اَوردُو

October 8, 2023

ہر جمعہ دوپہر کو ابو ظہبی سے جمعے کا خطبہ انگریزی اور اُردو میں نشر ہوتا ہے۔ ریڈیو پر یہ ترجمہ ہمارے گھر میں سنا جاتا ہے اور جب اُردو کے خطبے کی باری آتی ہے تو ریڈیو اینکر عربی میں اُردو لفظ کو ایسے پڑھتے ہیں جیسے اَوردُو ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اُردو پر ایک بڑا سا  پتھر رکھ دیا ہے۔ ہاں، ہندی میں خطبہ نشر نہیں ہوتا۔

اُردو میں لکھنا ہم نے کووڈ کے دنوں میں شروع کیا، وقت زیادہ تھا اور کام کچھ کم۔ شروعات ایک مکالمہ سے کی، جس کا نام ‘الف نون – ویکسین سازی میں’ ہے۔ یہ لکھا تو لیکن اب تک مکمل نہیں کیا۔ امید تھی کہ کووڈ میں ہی مکمل کریں گے تو خوب پذارائی ملے گی، کیونکہ اگر کوئی اِس مرض کی ویکسین کچھ ہفتوں میں بنوا کر بیچ سکتا تھا، تو وہ الن، ننھے پر آزما کر، یا ننھے سے فروخت کروا کر۔ پچھلے ہفتے کچھ خیالات آئے تو دل کرا کہ اِسے جلد مکمل کریں ۔إن شاء الله۔

ہماری والدہ کو پتا چلا کہ اُردو میں کالم لکھا ہے، تو انہوں نے کہا کہ اُردو میں کیوں؟  کافی لوگوں نے کہا۔ ہماری بیگم نے بھی۔ لیکن ہم لکھتے گئے، نہ جانے کیوں۔ اگر انگریزی میں لکھیں تو شاید ایسی پُھرتی سے کہ کالم روز لکھ سکیں، اور خوشی بھی محسوس کریں کہ واہ جی، ایک نیا کالم چھپ گیا۔ لیکن انگریزی میں لکھا تو کیا ہی لکھا۔

اُردو میں لکھنے کا شوق ہمیں بچپن سے ہے، اور اس کا اعزاز پہلے ہماری والدہ کو اور دوسرا وسیم شہزاد کو جاتا ہے، جو ہمارے اسکول اور کالج کے دوست تھے۔ والدہ نے تو ساری زندگی ہمارے جیسے نکمے طالب علم کو پڑھایا لکھایا اور اُردو جیسے مشکل مضمون میں گھسیٹ پھسیٹ کر پاس بھی کرایا، لیکن، وسیم نے ہمارا آدھے صفہے کا ایک مکالمہ پڑھ کر کہا تھا کہ ‘ہاں ٹھیک ہے، بہت اچھا ہے، ٹیچر کو دے دو۔’ اُس مکالمے کی کہانی یہاں قلم بند کی ہے۔ یوں کہئے کہ اُس دن ہم رائیٹر بن گئے تھے۔

کافی چیزیں ٹرائی کین تو اِس کالم کو لکھنے اور اپنے دل کی باتیں ایک ہلکے انداز میں کہنے کا مزہ منہ کو لگ گیا۔ جو باتیں ذہن میں آتیں وہ ہم لکھنے لگے اور دل کا بوجھ ہلکا ہوتا رہا۔ اگر کسی چیز نے ہمیں سب سے زیادہ مائل  کیا کہ اُردو میں لکھو، یہ کہ آج ہندی کا چرچا کیا جا رہا ہے، جب کہ، چرچا کرنے والے نہ پے بول سکتے ہیں اور نہ جیم۔ پھر کو فِر اور جیت کو زیت کہتے ہیں۔

زرنا گارگ نامی ایک ہندوستان سے امریکی کامیڈیئن کا امیزون پرائم پر شو دیکھا تو کافی مزا آیا، جب تک کہ اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ اُن کا نام ہندی کے ایک لفظ سے ہے جس کے معنی آبشار کے ہیں۔ اِس پر ہم نے سوچا کہ واہ، جھرنا زرنا ہو گئیں، لیکن لفظ یہ ہندی کاہے۔ اُردو کا نہیں۔ کیا کہنے۔

قادر خان فلموں کے ڈائیلاگ اُردو میں لکھتے رہے۔ فلموں میں یہ اُردو ڈائیلاگ لفظ بلافظ امیتابھ بچن کہتے رہے۔ آہستہ آہستہ پھر اُردو پر قبضہ سا ہونے لگا، جیسے ہم باسمتی چاول کے نام سے بھی محروم ہوتے ہوتے بچے۔ ہندی بولنے والے آج بھی بڑی مشکل سے اُردو کے تمام الفاظ بول سکتے ہیں۔ ہندی ہے تو صحیح لیکن اُردو سے ہے، ہندی سے اُردو نہیں۔ ورنہ غالِب، گالِب ہی رہ جائیں گے۔ ہاں مگر، اُردو میں سنسکرت تو ضرور ہے۔

مغل اگر کچھ چھوڑ گئے تو اپنے مقابر، کچھ مساجد، قلے اور وہ زبان جسے لشکری کہتے تھے۔ یہ اُس وقت کی زبان ہے جب مغل فوجوں کے مختلف سپاہیوں کو آپس میں بات کرنے اور ان میں بھائی چارہ پیدا کرنے کے لئے ایک جامع زبان کی ضرورت پڑی۔ آیا کہ یہ زبان شروع کرائی گئی، یا خود شروع ہوئی، یہ تو کوئی عالم ہی بتائیں گے، لیکن نام اِس کا لشکری پڑا، اور بعد میں اُردو۔ جب زبان عام ہوئی تو ہندی رسم الخط میں بھی لکھی گئی، اور ہندی نے زور پکڑا۔ آج ہندی کا راگ الاپا جا رہا ہے، جیسے کہ اُردو کبھی تھی ہی نہیں۔

پہلی وجہ اُردو میں لکھنے کی یہ بنی، کہ یہ ہماری مادری زبان ہے، اور اِسے مٹا دیا جائے، اِس میں کچھ اُردو بولنے والوں کا بھی ہاتھ ہے۔ سب انگریزی بول رہے ہیں، یا انگریز کے ٹٹو بنے سرکس میں ناچ رہے ہیں۔ چلیں سرکس میں سب انگریز ہیں تو سرکس کے ساتھ ناچ رہے ہیں، یہ کہ لیجیے۔ سمجھتے ہیں کہ انگریزی ہی ہماری آخری میراس ہے۔

دوسری وجہ یہ کہ اکثر اُردو بولنے والے، غریب، غربا ہیں۔ وہ پڑھ بھی لیں تو ‘اردو میڈیم’ کہلاتے ہیں، کیوں کہ وہ کسی ایسے اسکول سے نہیں پڑھے جہاں کا نصاب انگریز لکھتا اور پڑھاتا، یا پڑھواتا ہے۔ انگریزی ٹھیک بول نہیں سکتے، اور پاکستانی نصاب پڑھ کر شاید کئی اعتبار سے پیچھے رہ گۓ ۔ہم بھی ایسے ہی سسٹم سے پڑھ کے نکلے تھے، اور کیا ہی نکلے کہ پلٹ کر کبھی پیچھے نہیں دیکھا۔ ہماری خواہش ہے کہ ہمیں یہ سب  پڑھیں، ہم اِن کا درد خوب سمجھتے ہیں۔

یوٹیوب پر کوئی ویڈیو جو ہندی میں ہو دیکھیے تو اُس کے ٹائٹل میں اُردو نہیں لکھا ہوتا، صرف یہ کہ ہندی، یعنی ویڈیو ہندی میں ہے۔ اپنے لوگوں کو دیکھیے، بڑے بےوقوفانہ انداز میں لکھتے ہیں، اُردو/ہندی۔ جیسے کہ فرض ہے ہندی بولنے والوں کا آپ کی ویڈیو دیکھنا۔ آپ اپنی ویڈیو اپنے لوگوں کے لئے بنائیں، وہ بھی کچھ ٢٣٠ ملین سے زیادہ ہیں اب۔ کافی ہیں یوٹیوب پر کچھ کھانے کمانے کو۔

انگریزی میں لکھیں تو پڑھے گا کون؟ وہ پاکستانی جو انگریزی جانتے ہیں۔ لیکن یہ غلط فہمی ہے، کیونکہ وہ کسے پڑھتے اور سنتے ہیں؟ انگریز کو۔ جس کی بلی، اُسی کی میائوں، تو سوال پھر وہی ہے، کہ پڑھے گا کون؟ جواب یہ ہے کہ آپ اپنے لئے تو لکھ سکتے ہیں، اگر ضرورت ہو، لیکن اگر آپ ملک کے بارے میں لکھتے ہیں، یا اُن چیزوں کے بارے میں جو صرف آپ کی قوم ہی سمجھ سکتی ہے تو اپنی زبان میں ہی لکھیے۔ کیونکہ کسی اور کی زبان میں لکھئے تو  نہ وہ آپ کو جانیں اور نہ ہی سمجھیں۔

شیخ احمد دید ات نے کیا ہی خوب کہا تھا، ‘انسان کی مادری زبان وہ ہے جس میں وہ خواب دیکھتا ہے، یا کہ مغلظات بکتا ہے۔ جو ہمیں جانتے ہیں، وہ اُردو کی ہماری مادری زبان ہونے کی گواہی ضرور دے سکتے ہیں۔ استغفر اللہ۔

اُردو تھی، اُردو ہے، اور اُردو رہے گی۔بابر أعوان صاحب کے انداز میں پڑھیے۔ ویسے، کب آ رہا ہے شیر واپس میدان میں؟ تاریخ پہ تاریخ لگ رہی ہے۔ ارے! یہ جملہ تو ذو معنی ہو گیا۔ ہاؤں ہاؤں!

تصویر ویبھو رینا کی طرف سے انسپلاش پر۔

Leave a Comment