اِن دو سالوں میں، میں کیسی لگ رہی ہوں، میں کیسا لگ رہا ہوں، میں بدل گیا۔ خاتون کا سَرپھرا پن ختم ہوا، خادم بھی موچ کھا گئے۔ اسٹیج جس کا تھا، اُس کے بغیر ساری محفل دھری کی دھری رہ گئی۔
ایک کانکڑی کے بعد دوسرا۔ میں کیسا لگ رہا ہوں؟ جوتی، ٹماٹر، کچھ پتھر کھا کر بھی اسٹیج تو میرا ہے کہ دُھن میں، بے سُرے گائیک کی طرح راگ پر راگ الاپا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں ہال خالی تھا۔ آئ ایم ایف خاتون کا ہاتھ ٹرَافی کی طرح گھر لے جانا تھا۔ خاتون نے الگ سے کہا کہ میرے پاکستانیوں، آپ پر ظلم ہم نہیں، آپ کے باپ کر رہے ہیں۔
ٹیکس ہے یا بھتہ؟ بھتہ ہو تو شاید ایک بات ہے، کہ کچھ تحفظ بھتہ لینے والے بھی دے جاتے ہیں۔ پولیس ہو یا کسی سیاسی پارٹی کا لفنگا، بھتہ لینے کے بعد ٹَائیں ٹَائیں فِش۔ اگلے ہفتے تک۔
اِس ملک کا یہ حال رہا ہے کہ جَالُوت نے ہمیشہ جَا لُوٹ کی سستی سی پالیسی پر عمل کیا۔ کچھ کُھل کر کھایا، ِکھلایا، کچھ اَنڈر دِی ٹیبل۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب لوٹ مارنے کے لئے صرف لوٹا بچ گیا ہے۔ گھر خالی ہے۔
بڑی بڑی بَھڑکیاں مارنے والا پہلوان، کُشتی کے دن پسینہ کھا جائے، پھر مسئلہ پہلوانی کا نہیں، حوصلے کا ہے، ایمان کا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سائیکل آپ چلا رہے ہیں، تو آپ کو کون چلا رہا ہے؟
جَالُوت اور داوُد کی کہانی میں، داوُد علیہ السلام نے جَالُوت کو قتل کیا۔ بادشاہ طالُوت تھے جنہوں نے اپنی فوجوں سے کہا کہ تمہارا امتحان ایک نہر پر گزرنے سے ہو گا۔ جس نے اِس سے پانی پیا وہ مجھ میں سے نہیں۔ اور نہ پیا تو میرا ہے، سواۓ یہ کہ کوئی ایک گھونٹ لے لے۔ پھر کچھ کے علاوہ اکثر و بیشتر نے دَبا کر پانی پیا۔
اُن میں سے جو مومن تھے، انہوں نے کہا کہ بہت دفعہ ہوا ہے کہ اللہ نے ایک چھوٹی جماعت سے ایک بڑی جماعت کو شکست دی ہے۔ پھر اللہ کے حکم سے انہوں نے جَالُوت کی فوجوں کو ہرا دیا۔
ایسے اللہ، ایک سے دوسرے کو، اِس دنیا میں ہٹا دیتے ہیں، کہ دنیا میں فساد نہ ہو۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں پر فضل کرنے والے ہیں۔
یہ کہانی سورہ بقرہ کی چار آیتوں میں اللہ نے بیان کی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ لڑائی حق اور باطل کی ہے۔ ایک فرد کی دوسرے سے نہیں۔ ایک ذات کی دوسری سے نہیں۔ جو حق پر ہے، وہ جیتا ہے۔
اِس سے پہلے بنی اسرائیل کے بزرگوں نے اپنے رسول سے التجا کی کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے، تا کہ ہم جہاد کر سکیں، تو اللہ نے طالُوت کو ان کا بادشاہ مقرر کیا۔ اِس پر وہ بول پڑے کہ، ’اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہو سکتا ہے؟ بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں۔ اور اُس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔‘
پیغمبر نے کہا، ’اللہ نے اُس کو تم پر فضیلت دی ہے، اور بادشاہی کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ اُس نے اُسے علم بھی بہت سا بخشا ہے، اور تن و توش بھی بڑا عطا کیا ہے، اور اللہ کو اختیار ہے، جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے۔‘
یہ کہانی آپ نے حال میں کہاں دیکھی سُنی ہے؟ دو دن پہلے، رات طالُوت ایک جیل سے دوسرے منتقل ہو گیا۔ اُس نے اور اُس کے ممی دیڈی لشکر نے، ملک کی ہر جماعت کو کچل ڈالا۔ وہ اب صرف نام کے رہ گئے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ، جَالُوت ابھی باقی ہے۔ اور طالُوت کے سایے تلے سے، داوُد آئے گا۔ کیونکہ بادشاہ بنانے کا حق، آپ کو نہیں، بادشاہوں کے بادشاہ کو ہے۔
تو قرآن پڑھیے ضرور، مگر اپنے حلق سے ذرا نیچے بھی اُتاریے۔ ورنہ رَاگ تو سب آلاپتے ہیں، سمجھ کسی کو نہیں آتا۔
