نہ ہوتی۔
معین: ماچس سے مت کھیل انوڑ۔ آگ کی لپیٹ میں آ جاؤ گے۔
انور: کیوں چُھپا چُھپی کھیل رہے ہیں آپ؟
معین: چُھپا چُھپی نہیں، وڑزش۔
انور: وڑزش؟ یہ کیسی ورزش ہے؟ آپ ڑئے پر زور نہ دیں۔
معین: یہاں سے وہاں۔ وہاں سے یہاں۔ پھر یہاں سے وہاں۔ پھر وہاں سے یہاں۔ کبھی چادر لپیٹو، کبھی بال مُنڈوا لو، کبھی داڑھی بڑھا لو۔ ہاتھوں میں یوں بھر کر تبت سنو پوڈر ڈال لو جیسے تم وضو کرتے ہو، سر پر مل لو، منہ پر مل لو۔ چہرے پر دائیں بائیں۔ کوئی نہیں پہچانتا۔ اور یہ موبائل وبائل چھوڑ دو۔ جہاں سے آؤ، جہاں جاؤ، موبائل ہر طرف مختلف ملے گا۔ کال کسی کو نہیں کرنی، کال وقت سے آئے گی۔
انور: کال پر کیا بات ہوتی تھی؟
معین: چھپکلی چڑھی دیوار پہ، بجلی کَڑکی، بارش ٹَپ ٹَپ، گلی میں ٹاپوں کی آواز، لحاف پکڑ سو جا، دو کروٹ، پھر سورج، شام چاندنی، چھوٹے پُتر، تِتّر بِتّر۔ سمجھے؟
انور: یہ تو میرے فرشتوں کو بھی سمجھ نہیں آیا۔
معین: (ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے) یہ ہے مسٹر انوڑ صورتِ حال، یہ ہے۔ ماسٹر آف کامیونیکیشن بیٹھا ہے تمہارے سامنے۔ کیا وقت تھا، صبح کارو بار، شام کو جلسے، تصویریں، سلفیاں، راتوں کو اسٹوڈیو میں انٹرویو، کس چینل پر جائیں، کس کو جھنڈی کرآئیں۔ ہائے ہائے، کیا وقت تھا وہ انوڑ۔ (صدمہ محسوس کرتے ہوئے) کیا وقت تھا وہ۔
انور:کوفی اچھی ہے۔ خوب بنائی ہے۔ حیرت کی بات ہے۔ کیسے سیکھی؟
معین: کیتھی یوٹیوب پر۔
انور: (کو فت کھاتے ہوئے) یہ کیتھی کون ہیں؟
معین: کیتھی پر تمہارے کان کھڑے ہو گئے۔ اگلے دو لفظ نہیں سنائی دیے تمہیں؟
انور: کیتھی کون ہیں؟
معین: یوٹیوب پر ہیں، دل بہلا لو۔
انور: فالتو بات نہ کریں۔ آپ یوٹیوب کیسے دیکھ رہے تھے؟
معین: جہاں میں تھا، اُس دیوار سے دو فُٹ دور، اگلی کھڑکی میں رہنے والا ایک پیارا بچہ ناچیز کو پہچان گیا۔ پھر کچھ گپ شپ، کچھ آٹوگراف اور پھر یوٹیوب۔ روز رات کو ملک میں ٹوٹے گلاس سے لے کر ٹوٹی کمریا تک کی ساری خبریں، دس بارہ منٹ میں جب چاہو، جس سے چاہو، سُن لو۔
انور: پھر یہ کیتھی (جملہ درست کرتے ہوئے)،کوفی کیسے آئی؟
معین: یوٹیوب وڑ۔
انور: اب آپ جس لفظ میں وڑ (رُکتے ہوئے)، جس لفظ میں اِس لفظ کو لگائیں گے، وہ میں نہیں سُنوں گا۔
معین: ( آنکھیں کھولتے ہوئے) سنے گا تُو سُنے گا۔ بار بار سُنے گا۔ سُننا پڑے گا۔
انور: بہت ہو گیا۔ بس بھی کریں۔ ایک بات تھی، کہنے والے نے کہہ دی۔ بات ختم۔ آگے چلیے۔ کوئی نئی بات کریں۔
معین: تم پنگا بھول گئے؟
انور: (غصے میں دیکھتے ہوئے) کیا کر دیا ہے آپ سب نے اردو زبان کا۔
معین: لگی نہ گیند گِلی پر۔ جس کو مِلو، پروگرام تو وڑ گیا، پروگرام تو وڑ گیا، پروگرام تو وڑ گیا۔
انور: سب پروگرام بند ہو گئے۔ اب کوئی پروگرام نہیں کر رہا۔ پروگرام کرنے والے چلے گئے۔ جو پروگرام کر رہے ہیں، انہیں کوئی نہیں جانتا۔
معین: بھیگی بلی کی طرح کیا میاؤں میاؤں کر رہے ہو؟ فون اٹھاؤ، ویڈیو ریکارڈ کرو اور چڑھا دو۔ دیکھو کیسے کووِڈ کی طرح پھیلتی ہے۔
انور: کووِڈ کا نام نہ لیں۔ بہت لوگ گزر گئے۔ کچھ اپنے، کچھ پرائے۔
معین: تم بچ گئے۔
انور: کوئی اور بات کریں۔
معین: کب تک بَچو گے بَچُو؟ ٹِک ٹَاک۔ ٹِک ٹَاک۔ ٹِک ٹَاک۔ ٹِک ٹَاک۔ ٹِک ٹَاک۔
انور: میں بیہودہ چیزیں نہیں دیکھتا۔
معین: میں کون سا کہہ رہا ہوں دیکھنے کو۔ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ ٹِک ٹَاک، ٹِک ٹَاک،ٹِک ٹَاک، وقت گُزر رہا ہے۔
انور: وہ تو ہے۔ کیا بج گیا؟ صبح ہونے کو ہے۔
معین: فجر کا وقت ہے، بھینی بھینی بارش پڑ رہی ہے، ہوا میں خنکی ہے، وڑا نڈے کی کھڑکی کھول دو اور مزا کرو۔ اِس موسم کا لطف لو، بچپن سے پچپن کا کراچی دیکھ لو۔ (بُری طرح ہنستے ہوئے) تم کہاں پچپن کے ہو، ایک سَو پچپن کے ہو۔
انور: کیا کرا آپ نے تنہائی میں؟
معین: اسٹار وآڑز۔
انور: اسٹار وآرز سیریز کا نام ہے۔
معین: وہی وہی۔ اسٹار وآڑز کی ساری پکچریں دیکھیں۔
انور: اُس سے کیا سیکھا؟
معین: ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
انور: خوب، بہت خوب۔ کیا پروگرام ہے؟ کال دینے والے ہیں عمران۔
معین: (وحشت میں گھبراتے ہوئے) کیسی کال، کس کی کال، پھر کال؟ ارے یہ کال دیتا ہے، وہ اُٹھا لیتے ہیں، وہ کال کرتے ہیں، یہ ٹھینگا دِکھا دیتا ہے۔ کال کی بات مت کرو اب، کوئی کال وال نہیں۔ یہ پڑوسی ملک کا پڑوسی ملک نہیں ہے۔ (کچھ موسیقی انداز میں) منہ نہ کُھلواؤ میرا تم، خون نہ کَھولوائو میرا تم، وی پی این نہ لگواؤ میرا تم۔
انور: وی پی این بند ہیں۔
معین: (جادوگر کی طرح ہنستے ہوئے) ہم جن کو جانتے ہیں، وہ وی پی این کے اوپر بیٹھتے ہیں۔ تم کوئی ادب آداب کی بات کرو۔ یہ گیم تمہارے اوپر کی ہے۔
انور: یہ سب چھوڑیں۔ کال پر لبیک کہیں گے؟
معین: (سنجیدگی سے) لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك۔ اِس کے بعد صبح، دوپہر، شام، ال بیّک، ال بیّک، ال بیّک۔
انور: کیا کریں گے آپ پھر؟ چُھپے رہیں گے؟ کیا پروگرام ہے؟
معین: آئے ہائے ہائے، پھنسا رہے ہو؟ پروگرام وہی ہے جو پوری قوم کا ہے۔
انور: قوم متحد ہے۔
معین: متحد نہیں متفق ہے۔ سمجھ رہے ہو نا وڑ جانی۔
انور: ذرا تمیز سے۔
معین: لائیو شو تھوڑی ہے، آف ایئر ہو تم، اور اب کچھ وقت رہو گے بھی، اسے آف دی ریکارڈ سمجھ کر چلنے دو۔
انور: قوم کس بات پر متفق ہے؟
معین: (فون پر میسج پڑھتے ہوئے) ہاں، یہ ٹھیک ہے، وڑ نیشن۔
انور: بہت بُری بات ہے۔
معین: کیا بُری بات ہے؟
انور: قوم کو ایسا نہ کہیں۔
معین: (آنکھیں نکلتے ہوۓ) ایسا کیا کہہ رہا ہوں میں قوم کو؟ نیا برانڈ لانچ کر رہا ہوں۔ وڑ نیشن۔
انور: یہ کیسا نام ہے؟
معین: اپنے ہاں برانڈز کے نام دیکھے ہیں؟ نہ سر نہ پیر۔ کیش کرنے کا وقت ہے میاں انوڑ مُقدس۔ کیش کرنے کا وقت ہے۔
انور: مقصود۔ انور مقصود۔
معین: یہی مقصود ہے میاں، یہی۔ کیش کرو اور عیش کرو۔ قوم جاہل ہے۔ کسی چیز کو کسی بھی وقت وڑ کا لفظ لگا کر چلا دو، بِکتا ہے، خوب بِکتا ہے۔ اب وڑ نیشن کی شرٹیں، پتلون، پاجامے پہنو اور ثابت کرو کہ پارٹی کا سب سے بڑا معرکہ یہ ہی ہے۔ وڑ نیشن بےبی، وڑ نیشن۔ میں تمہیں بھی بھجوا دوں گا جُرابیں۔
انور: (ہونٹ دباتے ہوئے) نیشنل اسپیرٹ بلند ہے۔ میڈل جیت کر لائے ہیں اولمپکس سے۔
معین: چُکا چُک۔ چُکا چُک۔ چُکا چُک۔
انور: بہت خوب۔ آپ نے اپنا پسندیدہ لفظ نہیں استعمال کیا۔
معین: دوست ہو تو جانے دیا۔ ورنہ اِس جملے کا وڑ چُک، وڑ چُک، وڑ چُک بنتا۔ سَٹ پَٹا جاتے تم۔
انور: کیا ہے یہ چُکا چُک، میڈل کا اِس سے کیا تعلق؟
معین: میڈل، چُکا چُک، چُکا چُک، چُکا چُک۔
انور: میڈل تو ندیم کے پاس ہے۔
معین: جیسے نون، لندن نون غنہ ہو جاتی ہے، ویسے ہی ایئرپورٹ پر میڈل چُکا چُک، چُکا چُک، چُکا چُک۔ قومی خزانے میں جمع ہو گیا۔
انور: قومی خزانہ خالی ہے۔
معین: خالی رہنے دو، میڈل بھول جاؤ، تم خوشیاں مناؤ۔
انور: کیا کریں گے جب عمران کی کال آئے گی؟
معین: تُو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا، تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں۔
انور: خوب، بہت خوب۔ اقبال کو پڑھا ہے آپ نے۔
معین: بِلکل نہیں۔ کِیٹس،الیذبتہ بیررٹ، رابٹ فَراسٹ۔ ویسے بھی اقبال کو سمجھنے والے تم رہ گئے ہو اور کچھ تمہارے جیسے۔
انور: قائد سمجھ گئے تھے۔ پھر سب سمجھ گئے تھے۔ اور یہ قیمتی ملک بنا۔
معین: پِھر، پھُر… آج کی بات کرو۔ قائد نوٹ پر ہیں، اقبال ٹَرک پر۔ ملک کی قیمت کوئی نہیں دے رہا۔
انور: کیا کرنا چاہیے؟
معین: کتاب لکھ لو۔ سب کچھ قلم بند کر دو۔ جب وقت آئے چھاپ دو۔ اور پبلشر سے پیسے اٹھا لو۔
انور: کتاب، کس موضوع پر؟
معین: آرٹ آف وڑ۔
انور: آرٹ آف وآر کتاب کا نام ہے۔ چینی جرنیل سَن زُو نے لکھی ہے۔
معین: تُم سائیں گُرو لگتے ہو۔ نام آرٹ آف وڑ بآئ سائیں گُرو رکھ لو۔ چلے گی۔ بہت کماؤ گے۔
انور: کل چودہ اگست ہے۔ کل پاکستان ستتر سال کا ہو رہا ہے۔ خُدا سے دُعا ہے ملک کی بہاریں لَوٹ آئیں…
معین: سب ملک سے باہر ہی ہیں۔ بہاریں باہر ہی ہیں۔ لُوٹ لائو اِنہیں واپس۔
انور: شو کا اختتام ہے، مجھے بات کرنے دیں۔ بیچ میں نہ ٹوکیں۔
معین: پریکٹس چُھت گئی، لیکن انداز بِلکل وکیلوں جیسا ہے۔
انور: میں کوئی وکیل نہیں۔
معین: ارے مہان کا ڈائیلاگ ہے، تمہاری جوانی کی فلموں کے بعد کا ہے۔
انور: (کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے) کل چودہ اگست ہے۔ کل پاکستان ستتر سال کا ہو رہا ہے۔ خُدا سے دُعا ہے ملک کی بہاریں لَوٹ آئیں۔ اِس ملک نے ہمیں سب کچھ دیا، ہم لیتے رہے۔ آج ملک مقروض ہے۔ ستتر برس ہم اِسے ہکاتے رہے، ہانکتے رہے۔ صرف بچے پیدا کر سکے، اِنہیں پڑھا نہیں سکے، لکھا نہیں سکے۔ جو جا سکے چلے گئے۔ جو نہیں جا سکے، انہوں نے تبدیلی کا ساتھ دیا۔ تبدیلی آئی، اور چلی گئی۔ آزادی آئی، وہ چلی گئی۔ پابندی لگ گئی۔ اب ایک خوفناک خاموشی ہے۔ آپ سے اگلے سال اِس دن ملاقات ہو گی یا نہیں، کیا پتا۔ اِسے ہمارا آخری پروگرام ہی سمجھیے۔
معین: (ڈھیٹوں کی طرح ہنستے ہوئے، زور سے) سب مل کے کہو، پروگرام تو _____ گیا۔
انور: اِن کا بُرا نہ مانیں، یہ شروع ہی سے ایسے ہیں۔ آپ سب کو یوم آزادی مبارک۔ خُدا حافظ۔
فجر کی اذان ہوئے کچھ وقت ہو چکا ہے۔ بلال اپنے کمرے سے آتے ہیں تو گھر کا دروازہ کُھلا ہے اور ٹَک ٹَک ہَوا سے بج رہا ہے۔ سوچتے ہیں کہ کہیں اَبو جی باہر نہ ہوں، لیکن نہیں، باہر کوئی نہیں۔ اِسٹڈی کی طرف جاتے ہیں تو لائٹ کُھلی ہے اور انور مقصود صاحب دونوں ہاتھوں پر سر رکھے ہیں، آنکھیں بنڈ ہیں۔ ایک اجنبی خوف بلال کے دل سے آ گُزر تا ہے۔ ٹیبل پر دوکوفی کے مگ ہیں، ایک اُس طرف، ایک اِس طرف۔ ایک فون ہے جِس کی بیٹری ختم ہو چکی ہے۔ دونوں ہاتھوں کے نیچے جانماز بچھی ہے۔ کمرے کی کھڑکی کُھلی ہے اور اِس میں سے اب، میٹھی میٹھی دھوپ، بارش کے قطروں کو چیرتی ہوئی کمرے میں داخل ہو رہی ہے۔ ہَوا ٹھنڈی ہے، موسم خوشگوار ہے۔ اَبو جی خیر سے ہیں، لیکن، کیا ہے یہ ہوں ہوں، ہوں ہوں؟ کچھ کہہ رہے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے بلال اِسٹڈی کی لائٹ بند کر کے، کچن کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اِس پہر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ میز پرکوفی کے دو مگ ہیں، اور دونوں خالی ہیں۔

Good one bro…thora lamba ho giya better to be in parts…but I enjoyed it…Anwar Maqsood dusron ko khaab main dekh ker likha kertay hain aaj kaal un ko zara bhi andaza nahi k koi un ko bhi khaab main dekh raha hai …. Khuda keray k meri arz e pak per uthray woh fasal e gul jisey andasha e zawal na ho….Aameen
یعنی فالسہ قسطوں پر؟ 😅 آن ایئر تیس منٹ لگ بھگ اتنی ہے لمبی سکرپٹ ہو گی، دو وقفوں کے ساتھ۔ فصلِ گُل کو کبھی اندیشہِ ذوال نہ ہوا، بس ارضِ پاک سے اُترتی کسی فَارن ائیرپورٹ پر ہے۔ اِس ناچیز کو پڑہنے کا شکریہ۔