رمضان شروع ہوئے۔ بچپن میں یہ رمذان ہوتے تھے۔ آج سب رمضان یا رمَضان لکھ لکھ کر کسی نہ کسی فوٹو یا اسٹیکر کے ساتھ واٹس ایپ پر بھیج دیتے ہیں۔ اللہ غارت کرے واٹس ایپ کو۔ سارے سال کوئی منھ نہیں دکھاتا، اور جب دکھاتا ہے، تو کوئی سڑا ہوا چاند والا اسٹیکر، کہ رمضان ہوا، یا عید ہوئی، بڑی یا چھوٹی۔ اور خدانخواستہ اگر کوئی عرب میں رہتا ہے تو اللہ کی پناہ، عربی میں نہ جانے کیا کیا۔ ارے بھائی، ہم قرآن مجید کی تلاوت کر سکتے ہیں، الحمدللہ، لیکن اتنی عربی؟ کیا کہنے۔
اب تو کچھ چاٹ جھپٹ (چیٹ جی پی ٹی) والے بھی آئی وائی (اے آئی) کی مدد سے انگریزی میسیجز بھیج رہے ہیں۔ کیونکہ ہم ایک انگلش دان اور انگلش کے ایک زبردست پروفیسر کے بیٹے ہیں، چاٹ جھپٹ آئی وائی کی لکھی انگریزی کو خوب سمجھ لیتے ہیں۔ کچھ نہ لکھنے والے کچھ لکھنا وکھنا شروع کر دیں تو کیا ہی بتائیے گا آپ انہیں۔ ہم نہیں پڑھتے خامخا کے میسیجز۔
ایک دوست چائے کے عاشق ہیں۔ یہ اُن کی رفیقۂ حیات پڑھ لیں تو شائد وہ بھی اِس کی شہادت دے دیں گی کہ ہاں یہ سچ ہے۔ آج پہلے روزے کے عین بیچ میں ہم نے اِن دوست کو میسیج کیا ’چائے – مِڈ روزہ ریمائنڈر‘ یعنی روزے کے درمیانی اوقات میں چائے کی ایک زوردار یاد دہانی۔ سمجھیے کہ ہم چائے بم ہی مارنا چاہتے تھے، اور پھر آئے دو اسٹیکر، چائے کے۔ ہم نے جواب میں لکھا، بھول جا اِسے۔ وہ ہمارے لکھنے کا انداز سمجھ گئے اور جواب دیا کہ، میں اِسے بھول جاؤں یہ ہو نہیں سکتا، اور یہ مجھے بھول جائے، یہ میں ہونے نہیں دوں گا۔ ہم نے کچھ زیادہ سوچے بغیر لکھا ’ٹائیگر ۵‘ کہ یہ ڈائیلاگ ایسی فلم میں خوب جچے گا۔ اب سوچا تو شائد یہ ’ڈر ۲‘ میں خوب چلے۔ اِس سب میں، رمضان کا پہلا روزہ شائد دودھ میں روح افزے کی طرح گُھل ہی گیا۔
گھر میں روح افزا نہیں ہے۔ اگر اس ملک میں کسی چیز کے دام یا سپلائی فکس نہیں تو وہ روح کے دام اور جامِ شیریں کی سپلائی ہے۔ روح افزا پر تو شائد سٹہ بھی چلتا ہو، کہیں کوئی دام کہیں کوئی۔ لیکن ہے دستیاب اور ہم کیونکہ کوئی سات درہم کا ومٹو لے آئے ہیں، تو روح افزا کی کوئی زبردست ڈیل چیک کر رہے ہیں۔ جامِ شیریں کی کہانی یہ ہے کہ اسے کوئی ڈھونڈ نکالے تو یہ مشکل ختم ہو کہ اِس سے ہمارا گلا نہیں آتا، اور روح افزا سے کچھ اَن بَن رہتی ہے۔ ویسے کیا ہی مقابلہ ہے، روح کا جام سے۔
ابلیس اینڈ کمپنی کوئی انتیس یا تیس دنوں کے لئے آف پر ہے۔ تنخواہ پوری ہے لیکن کام کچھ نہیں۔ واقعی بیٹھ کر شائد پچھلے سال کی اسٹاک ٹیکنگ میں مصروف ہوں، کہ کس کس کو گمراہ، تباہ کیا، یا یہ کہ اگلے سال کی تیاری میں مصروف ہوں کہ کس کس پر دورے، مہرے ڈالنے ہیں۔ سچ پوچھیے تو رمضان چاند دیکھنے سے تو آتا ہی ہے، لیکن اگر طبیعت ایک دم انسانوں والی لگنے لگے تو سمجھیے کہ رمضان آن ہے۔
اِس مہینے کی کئی برکتیں ہیں، اور کئی بربادیاں۔ برکتوں میں تو اللہ سے لو لگانا، نمازیں وقت پر پڑھنا، رسول اللہ کی کئی سنتوں پر عمل کرنا، اور اپنے ضمیر کا محاسبہ کرنا ہے، لیکن بربادیوں میں اس مہینے کو بھول جانا، اِس میں قرآن مجید کو نہ پڑھنا، تراویح کو چھوڑ دینا، دوستوں میں فالتو وقت گزارنا اور الّا بلا ’آپ ہمارے ہاں آئیے اور افطار کیجئے، نہیں آپ آئیے،‘ کے بے معنی طور طریقوں میں وقت برباد کرنا، یا کھانوں کے نئے نئے تجربے کرنا، کہ یہ پکا لیں، یا وہ پکا لیں۔ ارے، عید کا تو انتظار کیجئے، ہر افطار کو عید نہ بنائیے۔
ہمارے گھر میں پہلے تو رمضان ’آ رہا ہے‘ کی کوئی ٹینشن نہیں۔ اِس کے آنے سے دو تین دن پہلے بےتاب انداز میں شاپنگ کرنے کی بھی کوئی ٹینشن نہیں۔ اِس میں کیا پکے گا، کیا کھایا جائے گا، اِس کی بھی کوئی ٹینشن نہیں۔ کس کو افطار پر بُلانا ہے، کس کے ہاں جانا ہے، اِس کی بھی کوئی ٹینشن نہیں۔ ٹینشن ہے اُن چیزوں کی جن کی ٹینشن ہونی چاہیے۔ قرآن مجید پڑھنا ہے اور بھولنا نہیں، پورا مکمل کرنا ہے۔ فجر سے کافی پہلے اُٹھ کر سحری سکون سے کرنی ہے، زیادہ تر ایک سیب، ایک آت کھجور اور اگر انڈہ ٹوسٹ مل جائے تو سحری ڈن ہے۔ پھر دن بھر کام، آرام اور شام میں عصر کے بعد قرآن کی تلاوت۔ پھر افطار اور تراویح پڑھنے پیدل جانا۔ موٹی موٹی یہی کچھ چیزیں ہیں، جن سے یہ مہینہ یہاں پورا ہوتا ہے۔
سحری پر یہاں صبح سالن روٹی کوئی نہیں کھاتا، نہ ہی دودھ پھینیاں، فرینیاں، وغیرہ۔ سالن روٹی کھا کر اِسے ہضم کون کرے گا، نیند ہی نہ آئے گی کچھ دیر۔ ایک بار پھوپھا فیروز نے ہمیں سحری کھاتے دیکھا تو خوب ہنسنے لگے، اور کہا کہ، تم انگلش سحری کر رہے ہو۔ ہم تلا ہوا انڈہ اور مکھن ٹوسٹ کھا رہے تھے۔ اِس پر ہم خوب ہنسے اور پھر سب گھر والے بھی خوب ہنسے۔
بچپن میں تو ہم کیا ہی خاک کچھ کرتے ہوں گے رمضان میں سوائے یہ کہ روزے رکھے، پھر افطار کے بعد یا تو کرکٹ، یا تو کمپیوٹر پر کرکٹ یا کوئی اور گیم۔ تراویح اور قرآن مجید کی تلاوت تو دور کیا، ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ ہوتی تھی۔ لیکن نمازیں ہم پوری پڑھتے تھے اور بس کھیل کود میں زیادہ دھیان تھا۔ رفتہ رفتہ وقت کے ساتھ ہم بھی بدلتے رہے اور اللہ اللہ کر کے یہ کچھ اچھی عادتیں اللہ نے ڈلوا دیں۔ اِن کے ڈلوانے میں کئی بھلے لوگوں کے نام آتے ہیں، لیکن وہ پھر کبھی صحیح۔
اب یہ ہے کہ ایک سسٹم سے رمضان شروع ہوتا ہے اور اِسی سسٹم کے ماتحت یہ ختم ہوتا ہے، الحمدللہ۔ گھر میں قرآن پڑھنے اور ختم کرنے کا کمپٹیشن ہم نے ہماری بڑی بیٹی کے ساتھ شروع کیا کچھ دس سال پہلے تو اب سب اِس میں شامل ہیں، کہ کون پہلے قرآن ختم کرے اور بازی جیت لے۔ ویسے کچھ سالوں سے ہم آگے نکل جاتے ہیں اور بچے پڑھائیوں امتحانوں میں مصروف جب آخر تک پہنچتے ہیں تو ہم اِن کے لئے رُکے ہوئے کہتے ہیں کہ چلو تم سب ایک ایک کر کے آخری سورتیں پڑھو پھر ہم پڑھیں گے۔ شائد اسی کو بازی ہار کر جیتنا کہتے ہیں۔
جہاں تک بات آئی رت جگوں کی، ائویں فالتو، یا کرکٹ فٹبال کی، یا صرف بیٹھ کر سحری کے انتظار میں، یا سحریوں کو یہاں وہاں جا کر کرنے میں، یا جلدی سحریاں کھا کر سونے اور فجر پر نہ اٹھنے میں، یا الّا بلا فریزر اور ڈیپ فریزر بھرنے میں، یا بے گانوں کی طرح دائیں دوڑنے میں یا آئیں بائیں شائیں میں، تو نہیں، یہ رمذان یا رمضان نہیں، یہ کچھ اور ہی ہے۔ اِسے نہ تو آپ رسول اللہ کی سنت میں تلاش کر سکتے ہیں، نہ ہی اپنے آباؤ اجداد کی عادات میں۔
کوئی بات کڑوی لگے تو پھر پڑھیے گا، شائد دوسری بار بُری نہ لگے۔ اور اگر اچھی لگے تو اِس رمضان وہ کچھ کیجئے کہ عید کے دن رمضان کے جانے کا ملال نہ ہو، بلکہ یہ خوشی ہو کہ رمضان میں جو کیا، سیکھا، اِس نے اگلے گیارہ مہینوں کا طریقہ سکھا دیا۔
’رمذان‘ کے بارہ درجن اسٹیکروں اور الّا بلا ہزارہا مبارکوں کے ساتھ، اِس خاکسار روزہ دار کو اجازت دیجیے۔ رمضان مبارک۔ کچھ دیر سے ہی صحیح!
