ایمان

ملک ڈوب گیا، پانی میں۔ دل کی گہرائیوں سے صدا نکلی کہ کوئی ٹیک اوور کرے۔ ایسے بھی کیا ملک چلا کرتے ہیں کہ پانی آئے جائے، پانی آئے جائے اور کوئی پُرسانِ حال ہی نہیں؟ حسبِ حال، ملک میں فوراً ایمرجنسی لگا دینی چاہیے اور ملک کا بیڑا غرق ہونے سے پہلے، بیڑا اُٹھا لیا جائے۔ اتنے اوور ہوئے ہیں، ایک اور اوور کیوں نہیں؟

عوام بھی ٹچّی ہو گئی ہے، بارش سے۔ کہتی ہے کہ پہلے ایسی بارش نہیں دیکھی۔ ارے بھائی ابھی کچھ سال پہلے یہی تو حال ہوا تھا۔ پھر اُس سے کچھ سال پہلے اور پھر اُس سے۔ یہاں تک اگست میں ہی غالباً ببلی کی لانچ ٹل گئی تھی، کہ بارش ایسی اور سیلاب ایسے۔ لیکن نہیں، اِس بار بارش پچھلی بار سے زیادہ ہے، اور ہمیں تو یاد ہے کہ کراچی کی بارش ہمارے بچپن میں ہمیشہ طوفانی اور گھنٹوں ہوا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ ہمیں مبارک منزل میں اپنی دادی کی گیلری سے بہتا پانی ریلو‌ں کی صورت میں جاتا یاد ہے، لیکن ہاں، پانی آتا تھا، جاتا تھا، اب آتا ہے، جاتا نہیں۔

پھر کوئی کہے گا لہراتے انداز میں کہ پانی جائے تو جائے کہاں؟ لیکن گانا تو شائد تھا کہ جائیں تو جائیں کہاں، اور یہ بھی ٹھیک ہے، کہ اتنے پیارے پیارے دوست ملک آپ کو ٹھینگا ہی دکھا رہے ہیں، کہ ابھی موڈ نہیں ہے کل آنا۔ پھر کل کس نے دیکھا ہے۔

کراچی کی بارش جس نے نہیں دیکھی، وہ تو جَڑیّا ہی نہیں۔ لاہوری کہتے ہیں جَنّیا یا جمیعہ ہی نہیں، تو ہم نے سوچا کیوں نہ ہم بھی کوئی حماقت ماریں۔ بجلی کے جھٹکوں سے، بجلی کے نہ ہونے سے، بہتے پسینوں سے، تباہ شدہ گاڑیوں سے، بچتا بچاتا، بارش نے تجھے نہ چھوا، تو پپّو تُو تو جَڑیّا ہی نہیں۔ یہاں بارش نہیں ہوتی، آسمان پھوٹتا ہے، جیسے اِسے معلوم ہی نہیں کہ نیچے کیسے یہاں انسان بستا ہے۔

ایک اوور میں چھ بال ہوتے ہیں، مشرف صاحب نے ڈیڑھ اوور کرایا تھا اور ساتویں میں موچ بھی کھا گئے تھے، لیکن کہ خوب گئے تھے کہ پاکستان کا اللہ حافظ ہے، بالکل درست، کیوں کہ اگر اللہ حافظ نہ ہو تو اللہ کی پناہ مانگیے، اِس کے محافظ بھی پانی کا کچھ بِگاڑ نہیں سکتے۔

اب وہاں دوسری جانب احمق الوجودوں کے کرم داتا ہاتھ مَل رہے ہوں گے کہ پانی چھوڑ دو اور پاکَستان کو پورا ڈبو دو۔ پھر ڈھول بجا دو کہ آسمانی ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے پاکَستان کو غرق کر دیا ہے اور یہ کہ یہ ٹیکنالوجی سِری رام کے وقت سے بھی پہلے یہاں ہم ایجاد کر رکھے ہیں۔ ہم لالو پرساد پر ہنسا کرتے تھے، یہ چائے والا تو بالکل دو آنے کا ہے۔

پانی پر ہم نے نغمہ لکھا، پانی پر جنگ کے بعد۔ پانی کم ہے نہیں، برسا جا رہا ہے۔ یہ انسان ہے جس کو کوئی سمجھداری نہیں سوجھتی۔ دریا ہیں کہ گلی گلی بہہ رہے ہیں، پانی گھروں کی چوکھٹ پر اور کب اندر آ پڑے یہ سب کو وحشت۔ ملک ہے کہ ہر نقصان قرضے چڑھائے برداشت کئے جا رہا ہے اور اس کے مائی باپ، ہر وہ کام کریں جس سے کسی کا بھلا ہو نہیں۔

کچھ عرصے پہلے، کوئی تین سال ملک میں خوشحالی آئی ضرور تھی۔ بادل برسے تھے پر یوں نہیں، اور زمین سے لے کر آسمان تک سب خوش و خرم تھا۔ لیکن ہماری قسمت کہ وہ حکومت کسی گوری سے شادی کی طرح، ہنی مون کے عین بعد امّا کے ہاں جا بیٹھی۔ جیسے ہی 40 روپے ہیلی کاپٹر پٹرول نے کہا تھا کہ ہم ایک پیج پر ہیں، ہم سمجھ گئے تھے کہ ہیں تو ایک پیج پر لیکن پیج دو لختھ ہو چکا ہے۔ پھر کس کتاب کا پیج ہے یہ، کوئی بتائے۔

اب کوئی مچل کے بولے گا کہ وہ دبئی میں بھی تو بارش ہوئی تھی دو سال پہلے اور پانی جمع ہو گیا تھا تو وہ کیا تھا۔ ارے بھائی اپنا موازنہ دبئی سے کیوں کرتے ہیں، ملیشیا سے کیجیے۔ وہاں اتنی بارش ہوتی ہے لیکن پانی کہیں جمع کیا نظر تک نہیں آتا۔ ہم وہاں گئے تھے، یہ بارش پڑی اور وہ پانی گیا۔ اگر دبئی میں روزانہ بارش ہوتی تو بھائی یہاں ایسا نکاسی کا نظام ہوتا کہ آپ کو کانچ کی چمکتی نالیوں میں پانی گول گول گھومتا نظر آتا جو مخرج کے پاس صاف شفاف ہو کر بجلی بناتا ہوا آدھا سمندر میں اور آدھا کسی ریزروائر میں جمع ہو جاتا۔ بھائی یہ دبئی ہے، ذرا سوچا کیجیے۔

غم ہو تو یاد رکھیے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ کوئی دل کا ٹکڑا دُور ہو جائے تو سوچئے کہ ہم پھر ملیں گے۔ جب کوئی غلط بات ذہن میں آئے تو سوچئے کہ یہ آپ نہیں آپ کا قآرین ہے۔ ہمت ہار جائیں تو سوچئے کہ جیت سامنے ہے۔ ملک کو ترسیں تو سوچئے کہ یہ ساری زمین آپ کے رَب کی ہے۔ جب اللہ کی طرف سے کوئی امتحان آ جائے تو کہیے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اور جب اپنے آپ کو اکیلا محسوس کریں تو سوچئے کہ ایک وقت آدم علیہ السلام اِس دنیا میں اکیلے تھے۔ آپ اکیلے نہیں، آپ کے ساتھ آپ کا خدا ہے۔ اِس کا یقین آپ کو ہے کہ نہیں، یہ آپ کا ایمان ہے۔

Leave a Comment