ڈرامے

September 24, 2023

کہانی یہ ہے کہ کالج کی فیرویل پارٹی تھی اور حسبِ حال اسکول میں یہ روایت تھی کہ بچے کوئی نہ کوئی اسٹیج شو ضرور کریں گے۔ ہماری کلاس ٹیچر نے سب کو کہا کہ اپنے اپنے ڈرامے، نغمے،وغیرہ ، لکھ کر جمع کرا دیں۔ جس کا آئیڈیا اچھا ہو گا، اُسے اسٹیج شو میں پیش کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ اسٹیج شو کی اصطلاح صحیح ہے۔ آج کل اسکولوں میں بچے اِسے کانسڑٹ کہتے ہیں اور ہمیں اِس لفظ کے استعمال سے سخت نفرت ہے۔ بچپن میں ہی بچوں کو میوزک اور کانسڑٹ سے متعارف کروانا، اسکول کا کام نہیں۔

اُن دِنو ہمارے والد صاحب الف نون اور اندھیرا اُجالا، خصوصی طور پر بہت مزے سے دیکھتے اور ہم بھی ساتھ ساتھ لگے رہتے۔ جب ٹیچر نے کہا کہ کچھ لکھ کر جمع کریں، تو ہم نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اُردو ہینڈ رائٹنگ میں، جسے ہمارے پرنسپل اَبڑو صاحب ‘ہینڈ’ بھی کہا کرتے تھے، کاپی کا ایک آدھ صفحہ لکھ کر، ٹیچر کو نہیں دیا، بلکہ وسیم شہزاد کو دیا اور کہا کہ ‘پڑھو اور بتاؤ کہ ٹیچر کو دوں یا نہیں؟’ وسیم ہماری کلاس کے اچھوں میں سے ایک اچھے اسٹوڈنٹ تھے۔ ٹیچر میڈم زیدی تھیں اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ بغیر کسی یقین دہانی کے کوئی کیمکل ریئکشں ہو۔ وہ کلاس ٹیچر تھیں اور ہمیں کیمسٹری پڑھاتی تھیں۔

وسیم نے کوئی ١٠ سیکنڈ میں مکالمہ پڑھا اور کہا اچھا ہے، ٹیچر کو دے دو۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ اُس کی شرارت تھی، یا سنجیدگی لیکن، ہم بہت خوش ہوئے اور ٹیچر کو مکالمہ دے دیا۔ ٹیچر نے پڑھا، مسکرائیں اور کہا، ٹھیک ہے، اِسے کمپلیٹ کریں اور فیرویل کے لئے تیار کریں۔ غالباً ١٩٩٢-١٩٩٣ کی بات ہو گی۔

مکالمہ اندھیرا اُجالا پر رکھ کے لکھا اور اِس میں ایک غریب کسان کی داستان قلم بند کی۔ کوئی ٩ منٹ کا کُل ڈرامہ تھا جس میں بیچارے کسان کی دیگ چوری ہو جاتی ہے اور وہ رپٹ لکھانے تھانے چلا آتا ہے۔ سارے کردار اندھیرا اُجالا کے تھے، لیکن قوی صاحب کا کردار ڈی ایس پی طاہر علی خان نہیں تھے، ورنہ ڈرامہ سنجیدہ ہو جاتا۔ ہم خود کرم داد تھے اور باقی سب دوست کوئی نہ کوئی رول ادا کر رہے تھے۔ کسان کے ساتھ آج بھی تھانے میں اُس دن کی طرح مزاق ہی ہو رہا ہے۔ البتہ سنا ہے، ڈی ایس پی صاحب اور اُن کے عملے کو وادیِ شِمشال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پہلے ٹیچر نے ڈرامہ دیکھنا تھا۔ دوستوں کے ساتھ کچھ رہرسل کر لی تھی لیکن ہمیں معلوم تھا کہ پاس ہونے کے لئے کچھ خاص ہی کرنا ہوگا تو اپنے دوست محمد عزیر کو، جو اللہ دتہ بنے ہوے تھے، کہا کہ اِس جملے کے بعد اپنا چہرہ ہمارے چہرے کے قریب لے آنا، جیسے جاسوسی انداز میں کچھ سننا چاہ رہے ہو۔ وہ خوب ہی کردار تھے، ویسے ہی کیا جیسے ہم نے کہا۔ اگلا جملہ ہمارا، یعنی کرم داد کا، ‘مِسٹر اللہ دِتا، وَاٹ آر یو ڈوئنگ؟،’ اِس زور سے اور پورے کیریکٹر میں کہا کہ عزیر تو چونک ہی گئے۔ یہ ٹیچر نے دیکھا تو ہنس پڑیں اور کہا کہ ڈرامہ پاس ہے۔

وسیم نے بھی ہمیں کہا تھا کہ وہ کوئی رول ادا کریں گے، لیکن وہ نہیں کر پائے، کیونکہ شرم کے مارے اُن سے اسٹیج پر ہی نہیں آیا جاتا۔ ایک بار پہلے ایک اور عزیز دوست، داور خلیل کے ٹیبلو میں، جو راشد منہاس شہید کی کہانی پر لکھا تھا، وسیم کوی ایک ہزار کی لائو آڈیئنس کے سامنے اسٹیج  پر آئے ہی نہیں تھے اور بڑی مشکل سے شو کو سنبھالنا پڑا تھا۔

یہ یاد نہیں کہ وہ کونسا رول ادا کر رہے تھے، لیکن جس دوست کے ڈرامے کا جہاز اُنہوں نے اُس دِن تقریباً گرا د یا تھا، شاید وہ کامنٹس میں اِس پر روشنی ڈال دیں۔ جو سُنتا ہے اِس بارے میں، اُس کا جی کرتا ہے کہ بس جوتی نکلے اور وسیم کی طرف لپکے۔ ہمارے ڈرامے میں وہ میڈم زیدی کے سامنے سے ہی بھاگ گئے، اور ہم نے شکر کیا کہ جان چھوٹی۔ ورنہ ہمارا ڈرامہ بھی تباہ کر دیتے۔

یہ وہ وقت تھا جب ہم سائنس ایکسیبیشن، ڈراموں اور ایکٹنگ میں زیادہ مشغول رہتے اور آہستہ آہستہ پورے اسکول میں مشہور ہو گئے تھے۔ داور خلیل نے بھی ہمیں آخری سال میں ایک اور ڈرامے میں ننھے کا رول دلوایا، مِس راحت خیری، جو اُردو ٹیچر تھیں، اُن کے حوالے کیا اور پاکستان، پاکستانی حکومت کے بیرونے ملک پاکستانی طالب علموں کے دعوتی پروگرام کے ماتحت،  گھومنے چلے گئے۔ سَتِّیا ناس اگر ہوا تو وہ ہمارے اِنٹر کے گریڈز کا، جن کی بنا پر آپ شاید فوج میں تو بھرتی ہو سکتے ہیں، کسی اچھی سائنس یونیورسٹی میں نہیں۔

یوں وہ وقت مکمل ہوا جب سب تو پڑھ لکھ کر اچھے گریڈز لے آئے اور ہم با مشکل انٹر میں ٥٦ فیصد مارکس لے کر پاس ہوۓ۔ مٹرک ٧١ فیصد سے پاس کیا تھا، جو ہمارے لئے کافی تھا۔ نہ کچھ کم، اور نہ کچھ زیادہ۔

کراچی پہنچے تو وہ دوڑ شروع ہوئی جب ساری کائنات نے زور لگایا کہ ہم کسی طرح کسی اچھے انسٹیٹیوٹ یا یونیورسٹی میں داخل ہو جائیں، کیونکہ کافی جگہ ۶۰ فیصد مارکس ہونا لازمی تھے۔ ہمارے این سی سی کے ۲۰ مارکس بھی کافی نہیں تھے کہ وہ اِس ۵۶ کو ۶۰ تک لے جاتے۔ ویسے این سی سی میں ہم بٹالین سیکنڈ اِن کمانڈ ضرور تھے۔ کیا ہی بات تھی۔

خیر، کچھ ہماری اردو میڈیم تعلیم، کچھ ہماری اپنی ہرکتیں، اور فیصلہ نہ کرنے کی کمزوری نے ایک بیڈمنٹن شٹل کارک کی طرح کبھی یہاں دھکیلا کبھی وہاں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہماری والدہ نے جسٹس ناصر اسلم زاہد سے جو ہمارے نانا مرحوم کے خالازاد بھائی ہیں، فون پر بات کی اور کہا کہ یاسر کے ایڈمیشن کا کچھ مثلا ہے۔ جسٹس صاحب نے اُن سے کہا کہ بیٹے کو میرے چیمبر میں آ کر ملنے کو کہو۔ ہم مسقط سے آئے  ہوئے، دنیا کیا ہے سے لا علم، سٹی کورٹ کراچی بس وغیرہ لے کر پہنچے تو پہلی بار ہتھکڑی لگے مجرم بھی دیکھے، اور سٹی کورٹ کی وسعت دیکھ کر خوش بھی ہوئے۔ ظاہر سی بات ہے، ہم چیف جسٹس آف سندھ سے ملنے جا رہے تھے تو اپنی شان کچھ اور ہی معلوم ہو رہی تھی۔جو تھی کچھ نہیں۔

پوچھتے پاچھتے، ہم جسٹس ناصر اسلم زاہد کے چیمبر تک جا پہنچے۔ اُن کے آفس اسٹاف کو کہا کہ جسٹس صاحب نے ملنے کو بلایا ہے، تو انہوں نے ایک منٹ میں ہی اندر بلا لیا۔ ہم بیٹھے اور پھر جسٹس صاحب نے سلام دعا کے بعد پوچھا کہ بتاؤ بیٹے کیا بات ہے۔ ہم نے کہا کہ، سر سید یونیورسٹی میں ہم داخلے کا ٹیسٹ دینا چاہتے ہیں، اور ٹیسٹ دینے کے لئے ٦٠ فیصد مارکس کا ہونا ضروری ہے، ہمارے مارکس ٥٦ فیصد ہیں۔ جسٹس ناصر اسلم زاہد سر سید یونیورسٹی کراچی کے بورڈ ممبر تھے اور ہمارے والدین نے یہی سوچا ہو گا کہ وہ کہلوا دیں گے تو ٹیسٹ دینے کی اجازت مل جائے گا۔

ہمارا کہنا تھا کہ مارکس کم ہیں، اور دوسرے لمحے جسٹس صاحب نے کچھ کڑےانداز میں کہا، ‘بیٹے مارکس نہیں آئے تو کیا کر سکتے ہیں۔’ پھر کہا کہ کل اپنے سارے دستاویزات لے کر آنا۔ ہمیں اگر کچھ یاد ہے تو وہ احساس جو ہمیں اُس وقت ہوا کہ ہاں، مارکس نہیں آئے، اور ہمارا امتحان دینا بنتا ہی نہیں۔

ہم اُٹھے، جسٹس ناصر اسلم زاہد کو سلام کیا، اور کبھی واپس نہیں گئے۔ بس چلے گئے۔ دنیا کا نظام یہ ہے کہ اگر آپ اِس قابل نہیں، تو بس، اِس قابل نہیں۔ کسی اور کا حق نہ ماریے۔ ایسا نہیں کہ آپ کا کوئی خیال نہیں کرے گا۔

ہاں یہ ضرورر ہے کہ ہم نے اپنی والدہ کو جسٹس صاحب کا جملہ ضرور سنایا اور اِس کڑوے سچ کو لے کر بات بھول گۓ کہ والدہ اگر جسٹس صاحب کو کال ہی نہ کرتیں تو اُن کے سامنے بے عزتی نہ ہوتی۔ وہ چیف، اور ہم چِیپ لگے۔ اپنے اوپر غصّہ خوب آیا۔

آج سوچتے ہیں تو یہ کہ، آپ بس اتنا کیجئے کہ اپنے بچوں کی حفاظت کیجئے، اُن ڈراموں سے جو وہ اپنے پڑھائی لکھائ کے دنوں میں لکھتے اور سر انجام دیتے ہیں، جن سے انہیں اپنی ننھی منھی عمر میں، اور نہ جانتے ہوئے کہ کیوں اور کس لئے، کہیں جاکر، کسی بڑے آدمی کے سامنے احساس ہوتا ہے کہ ہاں، گیا وقت واپس نہیں آتا۔

ہمارے ایک دوست جن کواُن دنوں کمپیوٹر کی اسپیلنگ ہی آتی ہو گی، سر سید یونیورسٹی میں داخلے کے بعد کمپیوٹر انجینئر بنے۔ ہم کمپیوٹر کے ماہر، ایڈمیشن کیا، اِس کا ٹیسٹ تک نہیں دے سکے۔ البتہ، وقت ایسے مُڑا، اور خدا نے ہمیں ایسے سمندر کو چاک کر کے راستہ دکھایا کہ آج ہم کمپیوٹنگ کے بادشاہ ہیں۔ دنیا میں ایسے کئی بادشاہ ہیں، آپ اُن سے ملیں گے تو خوب جان لیں گے۔

پھر یہ بھی ہے، کہ لاکھوں غلطیاں ہی انسان کو پروان چڑھاتی ہیں۔ کسی کو قائد اور کسی کو کپتان بناتی ہیں۔ یہی وہ کچھ ڈرامے ہیں جنھیں ہم زندگی کہا کرتے ہیں۔

1 thought on “ڈرامے”

  1. Wah meray dost cha giya hai tu! Zabar10! Writer banta ja raha hai finally! Haan I still remember Waseem had to play a flight instructor giving lecture on landing approaches. Very important point in the darama n one very important thing was the pilot suits were short as one went blown away by air outside where we kept them for drying after dying them. So I was not wearing the suit gave mine to waseem n he didn’t show up on the stage….hahahaha what a time it was… thanks for refreshing those memories… keep up the good work bro👍🏻

    Reply

Leave a Comment