وَن پارٹی

October 23, 2022

رعایا اپنے حکمران سے کیا چاہتی ہے؟ اصل سوال تو یہ ہے. پکی پکائی روٹی، سلے ہوۓ کپڑے یا پھر بنا بنایا گھر؟ ایسی شہراہیں جن پر چلانے کو گاڑی نہ ہو، یا ایسے بینک جو اِن کا منہ ہی نہ دیکھیں؟ یا ایسا پیوند ٹکا ملک جسے نئی تعبیر تو دی جاۓ، لیکن نیا خواب ہی نہ ہو.

ایسے میں، وہ بھی ہوں جو رنگ، نسل، عقیدہ اور مذہب پرستی کو بالاتر سمجھتے ہوں، اور اُن کو اِس کے سوا کچھ نظر ہی نہ آتا ہو. یا وہ ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجبور ہیں، لاچار ہیں اور کوئی دوسرا ان سے ہاتھ کر رہا ہے، یا کر چکا ہے. پھر وہ ہوں جن کو دنیاوی تعلیم نے گھیرے میں لے لیا ہو اور اُن کی اس لکھت پڑھت کے عوض دو ٹکڑے زمین اور دو بوفے صبح شام کھانے کو ملتے ہوں، لیکن بس، وہ اِس سے زیادہ کچھ نہ ہوں.

صورت حال یہ ہو کہ، ہو تو یہ عظیم قومیں، یا اُن کی پشتیں، لیکن اِن کو آپس میں جوڑنے کے لیۓ، اسلام نہ ہو، اُس کے نام پر بنایا ملک نہ ہو، اُس ملک کا قانون نہ ہو، بلکہ، کسی شخصیت، اُس کی پارٹی، اُس پارٹی کا جھنڈا، اور اُس کی گونجتی یا معصوم سی آواز ہو. کسی وقت ایک ڈالر پر ایک ملنے والا روپیہ آج پچہتر سال بعد اپنی زندگی کی پناہ کے لئے در در ہاتھ پھیلاۓ محتاج گھومتا ہو. عام اور اب خواص دونو کی عزتیں محفوظ نہ ہوں، اور جو مظلوم ہو، خرچہ پانی بھی اُسی کو بھرنا پڑے. ملک کے ذہین تر اور محنت کش لوگ، ملک سے باہر ہوں، یا ملک سے باہر جانے کی تیاری میں ہوں. اِس سے بھی زیادہ یہ کہ اُن کی قدر صرف بینک کے اے-ٹی-ایم کی سی ہو. جسے کیش دینے کا کام سونپا گیا ہو، اور بس.

اِن سب کے باوجود، ہم بھی ہوں، اور تم بھی ہوں، یہ بھی ہوں اور وہ بھی ہوں، بس ایک نہ ہوں.

بھائی میری گلی کا گٹر بہ رہا ہے. بارش کا پانی ہر بار بجلی اُڑا دیتا ہے. گاڑی قستوں پہ لے بھی لوں تو کوئی اور لے جاتا ہے. ننھے بچے باہر کھیلنے کو جانا چاہتے ہیں تو گھر کا کوئی بڑا روک دیتا ہے کہ کہیں یہ آخری بار نہ ہو. نو جوان بے موت مار دیے جاتے ہیں اور مارنے والے آوارہ گھومتے ہیں. کچرا ایسا ہے کے اُٹھتے نہیں اُٹھتا. پیسے کی ہوس نے سب کو پتھر کا اور دلوں کو لوہے کا کر دیا ہے. کوئی ڈالر پلنگ کے نیچے دباۓ سوتا ہے اور کوئی پرس میں چُھپاۓ دبئی کے کسی بینک میں جمع کرانے فلائیٹ لے کر نکل پڑا ہے. نوکری کس شے کا نام ہے، وہ نہ نوکر جانتا ہے اور نہ نوکری دینے والا. کسی کا گھر آٹھ ہزار روپیہ میں چلتا ہے؟ لیکن نہیں جی تنخواہ اس کی بلکل آٹھ ہزار روپے ہی ہے، اور یہ بھی غنیمت ہے. دنیا اگر گول گھومتی ہے تو گھومتی ہو گی، لیکن یہاں تو سب ساکِت ہی ہے. صبح اور شام کے بیچ، ایک میں ہوں اور ایک میری یہ چلتی سانس.

ہاں شائد، ایک اور چیز بھی ہے میرے پاس. وہ ہے میرا ووٹ. اگر ضرورت پڑے تو یہ موسم بہار میں نوٹ سے بھی کافی طاقتور محسوس ہوتا ہے. اگر میں کوئی امیر با عزت سیاستگیر ہوں تو یہ ووٹ اربوں لا سکتا ہے، اور اگر میں کچھ نہیں ہوں تو شائد صرف بریانی یا حلوہ یا کچھ پیسے دلا سکتا ہے. لیکن کچھ دم ضرور ہے اس میں، ایسا معلوم دیتا ہے.

پھر یاد آیا کہ میں تو اب اجنبی ہوں، وہاں رہتا ہی نہیں، جہاں کبھی رہتا تھا. اب ووٹ نہیں دے سکتا. میری طرح کئی اور بھی ووٹ نہیں دے سکتے. اِن کو یہ غیر مقیم کی شناخت دے کر، بارویں کھلاڑی کی طرح سائیڈ پر بیٹھا دیتے ہیں. فرق صرف یہ ہے کہ، بارواں کھلاڑی پانی اور تولیہ لاتا ہے، اور یہ غیر مقیم، ڈالر، پاؤنڈ، ریال، درہم، وغیرہ کے ساتھ ساتھ، کئی حسین دنیاؤں کی خوشحال داستانیں.

نظام ایسا ہے کے ہر چیز کے لئے انتخاب. میرے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی الیکشن. اگر بوٹ کا تسمہ ٹوٹ جاۓ اور آپ الیکشن کرانے چلیں کہ بوٹ کا تسمہ کون ٹھیک کرے گا، تو پھر ہو چکا تسمہ ٹھیک. یا تو بوٹ بے تسمے کے پہننا پڑے گا، یا ننگے پیر ہی آپ تیل لینے جائیں گے.

مسئلہ یہ نہیں کہ موچی کا انتخاب موچیوں میں سے ہو رہا ہے اور سب ہی ذہین، معتبر اور پایہ کے موچی ہین، نہیں. مسئلہ یہ ہے کہ سِرے سے کوئی موچی ہی نہیں. بکرہ عید کے موسمی قصائیوں کی طرح، سب موچی ہی ہیں یا بن چکے ہیں. یہ بھی نہیں کہا جا ساکتا کہ بارش کے مینڈکوں کی طرح موچی اُمڈ آے ہوں، کیونکہ کم از کم، مینڈک مینڈک تو ہوتا ہے. انتخاب کی اس بیماری میں، اچھے لوگ پیچھے اور نوچی آگے نکا آتے ہیں، اور آہستہ آہستہ سب کچھ نُچ جاتا ہے. بالکہ نُچ چکا ہے.

ایسے میں سسٹم بدلو سسٹم بدلو کے نارے تو خوب آتے ہیں، لیکن ناڑے اب برانڈیڈ ہی ہمیں پسند ہیں، چاہے وہ جے ڈاٹ کے ہوں، یا کسی اور کے. جتنا تگڑا بندہ، اتنا تگڑا نارہ. آپ کی بات پسند آۓ تو آپ منتخب، اور نہ آۓ تو آپ نارے لگاتے رہئے اور آپ کی سننے والا کوئی نہیں. آپ طاقتور نہیں تو ذرا بچئے، بات آپ کے ناڑے تک پہنچ سکتی ہے اور آپ کے دائیں یا بائیں طرف بیٹھا آپ کا لیڈر آبدیدہ تو ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے ساتھ چل نہیں سکتا. کسی کو مزا نہیں چکھا سکتا.

قوم باہر نکل آۓ تو گھر لَوٹیے. گھر لَوٹ جائے تو کل بلاؤں گا، آ جانا. ارے کبھی کبھی تو لوہا گرم ہوتا ہے، آپ ہتوڑا ماریے. چلیں ہتوڑا نہیں تو ہتوڑی ہی صحیح، لیکن اِس بھٹی کو کب تک سلگائے رکھیے گا. غریب، کمزور، لاچار، ظلم میں پِسی، کسی اچھے دن کی تلاش میں سانسیں لیتی یہ بھٹی اور کتنی جھونک برداشت کرے گی. ہوا کی کمی میں، آگ ہوا کی طرف بڑھتی ہے اور جب بھوکی آگ ہوا سے ٹکراتی ہے تو آتش فشاں کی طرح پھٹتی ہے. اِس آگ کو نہ آزمائیں.

شائد یہ جمہوریت اور اس کے کئی لوازمات ہمارے لئے نہیں ہیں. یہاں تو ہر دوسرا شخص بادشاہ ہے، اور جو ہے نہیں، اسے ذرا شاہی کی بُو ہی کیوں نہ آ جائے، بادشاہت جمانے نکل پڑتا ہے. اسی سب کے بیچ، اِس سب سے جس کا کوئی نہ لینا ہے اور نہ دینا ہے، رعایا کا کام انجام دیتا ہے. اپنی مجبوریوں، کمزوریوں اور مفلسی کے ساتھ.

اچھا تو یہ ہوتا کہ سینکڑوں پارٹیوں کے بجاۓ، صرف ایک پارٹی ہوتی. سب کی پارٹی، ون پارٹی. اس کا کام، ہر حکومتی شعبے میں، ٹیلنٹ دریافت کرنا، اور اسے کام پر لگانا ہوتا. تاکہ جس کا کام اسی کو ساجھے جیسی مصال کو پھر تازہ کیا جا سکے. ٹیلنٹ سے ہماری مراد وہ لوگ ہیں جو اپنا کام خوب جانتے ہیں، چاہے اُن کی تربیت کسی محکمے یا ادارے میں ہوئی ہو یا نہیں. یا ان کا تعالُق کسی ذات پات، لسان، خطّے، یا رنگ سے ہو یا نہیں، اور یہ کہ ان کو انگریزی آتی ہو، یا نہیں. چنآچہ ایک ایسی نظامیاتی پارٹی جو اُسے نوکری دے جو کام سر انجام کر سکے. چاہے وہ ہمارے محلوں کی حفاظت ہو یا ملک کی عالمی سطح پر نمائندگی.

ایسے میں، یہ نہ پوچھئے کہ میرے سوا کون یہ چیز سرانجام دے سکتا ہے. بلکہ یہ پوچھئے کہ مجھ سے بہتر کون یہ چیز پایہ تکمیل تک پہنچنا سکتا ہے. کیونکہ ہم سب مسیحا تو بننا چاہتے ہیں، لیکن ہم خوب جانتے ہین کہ ہم ہیں نہیں.

ہم مسلمان کن چیزوں میں اُلجھ پڑے ہیں؟ حکم اور حکمرانی میں؟ جب کہ حاکمیت اللّه کی ہے، اور ہم صرف اُس کے بندے. ہمارا کام صرف وہ کرنا ہے، جس کا حکم ہمیں رسول اللّه ﷺ نے دیا ہے. اور ہاں، اگر آپ کا کام صرف سیاست ہی رہا ہے، یا آپ بھیانڈ-دی-سینذ یہی کرتے رہے ہیں، تو جائیے کوئی نیا ہنر سیکھئے. آپ کا ٹائم اب ختم ہے.

ون پارٹی آ رہی ہے. ہمارے خیالوں میں ہی صحیح. إن شاء الله‎…

Leave a Comment