کل یہاں عید تھی۔ آج ملک میں عید ہے۔ اگر کوئی عید نہیں منا رہے تو وہ دُمبے، بکرے، گائیں اور اونٹ ہیں۔ حج ہو چکا ہے، اور ہم بیٹھے آج صبح یہ سوچ رہے تھے کہ عید کی اِن چُٹیوں میں کیا کریں۔
انتہائی گرمی ہے، ملک جانے کی خواہش تو ہے، لیکن اب گئے ہوئے کچھ دس سال سے اُوپر ہو رہے ہیں۔ جائیں بھی تو گرمی، بجلی، پانی، گیس اور حالت کا سامنا کون کرے۔ کسی پڑوسی ملک، یعنی خلیج کے پڑوسی ملک جائیں، تو وہاں بھی گرمی ہی ہے۔ کڑکڑاتی گرمی۔
عید سے کچھ ہفتے پہلے ایک عزیز نے ایک پمفلٹ بھیجا قربانی کا۔ ہر سال ہی بھیج دیتے ہیں، لیکن کبھی نہیں کہا کہ وہ خود قربانی کرواتے ہیں۔ اِس بار بھی نہیں کہا۔ ہم نے پمفلٹ میں قربانی کے ریٹ دیکھے تو لکھا، ‘بھائی جان مرغی کی قربانی کا کیا انتظام ہے۔’ وہ خوب ہنسے اور جواب آیا، ‘کوئی بھی نہیں بھاائی۔’ ہم نے عمران خان کینسر اپیل جو لندن میں ہے، اِس کا پمفلٹ بھیجا اور لکھا، ‘اپنے چکنے کے ریٹ دیکھ۔’ وہ اور بھی خوب ہنسے اور جواب آیا، ‘آئے ہائے چکنے!’ یوں بات ختم ہو گئی۔
اس سال عمران خان کینسر اپیل کی قربانی کے ریٹ کافی اچھے تھے۔ ہم ہمیشہ اِن کے ہاں ہی قربانی کیا کرتے ہیں۔ اپنے ہاتھ سے قربانی کیے کافی عرصہ ہو چکا ہے۔ سچ پوچھیے، کسی مستحق کو سارا حصہ مل جائے، اس سے اچھی بات کوئی نہیں۔ اِس طرح ہم نے ‘ایک’ حصے کی مثال قائم کی ہے، اور تین کی، بھولا دی۔
اسی ہفتے، ایک دوست کی فیملی ٹریول کر رہی تھی اور اِن کو پیچھے چھوڑ کر جا رہی تھی۔ جب سب خیریت سے پہنچ گئے تو ہم نے انہیں ایک مکالمے کے انداز میں یہ میسج لکھا:
دوست: بچے، بھابی خیریت سے پہنچ گئے؟
دوسرے دوست: جی بھائی، خدا کا شکر ہے…
دوست: مبارک ہو، آپ کو حقیقی آزادی مل گئی ہے – اِس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیجیے گا…
عید مبارک ایڈوانس میں۔
وہ خوب ہنسے اور جواب میں آڈیو میسج بھی کیا۔
عید کے دن یہاں دو چیزیں ہوئیں۔ ہم نے حسبِ معمول دوستوں کو عید کے بعد اپنی ویڈیو گریٹنگ ریکارڈ کر کے بھیجی۔ یہ ہم ہر عید پر کرتے ہیں، اور کچھ مزہ لگا رہتا ہے۔ پھر کچھ دوستوں نے اپنے اپنے جانوروں کی ویڈیوز بھیجیں۔ اِن میں جو پاکستان میں رہتے ہیں، انہوں نے زیادہ جانور خریدے۔ جو باہر رہتے ہیں، انہوں نے کم۔ ملک خوشحال ہے۔
ایک دوست جو مسقط میں رہتے ہیں، دو لٹکے ہوئے بکروں کی تصویریں بھیجیں اور لکھا، ‘آجا تکّا پارٹی کرتے ہیں۔’ ہم ٹھیک سے رات سوئے نہیں تھے تو عید مبارک کا جواب دیا اور پھر یہ کچھ لکھا:
لیڈر: ‘ایک دن آئے گا جب باہر والے ملک میں قربانی کرنے آیا کریں گے…’
حقیقت: سَر، اس وقت تو اپنے ہی نہیں آ رہے، تو باہر والے کیوں آئیں گے؟
لیڈر: ‘ایک دن آئے گا جب باہر والے ملک میں قربانی کرنے آیا کریں گے…’
لیڈر ایک ریکرثوو لوپ میں چلتا رہتا ہے۔
انہوں نے ہنسنے والا آئیکن بھیجا اور بات ختم ہو گئی۔ ریکرثوو لوپ کمپیوٹر پروگرامنگ میں ہدایات کا ایک ایسا سلسلہ ہوتا ہے جو، جب عمل میں لایا جاتا ہے، انہی ہدایات کے ایک چکری تکرار کا سبب بنتا ہے، جس میں پروگرام کی طرف سے کوئی دوسری کاروائی نہیں ہوتی۔ جب تک یہ پروگرام جاری رہتا ہے، یا کسی بیرونی عمل سے لوپ میں خلل نہیں پڑتا، یہی ہدایات جاری اور ساری رہتی ہیں۔
ٹاٹینک کو دیکھنے کی چاہت رکھنے والے اسی کے بغل میں سو گئے۔ ملک کو چھوڑ کر جانے والے، کچھ اپنے نئے مسکنوں تک پہنچ گئے، اور کچھ کشتی کی طرح پانی کی طاقت کی لپٹ میں آ گئے۔ ملک میں آج عید کے دن، جو گھر پر ہیں، وہ خوش نہیں، اور جو ریاست کی گرفت میں ہیں، اُن کا کل کیا ہوگا، کچھ پتا نہیں۔
آزادی کا نعرہ کب حقیقی آزادی کا نعرہ بن گیا، یہ ہمیں یاد نہیں۔ البتہ حقیقی آزادی کا جنون اب ملک کی اکثریت کے دل میں ہے۔
آسان الفاظ میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اگر 1992 میں ورلڈ کپ جیتے تھے، تو اِس کے تمام فیصلے میدان ہی میں ہوے ہوں گے۔ کچھ درحقیقت پویلین میں، البتہ اکثر و بیشتر میدان میں ہی۔ اسی کو حقیقی آزادی کہیے۔ فیصلے میدان میں ہی ہونے دیں، اور گیم کے مزے کو، ڈکورتھ-لوئس-اسٹرن میتھڈ (DLS) اور ڈیسیژن ریویو سسٹم (DRS) کی نظر نہ کیجئے۔ نا ہی گیم وہ کھیلیں، جن پر گیم کھیلنے کی ممانعت ہو، اور نا ہی وہ، جن کا گیم کھیلنا بنتا ہی نہیں۔ ایک گیم کی تاریخ کا انقعاد کرے اور دوسرا اسٹیڈیم کی حفاظت، اور بس۔
یہاں ہمارے ہاں ڈیپ فریزر نہیں۔ فرج کا معمولی فریزر ہے، جس میں اِس وقت سرمئی مچھلی کا ایک کلو کا پیکٹ ہے، گوشت کچھ نہیں۔ جیسے ہی آئ ایم ایف اگلی قسط جاری کرے گا، بازار سے گوشت آ جائے گا۔ آپ کے ہاں فریزر کا کیا حال ہے؟ اِس کا پیٹ بھرا یا ملک کے کسی مستحق کا؟
اگلی عید کچھ نو ماہ بعد ہے۔ اِس اُداس عید اور اگلی عید کے اِن نو مہینو میں، امید ہے ملک اور قوم کو حقیقی آزادی نصیب ہو جاۓ گی۔ لیکن کیوں؟ ہم کچھ خاص ہیں کیا؟ اپنے ارد گرد دیکھئے تو شائد اکثر و بیشتر مسلمان ممالک میں تنگی ہی ہے۔ اور پھر جب کشمیر اور فلسطین آج تک الله کی مدد کے طلبگار ہیں، تو ہم کیا شے ہیں؟
ہاں البتہ ہم پاکستانی ہیں۔ جیت رہے ہوں تو ہار جاتے ہیں۔ اور ہار رہے ہوں تو جیت جاتے ہیں۔ یہی کچھ تو ہوا ہے اِس پچھلے سال اور چند مہینوں میں۔
عید کے ساتھ ساتھ، آپ سب کو حقیقی آزادی مبارک۔ کیوں کہ لیڈر ریکرسوو لوپ میں تھا، ہے اور رہے گا۔ یہ ماننے والا نہیں۔
