مشرف صاحب کہہ گئے تھے، ’پاکستان کا خدا حافظ ہے۔‘ اِس جملے میں رمز وقف (comma) خدا کے بعد لگا دیا جاۓ تو یہ وہ شاندار جملہ ہے، جس پر آپ کے قہقہے نہ رُکین اور ہو سکتا ہے کسی کونسپریسی تھیورسٹ کے دلایل بھی۔
اگست ١٨، ٢٠٠٨ کو، اپنا استعفیٰ دیتے ہوئے، یہ جملہ اُن کا آخری جملہ تھا۔ اس وقت یہ جملہ سن کر کافی کڑوا محسوس ہوا تھا، کیوں کہ اگرچہ ہم مشرف صاحب کو پسند کیا کرتے تھے، یہ جملہ کچھ ایسے سمجھے تھے کہ جیسے اُن کے بعد، پاکستان کا خدا حافظ ہے۔ خدا تو ہر چیز کا حافظ ہے، کسی کے پہلے، اور کسی کے بعد بھی۔
آج مشرف صاحب یوں یاد آئے کہ اگر وہ آج ہوتے تو ہم یہ کالم نہ لکھ رہے ہوتے۔ میڈیا آزاد ہوتا، ہمارے پسندیدہ صحافی پاکستان ہی میں ہوتے، شاید ایک اس دنیا میں ہوتے، اور یہ کہ سیاسی جن اپنی اپنی بوتلوں میں ہوتے۔ یا کہ لیجیے اپنے حدود میں۔ پولیس اور عدلیہ، ویسے ہی ہوتے جیسے ہیں، یا جیسے تھے۔ ایک ڈنڈا لے کر آگے، اور دوسرا ڈنڈا لے کر پیچھے۔ اگر کوئی آزاد ہوتے، تو وہ کاوس جی، یا ایاز امیر کہ جو لکھیں سو لکھیں، اور ان کا بال کا بکا بھی کوئی نہ کر سکے۔ اس بیچ، انتخابات بھی ہوتے، اور وزیر اعظم، وہ ہوتے جو ہوتے، یا عمران ہی ہوتے۔ سب کھل کر لکھتے، اپنی بات کہتے اور سنے جاتے، ہمیں کیا پڑی تھی قلم اٹھانے کی؟ معاف کیجیے گا، کیبورڈ کی کیز دبانے کی۔
مشرف صاحب کی گریس کی کیا ہی بات تھی۔ کمرے میں داخل ہوئے اور جس کو لَتاڑا وہ لَتاڑا کہ کیا لَتاڑا۔ ہندوستان کی سرزمین ہو، یا امریکہ کی، آپ کا سٹائل اپنا ہی سا تھا۔ دل خوش ہو جاتا اور امید ہوتی کہ ملک کچھ بہتری کی طرف آئے گا۔ فوجی اور پڑھا لکھا، جنگجو، جو جنگ میں لڑ چکا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ، اس شخص نے پاور لیا نہیں تھا، اس کو پاور لینے کی پوزیشن میں اس وقت کے شریفوں نے ڈالا تھا۔ پلیٹ پر رکھ کر بریانی رکھ دیجیے تو روزدار کے منہ میں بھی پانی آ جاتا ہے۔
جب بھی لوگ کہتے ہیں کہ مشرف نے مارشل لا لگایا، اور عمران خان بھی، ہم اسے آسان تشریح تو کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ شاید درست نہیں۔ پاکستان میں اُس وقت ایسی فضا تھی کہ سب چاہتے تھے کہ شریفوں سے جان چھوٹے۔ لیکن ان کی منوورنگ اور منیپولیشن کی وجہ سے اُس رات پی آئی اے کا وہ جہاز اُترا تو صحیح، لیکن اِس انداز سے کہ ایک بار پھر، پاکستان کی تقدیر ہی بدل گئی۔ یہ ایسی تقدیر ہے، جو ڈائنامک ہے۔ آج آپ اس سے خوش، کل آپ اس سے خفا، اس کا کام آپ کو ستانا، تڑپانا، رُلانا۔ آپ کا کام، چُپ بیٹھ کر کسی مسیحا کا انتظار کرنا۔
١٢ اکتوبر ١٩٩٩ کی اُس رات ہم فوج کے ہی ایک عسکری آپارٹمنٹ میں اکیلے تھے، جب پی ٹی وی آف ایئر چلا گیا۔ کراچی میں سنناٹا ہو گیا۔ ہم نے اپنے والد صاحب کی ٹریننگ کو استعمال میں لاتے ہوئے، فوراً عسکری اپارٹمنٹس کے مین گیٹ کے قریب ایک پرچون والے سے کچھ اشیاء خورد و نوش خرید لیں اور واپس گھر آ گئے۔ یہ صرف اس لیے کہ اگر ملک کے حالات بگڑ جائیں تو کچھ دن کھانے پینے کو تو ہو۔ رات گئے تک ٹی وی دیکھتے رہے، بی بی سی، جو صرف مشرف صاحب کی وہ تصویر اور ویڈیو دکھاتا رہا جس میں وہ ایک پسٹل ہینڈل کر رہے ہیں۔ تھک ہار کر ہم سو گئے۔ پورا ملک ہی سو گیا ہوگا۔
ہمارا یا ہمارے خاندان کا فوج سے کچھ واسطہ نہیں۔ لیکن رہائش ہماری کراچی کی سب سے سکیور ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہی تھی۔
اُمید ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی اعلاج نہیں۔ مشرف آئے، پھر کچھ ہی سال میں بدل گئے، لیکن پھر بھی اچھے تھے، کیوں کہ دو بڑی طاقتیں ملک سے باہر تھیں اور وہ ملک کے لیے اچھا ہی تھا۔ پھر ایک دم، وہ ہوا جس نے سب کو حیران پریشان کر دیا۔ این آر او، یا یہ کہیے کہ، بھگتو اور نہ رو۔ اس نے سب کو بڑا رُلایا، آج بھی یہ ایک معمہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کرنے والا، کرپشن کے ہزاروں کیس معاف کر گیا۔ شیر گیدڑوں کی محفل میں کبھی نہیں جچتا۔
اچھا یہ ہوتا کہ جب آئے تھے اور اگر صفائی کرنی ہی تھی تو خلوص کے ساتھ کی جاتی، لیکن ایسے میں کیوں کہ مینڈیٹ نہیں ہوتا تو ہر بات زبردستی اور ہر عمل سزا ہی محسوس ہوتی ہے۔ پھر اُس وقت تک حکمرانوں کو ٹائم دو سال یا بہ مشکل تین ہی ملا کرتا تھا، تو یہ کہنا کہ اتنے کم سالوں میں چوری ہوئی، اور یہ کہ ہم سب ٹھیک کر دیں گے، کمزور فارمولا تھا۔ البتہ ملک نے اِس دوران کچھ ترقی ضرور کی۔
ہر قوم اور اس کے لیڈر کا زوال لکھا ہے۔ جب آرمی چیف کے انتخاب پر ملک بھر میں بحث ہو رہی تھی، یہی کوئی پچھلے سال کے اکتوبر نومبر میں، اور یہ کہ خان صاحب کے (اور عوام کے ایک بڑے حصے کے) زخم تازہ تھے، تو ہم نے سوچا کہ فوج کی کمان اُس کو دے دیں، جس نے ملک کے لیے چار گولی کھائی ہوں، چار گولی ڈسپرین نہیں۔ شرارت یہ تھی کہ ایسے جنرل ملنا مشکل ہیں جنہوں نے اللہ نہ کرے (کیوں کہ اس میں تکلیف کا عنصر ہے) کوئی ہی گولی کھائی ہو، تو آسان ہے کہ چار گولیاں کھانے والے کو ہی کمان دے دی جاۓ ۔
مشرف ایک فوجی تھے، جنگیں لڑے تھے۔ جب صدر بنے تو مشکلات کا سامنا ہوا۔ فوجی وہ ہی زبردست لگتا ہے جس کی نظر ملک کے دشمنوں پر ہو، ملک کی کسی پارٹی کے سربراہ پر نہیں۔ اور پارٹی کا سربراہ وہ ہو جس کی نظر ملک کے سپہ سالار پر نہیں۔ اِن دونوں کی نظر ملک کے اصل دشمنوں پر ہو، جو اکثر و بیشتر باہر ہی ہیں۔
کہانی کافی لمبی ہے، کچھ لوگوں کو لفظ بہ لفظ یاد ہے۔ وہ ٹویٹر پر اٹر پٹر کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں صرف اتنا یاد ہے کہ سیاست کے علاوہ ان کے دور میں کافی کچھ ہوا۔ زیادہ افسوس اِس پہ کہ دہشت گردی نے ملک میں آگ لگا دی۔ ہر طرف آگ تھی۔ اُس رات بھی جب بینظیر بھٹو صاحبہ کو شہید کیا گیا تھا۔ ایسی آگ پاکستان نے کبھی نہ دیکھی تھی، اور شاید نہ دیکھے کبھی۔
مشرف صاحب کی کتاب لائن آف فائر دلچسپ ہے، ہم نے اُسی وقت پڑھی تھی جب آئی تھی۔ کافی کچھ اس کتاب میں قابل غور ہے۔ لیکن شاید ان کے بم بلاسٹ کی کہانی سب سے زیادہ منفرد ہے، جب انہوں نے اپنی تباہ شدہ مرسیڈس کے ڈرائیور کو کہا، ’دبا۔‘ یعنی گاڑی دباؤ۔
مشرف دبئی سے چلے گئے۔ ان کے بعد تین اور آئے، اور چلے گئے۔ کئی اور آئیں گے اور چلے جائیں گے۔ ملک کا سپہ سالار کوئی بھی ہو، ملک سب کا ہے۔ سپہ سالار سب میں سے ہی ہیں۔ سب اچھے ہو جائیں گے، تو سپہ سالار بھی اچھے ہو جائیں گے۔ اس کے لیے کچھ وقت درکار ہے، اور قرآن مجید کافی۔
جب سب مِٹ جائے گا، یہ جہاں، وہ جہاں، ہر جہاں، اُس دن کا خدا کہے گا کہ ہے کوئی خدا میرے سِوا؟
تب تک کے لیے، ’پاکستان کا خدا حافظ ہے۔‘ رمز وقف لگائے یا نہ لگائے، آپ کی مرضی۔
