اَلْبیلا

فجر سے قبل کا وقت ہے، ٹِک ٹَاکیوں کے علاوہ ایک آدھ انسان جاگ رہا ہے۔ ایک اندھیری عمارت ہے، کافی وسیع، اِس کے چاروں طرف کچھ سنتریوں کے مورچے ہیں۔ ایک آدھ جاگ رہا ہے، باقی سب اُونگھ رہے ہیں۔ خاموش رات میں، چار کمبل چڑھائے چنگے بھلے بندے، چُپکے چُپکے اِس عمارت کے پاس کے ایک پیڑ سے ہوتے ہوئے، رسی ٹانگے اُتر جاتے ہیں۔ اِن میں دو بھاری وضا کے، کچھ مشکل سے کودتے ہیں، اور باقی دو دُبلے پتلے، ہرن کی پُھرتی کی طرح ایک آدھ جالی پھیلانگ کر دائیں بائیں چُھپ جاتے ہیں۔ صرف دو آوازیں آ رہی ہیں، ایک جعفر حسین کی گھڑی کی ٹِک ٹِک، اور ایک، کرم داد کی، «او میرے پاک پروردگار»۔ جعفر حسین کی آنکھوں میں شولے ہیں، جو سلگتے ہیں، پھر تھم جاتے ہیں، دائیں بائیں دیکھ کر، آگے کا اشارہ کرتے، پِسٹل تھامے، کہ «آگے بڑھو»۔

پِسٹل ۹ ایم ایم کا ہے، جن ماتھوں پہ پولیس کی ٹوپیاں ہوا کرتی تھیں، اُن پر ایک کمبل ہے، کالا، کہیں سے اللہ دتہ اُٹھا لایا، لیکن یہ سب کچھ نہیں، مِشن سب کچھ ہے۔ «آج یہاں سے یا تو میری لاش جائے گی، یا کہ وہ…»

تینوں رُکے ہوئے ہیں کہ محمود کہاں ہے، اور وہ ہے کہ کہیں غائب ہے۔ جعفر حسین کو کوئی خیال آتا ہے، پھر سر کو جھٹکتے ہوئے اِسے بھگا دیتا ہے۔ «نہیں محمود ایسا نہیں…» اِتنے میں ایک زور دار پٹاخہ پھوٹتا ہے اور پُوری عمارت کی بجلی کَٹ جاتی ہے۔ اگلے لمحے، جیسے یہ چار، کوئی مارول کامِکس کے سُوپر ہیرو ہوں، کالے اندھیرے میں ایسے رستہ بناتے ایک خاص پلاٹ کی طرف دوڑ لگاتے ہیں، جیسے سیلاب کسی موڑ سے ہوتا ہوا دائیں بائیں پھیلتا ہے۔

سامنے سے ایک جالُوتی ٹریکٹر،طوفان اُٹھاتا، پیچھے چلتا ہوا کمپونڈ کی بڑی دیوار چِکنا چور کرتا ہوا، کمپاؤنڈ میں داخل ہو جاتا ہے۔ اِس کے پیچھے ایک لمبی سی موٹی رسی ہے جس کے آگے ایک لوہے کا پھندا جو دو نو عمر جوان پُھرتی کے ساتھ گھماتے ہوئے عمارت کے بالائی حصے پر پھینک دیتے ہیں۔ پھر ٹریکٹر بھڑکتے ہوئے آگے کی طرف بڑھتا ہے، کہ دیوار پر کوئی چار چھے زور دار پٹاخے پھوٹتے ہیں اور ایک قیامت کے ساتھ عمارت کا یہ حصہ، کوئی تین منزل کا، پُھوٹا پَھٹا زمین بوس ہو جاتا ہے۔ تعمیر کسی چیز کی بھی ہو، اگر کَانٹریکٹر گورنمنٹ کا ہے تو، دیوار کیا، اور بِسکُٹ کیا؟ اِس سب میں بھی، کرم داد کو گلوکوز بِسکِٹ کی یاد ستا رہی ہے۔ «اگر آپ کا اور میرا، کچھ وزن کم ہوتا تو یہ عظیم کام ہم کر لیتے»، محمود اور اللہ دتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو بانس کی بنی ایک لمبی سی سیڑھی عمارت کی دوسری منزل پر اِس پُھرتی سے لگاتے ہوئے ڈورتے ہیں جیسے، بچوں کی کرمچ کی گیند، پڑوسی کے اُس مکان کی چھت سے لینی ہو، جہاں اُس نے اپنا باولا بکرا کُھلا چھوڑا ہو۔ یُوں چڑھو اور یُوں اُترو، کہ کہیں یہ «سینگھ» ہی نہ مار دے۔

کُل کچھ بارہ منٹ ہوئے ہیں۔ کچھ یہاں وہاں شور ضرور ہوا ہے اور کچھ آوازیں زوردار ہیں۔ اِس کمپاؤنڈ کو تو کچھ خاص لوگ بھی دیکھ رہے تھے، لیکن کیا ہے، اِن کا آنا نہیں ہوا۔ بچے سب کے ہوتے ہیں، اگر پولیس میں ہوں تو کتنا اچھا ہے، اور اگر اُبو بھی پولیس میں، تو پھر کیا، کام مینیج ہو جاتا ہے۔ پھر یہ تو اپنی پولیس ہے، کروٹ کوئی بھی لے، اِسے بیدار کرنے والے بھی اِسی میں ہیں۔ ڈر کچھ اوروں کا ہے، لیکن اِن کے بھی فرزند، اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ آوازیں ہیں، ابھی دُور ہیں۔ دور ہی رہیں گی، فی الحال۔

جہاں سے ٹَرک کمپاؤنڈ کی دیوار توڑے داخل ہوا تھا، وہاں سے ایک قدیم جِیپ کوئی اَسی پِچیاسی کی تیزی سے داخل ہوتی ہے اور ایک لمبا خوش بدن شخص اِس میں سے نکل کھڑا ہوئے سیدھا بانس کی سیڑھی پر ایسے پُھرتی سے چڑھنا شروع کرتا ہے کہ جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ اللہ دتہ کا منہ کُھلا کا کُھلا، محمود اب جیپ میں جا کر بیٹھے ہوئے، اور کرم داد اور جعفر حسین سیڑھی کو پکڑے۔ لمبا خوش بدن شخص سیڑھی کو ہاتھ لگائے بغیر، ایک کے بعد دوسرا قدم لئے، کوئی دو مالے چڑھ کر اندھیرے میں غائب ہو جاتا ہے۔

«اللہ ہو اکبر، اللہ ہو اکبر» کے پاک الفاظ سے، دُور کہیں آذان شروع ہوتی ہے، پھر نہ جانے کہاں سے دو جوان ٹوٹی دیوار کے باہر سے چیخے آتے ہیں کہ «اوئے یہ کیا کر رہے ہو»۔ اِس سے پہلے کہ کچھ اور کہیں، دو چار ہوا کی سی آوازیں آتی ہی، جیسے کان کے پاس سے کوئی چیز پُھر سے گزر جائے، اور دونوں جوان ٹَپ ٹَپ زمین پر جا گرتے ہیں۔ اچھا ہے ہر طرف گھانس ہے، ورنہ سیمنٹ پر گرنا، کافی تکلیف ہو جاتی۔ چاروں طرف لال لال سائرن بجنے شروع ہوتے ہیں جِن سے پُورے کمپاؤنڈ کی دیواریں روشن تو ہوئی ہیں، اب خطرہ قریب ہے۔ محمود پسینے میں شرابور، اللہ دتہ «اللہ اللہ» کرتا، اور دونوں جعفر حسین اور کرم داد سیڑھی کو پکڑے اُوپر کو دیکھیں کہ کب یہاں سے نکلیں۔ منٹ یا ڈیڑھ ہوا ہے، لیکن صدی معلوم ہوتی ہے، گزرے ہی نہیں، کمبخت۔

اوپر سے زور سی آواز آتی ہے، «محمود»، تو محمود ہڑبڑاہٹ میں زور سے جواب دے بیٹھتا ہے کہ «جی ڈی ایس پی صاحب»، پھر سر پر ہاتھ مار کر دائیں بائیں دیکھتا ہے۔ ڈی ایس پی کہتے ہیں، «موٹر تیار کرو، میں نیچے آ رہا ہوں»۔ یہ کہہ کر ڈی ایس پی صاحب پیچھے مُڑتے ہیں اور رات کی کالک میں، ایک تن آور، کوئی جوان معلوم ہوتا ہے، ذرا سا لڑکھڑاتا ہوا، ایک طرف کچھ پیر میں چوٹ ہو جیسے، دُھول اور دُھوئیں میں سے نمودار ہوتا ہوا، کالے کرتے شلوار میں، ننگے پیر ایک ستون کی طرح چلا آتا ہے، اور کہتا ہے، «کون ہو تم لوگ؟» «سر، ڈی ایس پی طاہر علی خان، ریٹائرڈ، اور میری ٹیم، کچھ اور بھی ہیں، آپ چلئے، یہ کالی رات ختم ہونے کو ہے»۔

«چلو…»

نوٹ: یہاں تک ایک ہزار الفاظ ہوئے ہیں۔ لفظ ’چلو‘ ایک ہزارواں لفظ ہے۔ یہ اَلْبیلا مووی کے شروع کے سین ہیں۔ ایک ہزار الفاظ لکھ کر ہم نے سوچا کہ جب کوئی دو چار کروڑ روپے دے گا تو پوری اسکرپٹ مکمل کریں گے۔ ابھی کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ یہ مووی کو ہم نے کافی عرصے پہلے سوچ رکھا تھا۔ اِس چودہ اگست کے موقع پر کچھ لکھنا تو چاہتے تھے، لیکن کوئی خاص پلاٹ (کہانی کا، معاف کیجیے گا) ذہن میں نہ تھا۔ پھر اندھیرا اجالا کا خیال آیا اور اِس پر یہ کہانی لکھنا شروع کی۔ ہمارے والد صاحب کو اندھیرا اجالا کافی پسند ہے، اور کرم داد اُن کے پسندیدہ کردار۔ شائد ہمیں جا کر یہ تحریر اُن کو سنانی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں پسند آئے۔ آپ نے یہاں تک پڑھا، آپ کا شکریہ۔ سوچتے ہیں کہ یہ اوپننگ سین مووی اسکرپٹ کی شکل میں لکھ کر نیٹ فلکس کو بھیج دیں۔ کیا پتہ انہیں بھی اِس کہانی میں ہوتا کیاہے، معلوم کرنے کی خواہش ہو جائے۔ تب تک کے لئے، ایک اور چودہ اگست، ہو گئی۔

Leave a Comment