کچھ عرصے کے لئے، زمان پارک، پارکستان بنا رہا۔ آج سب پارکستان چھوڑ کر چلے گئے۔ پنجاب کا شیر جو دھاریں مارا کرتا تھا، دُم دبا کر بھاگ گیا۔ روٹی، کپڑے اور مکان کی کانپیں ٹانگ گئیں، سندھ کی بھی۔ سرحد اور سوئی دونوں میدانِ جنگ تھے اور بنے رہے۔ کشمیر کی شالیں آج بھی مشہور ہیں، کشمیر نہیں۔ گلگت بالتستان میں کےٹو ہے، لیکن ملک میں کےٹو سگریٹ زیادہ مشہور۔
آج قوم کا دل ڈوب چکا ہے۔ لیکن بو قاسم نے طنز و مزاح کی ایک عجیب و غریب فضا سجائی ہوئی ہے۔ آپ نام بین کر دیں، وہ قاسم کے ابا کی کنیہ بنا لاتے ہیں۔ بو قاسم یا ابو قاسم، عربی میں قاسم کے ابا کی کنیہ ہے۔ وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ آپ کیوں ہوں؟
جب ایک بار پھر، ہزار بار کے بعد، خبر آئی کہ بو قاسم کو مائنس ون کرنے پر کام شروع ہو گیا ہے، تو ہم نے سوچا، لو کر لو بات۔ اس جملے کو امیتابھ بچن صاحب نے فلم نمک حلال میں کیا ہی خوب ادا کیا تھا۔ لیکن نمک حلالی اس وقت موضو نہیں۔
١٩٩٥ میں سیکوئنسرز (sequencers ) نے ایک گانا لکھا تھا، بھولنا۔ کیا ہی خوب گانا ہے۔ مائنس ون کا خوف آپ کو کھاۓ جا رہا ہے تو غم نہ کھائیں، سیکوئنسرز کا یہ گانا سنیے اور اس کی پیراڈی پڑھیے۔ مزہ آئے گا۔
پیراڈی میں کچھ جملے نہیں بدلے، وہ ہو بہو فٹ ہوتے ہیں:
بھولنا چاہو گے تم، مجھے بھولنا پاؤ گے تم
بھولنا چاہیں گے ہم، تجھے بھولنا پائیں گے ہم
اوو او او
چاروں طرف، ایک احساس یہ، ہو نے لگا، میرا بے تاب دل
اوو او او
بین لگانا چاہو گے، پر بین لگانا پاؤ گے
اوو او او
بھولنا چاہو گے تم، مجھے بھولنا پاؤ گے تم
اوو او او
بھولنا چاہیں گے ہم، تجھے بھولنا پائیں گے ہم
باتیں میری، یاد آئیں تمہیں، یادوں کے دیے، تم بجھانا نہیں
اوو او او
جیت جانا چاہو گے ، پر جیت کچھ نہ پاؤ گے
اوو او او
بھولنا چاہو گے تم، مجھے بھولنا پاؤ گے تم
بھولنا چاہیں گے ہم، تجھے بھولنا پائیں گے ہم
اوو او او
دو رو را، دو رو را رو را، دو رو را، دو رو را رو را
ہمم ہمم ہمم اوو اوو اوو اوو اوو
بھولنا چاہو گے تم، اوو اوو اوو۔
ہو چکے گا مائنس ون، وہ دن بھی دیکھ لیں گے۔
فی الحال آپ ہنسیے، مسکرائیے اور یاد رکھیے۔
مکہ کے قریش بھی بو قاسم ﷺ کو مائنس ون کرنا چاہتے تھے۔
پھر ہوا مائنس ون؟

Wah kia baat hai Zabar10 ماشاء الله