ٹائم لائن کُفر

June 10, 2023

کسی لا دین سے پوچھیے کہ کوئی خدا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ نہیں۔ ذرا زور دیں کہ ٹھیک ہے، کوئی خدا نہیں، لیکن یہ بتاؤ کہ یہ کائنات، یہ دنیا، کہاں سے آئی؟ اس پر ہر ملحد کی اپنی ہی کہانی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ سب ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ کچھ یہ کہ، خدا کے ہونے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں، اور کچھ یہ کہ، اگر خدا ہے تو اس دنیا میں اتنی تکلیف، آزمائشیں اور تباہی کیوں ہے۔ ان کے ایسے کوئی پندرہ دلائل ہیں جن پر ان کی لا دینیت کا محل قائم ہے۔ سب کا جواب قرآن مجید خوب ہی دے دیتا ہے، تو آپ پُر اعتماد رہیں۔

تھیوری آف ایوولوشن تو ہم سب ہی سن چکے ہیں، لیکن جب آپ کی دال ایک تھیوری سے نہ گلے تو آپ دوسری تھیوری کی جانب لپک لیں، پھر تیسری۔ ہالی وڈ آج کل ملٹی ورس تھیوری کو لے کر وقت اور خلا کی ایسی کی تیسی کر رہے ہیں۔ آپ پوچھیں کے یہ یونیورس یا کائنات کہاں سے آئی، تو اس تھیوری کے بقول، ایک کائنات نہیں، ایک سے زیادہ کائناتیں ہیں۔ کائناتیں سن کر ہمیں، قناتیں ضرور یاد آئیں۔ کیا ہی کہنے ان کھانو کے جو ان قناطوں کے پہلو میں ہم سب نے کبھی نہ کبھی بھمبوڑے ہیں۔

جب اس موضوع پر کچھ خیالات قلم بند کرنے کا خیال آیا، تو ہم نے سوچا ملٹی ورس کا اردو میں نام کیا ہے؟ اردو ایک مفصل زبان ہے تو اس میں ملٹی ورس بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر مفصل ہے تو اردو میں ہی اس اصطلاح کو دریافت کیوں نہ کیا جائے؟ کائنات کی لاتعدیت اگر مقصود ہے تو اس نظریے کو متعدد عالَم کا نظریہ کہا جا سکتا ہے، یا کثیر کائنات کا نظریہ، یا لاتعداد کائنات کا نظریہ۔ اردو ویکیپیڈیا پہ متعدد کائناتیں کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، جو ہمارے نزدیک، کائنات کی اس موضوع کے پہلو سے، کافی ڈھیلی جمع ہے۔

علامہ اقبال نے لکھا ‘ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔’ اور جہانوں کا نظریہ ہمیں زیادہ اچھا محسوس ہوتا ہے۔ اقبال کا نام پہلی بار لکھا، تو لرزت سی محسوس ہوئی۔ کہاں ان کی اردو اور کہاں ہماری، ‘ur-do’، پاؤ بھر اردو، پونی انگلش اور مٹھی بھر عربی۔ معنی یہ کے ہماری اردو لکھائی نہ ہو، کوفتوں کا مکس ہو۔ پاؤ بھر پیاز، پونا کلو گوشت اور مٹھی بھر ہری مرچیں۔ مرچیں زیادہ تو نہیں ہو گئی؟

اقبال کو کوئی نہیں سمجھا۔ کم از کم، قائد اعظم کے بعد کوئی نہیں سمجھا، اور شاید، قائد کو بھی اقبال نے اُسی زبان میں سمجھایا، جو قائد خوب بولتے تھے، انگلش۔ ۱۹۳۵ کی کتاب بالِ جبریل کی ایک غزل کے اس مصرع ‘ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں’ کو آپ جیسے چاہیں سمجھیں، لیکن بالِ جبریل سن کر آج کے نوجوان، سر کے بال سمجھیں گے، اڑنے والے پر نہیں۔ ۱۹۳۵ میں، سر کے بالوں سے زیادہ، کچھ معاملات اور بھی ضروری تھے۔ آج ہیئر ٹرانسپلانٹ یعنی بالوں کی پیوند کاری ضروری ہے۔

اب آئیے موضوع کی طرف۔ پوچھیے کہ متعدد کائناتیں کیوں ہیں؟ یا یہ کیا ہیں؟ تو جواب ہے کہ اس کائنات کی طرح، لاتعداد اور کائناتیں ہیں، جو اپنی اپنی جگہ، اپنے اپنے قوانین کے تحت مقرر ہیں۔ ہالی وڈ والے ان متعدد کائناتوں میں، آپ کے پسندیدہ ہیروز کو، متعدد انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ ہیرو وہی ہے لیکن اس کائنات میں وہ اس شکل صورت کا ہے، دوسری میں کسی اور صورت کا۔ اس میں مالی ہے، اس میں ڈاکٹر، کسی اور میں نجومی۔ لیکن ہے وہ آپ کا ہیرو ہی۔ تو آیا، ایک ہی وآ ر میں، ہر قوم، ہر جنس اور ہر نظریے کے لوگوں کو خوش کیا جا رہا ہے، ہماری لا علمی کی بنا پر۔

تو متعدد کائناتیں، ان میں آپ کی متعدد قسمیں اور ان میں آپ کی بروقت متعدد زندگیوں کا نام، ٹائم لائن۔

اس کی مثال لے لیتے ہیں۔ ایک کائنات میں ایک لڑکا رہتا تھا، جس کا نام عمران تھا۔ اس کائنات میں وہ ایک کامیاب کرکٹر تھا اور اپنے ملک کے لیے ورلڈ کپ جیت کر لایا تھا۔ دوسری کائنات میں وہ، ایک فیلانتروپسٹ تھا، جو لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام کیا کرتا، ہسپتال بناتا جہاں کینسر کا مفت علاج ہوتا۔ تیسری کائنات میں وہ ایک ماہرِ تعلیم تھا، جو یونیورسٹیاں بناتا اور وہاں طالب علم مفت پڑھتے۔ کیوں کہ کائناتیں ان گنت ہیں، تو کسی ایک میں وہ ضرور، ایک منجھا ہوا سیاست دان ہوتا، جس کی سیاست سے سب کانپتے۔ ان گنت، لا محدود کائناتوں میں، وہ ہوتا تو ضرور، لیکن، اتنا ضرور کہہ دیں کہ سب میں، خوبصورت، شاندار، کرشماتی اور ذہین ضرور ہوتا۔ اس پر تو ان کا بھی اعتراض نہ ہوتا، جن کو اعتراض ہوا کرتا ہے، اس کی باتوں پے۔

لیکن یہ ہوتا، وہ ہوتا، یوں ہوتا، ووں ہوتا، پر وہ نہ ہوتا جو اس جہاں میں ہو رہا ہے۔ یا یہ کر لیتا، وہ کر لیتا، بہت کچھ کر سکتا تھا، سب ہمارے نزدیک ایک ایسا ٹائم لائن کفر ہے جو انسان کو ‘کاش’ اور ‘اگر’ کے دو سِروں کے بیچ، پنگ پانگ کی گیند کی طرح اچھالتا رہتا ہے۔

اللہ نے قرآن میں کہا کہ سبعہ سماوات ہیں۔ جنتیں کتنی ہیں، کسی جنتی سے پوچھ لیں، لیکن سماوات سات ہیں۔ ان میں سے پہلی وہ ہے جو آپ کے گرد گھومتی ہے۔ اس کے علاوہ چھ ہیں جن کا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی معراج سے ہمیں کچھ باتیں پتہ چلتی ہیں، لیکن بیشتر وہ ہی چند باتیں معلوم ہیں۔ سماء کو اردو میں کائنات کہیے اور انگلش میں فرمامنٹ۔ سب کے معنی وہی ہیں جو علامہ اقبال نے فرمایا، ‘جہاں۔’

اس جہاں میں عمران سب کچھ ہے۔ آ ل ان ون۔ یہ لکھتے ہوۓ سوچا کہ اس مضمون کا نام بدل کر ‘مِلک شیک ٹائم لائن’ رکھ دیں، کیوں کہ اگر عمران سب کچھ ہے تو مِلک شیک سے کم نہیں۔ آپ بیسکن رابنز جائیں، چار پانچ مختلف آئس کریم کے فلیورز کا مِلک شیک بنوا لیں اور ٹرائی کریں۔ آپ کو عمران کا ذائقہ آ جائے گا اور کئیوں کو مزا بھی۔

متعدد کائناتیں ہیں، تو ٹھیک ہے مان لیتے ہیں۔ لیکن پھر بھی خدا نہیں ہے؟ یہ کیسے مان لیں، کیوں کہ کائنات ایک ہو یا ملینز (طاہر القادری صاحب کی طرح پڑھیے اس لفظ ملینز کو)، یہ وجود میں کیسے آئیں، احمق الوجود؟

شیخ یوسف استس جو شاید مسلم امت کے سب سے مضحکہ خیز عالم ہیں، قدر کو سمجھاتے ہیں کہ یہ، ‘ارادہ یا مرضی (will) اللہ کی، اور انتخاب یا پسند (choice) انسان کی۔’ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کے ماتحت۔ آپ کے سامنے روح افزا لا کر رکھ دیا جائے تو آپ دور ہی سے، مصنوعی سٹرا بنا کر اسے پی نہیں سکتے۔ ٹرائی ضرور کر سکتے ہیں، بس اپنے سسرال میں نہ کیجیے گا۔

یہ ہے عمران کی کہانی۔ کرکٹ کھیلنے والا، ملک کی بڑی طاقتوں کو ہچکولے دے رہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی طاقت، چلئے چھوڑئے…

اذانِ عصر ہو چکی ہے۔ کوئی کیا اور کس چیز پر یقین رکھتا ہے، وہ اس کا مسئلہ ہے۔ ہمارا یقین اللہ پر ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اللہ ہم سے محبت کرتے ہیں، کیوں کہ، فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ۔ اللہ محبت کرتا ہے اُن سے جو اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ عزم کی ضرورت ہے۔ (قرآن ٣:١٥٩)

آئیے توکل کریں اللہ پر، اور مٹا دیں اس کفر کی ٹائم لائن کو۔ کیوں کہ، ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں…

1 thought on “ٹائم لائن کُفر”

Leave a Comment