کچھ دن گئے گھر میں کالی دال اور چاول پکے۔ کالی دال ہمیں پسند ہے لیکن تھوڑی پنیالی اور اگر چاول آدھی پلیٹ نکلے ہوں تو دال کوئی تین گنا زیادہ۔ اس کا اپنا ہی مزہ ہے، جب چاول کم ہوں اور دال زیادہ۔ سائنسی اعتبار سے دال جو ایک پروٹین ہے، چاول کے کاربوہائیڈریٹس کو بیلنس کر دیتی ہے۔ دال زیادہ ہو تو یہ اور بھی خوب لگتی ہے، کیوں کہ ذائقہ دال سے اور کسافت چاول سے آتی ہے۔ آپ چاہیں تو ایسے ہی کھا لیں، لیکن ہم نے اس میں ایک ٹوسٹ ایڈ کی۔ نیشنل کا مکس اچار لیا اور خوب ڈھیر سارا ملا ملا کر کھایا۔ سچ جانیے، یہ لکھتے ہوئے منہ میں پانی آ گیا، کیونکہ نیشنل کے اس اچار کا ذائقہ ہمیں شان کے اچار سے کافی اچھا لگا۔ ہمارے بچپن میں صرف نیشنل ہی آتا تھا، تو اس کا ذائقہ ضرور زہن نشین ہوا ہو گا، یا یہ کہ اس کا ذائقہ گھر کے اچار سے ملتا جلتا ہے، لیکن مزہ خوب آیا۔ ارادہ یہ ہے کہ جلد کسی دوسری دال کے ساتھ، جو پیلی، سفید، لال یا ہری ہو گی، اس اچار کو پھر کھائیں گے، آپ بھی کھائیے گا ضرور۔ دال چاول اور اچار، اس کی اپنی ہی بات ہے۔
دالیں کالی دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک مسور کی اور دوسری ماش کی۔ ان دونوں کو ثابت پکایا جاتا ہے، اور ہمیں دونوں ہی کافی پسند ہیں۔ کالی مسور کی دال گھر میں آفت پکتی ہے اور ہمارے ہاں یہ چاول سے ہی کھائی جاتی ہے۔ باہر یہاں کبھی کبھی کالی ماش کی دال جسے مکھن کے ساتھ پکایا جاتا ہے، کھانے کا چانس ملتا ہے، اور یہ بھی اپنی ہی کلاس میں ایک زبردست دال ہے۔ نام اس کا دال مکھنی رکھ کر اور مکھن والی تندوری روٹی کے ساتھ پیش کر کے، پڑوسی ملک کے خانساموں نے وہ چمتکار دکھایا ہے جو شاہ رخ خان نے اپنی پرانی فلم چمتکار میں کیا ہی دکھایا ہو گا۔ اگر پوچھیں تو اس وقت، ہمارا ذہن بھوک اور ندیدے پن کے بیچ یہ سوچ رہا ہے کہ یہ زبردست ڈش کب ٹرائے کی جائے۔ اللہ کو منظور ہوا تو جلد انشاللہ۔
کالی دالوں کا ریورس سوئنگ سے کیا تعلق؟ اللہ بہتر جانے، لیکن، اگر دال چاول کے ساتھ اچار نہ ہو اور دال مکھنی مکھن والی تندوری روٹی سے نہ کھائی جائے، تو ان ڈیشز کا کیا مزہ آتا ہے؟ یا مزہ تو آئے لیکن وہ بات نہ ہو جو ایک تیز پھینکی گئی گیند کی ہوتی ہے جب وہ آخری موقع پر ریورس سوئنگ کرے، ورنہ گیند تو سب ہی پھینکتے ہیں۔ اس سے آپ کچھ دھماکہ خیز سوئنگ یا ریورس سوئنگ کر کے دکھائیں تو پھر بات ہے۔
لذیذ کھانے کیسے پکاتے ہیں، ریورس سوئنگ کیسے کرتے ہیں، یہ سوال وہ پوچھتے ہیں جو کھانا پکانا یا ریورس کرنا سیکھنا چاہتے ہیں۔ ورنہ یہ سوال، سوال نہیں، صرف وقت کے خرچ کا ایک ذریعہ ہیں۔ آپ صبح شام اپنی پسندیدہ سوشل میڈیا ایپ پر یہی کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں۔ کھانوں سے لے کر کرکٹ تک، آپ صرف وقت صرف کر رہے ہیں، ایسی چیزوں پر جن کا شاید آپ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
چند سال پہلے ہم نے دو الفاظ کو اپنے بچوں کے سامنے پیش کیا۔ دونوں انگریزی کے الفاظ ہیں، کنسمپشن اور پروڈکشن۔ ان دونوں کو ہم نے اس انداز میں سمجھایا کہ یہ کنسمپشن کا دور ہے، ہم سب، چوبیس گھنٹے کچھ نہ کچھ کنسیوم کر رہے ہیں۔ اسی لیے آپ نے میڈیا پر صارفین کا لفظ سنا ہو گا، کیونکہ ایک صارف، کسی بھی شے کو صرف کرتا ہے، مفت یا پیسے دے کر۔ اس کا آسان متبادل لفظ استعمال ہے، تو یہی سمجھ لیجیے۔
کنسمپشن کا مترادف ہم نے سمجھایا، پروڈکشن ہے، یعنی پیداوار۔ سوچیے اگر آپ کوئی شے استعمال کر رہے ہیں تو کوئی نہ کوئی، کہیں نہ کہیں، اس شے کو پیدا کر رہا ہے، یعنی پروڈیوس کر رہا ہے۔ آپ لگے ہوئے ہیں اس کے اصراف میں، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اگر آپ کسی شے کو استعمال ہی کیے جائیں، اور اگر یہ استعمال حد سے بڑھ جائے، تو شاید آپ کبھی واپس نہ آ سکیں۔ گھسے پٹے محاورے گیا وقت (اور پیسہ) واپس نہیں آتا کو ایک بار یاد کر لیں۔
ہم نے بچوں سے کہا، آپ کا کام کنسمپشن نہیں، پروڈکشن ہے۔ جس طرح بھی ہو سکے، جس پلیٹ فارم پر، آپ کا کام قیمتی وسائل کا خرچ نہیں، ان کی پیداوار ہے۔ یعنی، بیٹھ کر بڑے بڑے یوٹیوبرز کی ویڈیوز نہ دیکھیں، ان کو اپنا آئیڈیل نہ بنائیں، بلکہ، خود کچھ کیجیے۔ یہ ٹیکنالوجی جو آپ کے پاس ہے، شاید کسی اور کے پاس ہوتی تو وہ کیا کچھ نہ کرتے۔
اس مشورے میں ہمارے والد صاحب کے وہ الفاظ بھی کہیں پوشیدہ ہیں، جو انہوں نے ہمیں اس وقت کہے جب ١٩٨٨ میں انہوں نے گھر کا پہلا کمپیوٹر خریدا اور ہمیں ہر وقت کوئی گیم کھیلتے پایا۔ اس وقت ہم اس کمپیوٹر پر جیٹ پیک نام کا ایک گیم کھیلا کرتے اور بعد میں کرکٹ بھی۔ ہمیں یاد ہے کہ ہم نے اپنے بڑے ماموں کے ساتھ اس کمپیوٹر پر خوب کرکٹ کھیلا۔ اس وقت کے گرافکس اور آج کے گیم میں آسمان زمین سے بھی زیادہ فرق ہے، لیکن کیا ہی مزہ آتا جب سلپس میں کیچ لینے کے لیے فرسٹ اور سیکنڈ سلپ دونوں بائیں جانب کیچ لے کر لیٹ جاتے، ایسے جیسے گھڑی کا کانٹا ١٢ سے ٩ پر ایک دم آ جاۓ۔
کچھ سالوں میں کمپیوٹر سکولوں میں آنے لگے اور ١٩٩٠ کے بعد لگ بھگ ہمارے کزنز نے سکول میں کمپیوٹر کے استعمال کا ذکر کیا ہو گا، ہمارے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ یہ دیکھ کر والد صاحب نے ایک بار یہ جملہ کہا، ‘تمہارے پاس کمپیوٹر ہے اور تم کچھ نہیں سیکھتے۔ فلان اور فلان (انہوں نے دو نام لیے، جو ہم یہاں درج نہیں کر رہے) کمپیوٹر سیکھ جائیں گے اور تم پیچھے رہ جاؤ گے۔’ ہم نے دل میں کہا، ‘دیکھا جائے گا’، اور بات گول کر دی۔
١٩٩٤ جنوری میں جب ہم اپنے کزن کی شادی پر٩ ڈگری کی سردی میں، سنجے دتت کی مووی کھلنایک کے اسٹائل میں بنوایا ہوا لونگ کوٹ پہن کر راولپنڈی ایئرپورٹ پر اکیلے جہاز سے اترے تو ہم کسی جیمز بانڈ سے کم نہیں لگ رہے تھے۔ ہمارے چھوٹے کزن ہمیں ڈرائیور کے ساتھ ریسیو کرنے ایئرپورٹ آئے اور ڈائی ہارڈ مووی کے بروس ولس کی طرح صرف کرتے شلوار میں ریسیو کیا۔ اس سردی میں ہم لونگ کوٹ میں اور بروس ولس، بھورے قمیض شلوار میں۔ شاید مسقط کے رہے ہوئے اس ناچیز جیمز بانڈ کو اتنی سردی کی عادت کیا، تجربہ ہی نہیں تھا۔
وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، کمپیوٹر ہو یا کلاؤڈ، ہم جتنا کر سکتے ہیں، ان ٹیکنالوجیوں کا انتھک استعمال کیا کرتے ہیں۔ یہ مضمون ہم جمعے یا ہفتے کو لکھنا شروع کرتے ہیں اور ہفتے یا اتوار تک شایع ہو جاتا ہے۔ اس کے لکھنے میں مائکروسافٹ ویژوئل اسٹوڈیو کوڈ، گوگل ڈاکس، گوگل ٹرانسلیٹ، چیٹ جی پی ٹی، ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، ورڈپریس اور کچھ ٣٥ سال کا کمپیوٹنگ تجربہ استعمال کرتے ہیں، ١٩٩٨ سے لے کر آج تک کا۔ اکثر مذاق میں کہہ دیتے ہیں کہ اگر کمپیوٹر نہ ہوتا تو ہم بڑھئی ہوتے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر والد صاحب کا وہ جملہ نہ ہوتا، تو بڑھئی بھی نہ ہوتے۔
آپ کی زندگی میں بھی کسی نہ کسی نے کوئی ایسا جملہ بولا ہو گا، یا بولنے والے ہیں۔ ان کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد کیجیے گا کیونکہ ایسے کئی دردناک جملے ہم بھی کہہ دیتے ہیں، کسی کا خیال کیے بغیر۔ اُس لمحے میں شاید آپ کی بات اُسے بُری تو لگے، لیکن یہ ممکن ہے کہ وہ جملہ کسی کو اپنے باپ کو گلے لگانے کا موقع دے، کسی کو حج پر جانے کا، اور کسی کا کاروبار جمادے۔
قیامت کے دن پکار ہو گی، ‘نفسی، نفسی، نفسی‘، یعنی میرا نفس، میرا نفس، میرا نفس۔ دنیا بھی یہی تو ہے، میرا نفس اور میں، بس۔
کیا آپ ایسے ہیں؟ کیا آپ اپنے نفس کی پکار پر لبیک کہہ رہے ہیں؟ یا آپ کسی معجزے کا انتظار کر رہے ہیں، کہ وہ ہو تو آپ بولیں گے؟ حق کی بات کیجیے، پڑھیے، لکھیے، بولیے، کاغذ پر، کتاب میں، واٹس ایپ پر، یا یوٹیوب پر۔ جہاں آپ کو موقع ملے ضرور بولیے، اور یاد رکھیے، اگر آپ کی زندگی، ہماری زندگی، آپ کا ملک، ہمارا ملک، آپ کا لیڈر، ہمارا لیڈر، آج وہاں ہے جہاں دیکھ کر آپ کا دل ڈوبتا ہے، تو حوصلہ رکھیے کہ گیند تب ریورس سوئنگ کرتی ہے جب قدرے پرانی ہو، جب اسے ایک طرف چمکتا اور دوسری طرف کھدرا رکھا جائے، جب ایک منجھا ہوا کھلاڑی ویسے گیند کرے جیسے کبھی وسیم اور وقار کیا کرتے تھے، اور تب، جب اس کی رفتار ١٥٠ کلومیٹر فی گھنٹے کے قریب ہو۔ ورنہ نہیں ریورس ہوتی۔ کئیوں نے کوشش کی ہے۔
امپائر کی گیند ریورس نہیں ہو رہی۔ پُرانے اچار اور مکھن کے ٹرکے کے باوجود بھی نہیں۔ اصراف کا وہ عالم ہے کہ پیداوار سے کچھ دوگنا ہے۔ چند جمز بانڈوں نے کیس، باسکٹ کیس بنا دیا ہے۔ کپتان کے کہے سب جملے یاد ہیں، لیکن وہ جملہ نہیں جو اس ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ نفسا نفسی کے عالم میں، پچیس کروڑ لوگوں پر ‘میں‘ کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
کراچی سے طوفان دور پلٹ گیا۔ جو طوفانِ بدتمیزی پورے ملک پر حاوی ہے، یہ بھی پلٹ جائے گی۔ پھر گیند وہ ریورس کرے گا، جسے ہم چاہیں گے۔ یعنی سب کا کپتان۔
