جگری دوست بھی ستم کرتے ہیں۔ جمعرات کو ان میں سے ایک نے میسج کیا کہ کچھ کام ہے۔ ہم نے جلدی میں جواب دیا، ‘بول۔’ سامنے سے جواب آیا، ‘بول کہ لب آزاد ہیں ترے۔’ یہ سنا تو ہم سمجھ گئے کہ یہ طنز ہے ان باتوں پے جو آج کل ہم آف دی رکارڈ کیا کرتے ہیں۔ ہم نے فوری طور پہ جواب دیا، ‘میں ٹائپ کرتا ہوں بھائی!’ جواب آیا، ‘تو ہاتھوں سے بولتا ہے’، ‘بولتے ہاتھ۔’ ہم ہنس دئے اور بات ختم ہو گئی، یا ہم نے کر دی۔
کل رات نا جانے کیوں کچھ قومی نغمے سنے۔ جب ڈٹ کے دل خوش ہو گیا، اور ہمت بحال ہوئی، تو خیال آیا کہ، ارے، یہ تو وہ نغمے ہیں جو انصاف والوں نے کئی وقتوں پہ لکھے اور گائے، قومی نغمے اور ترانے نہیں۔ بڑی شرم آئی اور پلان بنایا کہ ضرور قومی نغمے جلد سنیں گے۔
دل کے اضطراب میں کمی نہیں آئی۔ کسی نغمے یا گیت سے نہیں آتی۔ لیکن کچھ وقت کے لئے زہن پرانی یادوں کی طرف مائل ضرور ہو جاتا ہے۔ اپنی شریک حیات کو اسی موضوع پر کچھ کہا، تو فوراً لکھ ڈالنے کا خیال آیا۔ کچھ جذبات اور احساسات قلم بند کیے۔ آپ بھی پڑھیے…
وقت ایسے بدلتا ہے
کوئی طوفان جیسے پلٹتا ہے
آسمان سے گرنے والے جب
پکاریں آسماں والے کو تب
فضا کا رخ یوں پلٹتا ہے
مجاہد کوئی جب ڈٹتا ہے
ذرا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھ
مرے لہو کی بھاپ تُو جانچ کے دیکھ
ترے ظلم کا پہاڑ یوں ٹوٹ جائے
عیسیٰ کو دیکھے دجال پگھل جائے
لاٹھی تری آواز کستی ہے
ناحق مارا مجھ سے بے گناہ کو
پنجرے میں کبوتر باندھ دیے
ماںوں کے بیٹے جُدا کیے
ہے درد کوئی درد دل میں ترے
ہیں جگر کسی کے یہ جیسے ترے
بَرس اُس پہ جس نے سِتم کئے
ہیں خوش وہ یوں کہ بھائی لڑے
مرا ملک ترا ملک ہے سب کے لئے
مری جاں تری جاں ہے اِسکے لئے
اب یہ کہ ہو جائیں گے دن
پھر ویسے جیسے ہوا کیے
آئے گی پھر صدا ہر سنگ
آزاد ہوں میں آزاد ہو تم
