آج سے کچھ سال پہلے ہم سو کر اٹھتے تھے تو یہ سوال خوف کے ساتھ دل میں ہوا کرتا تھا کہ “ملک کا کیا ہوا؟” آج سو کر اٹھتے ہیں تو اِس خوف سے کہ “عمران خان کا کیا ہوا؟” کمبختوں نے عمران خان کو ملک بنا دیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان اٹھ کر یہ سوچتے ہیں کہ “ملک کا کیا ہوا؟” اچھا ہے، ہماری پریشانی انہوں نے اٹھا لی ہے۔
کل رات ہم نے شرارت کے طور پر سب کو انگریزی میں میسیج کیا کہ “نواز شریف ٢٠ ڈالر بل کی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان واپس آرہے ہیں !” کسی کا جواب نہیں آیا۔ گھر میں جب سب کو میسیج اپنے فون پر دکھایا تو بیٹی نے مسکرا کر ہماری طرف دیکھا اور کہا “اچھا”، جیسے کوئی ناممکن بات ہو۔ انکی امی کو میسیج دکھایا، تو انہوں نے پڑھ کر کہا “یہ تم نے لکھا ہے،” جیسے یہ جانتی ہوں کہ ہماری شرارت ہے۔ ہم نے کہا کہ میسیج غور سے پڑھیں۔ پھر دونوں خوب ہنسے، کیونکہ غور سے کچھ پڑھنے سے ہی تو بات پوری طرح سمجھ آتی ہے، بیس ڈالر بل، بیس بلین ڈالر نہیں! مزے کی بات یہ ہے کہ کسی دوست احباب کا بھی جواب نہیں آیا۔ کہیں سب خبر نہ تلاش کر رہے ہوں، کہ صحیح ہی تو نہیں؟
اگر عمران خان کو نواز شریف شکست دے سکتے ہیں تو اسی اعلان سے کہ، ‘میں ملک واپس آ رہا ہوں ٢٠ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ، جو ملک کے خزانے میں جمع کروں گا۔ میرے ساتھ ساتھ میرے قریبی سرمایہ کار بھی دو دو سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری لا رہے ہیں۔’ یہ کر لیجئے، اور عمران خان کی سیاست ختم۔ ہاں البتہ، وہ یہ ضرور کہیں گے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی ہو گی۔ پنجاب کی عوام ایک بار پھر شیر کی چاہت میں لڈیاں ڈال رہی ہو گی۔
پنجاب جِس کا، اُس کا پاکستان۔ یہ ہم ایک پاکستانی کے طور پر نہیں کہ رہے، یہ ہماری سیاست رہی ہے — ارے بھائی، ملک کی سیاست۔ آپ کو یہ بات تلخ لگےگی، لیکن، ایک دور میں، پنجابی پیدا لاہور میں ہوتا تھا، اور مرتا لندن میں۔ یہ ہم ایک ایکس-پنجابی کی حیثیت سے ہی کہ رہے ہیں، کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد کا تعلق پنجاب سے ہی تھا۔ کبھی کبھی اپنے آپ کو ہم ہالی ووڈ موویز اسٹائل میں ایسے ہی متعارف کرواتے ہیں کہ ہم ایکس-پنجابی، ایکس-دلی والے اور ایکس-کراچی والے ہیں’۔ اِس سے زیادہ خطرناک تعارف نہیں ہو سکتا۔
عمران خان کی سیاست اُس دن ختم ہو سکتی تھی، جس دن انہیں ہٹایا گیا۔ آپ نہ ہٹاتے تو خان صاحب کے خلاف پروپیگنڈا ایسا کام کر رہا تھا کہ اِن کو اگلے الیکشن میں اکثریت نہیں ملتی، اور شاید شکست ہوتی۔ اِن کی پانچ سالہ حکومت کے بعد کس کی باری آتی؟ نون اینڈ گونز کی۔ کسی قسم کی مداخلت کی ضرورت ہی نہیں تھی، صبر کی تھی۔
کل پاکستانی ‘ڈرامہ، ڈھکوسلا، ڈرپسند’ موومنٹ ختم ہو گئی۔ آئی ایم ایف نے عمران خان کے گھر پر وزٹ کر کے، سب کو اچمبے میں ڈال دیا۔ اگر یہ بھائی اتنے ہی بُرے ہیں، تو ایک چھوٹی سی رقم کے لئے، خود چل کر آئی ایم ایف پاکستان کے سب سے مشہور ڈان سے کیا لینے آئی؟ پاکستان کے اصل مائی باب یہ ہیں؟
تکلیف کی بات یہ ہے کہ،آئی ایم ایف نے گیند وہاں چیپ دی ہے جہاں آپ گھٹنوں پر گر جاتے ہیں، اور آنکھوں سے پانی نکل آتا ہے۔ کچھ وقت تک آپ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہوا کیا ہے۔ اور جب سمجھ آتی ہے تو اگلی گیند کا سامنا ویسے نہیں ہوتا جیسے پچھلی کا ڈٹ کر کیا تھا۔ اِس وقت حکومت گھٹنوں پر گر چکی ہے۔
ہم ہوتے تو کہ دیتے، ‘جاؤ ہم نہیں کھیلتے۔ ٢٠٠ کیسز ہیں ہم پر باجی! ہمیں اِس استودیو سے لے کر کورٹ کے رن لگاوا رہے ہیں۔ ہماری پارٹی کو ہائی جیک کرنے کے منصوبے سے لے کر، تتربتر کرنے تک کے ہر منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں مار نے کا شوق بھی پورا کرنا چاہتے ہیں۔ جاؤ کسی اور سے گارنٹی لو اپنے تیس ہزار لکھ ڈالروں کی۔’ نہیں، ڈان نے آئی ایم ایف کو یہ نہیں کہا، نہیں۔ کہا کہ ملک کی خاطر، منظور ہے۔
ڈان کوئی بھی ہو، ڈان ہی ہوتا ہے، اچھا، برا یا بکواس۔ ایسا ڈان آپ کو اب پاکستان میں نہیں ملے گا کیوں کہ اس نے اب ٢٠٠ کیسز کی حد کراس کر لی ہے۔ پاکستانی سیاست میں اِس سے بڑا مجرم پہلے کبھی نہ آیا، اور نہ ہی آے گا !
ڈان کی بات ہو رہی ہے تو، ڈان مووی کے کچھ ڈائیلاگ ملاحظہ فرمائیں۔ اِن میں کچھ ہم نے بدلے ہیں، اور کچھ بالکل سو فیصد وہی ہیں۔ لیجیے، ملک کا سب سے بڑا ڈان، پیش خدمت ہے:
1۔ یہ تم جانتے ہو کہ ڈان کا نام لینا منع ہے… میں جانتا ہوں کہ ڈان کا نام لینا منع ہے… لیکن سوشل میڈیا نہیں جانتا کہ ڈان کا نام لینا منع ہے۔
2. ڈان کا انتظار تو پورے ملک کی پولیس کر رہی ہے۔
3. مجھے دو طرح کے الیکٹیبلز پسند نہیں آتے… ایک وہ جو میرے پاس آنے میں بہت دیر لگائے… اور ایک وہ جو بہت جلدی بھاگ جائے۔
4. ڈان زخمی ہے تو کیا… پھر بھی ڈان ہے۔
5. مجھے پلے ہوئے کتے پسند ہیں…
6. کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن میں فائدہ یا نقصان نہیں دیکھا جاتا… بس انہیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔
7. انسان یہ جان سکتا ہے کہ چاند اور سورج میں کیا چھپا ہے… لیکن یہ کبھی نہیں جان سکتا کہ ایک جنرل کے دل میں کیا چھپا ہے۔
8. میں بہت مجبور ہوں ڈی ایس پی۔ گرفتار ہونے کی عادت مجھے بالکل نہیں ہے۔
9. ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔
10. باہر تمہاری آنٹی بہت سے انکلز کو لے کر آئیں ہیں۔
11. ڈان کے دشمن کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے… کہ وہ ڈان کا دشمن ہے۔
12. لوگ ڈان کو نہیں… سیاست کو چھوڑ دیتے ہیں…
13. مجھے جہاں پہنچنا ہے اُس کے لئے یہ عوام بہت ضروری ہے۔
14. ڈان اپنے لیڈرز کا حال پوچھے نہ پوچھے… اپنی عوام کی خبر ہمیشہ رکھتا ہے۔
15. مجھے آزادی پسند ہے… تمہارے آنے والے کل کی یاد دلاتی ہے۔
16. ڈان کے سامنے آدمی کے پاس صرف دو راستے ہوتے ہیں… مان جائے یا مکر جائے… جیسی اسکی مرضی۔
17. کس نے کہا کہ معجزے نہیں ہوتے… زرا مجھے قریب سے دیکھو۔
18. “سر؟”… سر بہت شریف سا لگتا ہے… کال می ڈان۔
19. ڈان کے دشمن کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیئے… کہ ڈان کبھی کچھ نہیں بھولتا۔
20. اِس سے پہلے کہ ڈان کا دشمن اپنی پہلی چال چلے… ڈان اپنی اگلی چال چل چکا ہوتا ہے۔
21. کوئی ثبوت نہیں… تو کوئی گنہگار نہیں۔
ڈان کی اگلی مووی لکھی جا رہی ہے، ڈان ٣۔ سنتے ہیں کے اِس میں شاهرخ خان نہیں ہوں گے، کیوں کہ، ‘اگلا پرائم منسٹر ڈان ہوگا۔’
