عمران ریاض واپس آ گئے، الحمدللہ۔ اب یہ کالم لکھنا بند کر دیتے ہیں۔ لیکن سنا ہے کہ ابھی وہ اپنے ۱۰۰٪ پر نہیں ہیں، تو کچھ دیر اور صحیح۔ کمزوری اور ذہنی اذیتیں جاتی تو ہیں، لیکن بدل جاتی ہیں۔
آج خوشی کا دن ہے، کئی دنوں سے سگنل آ رہے ہیں کہ کچھ مصلے مسائل ٹھیک ہو رہے ہیں۔ حالات ہی ایسے ہیں کہ سب سہم سے گئے ہیں۔ نوکری پیشہ طبقہ بہت مشکل سے اپنے روز مرہ کے اخراجات پورے کر رہا ہے۔
ہمارے لائر نے آج ہمیں یہی کہا کہ مڈل کلاس کے حالات ٹھیک نہیں اور یہ کہ اب مشکل ہو رہا ہے معاملات کو چلانا۔ یہ وقتی آزمائش ہے، پاکستان میں جو بھی کرتے ڈھرتے ہیں، اتنے بیوقوف نہیں کہ پوری لٹیا ڈبو دیں۔ جتنی ڈوب گئی ہے، کافی ہے۔
عمران ریاض کی تصویر میں ایک ایسی خوشی موجود ہے کہ بیان کرنا کچھ مشکل ہے۔ وہ کمزور ضرور لگ رہے ہیں، لیکن داڑھی اور سفید بالوں میں ڈیشنگ بھی لگ رہے ہیں۔ اُن پر کیا گزری یہ انہوں نے ہی برداشت کیا۔ ملک میں ظالم لوگ ہیں، یہ اس کی تصدیق ہے۔
یاد تو ارشد شریف بھی آ رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ اگر کوئی ایسا دوست اور لائر ارشد کے ساتھ ہوتا جو عمران ریاض کے ساتھ لگا رہا تو ممکن ہے ارشد آج ہمارے ساتھ ہوتے۔ یہ کہنا باڈرلائن شِرک ہے، لیکن انسان غم میں کچھ بھی کہتا ہے۔
امید تھی کہ واپسی کے بعد اُن کی ٹویٹ آتی، کہ ’آئی ایم بیک!‘، لیکن یہ سب کوئی معنی نہیں رکھتا۔ زندگی سے بڑھ کر کوئی انعام نہیں اور ‘آئی ایم بیک’ نہیں، آج کا جملہ، ’آئی ایم الائیو!‘ ہے۔ کبھی سوچتے ہیں کہ اللہ کو منظور ہوا تو عمران ریاض کسی دن پاکستان کو لیڈ کریں گے۔
اُن کی حالت دیکھ کر خوش ہونے والے ہو لیں خوش۔ یہ ایک کی آواز مٹانا چاہتے ہیں، اللہ ایک سے دوسری، پھر تیسری اور پھر ہزاروں آوازیں پیدا کر دیتا ہے۔ یہ آوازیں آج ساتھ گونج رہی ہیں۔ تڑ پانے والے تڑ پ رہے ہیں، پانی سے باہر نکلی مچھلی کی طرح۔
عمران کی اگلی ویلاگ کب آئے گی؟ میرے خیال میں اب ویلاگوں کا ٹائم گیا۔ کچھ وقت بعد ہو سکتا ہے کہ وہ قوم کو لیڈ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اب وہ اپنے یوٹیوب چینل فالورز سے کئی زیادہ عوام کے دلوں میں گھر بنا چکے ہیں۔
کہا کہ کچھ باتیں وہ اشارے سے مکمل کر رہے ہیں۔ کچھ کام اشاروں سے مکمل کیے جاتے ہیں۔ باتوں کا، کہانیوں کا، اندر کی خبروں کا وقت گیا۔ اگر اپنے آپ کو نہ بدلیں، تو ہم کیا ہی انسان ہیں؟ اور جانوروں کو پلیز انسلٹ کرنا بند کریں۔ انہوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے۔
جرنلزم ایک خطرناک کھیل ہے۔ جو اِس بات کا ادراک رکھتے تھے، صحیح وقت پر ملک سے چلے گئے، یا ملک میں رہتے ہوئے معاملے کو سمبھالتے رہے۔ یا کہ انٹچیبل تھے، کچھ اچھے لوگ کنیکشن رکھتے ہیں اچھی جگہوں پر۔ لیکن ہے یہ ایک عجیب کھیل۔
عدالتوں پر سے پریشر ہٹ گیا۔ پریشر درحقیقت کچھ کھلاڑی ڈال رہے تھے، اور ہر نفس، پریشر اپنے اپنے انداز میں ہینڈل کرتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کمزور یا بکا ہوا ہے، سچ یہ ہے کہ جب تک اصل بات سامنے نہ آئے، آپ تنبیہ کرتے رہیں۔ وقت آنے پر وہ اپنی زنجیروں کو توڑ دیتا ہے۔
بکنے والے بک چکے۔ خریدنے والوں کو چین کا مال بھی نہ ملا۔ حساب یہ ہے کہ قیامت کے دن، رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونو جہنم میں ہوں گے۔ اِس عذاب سے جو بچنا چاہے وہ اگلی باربیکیو میں کوئلوں کے پاس ہاتھ رکھ کر مصلے کی حقیقت کو بھانپ لے۔
عمران ریاض کے دوست اور وکیل نے اُن کے گال کو جو چوما،ممکن ہوتا تو ساری قوم ہی یہ کرتی۔ بڑوں سے لے کر بچوں تک سب خوش ہیں۔ جب اللہ کسی کی محبت آپ کے دل میں ڈال دے تو جان لیجئے، اللہ کو محبت پسند ہے، نفرت نہیں۔
عمران ریاض کو آزادی مبارک۔ یہ جملہ جلد سنئے گا:
”اب تک کے لئے اتنا ہی، اپنا خیال رکھئے گا۔ اللہ حافظ۔“

Zabar10 full of emotions…. Bus ker paglay ab rulay ga kia …. Indeed its time to celebrate 👍🏻