بکرا قسطوں پہ پچیس

عمر شریف صاحب کے بارے میں سب کی اپنی ہی رائے ہے۔ ہماری رائے تو خوب ہے۔ ۱۹۸۹ کے بکرا قسطوں کو چودہ سال کی عمر میں مسقط کے دارسیت والے گھر میں ۱۹۹۰ میں دیکھا ہو گا۔ اِس اسٹیج شو نے پاکستانی مزاحیہ ڈراموں کو ایک نیا انداز دیا۔ عمر شریف صاحب اِس ڈرامے اور اِس کے آگے پیچھے آئے ڈرامے، یس سر عید، نو سر عید، کے بعد، پاکستان اور ہندوستان کے کامیڈی کنگ بن گئے۔ ہم بچوں، سب نے، ڈرامے کے وہ تمام شرارتی جملے یاد کیۓ اور جو جیسے بکرا قسطوں پر دیکھ کر اسکول آتا رہا، ایک دوسرے پر جملے کستا رہا۔

آج بکرا قسطوں کو اسٹیج پر ادا کیۓ کوئی چھتیس سال ہو چکے ہیں۔ عمر شریف صاحب اور معین اختر صاحب دونوں اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اِن دونوں کا کوئی اَدو بدل نہیں، نہ شائد کبھی ہو گا۔ اِس اسٹیج ڈرامے کو ہم نے بیس نومبر ۲۰۲۴ میں لکھنا شروع کیا اور شائد مکمل ہی کر دیتے لیکن پھر چوبیس کو جو ہوا، اُس کے بعد سیاست سے ہنسی مذاق، کچھ ختم سا ہی ہو گیا، شائد ہمارے لئے۔ پھر کچھ کچھ کر کے لکھتے گئے اور اُس ہفتے مکمل کیا جب دشمن مئی کے پہلے دنوں میں ہم پر وار کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔

اِس ڈرامے میں عمر شریف، صاحب ہیں، رؤف لالا شرفو، سلمیٰ ظفر صاحبہ بیگم اور معین اختر صاحب داماد۔ ڈرامے میں کچھ کردار ہماری زندگی سے، سچے کرداروں پر مبنی بھی ہیں، جن میں فہمیدہ ہماری دادی کے ہاں آیا کرتی تھیں، اور حمیرا جو حاجرا کی غالباً نواسی تھیں۔

شائد یہ ڈراما آپ کی آنکھوں میں کچھ آنسو لے آئے، اور سچ پوچھئے تو، ہم بھی یہی چاہتے ہیں، ہنستے ہنستے ہی صحیح۔

اسٹیج خالی ہے۔ دائیں بائیں کنٹینر لگے ہوئے ہیں۔ پیچھے آگ لگاؤ جلاؤ کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ ایک گانا بج رہا ہے، پِٹّی تیری قسمت دشمن، دھاڑی میری قوت رم چھم۔ اسٹیج کی لائٹس کھلتی ہیں اور ایک آواز آتی ہے۔

صاحب: ابے شرفو۔ ابے شرفو۔ نہ جانے کہاں بھٹک جاتا ہے یہاں وہاں۔ ابے شرفو۔

شرفو (اسٹیج پر آتے ہوئے): یہاں وہاں کہاں بھٹک جاؤں گا میں سرکار۔ میں کوئی۔

صاحب: کر لے پورا جملہ۔ کر لے۔ جو بات ہم کہنا نہیں چاہ رہے وہ تُو کر لے۔

شرفو (آنکھیں گھماتے ہوئے، خوش ہو کر): میں کوئی سیاسی ورکر ہوں۔

صاحب: نہیں وہ ہم کتے (انگریزی انداز میں کیوٹ کے لفظ کی طرح بولتے ہوئے) کا سوچ رہے تھے۔

شرفو (آنکھیں پھاڑ کر زور سے بولتے ہوئے): کُتّا؟!؟

صاحب: اپنی اوقات میں رہ شرفو۔ ٹرانسفر کروا دوں گا۔ چھانگا مانگا کے جنگل میں بھینٹا گاتا رہے گا، یاد تو آتی ہو گی، دل تڑپتی ہو گی۔

شرفو: آپ کی یاد تو ویسے بہت آتی ہے۔

صاحب: کیا ہم جرمنی جا کر مر گئے ہیں؟ جو ہماری یاد تجھے آتی ہے؟

شرفو (بھولے پن سے آنکھیں پونچھتے ہوئے): سب کو آتی ہے۔

صاحب: رونا دھونا بند کر اور کل کی تیاری بتاؤ۔ کیا ہماری عوام ہمارے استقبال کے لئے نکل رہی ہے؟ کیا تیاریاں مکمل ہیں؟ کیا توپ خانہ تیار ہے۔

شرفو: عالی جا، کچھ زیادہ ہو گئی۔

صاحب: ہاں یار میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔

شرفو: عالی جا۔ اب کوئی نہیں عزت کرتا عالی جا وغیرہ کی۔ عوام خنس کھائے بیٹھی ہے۔

صاحب: اچھا؟ کیا ہے عوام کا مزاج، کیا ہو رہا ہے؟ جب سے کمبخت مَروں نے چِچھورا میڈیا بند کیا ہے، ہماری تو عوام کی نبض پر سے انگلی ہی ہٹ گئی۔

شرفو: اُریش، یہ چِچھورا میڈیا کیا ہے؟

صاحب: سوشل میڈیا۔ کیا ہم بھی چِچھورا میڈیا کہہ گئے۔ کیا حال ہے شرفو ہماری عوام کا؟

شرفو: عوام کی غبارہ پھلا کر ہٹی ہوئی ہے صاحب۔

صاحب: بازاری زبان شرفو، کیوں ہمیں ہمارا گزرا کل یاد دلا رہا ہے، بڑی مشکل سے ہم بحریہ میں سیٹ ہوئے ہیں۔ عزت ہے یہاں ہماری۔

شرفو: عزت تو وہاں بھی تھی آپ کی ڈیفنس میں، پھر آپ کی بیماری نے عزت کا کچرا نکال دیا۔

صاحب: بیماری ویماری کوئی نہیں تھی شرفو، شرارت تھی، کس طرح بیماری کی آڑ میں وہ کرو جو دل مانگے مور۔ اور وہ ڈاکٹر ڈھکّن، اُن کو بولا کہ آپ کو امریکہ بھیج دوں گا، سرٹیفکیٹ لکھ دیں۔ تو بس بھولنے کی بیماری کا سرٹیفکیٹ جیب میں اور ڈرامہ بھول بھلیاں شروع۔

شرفو: محلے میں خوف تھا آپ کا۔

صاحب: خوف نہیں شرفو دہشت، دہشت۔ جہاں جاتے لوگ اپنی عزت بچا کر بھاگتے۔

شرفو: محلے میں خوف تھا آپ کا۔ کہ بڈھا آ رہا ہے۔

صاحب: شرفو۔ کیا پِٹی ہوئی اُردو پکچر کی طرح، بڈھا آ رہا ہے۔ بیٹا، بڈھا اِز کمنگ۔ اب حالات بدل گئے ہیں، انگریزی چل رہی ہے۔

شرفو: ہوا کیا اُس ڈاکٹر کا، ڈاکٹر ڈھکّن۔ گئے وہ امریکہ؟

صاحب: او نہیں یار شرفو، جیسا اُن کا سرٹیفکیٹ تھا ویسا ہمارا وعدہ۔ جعلی سرٹیفکیٹ، جعلی وعدہ۔

شرفو: ہاں یہ تو ہے، جعلی کام کا جعلی بدلہ۔ چلیں چھوڑیں۔ وہ اُن کا نام ڈھکّن کیسے پڑا؟

صاحب: وہ ڈھکّن چوری کر کر کے اِس نے کلینک بنائی۔

شرفو: ڈھکّن کون سے؟ وہ تانبے کے ٹین والے؟

صاحب: گٹر کے ڈھکّن! ایک دن ہم نے دیکھ لیا اور پکڑا گریبان سے کہ یہ کیا؟ ڈاکٹر ہو کر سائیڈ میں یہ کام؟ تڑی کرنے لگا، آنکھیں دکھائیں ہمیں، کہ تم کون؟ ہم نے کہا ہم کون؟ ڈیفنس کی سب سے بڑی چِراند۔ سن کر گھبرا گیا کہ ڈیفنس۔ ہم بھی چڑھ بیٹھے، کہا اب تک کتنے گٹر خراب کئے تُو نے؟ بولا ہر محلہ ہر گلی۔ ہماری ہنسی چھوٹ گئی۔ کہ عوام کو بتا دیا تو سب اسے چپل سے ماریں گے۔

شرفو: تو کیا کیا آپ نے؟ کسی کو محلے میں بتایا؟

صاحب: سیٹنگ کر لی، اب تک اکیلا گٹر خوری کرتا آیا ہے، اب ہمارا آدھا۔ تو مچلنے لگا کہ نہیں، بہت ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم بول پڑے تو یہ بھی جائے گا۔

شرفو: تت تت تت۔

صاحب: کیا تت تت؟ ایسے ہی چل رہے ہیں سب معاملات۔ خیر تجھے کیا پتا۔

شرفو: مجھے تو بُو آ رہی ہے۔ اب ہم گٹر کا کھائیں گے؟!

صاحب: سب یہی کھا رہے ہیں بیٹا۔ اور تُو تو ویسے ہی محلے بھر سے مانگ کر کھاتا ہے، یہاں سے مت کھائیو۔

شرفو: ہاں تنخواہ وغیرہ تو دیتے نہیں آپ، اب دو وقت کی روٹی بھی چھین لو۔

صاحب: جا چینی۔ اب بتا کل کا کیا سین ہے؟

شرفو: کل صبح نہار منہ ناشتہ کے بعد، گائے قربان ہو جائے گی۔

صاحب: یہ کیا بقرعید کا دن ہے جو گائے حلال ہو جائے گی۔

شرفو: معاف کیجیے گا، عوام حلال ہو جائے گی۔

صاحب: تین حصے کروائیو۔ اور چھری سے لے کر آخری بوٹی پر نظر ایسے کہ جیسے تُو گدھ ہے، بڑا والا۔

شرفو: پہلے کتا اور اب گدھ۔

صاحب: شکر کرو ہم نے تجھے شیر نہیں کہا۔ تیری عزت ملیا میٹ ہو جاتی۔

شرفو (بات سمجھتے ہوئے): خوب سرکار خوب، شیر کی اب کوئی عزت نہیں۔ شاہین کی ہے۔

صاحب: ہاں، شرفو، شیز سو کیوٹ۔ دیکھا تم نے، سمارٹ، پڑھی لکھی، بولڈ، کیا کھل کر بولتی ہے، سامنے والے کا منہ چٹ کر بند۔

شرفو: صاحب یہ آپ کہاں نکل گئے۔

صاحب: واٹ ڈو یو مین ہم کہاں نکل گئے؟ شاہین کہا تُو نے اور ہم نے سیاسی لیڈر شاہین کی بات کر دی۔

شرفو: صاحب میں کہہ رہا ہوں وہ اقبال والے شاہین کی عزت۔

صاحب: یو مین اقبال کا لڑکا شاہین ہے؟ کیا فضول بک رہا ہے شرفو یہ ہمارا کلچر نہیں، لڑکی کے نام کا لڑکا؟ ہمیں اِس طرف سے مغرب کی بُو آ رہی ہے۔

شرفو: وہاں گٹر کھلا ہے، مغرب بھی وہیں ہے۔ میں کہہ رہا ہوں علامہ اقبال والے اقبال کی شاہین۔ اب صرف شاہین کی عزت ہے۔

صاحب: اووو اور ہم کہاں نکل گئے۔ اب یاد آیا وہ والا شاہین۔ اُس کا تو ویزا ہم نے خود نکلوايا۔ دبئی میں ہے وہ۔ ہی از ڈوئنگ ویل۔ دو بیل حلال کئے اُس نے اِس سال، یہیں پیچھے، بڑی ذِبح ایریا میں۔

شرفو: صاحب وہ بیل نہیں تھے۔ پولیس والی بیل تھی۔ اُس کا بیٹا اور بھتیجا دونوں برگر کھانے نکل گئے احتجاج والے دن۔ پکڑے گئے، پولیس نے پوچھا کون ہو اور کہاں جا رہے ہو، انھوں نے منہ ہی کھولا تھا، کہا برگر، تو فٹ سے موبائل میں بٹھا لیا کہ برگر ہیں، اِن کو ہی دھرنا ہے۔

صاحب: ارے دھرنا تو ہمارے بزرگوں نے لگایا ڈی چوک پر۔ کیا دن تھے وہ، روز خان صاحب کی تصویریں، روز گہما گہمی۔ ہمارے بھولنے کے دن تھے تو ہم سرٹیفکیٹ لئے خواتین کے خیمے میں ٹہلنے نکل جاتے۔ جیسے ہی کسی خاتون نے آنکھیں دکھائیں، سرٹیفکیٹ آگے کیا اور پھر کیا تھا، دل پگھل جاتا اُن کا۔ ایک خاتون نے تو ہمیں سب سے آگے وی آئی پی سیٹ پر جا بٹھایا۔ اُدھر ہم نے دائیں بائیں دیکھا تو لگ رہا تھا کہ سیلون میں ہیں۔ یہ رنگ و روغن، ہر طرف نعرے، اِمّو اِمّو، او شرفو کیا سین تھا۔ خدارا۔

شرفو: وہ تو اچھا ہے آپ سرٹیفکیٹ لے کر مردوں کی طرف نہیں نکل گئے۔ وہاں آپ کو کوئی سرٹیفکیٹ دیکھ کر سو روپے پکڑا دیتا کہ بیچارا پاگل ہے۔

صاحب: چپیر ماروں گا چپیر ماروں گا چپیر۔

شرفو: مجھ پر کیوں غصہ ہو رہے ہیں؟

صاحب: نہیں بیٹا، یہ بولا اُن کو کہ سو روپے ہاتھ میں پکڑائے، اتنا بڑا جلسہ ہے، کم از کم سب مل کر تو سو سو روپے دو۔ بیماری ہے، اِس کا تو علاج صرف سوئٹزرلینڈ اور امریکہ میں ہے۔

شرفو: تو انھوں نے کیا کیا، سو روپے واپس لے لئے؟

صاحب: ارے کیسی بات کر رہا ہے جاہل، پڑھا لکھا مجمع تھا، کھٹاکھٹ ایک سے دوسرے تک بات پہنچتی رہی اور سو سو ہزار، سو سو ہزار، سو سو ہزار۔

شرفو: آپ پیسے بٹورتے رہے۔ ویسے کرتے رہے ایسا لگ رہا ہے کہ ریل گاڑی جا رہی ہے۔ سو سو ہزار، سو سو ہزار، سو سو ہزار، سو سو ہزار۔

صاحب: بیٹا، ملک کو آج اِسی کی ضرورت ہے۔ سب مل کر دو سو سو ہزار، سو سو ہزار، سو سو ہزار۔ اِس کا گانا نہ بنا لیں؟ بہت مشہور ہوگا۔ سنا تم نے سو سو؟ ہاں ہاں ہزار والا۔ او واہ شرفو، میں تو ابھی سے بریک ڈانس کے موڈ میں۔  ایِیٔووو!

شرفو: گانا بنا لیں اور اُس پر ڈال دیں تیتر پر۔

صاحب: ہاں تیتر پر ڈال دو، بٹیر کی طرح دوڑے گا۔ اور اُس پر بھی، تُو ٹیوب۔

شرفو: صاحب یہ تُو ٹیوب کیا ہے؟

صاحب: یار اُردو میں ہوتے نا یہ نام، ہم اپنی تہذیب کو آن لائن لے جاتے تو یہی نام ہوتے بیٹا۔ تیتر بند کر دو، تُو ٹیوب کو سلو کر دو۔ منہ کی کتاب پر چیک لگاؤ۔ اپنے ہی نام ہوتے۔

شرفو: اور وہ بھی ہوتا، ٹھوک ٹھاک۔

صاحب: ٹھیک ٹھاک ہی یہ ٹھوک رہے ہیں بیٹا یہ سب کو (ہنسی روکتے ہوئے)۔ کل کی تیاری کا بتاؤ، نعرے بتاؤ۔

شرفو: میں نے نعرے لگائے وہ پُرانے والے۔ آئے گا بھی، آئے گا۔ آئے کا بھی، آئے گا۔ آئے گا بھی، آئے گا۔

صاحب: بیٹا، اِن نعروں پر اب پولیس آ جاتی ہے۔

شرفو: میں نے نعرہ لگایا آئے گا بھی، آئے گا۔ سائیڈ سے آواز آئی آ جا بچہ، آ جا۔

صاحب: ہاں، پکڑا جاؤ تو اب سفارش پر بھی نہیں چھوڑتے۔ لاکھ دو لاکھ کا تیرا نقصان ہو جاتا۔

شرفو: لاکھ دو لاکھ ایسے کہہ رہے ہیں کہ جیسے میرے اکاؤنٹ میں ارب، دو ارب نکلے ہوں۔

صاحب: ہاں یار شرفو، ہمارے ایسے نصیب کہاں کہ ہمارے اکاؤنٹوں میں کیش نکلے کیش۔

شرفو: جن کے نکلا ہے وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔

صاحب: نعرے بتاؤ، نعرے۔

شرفو: یہ لکھ کر لایا ہوں۔ آؤ آؤ پولیس دیکھو۔ آؤ آؤ پولیس دیکھو۔

صاحب (زور سے ہنستے ہوئے): تُو بھی لکھنے لگا۔ اب یہاں جاہل بھی لکھیں گے۔

شرفو: آئی سے لکھوایا ہے۔

صاحب: ابے وہ آیا، یہاں بھی آن پہنچیں۔ کیا نام تھا اُن کا؟

شرفو: فہمیدہ۔ ہم سب اُن سے بھاگتے تھے۔

صاحب: ارے وہ تو شرفو (ہنسی روکتے ہوئے)، بچوں کو بڑا اُنھوں نے تنگ کر رکھا تھا۔ چیل کی طرح جھپٹنا، اور پھر ایک گال پر پُپی، پھر دوسرے گال پر پپی۔ اور پولیس سے زیادہ سخت گرفت۔ اور دوسرے بچے اِدھر اُدھر بھاگتے۔ ایک دن تو ہم اُن کی زد میں آ گئے۔ ہمیں بھولنے کی بیماری، اور اُنھیں پپیوں کا بخار۔ بس پھر کیا تھا۔

شرفو: وہ تو میں آخری منٹ پر بیچ میں آ گیا ورنہ آپ کے گال لال ہو جاتے۔

صاحب: ہاں ہاں، تُو ہی زد میں آ گیا، تبھی آج تک تیرے گالوں کا نور ڈبل دو گیارہ کی طرح چمک رہا ہے۔

شرفو: اور بیگم صاحبہ کیا کہتی ہیں آپ کو؟ گال بجا دیتی ہیں۔

صاحب: خبردار شرفو، خبردار اگر تم نے ہمارے گھر کے اندرونی معاملات بازار میں چلائے۔ ہم سے بُرا کوئی نہیں ہوگا تم، سمجھے۔

شرفو: سمجھا دیں آپ کل کیا کرنا ہے۔ جلسہ ہے؟ دھرنا ہے؟ جلاؤ گھیراؤ ہے؟

صاحب: ارے کہاں جلاؤ گھیراؤ، ہمارے وہ بچپن کے دن۔ لالو کھیت کی وہ یادیں۔ یہاں ذرا کسی نے ایسا ویسا کیا اور محلہ بند۔ چاروں طرف سناٹا۔ کتے بھی پوچھ پوچھ کر بھونکیں۔ بھاؤ؟ بھاؤ بھاؤ۔ بھاؤ؟ بھاؤ بھاؤ۔

شرفو: ارشاد مکرر، ارشاد مکرر۔

صاحب: مالک کی تپا رہا ہے۔ آپے سے باہر ہو جائیں گے ہم، شرفو۔ مت لے جا ہمیں اُن بچپن کی گلیوں میں۔ اُف وہ یادیں۔ (رونکھی آواز میں)۔

شرفو: کنٹینر، کنٹینر، کنٹینر، کنٹینر۔

صاحب (آپے سے باہر ہوتے ہوئے): گرا دو یہ کنٹینری دیواریں۔ آنے دو ہمارے قافلے۔ لگنے دو میلا۔ یہ محفل۔ یہ شامیانے۔ یہ قناتیں۔ آؤ بھائی آؤ، پچاس پچاس روپے میں، ڈیفنس کے برگر، ڈیفنس کے برگر۔ سبزی کے بغیر، ٹماٹر کے بغیر، چٹنی کے بغیر بھی ہیں۔

شرفو (قریب آتے ہوئے): لاؤ بابا دو دے دو۔

صاحب (چونک کر ہوش میں واپس آتے ہوئے): یہ کس کام میں لگا دیا ہمیں۔ اور ہم بھی شروع ہو گئے۔

شرفو: اور پچاس روپے میں برگر۔ اب تو چپس کا پیکٹ نہیں آتا پچاس روپے میں برانڈڈ والا۔ کنٹینر کنٹینر کنٹینر کنٹینر۔ کنٹینر کنٹینر کنٹینر کنٹینر۔

صاحب: کیا ہے یہ کنٹینر کنٹینر کنٹینر کنٹینر۔ کیوں چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کنٹینر کنٹینر کنٹینر کنٹینر۔

شرفو: یہ نیا نعرہ ہے۔ کنٹینر کنٹینر کنٹینر کنٹینر۔

صاحب: بھائی یہ کنٹینروں نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ وہ ہمارے پرانے محلے کے مرزا، جذباتی ہو گئے کہ میں اکیلا کنٹینر ہٹاؤں گا۔ ہم نے اُنہیں کہا کہ اُٹھنے اُٹھانے کی عمر ہے تمہاری مرزا، یہ کام تم اکیلے نہ کرنا۔ لیکن ایک نہ مانی تو ہم بھی فون لے کر کھڑے ہو گئے کہ اِس کی ویڈیو بنا کر تُو ٹیوب پر ڈال دیتے ہیں۔

شرفو: پھر کیا ہوا؟

صاحب: پھر کیا ہونا تھا۔ ہِٹ ہو گئی ویڈیو، پہلے دن میں پچاس ہزار ویوز اور آج ذرا چیک کرنے دو۔ یہ لو چار ملین کراس ہو گئی۔

شرفو (آنکھیں گھماتے ہوئے): چار ملین۔ یہ تو بہت ہوں گے۔

صاحب: ابے۔ اَن پڑھ، جاہل، چالیس لاکھ۔

شرفو: کرایا کیسے آپ نے یہ؟

صاحب: ارے ہم نے نہیں، مرزا نے خود کیا، جا کر کنٹینر کو اِس نے ٹانگ ماری اور پھر کیا ہونا تھا، کنٹینر مٹی کے ڈھیر پر ترچھا پڑا تھا، مرزا پر الٹ گیا۔

شرفو: نہیں نہیں۔

صاحب: ایسا ویسا۔ بس ہم نے ویڈیو ریکارڈنگ بند کی، ویڈیو کا نام ڈالا اور تُو ٹیوب پر اِسے چڑھا دیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، تیری مالکن کے سارے جوڑے اِسی کمائی سے آ رہے ہیں۔

شرفو: لکھا کیا آپ نے اُس پر؟

صاحب: ہاں وہ ویڈیو کا عنوان ہم نے لکھ دیا: عمران خان کنٹینر فال آن مرزا۔ بس اتنا سا۔ تیرے لئے ترجمہ کر دیتا ہوں۔ عمران خان کا کنٹینر مرزا پر گر گیا۔ دباکے چلی ویڈیو۔ اور خوب تفریح لگی کمنٹس میں۔

شرفو: بے چارے مرزا صاحب۔ پھڈا کیا بھی تو کس سے۔ کنٹینر کنٹینر کنٹینر کنٹینر۔

صاحب: ابے کیسے نعرے ہیں یہ۔

شرفو: آئی سے لکھوائے ہیں۔

صاحب: ابے یہ آنی، آیا، آنٹی سب دیکھ سن چکے ہم۔ یہ آئی کون ہے کم بخت ماری۔

شرفو: جیل چلو جیل چلو۔ جیل چلو جیل چلو۔

صاحب: جیل کا مت کہو بیٹا، ہمارا معدہ خراب ہوتا ہے۔ یہاں گھر کا کھانا، مزے دار وہ شبراتی پکاتا ہے، صبح شام روغن لگا کر یہ لمبی لمبی تندوری روٹیاں۔ تکے، قورمے، چائنیز، آئے ہائے۔ جیل میں یہ سب سیٹنگ بریک ہو جائے گی۔

شرفو: بریک ایسے بول رہے ہیں جیسے لیگ بریک بولر ہوں۔

صاحب: بیٹا، تیری جیل میں نہ یہی ہو گی۔ لیگ بریک۔

شرفو: غریبوں کو ہی مارنا آپ۔ کبھی اپنی قربانی نہیں دینا۔ جیل چلو جیل چلو۔ جیل چلو جیل چلو۔

صاحب: معدے پر اثر آ رہا ہے اِس کا ڈائریکٹ۔ شبراتی کو تجھ پر چھوڑ دوں گا۔ خوف کر، خوف کر۔ اللہ کے بعد جیل کا خوف کر بے شرم۔

شرفو: آپ بھی تو کرو کچھ۔ کب تک یہ شبراتی کے ہاں کی مفت دیغیں آئیں گی۔ سارے کھانوں کی سیٹنگ ایسے بول رہے ہیں جیسے خود پیسے دے کر کھا رہے ہو۔

صاحب: اور کرو ملاوٹ۔ پکڑ لیا ہم نے اِس کو۔ مصالحوں میں ہیرا پھیری کرتے ہوئے۔ بس قدموں میں گر گیا۔ یہ اتنا سا موبائل کیمرا والا جیب کی اوپری پاکٹ میں ڈال کر ایسے چلو کہ جیسے ٹہل رہے ہو، لیکن کیمرا آن ہے اور پھر پورے محلے کی خبر ریکارڈ کر کے، کیا کس وقت کرنا ہے اِس کا نقشہ کھینچو۔ بس گیم بن گئی اور شبراتی کو بولا، ہر دو روز پر نئے نئے کھانوں کی دیگ چڑھاؤ تو بس یہاں بھیجتے رہو۔ آئے ہائے آئے ہائے آئے ہائے۔

شرفو: جیل چلو جیل چلو۔ جیل چلو جیل چلو۔

صاحب: سب تو جیل چلے گئے۔ نعرہ کوئی ایسا لگاؤ جو آج کا نعرہ ہو۔

شرفو (ہنستے ہوئے): آپ نعرہ بولتے ہیں تو ایسا لگتا ہے ناڑا بول رہے ہیں۔

صاحب: شٹ آپ۔ گستاخ۔ تیری یہ مجال۔

شرفو: عالی جا معافی، معافی۔ عالی جا معافی، معافی۔

صاحب: اوئے۔ کتنا سکون ہوا نا یہ سن کر۔ ایک بار پھر شرفو۔ وانس مور۔ یہ نعرہ ٹھیک ہے۔

شرفو: عالی جا معافی، معافی۔ عالی جا معافی، معافی۔

صاحب: جاؤ دی۔ یہ ہوتا ہے معافی مانگنے کا طریقہ۔ کھل کر مانگو۔ سینہ تان کے مانگو۔ جاؤ معافی دی۔ جاؤ جاؤ۔

شرفو: جیل چلو جیل چلو۔ جیل چلو جیل چلو۔

صاحب: اندر کر دوں گا۔ اندر کرا دوں گا۔ اندر کرا دوں گا۔ بار بار جیل بول رہا ہے۔ بار بار جیل بول رہا ہے۔

بیگم صاحب اسٹیج پر داخل ہوتے ہوئے۔

بیگم: سب کو اندر کرا دو۔ یہی کام رہ گیا ہے اب تمہارا۔ ابا جان کو بھی تم نے ہی اندر کرایا تھا۔ کیا ہوا کل کے احتجاج کا۔ یہاں اندر ہی پڑے ہو دُم دبا کے۔

صاحب: نہ تو تُو۔ مطلب آپ فرنٹ لائن پر ہوں گی، جیکٹ پہنے۔ (ہنستے ہوئے)

بیگم: اِس مذاق سے کب ملے گا چھٹکارا مجھے؟ صبح سے سارے محلے کی خواتین پلان بنا رہی ہیں کہ کس وقت پارلر جانا ہے اور کس وقت نکلنا ہے احتجاج پر۔ اور تم مرد کیا کر رہے ہو یہاں گھر پر بیٹھے؟

شرفو: نہیں تو، ہمیں کوئی پارلر تھوڑی جانا ہے۔

بیگم (زور سے شرفو کے بائیں کندھے پر ہاتھ مارتی ہوئی): اپنے صاحب کے کندھے پر بیٹھے بندر کی طرح نہ بول۔

شرفو: پہلے کُتا، پھر گدھا اور اب بندر۔

صاحب: یار شرفو، آج کا دن مکمل ہونے دے تُو پورا چڑیا گھر ہو جائے گا۔ پھر ہم دو روپے دے کر آئیں گے تجھے دیکھنے۔

صاحب: اپنے بچپن کے ہی دام دینا۔ تنخواہ بیس روپے، چڑیا گھر کی سیر دو روپے۔ (فلمی انداز میں) میں کل کا شرفو نہیں، میں آج کا شرفو ہوں۔

بیگم (شرفو کے دوسرے کندھے پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے): کچھ رحم کر دو تم دونوں اِس گھر پر، ہر وقت کھڑا کوئی نہ کوئی ڈرامہ، کوئی نہ کوئی ڈرامہ۔ عوام باہر نکلنے کو تیار ہے، میں جا رہی ہوں عوام کو لیڈ کرنے۔

صاحب: چھُو بیگم چھُو۔ چھُو بیگم چھُو۔

بیگم (شرفو کی طرف لپکتے ہوئے، لیکن شرفو بیگم صاحبہ کو دیکھ کر گولی کی طرح بھاگتے ہوئے): ادھر آ بے شرم۔

شرفو: بیگم صاحبہ اِس بار تو میں نے کچھ بولا ہی نہیں۔

بیگم: ہاں تو اب تیرے صاحب کو تھوڑی ہاتھ مار سکتی ہوں؟

شرفو: یہ لو، ہم نے تو ہزاروں بار دیکھا ہے آپ کو۔

صاحب: شرفو۔ خبردار جو تم نے ہماری عزت میں کچھ بھی اضافہ کیا۔ چپ چاپ بیگم کے پاس جاؤ اور چپیر کھاؤ۔

بیگم (اِس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، صاحب کے پاس آ کر زور سے کندھے پر چپیر لگا کر): یہ لو، اور زیادہ نہ بولو۔

صاحب: بیگممم یہ کیا، ایک طرف نشانہ، ایک طرف وار۔

بیگم: سیاست سکھا رہی ہوں تم جاہلوں کو۔ گھر پر بیٹھے وہی کر رہے ہو گے نعرے بازی۔ اور کل لاؤڈ اسپیکر لے کر نکلو گے کہ عوام کا دماغ کھاؤ۔

شرفو: وہ والا لاؤڈ اسپیکر تو پچھلے احتجاج میں پکڑا گیا تھا۔ اب چنگاری کا مائیک سسٹم سیٹ کیا ہے۔

صاحب: ابے چنگاری؟ یہ کون ہے؟

شرفو: وہ ڈی جے والی ڈی جی۔

صاحب: ڈی جے والی ڈی جی؟ یعنی لیڈیز؟

شرفو (شرماتے ہوئے): چِنگی۔

بیگم (دونوں ہاتھوں سے دونوں صاحب اور شرفو کے دائیں اور بائیں کندھوں پر زور سے چپیر لگاتے ہوئے): ایک چنگاری میں لگلتی ہوں تم دونوں پر یہاں اِسی وقت۔ لاؤں سلگتا ہوا انگارا؟

صاحب: اُف بیگم، کیا ۹۰s کی مووی والے نام، سلگتا ہوا انگارا؟ وقت کے ساتھ ساتھ سب چیزیں بدل گئی ہیں۔ اب نرم نرم لفظوں والی فلمیں۔ چنگی کہتی ہے۔ چنگی دا چنگا۔ چنگی چنگی۔ چینج کرو اپنا یہ لہجہ، ماڈرنائز ہو۔ کچھ نیا، کچھ خاص، ڈونٹ بی اولڈ اناناس۔

بیگم: ستیاناس ہو تمہارا یہ فلمی ذہن۔ ہر وقت وہی فضول بکواس۔ اور یہ کیا لیڈیز لیڈیز؟ بیس سال پہلے تمہارا چانس تھا، اب 70-71 میں کیا چانس ہے تمہارا؟

شرفو: اُریشش۔ بیگم صاحب، کریز سے باہر نکلتے ہوئے۔

صاحب: تیری گردن کی کریز پر ہم بھی اپنا پاؤں نہ رکھ دیں شرفو کے بچے۔

شرفو (شرماتے ہوئے): شرفو کے بچے اگر آپ بات کر لیں۔ ڈی جی۔

بیگم (سر پر ہاتھ مارتے ہوئے): چنگاری کے جیجا جی، اپنی عمر دیکھی ہے تُو نے؟

صاحب: ہم جیجا جی ہوئے تو کیا، ہم ابھی بھی کریز پر ہیں، فِٹ ہیں، اور اِن ہیں۔

بیگم: ارے میں شرفو کو کہہ رہی ہوں کہ تُو چنگی کا چاچا ہے۔ (ہنسی چھوٹتے ہوۓ )

شرفو (رونے کی کوشش کرتے ہوئے): چنگاری کے شوہر کئی سال پہلے گزر گئے۔ اب وہ اکیلی ہے۔ ڈی جے کا کام شروع کیا۔ اُن کا ہی میوزک سسٹم ہم لے آئے ہیں کل کے لئے۔

صاحب: واہ واہ شرفو۔ اتنی خوب عزت اور کیا ہی تُو نے اردو کہی ہے، واہ واہ۔ ورنہ پہلے تو تُو بیوہ بیوہ، اِس کی بیوہ، اُس کی بیوہ۔ اب بول نا، چنگاری بیوہ یا چنگی بیوہ۔

بیگم: پھر شروع ہو گئے تم اپنی حرکتوں پر۔ شرفو کا دل نہ توڑو۔

صاحب: بیگم، ہم نے فُل اسٹاپ کب کیا ہے اپنی حرکتوں پر؟ بس تھوڑا سا اسٹاپ لیا ہے۔

شرفو: ہاں وہ ویگن کی طرح، یا تو پٹرول بھرنے یا پیسنجر اُٹھانے۔

صاحب: آیا آیا واپس شرفو۔ نکل آیا تُو لکھنؤ کے چوراہے سے۔ واپس آ جا کراچی بیٹا۔

شرفو: لاہور میں کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں کہ واپس آ جاؤ کراچی۔

بیگم: یہ لاہور ہے؟ اسلام آباد میں ہیں ہم۔

شرفو: بیگم صاحب، لاہوری جہاں کہیں کھڑا ہو جاتا ہے، لاہور وہیں شروع ہو جاتا ہے۔

صاحب: اُریشش۔ امیتابھ بچن۔ کیا خوب یاد دلایا شرفو۔

بیگم: بھولے نہیں تم اپنے بچپن کے بچن کو۔

صاحب: ہائے ہائے۔ اور تم وہی آج بھی ہیما مالنی کے اسٹائل میں جلسوں میں تقریریں۔

بیگم: ہاں ہاں، تو وہ مجھے سمجھ گئے ہیں، کم از کم میں ملک کے لئے تو کام کر رہی ہوں۔

شرفو: یہ کیسا کام ہے بھائی۔

صاحب: ویل سیڈ، شرفو، ویل سیڈ۔

بیگم: جا رہی ہوں میں اپنی کارنر میٹنگ پر۔

صاحب: جاؤ بیگم، اور وہاں سے ہمیں کچھ کھانے پینے کی چیزیں بھجوا دینا۔

بیگم: ٹھونسنے کا ہی سوچتے رہنا تم بس۔

صاحب: ہمارے وقت میں تو سیاست یہی تھی بیگم۔ الیکشن سے پہلے ٹھونسو، پھر بعد میں ٹھونسو۔ اوئی۔ پھر وہ پرانی یادیں۔

بیگم: ہیہ

صاحب: ہیہ

بیگم: ہیہ

صاحب: ہیہ

بیگم: ہیہ

صاحب: ہیہ

بیگم: آخری ہیہ کہتے ہوئے اسٹیج سے چلی جاتی ہیں۔

صاحب: ہُرّے!

شرفو: یا اللہ یہ کیا۔

صاحب: یار وہ شرفو، تہذیب نے ہمیں بدل دیا۔ جب سے ہم یہاں سیٹ ہوئے ہیں، باہر ملک سے آنے والوں سے انگریزی سیکھی، پھر کچھ امریکی باتیں، تو وہ پرانا والا ہِش ہِش ہِش ہِش ہِش، ہُوووررررررر، اب تھوڑا سا ماڈرنائز کر لیا۔ دیکھ، کتنی صاف ستھرائی سے بات نپٹ گئی۔

رِنگ، رِنگ، رِنگ، رِنگ

صاحب (موبائل فون کی طرف جاتے ہوئے): کہاں پڑا ہوا ہے کمبخت۔

شرفو (ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے، پھر جیب سے موبائل نکالتے ہوئے): یہ لیں صاحب۔

صاحب: شرفو! یہ کیا۔ ہمارا موبائل تیری جیب میں۔

شرفو: نہیں صاحب، وہ آپ کا موبائل آپ کی جیب میں ہے، آپ میرا موبائل سُن لو۔

صاحب: کیا۔ ہم کیا تیرے سیکریٹری ہیں؟ اَن پڑھ جاہل انسان۔

شرفو (فون سنتے ہوئے): ہیلو۔ جی۔ بالکل بالکل۔ ہیں، یہیں ہیں۔ بات کراؤں؟ صاحب، آپ کے لئے ہے فون۔

صاحب (بہت خوش ہوتے ہوئے): ہمارے لئے ہے؟ لاؤ لاؤ، بات کراؤ۔ کون ہیں؟ ہیلو۔ جی جی، بالکل بالکل، بات کر رہا ہوں۔ ضرور ضرور۔ ابے تُوووو۔ نہیں اتاروں گا، جا کر لے جو کرنا ہے۔ شٹاااپ۔

شرفو: کون تھا؟

صاحب: بہت ہی کیکر ہے اپنے باپ کی طرح۔ مرزا کا لڑکا۔ بول رہا ہے بڈھے ویڈیو اُتار دے۔ کتنی بار کہا ہے اِسے کہ بچوں، ویڈیو نہیں اُترے گی تُو ٹیوب پر سے۔ تُو جو چاہے کر لے۔ اب بول رہا ہے، تیری ویڈیو بناؤں گا کل، تیار رہیو۔ ہم نے کیا کوئی کچی گولیاں کھیلیں ہیں؟

شرفو: صاحب، گولیوں کا کہہ رہا ہے یہ؟۔

صاحب: ہمیں ڈرا رہا ہے گولیوں سے۔ صبح کی چار، دوپہر کی دو، شام کی چار۔ گولیوں پر ہی چل رہے ہیں اب ہم۔ لانے دے اِس کو دو چار چھے اور گولیاں، ہم نگل جائیں گے۔

شرفو: وہ دھشوں دھشوں والی گولیاں؟

صاحب: ڈیفنس میں۔ لو ہم کیا بول گئے، بحریہ میں کہاں گولیاں وولیاں چلتی ہیں شرفو۔ تُو بھی پاگل ہو گیا ہے۔ چلو اب کل کے ناشتے کی تیاری بتاؤ۔

شرفو: سب آپ بھوکے پیٹ جانا۔ تاکہ آپ کو عوام کا ٹیمپو پتا چلے۔

صاحب: ٹیمپو ایسے کہہ رہا ہے جیسے عوام نہیں، کوئی نغمہ ہے۔ دھچک دھچک دھچک دھوم۔ دھچک دھچک دھچک دھوم۔

شرفو (صوفے پر بیٹھتے ہوئے): بہت خوب، بہت خوب۔

صاحب: شرفوووووو۔

شرفو: صاحب، وہ پیر تھک جاتے ہیں اِس عمر میں اتنا کھڑا رہ کر۔ سوچا کہ نغمہ بیٹھ کر ہی سن لوں۔ دھچک دھچک دھچک دھوم۔

صاحب: ہاں یار شرفو، ہم بھی بیٹھ جائیں۔ (صوفے کی طرف جاتے ہوئے)

شرفو: جی جی، آئیے آئیے، بیٹھئے بیٹھئے، اپنا ہی گھر سمجھیے۔ کوئی چائے پانی لاؤں؟

صاحب: شرفوو۔ (ٹھنڈے ہوتے ہوئے)۔ ویسے کیا یاد کرا دیا چائے پانی، کیا ہمارا وقت تھا۔ کوئی بخشش مانگے تو کہتے، چائے پانی دے دو۔ کسی کو کوئی غلط بات کہی، تو آنکھیں دیکھیں، کہ چائے پانی دوں تجھے۔ بے وقت کوئی گھر آ جائے تو، کچھ چائے پانی لیجیے گا۔ آہاہا۔ کیا وقت تھا شرفو۔

شرفو: صاحب، ویسے گھر میں نہ پتی ہے، نہ دودھ، نہ چینی، نہ پانی ہے۔

صاحب: ہاں، اب مہمان آئیں تو کہہ دینا کہ اپنے چائے پانی کا انتظام خود ہی کر کے آئیں۔ بلکہ ساتھ لے آئیں دو کپ ہمارے لئے۔

شرفو: وہ صرف کپ نہ لائیں۔ خالی والے۔

صاحب: وہ کپ لائیں نا خالی والے، تو تُو اپنی کرکٹ ٹیم کو بھیجوا دیجیو، کہ یہ لو کمبخت مارو، کپ تو جیتنے نہیں، اب اِن سے کام چلا لو سب مِل کر۔

شرفو: ٹیم چائے پی پی کے پھول گئی ہے۔

صاحب: یار ہمارے زمانے میں ٹیم میں سپِرٹ ہوا کرتی تھی۔ لائٹ، اور صبح بندہ فِٹ فَآٹ، ہاں کچھ سر میں درد وغیرہ، لیکن گیم آن رہتا تھا۔

شرفو: اِسپِرائیٹ؟

صاحب: نام بلوا کر تُو پولیس بلوائے گا کیا گھر پر؟

شرفو: صاحب، بہت ٹائم ہوا اِسپِرائیٹ پیے ہوئے۔ ہاضمہ ہی نہیں ہوتا۔

صاحب: اور کھا ٹھونس ٹھونس کے حلق تک، یہی ہوگا۔ ہاضمہ نہیں ہوگا اور تُو بم کی طرح پھول جائے گا۔

شرفو: بم نہ بولیں۔

صاحب: بم نہ بولوں؟ توپ خانہ بولوں؟ دیکھ اپنے آپ کو آئینے میں۔

شرفو (کھڑے ہوتے ہوئے اور سینہ پھُلاتے ہوئے): صاحب، ابھی ایسا کوئی آئینہ ہی نہیں بنا جس میں یہ ناچیز فِٹ ہو سکے۔

صاحب: تُو موقع دے فِٹ ہونے کا تو ہو نا۔ آئینے بھی مہنگے ہو گئے۔ اور جو ہیں، اب وہ والی بات نہیں، سیدھے اور کھَرے۔

شرفو: اوہ۔ بھول گیا، آج وہ آ رہے ہیں۔

صاحب: کون وہ۔ ایسے بول رہا ہے جیسے کوئی سپہ سالار آ رہے ہوں۔

شرفو: اب کہاں سپہ سالار آتے ہیں۔ (آنکھیں گھماتے ہوئے)

صاحب: ہاں یار، کافی عرصہ ہوا کوئی آیا ہی نہیں۔ لگا تو ہمیں بھی کہ اب آئے، اب آئے۔ لیکن وہ زمانے گئے جب امپائر کا فیصلہ فائنل ہوتا تھا۔ کمبخت ماروں نے ملیا میٹ کر دیا پورا کھیل، امپائر آؤٹ دے، اور کھلاڑی کا رونا شروع، کہ تھرڈ امپائر سے چیک کرو۔ یہ تھرڈ امپائر بھی کسی کا ہے کیا، منحوس مارا۔

شرفو: ٹُن ڈولکر کا آؤٹ اِنہوں نے ناٹ آؤٹ دے کر گیم جیتی۔

صاحب: بیٹا وہ ٹُن نہیں، ٹَن ڈُولکر ہیں۔

شرفو: ہمارے سب ٹُن ہیں۔

صاحب: شرفو! اچھا اچھا۔ ہماری ٹیم والے، وہ کیا بیچارے ٹُن ہوں گے۔ یہ تو دیسی اور بدیسی کولا میں ہی کنفیوز ہیں۔

شرفو (صوفے پر جم کے بیٹھتے ہوئے): اور سناؤ یار صاحب، کیا حال ہے؟ کیا گہما گہمی ہے؟

صاحب: بہت خوب، بہت خوب، شرفو صاحب، بہت خوب۔ ابے شرفووو!!! ہمارے ہی گھر میں، ہمارے ہی صوفے پر، ہمارے ہی سامنے بیٹھے تُو ہماری ہی مہمان نوازی کر رہا ہے۔

شرفو: کل ہوگی مہمان نوازی سب کی۔ آپ باہر تو نکلو۔

صاحب (گھبراہٹ میں کھڑے ہوتے ہوئے): یار میں کل آف لے لوں؟ تُو بار بار خوف دلا رہا ہے۔

شرفو: مجھے بھی آف دے دیں۔ لیکن تنخواہ نہ کاٹنا۔

صاحب: جا بیٹا، آف دی۔ وِد ڈبل پے، دُگنی تنخواہ۔

شرفو: تنخواہ دیتے نہیں۔ اور دُگنی؟ پہلے پُرانی والی تو دے دو۔

صاحب: شرفو! نوکری سے نکال دوں گا، نوکری سے نکال دوں گا!

شرفو (صوفے پر ٹائٹ ہو کر بابو کی طرح بیٹھتے ہوئے): نکال ہی دیں۔ کب سے سُن رہا ہوں نوکری سے نکال دوں گا۔ نوکری سے نکال دوں گا۔

صاحب (شرفو کی طرف دو قدم بڑھ کر ایک چماٹ زور سے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارتے ہوئے): شرم کرو شرفو۔ اپنوں کو نکال دیں گے تو ہمارا ساتھ کون سا باہر والوں نے آ کر دینا ہے؟

داماد (اسٹیج پر آ کر اعلان کرتے ہوئے): ٹرِنگ ٹرِنگ۔ ٹرِنگ ٹرِنگ۔ ٹرِنگ ٹرِنگ۔

صاحب: ابے کون ہے؟ ہیلو۔ کون ہے؟

داماد (ٹونٹ کی آواز نکالنے کے بعد، خاتون کی آواز میں): آپ نے جو کل، اپنے فون میں پانچ ہزار کا کریڈٹ بھروایا تھا، وہ ختم ہو چکا ہے۔ مہربانی کر کے کریڈٹ دوبارہ ڈلوا لیں۔ ہمیں عادت ہو چکی ہے آپ کے کریڈٹ کی۔

شرفو: یہ لو۔

صاحب: ارے ہم نے دو کالیں کی ہوں گی، یہ پانچ ہزار کا کریڈٹ کہاں چلا گیا۔ اور یہ کیا کہا اِنہوں نے آخر میں۔

داماد: بُڈھے، کریڈٹ ڈال لو دوبارہ!

صاحب: اُریششش۔ یار یہ تو ہم کلام ہو رہی ہے، (اِس بات کو سراہتے ہوئے)، یعنی لائن بائی لائن سُن کر جواب دے رہی ہے۔

شرفو: اور بول رہی ہیں کہ کریڈٹ کی عادت ہو چکی ہے۔

صاحب: بھئی یہاں تو سب کچھ اُدھار پر چل رہا ہے، اِس سے لے کر اُس کو دو، اُس سے لے کر اِس کو دو، اور سُود پکاتے جاؤ، پِلاتے جاؤ۔ جیسے وہ نہیں ہے اپنا نُکڑ والا توسِیف۔ اُس کا سُوپ، صبح شروع کرتا ہے، اور شام تک دیگ پکتی رہتی ہے۔

داماد: بُڈھے۔ سٹے آن پوائنٹ۔

صاحب: اُریششش۔ انگریزی میں بھی۔ یار کون ہے یہ، آواز سنی سنی لگ رہی ہے۔

شرفو (کافی دیر سے صاحب کے پیچھے کھڑے، پہلے داماد کو دیکھتے ہوئے، اپنی ہنسی کو کپڑے سے ڈھانپتے ہوئے): آپ کو پتا چلے گا کون ہے تو بڑا مزا آئے گا۔

صاحب: ابے یہ تو روزی کی آواز ہے، وہ ڈرامے والی۔ کیا خوب۔ ہم نے کوئی پچاس بار دیکھا ہوگا ڈرامہ۔

شرفو: وہ مُعین صاحب والی۔

صاحب: معین بھائی والی بول، وہ ہمارے بڑے دوست تھے۔ (آنکھیں پونچھتے ہوئے)۔ اُن کے ساتھ ہم نے کافی روزی روٹی کمائی۔

شرفو: اچھا، تو وہ روزی تھے اور آپ روٹی؟

صاحب: چماٹ والی روٹی چلے گی تجھ پہ!

داماد (روزی کی آواز میں): روتی۔ یو آر سو کیوووٹ۔

صاحب: صرف روٹی کیوں؟ روٹی، لال روٹی، تافتان، نان، پراٹھا؛ لچھا، سادہ، قیمہ، آلو، مولی، میتھی۔ ایک سو کا، دو پچیس، دو سو کم۔

داماد: روٹی نہیں بھوکے۔روتی۔ جیسے رونے والی روتی۔ میں روزی تھی اور تُو روتی۔ ہر وقت کسی نہ کسی کے سامنے رونا پیٹنا۔

صاحب: یار یہ تو حد ہو گئی۔ (طیش میں آتے ہوئے، خاتون کی آواز میں، پیچھے مُڑتے ہوئے اور اپنے داماد سے کہتے ہوئے)۔ آ گئی تُو نکل کر پھر سے اپنی یہ لیپا پوتی والی جھوٹی دو نمبری بُوتھی لے کر، ٹِک ٹَاک کی بھوتنی، ہائے کیسی ڈائن لگ رہی ہے، بھوتوں کی بیانسے، گھوم آئی تُو انگریزی ملکوں کے پاسپورٹ پکڑ کر، ٹک کر رہا نہیں گیا تجھ سے اِس مُلک میں، یہاں کے پائے نہاری کھائے بغیر تیرا اور تیرے جیسوں کا جی نہیں بھرتا، محلے سے کیسے تجھے نکالا تھا صرف میں ہی جانتی ہوں، پھر موقع دے رہی ہے تُو مجھے کہ نکال پھینکوں تجھے، باہر کروں۔

(آواز بدل کر، ہنستے ہوئے)

ارے بیٹے تم؟ آ گئے؟ کیسے ہو۔ مائینڈ نہ کرنا، وہ تو ہم کل کی ریہرسل کر رہے تھے۔ کیسے آنا ہوا؟

داماد (روزی کی آواز میں): وہ ابو۔ بس آپ کی یاد کھینچ لائی۔

صاحب: (روتی کی آواز میں) پھر بولی تُووو۔

داماد: پکڑے گئے آپ، ابو!

صاحب: پکڑ لیا تُو نے ہمیں، آنی!

داماد: آنی نہیں ابو، آنند۔ آنند کُمار شرما۔

صاحب: الیاس بولوں تجھے الیاس۔ تیری انڈیا کی پیاس بُجھ جائے گی۔

داماد: اُبو جنگ کا خطرہ ہے۔

صاحب: بیٹا، یہاں کون سا امن ہے۔ ہونے دو جنگ۔

داماد: ابو وہ کافی بڑے ہیں۔ دے آر کوائٹ بِگ۔

صاحب: میزائل ماروں گا، میزائل ماروں گا، میزائل ماروں گا۔

داماد: لیجیے، ماریے۔

صاحب: پہلی گولی ہم سے ہی چلوائیو۔ کبھی خود نہ ماریو پہلے۔

داماد: پچھلی بار مارا تھا۔ ابھی نندن ملا۔

صاحب: تو پورا ثابُت سلامت واپس بھی تو کر دیا تھا ابھی نندن۔

داماد: چائے پلا کر۔

صاحب: بیٹا، یہ شکر کرو فوج نے چائے پلائی۔ پولیس ہوتی تو الامان الحفیظ۔ بجیا بجیا ہو جاتا۔ لاتوں پر چل کر جاتا ابھی نندن، ابھی گندَن ہو جاتا۔

کیا مزہ آتا جا کر کہتا، چائے نہیں پلائی، چِھترول پلائی۔

داماد: ابو اگر جنگ ہو گئی تو کیا پلان ہے؟

صاحب: بیٹا پلان تو سیٹ کر دیا ہے، اپنے چِچھورے میڈیا کو اِن پر چھوڑ دیںتےہیں۔ جب یہ جنگ کا کرتے ہیں، ہمارا ٹوٹا پھوٹا ملک، ایلفی لگا کر ایک دم جُڑ جاتا ہے۔ تین دن ہو گئے ہیں، یہ سوچ رہے ہیں کہ چِچھورے میڈیا پر ایسا وار کیا ہے، تو لڑائی ہو گئی تو کیا کریں گے۔

داماد: یو آر سو رائٹ، ابو۔ یو آر سو رائٹ۔ بچوں بچیوں نے اِن کی، وہ کیا کہتے ہیں، اسٹریٹ لینگویج میں، لے لی ہے۔

صاحب: نہیں بیٹا، آپ کے منہ پر اسٹریٹ لینگویج ٹھیک نہیں لگتی۔

داماد: یہ شرفو کیوں سو گیا؟

صاحب: شائد ہماری باتوں سے کوفت کھا کر، اور وہ حمیرہ آپا کے ہاتھ کے کوفتے کھا کر۔ وہ ٹھیلے پر بیٹھتی ہیں گلی کے نُکر پر۔ مِس نہ کریو۔

داماد (روزی کی آواز میں): اچھا، روتی میں چلتی ہوں۔

صاحب (روتی کی آواز میں): تُو کیا چلے گی یہاں سے، میں تجھے چلتا کرتی ہوں۔

شرفو ایک خوبصورت گھر میں گہری نیند سو رہا ہے۔ اِس کی آنکھ کھلتی ہے اور اِس پر خوف طاری ہے۔ دائیں بائیں دیکھتا ہے اور کہتا ہے، اللہ تیرا شکر، یہ خواب تھا۔ صاحب کیا گئے، اپنی ہر چیز ہمارے نام کر گئے۔ اِس ناچیز شرفو کو پھر سے شرفُدین کر گئے۔ ورنہ میرا اِس دنیا میں کیا تھا؟ کبھی کبھی شرفو کو اُن بیتے دنوں کی یاد آتی ہے تو وہ اپنے گھر والوں کو یہ داستان سناتا ہے اور آخر میں کہتا ہے، کہ  ہاں، یہ گواہ رہنا کہ اِس کہانی میں، کسی بکرے کا نقصان نہیں ہوا تھا، اور اِس پر اُس کے سب گھر والے خوب ہنستے ہیں۔

زلزلوں کی آغوش میں دنیا کپکپاتی، اپنا سینہ پھاڑتی، دائیں بائیں انسان کو اُگلتی، اِس سچائی سے بیدار کرتی کہ، آ، آج وہ محشر کا دن ہے، جس کا تجھ سے وعدہ تھا، چاروں طرف فرشتے، اِس تِتّر بِتّر انسان کو ہانکتے، کھِسکاتے، کہ یہی کوئی دور ایک کراچی کے رہنے والے، غریب گھر کے، سادہ لیکن شرارتی، مَخولِیے کے انداز میں ایک آواز آتی ہے کہ، بھائی فرشتو، بھائی فرشتووو، وہ ہُووووریں تو دکھاااااااا دوووووووو۔

Leave a Comment