اِس ہفتے ہم اپنی اسلام آباد میں کمپنی بند کر دیں گے۔ ملک میں ٢٠١٨ کے بعد کچھ بارش شروع ہوئی، پھر بہار آنے لگی، پھر کچھ امیدیں ہوئیں، اور ہم اور ہمارے دوست عامر نے، ہمارے کہنے پر، کلاؤڈ ویب کے نام سے ایک پارٹنرشپ ٢٠٢١ میں شروع کی۔ ہم ایسی ایک کمپنی کھولنا چاہتے تھے کہ اگر کبھی پاکستان واپس جانا پڑے تو یہ چل رہی ہو گی اور کچھ کام کر سکیں گے۔ آپ کا ہمیشہ کوئی نہ کوئی بیکپ پلان ہونا چاہیے۔ یہ اُن میں سے ایک پلان تھا۔
عامر نے کافی مدد کی، وہ بھی کووڈ کے دنوں میں۔ اللہ اُن کو اِس کا اجر دے۔ اِن سے پہلے،ہم نے کئی اور دوستوں سے ایسی ایک کمپنی شراکت میں کھولنے کا کہا تھا، لیکن کچھ خاص نہ ہو سکا۔ عامر تو آج بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ جو تم چاہو کرو۔ ہم وہی کریں گے جو دل میں آئے گا، لیکن کلاؤڈ اور ویب، یہ اِس ملک کا فی الحال مستقبل نہیں۔ ہاں، گھٹاؤں اور جالوں پر کچھ کام ہو سکتا ہے۔
دل تو خوب تھا کہ ایک بین الاقوامی طرز پر سروس دی جائے، لیکن اِس ماحول میں عام آدمی انہی چیزوں میں ملوث ہے جو کوئی پچھلے چالیس سالوں سے ہے۔ روٹی رُلاتی ہے، کپڑا ہے تو، لیکن ٹاک ٹاک کر یہ ہمارے ایمان سا ہو گیا ہے اور مکان وہ جہاں رات آنکھ لگانے کو ملتی ہے، لیکن صبح مکان مالک کرایہ مانگتا ہے۔ اِس قوم کی بیشتر آبادی کا مستقبل فی الحال وہی ہے، بجلی، پانی، گیس، وغیرہ۔ ہاں سگریٹ، 4G، اور مفتے، یہ کسی نہ کسی طرح افورڈ ہو جاتے ہیں۔
کمپنی کا لفظ سُن کر سب سمجھتے ہیں کہ بندہ کوئی بڑی مچھلی ہے لیکن ایسا نہیں، آپ بھی کھول سکتے ہیں، اور اِس کا خرچہ کچھ بھی نہیں، لیکن کھولیں تو کسی اعتماد والے وکیل کے ذریعے کہ آپ کو اُن کے آفس کی ضرورت مختلف کاموں کے لئے آئے گی، جیسے ماہانہ اور سالانہ ٹیکس ریٹرنز بھرنے کے لئے۔ اور ہاں، اگر آپ کا کوئی بڑا پروگرام ہے، تو بھی۔ اِس ملک میں قوانین اتنے ہیں کہ آپ اِن میں الجھ جائیں یا یہ آپ میں، نکالتا آپ کو کوئی وکیل یا جج ہی ہے۔ فنگرز کراسڈ!
سب اِس مضمون کا عنوان پڑھ کر کچھ اور ہی سمجھ رہے ہوں گے کہ یاسر فرنٹ فُٹ پر بیٹنگ پر نکل گئے کمپنی کو لے کر۔ کمپنی اب کچھ زیادہ بچی نہیں ہے ویسے، جس سے مِلو اور پاکستان کے موضوع پر بات کرو، آنکھوں میں نفرت ہے یا غم۔ ہم حیران ہیں کہ بھائی، آپ کیا چالیس پچاس سال سے ستّو پی کے سو رہے ہیں؟ یہ کوئی نئی کہانی ہے کیا؟ کہانی وہی ہے، لیکن اِس بار پُرانی کہانی اِنہوں نے غلط سنیما پر چڑھانے کی کوشش کی ہے، اور سنیما کیا، یہ تو اسٹیڈیم ہے ہمیشہ سے، اِس کا گیم وہ جو زمین سے اوپر، آسمان کے بیچ، اپنی اُڑان اُڑتا، بے قابو، بے پروا۔
رمضان میں سب کے لئے دعا کی، جِن کے لئے دعا بھول گئے، اُن کے لئے ان شاء اللہ دعا جاری رہے گی رمضان کے بعد بھی، لیکن دُعا خوب کی، اُوٹ پٹان بھی اور سیدھی سیدھی بھی۔ ایک دعا عجیب و غریب کی کہ اللہ اگر خان صاحب حیات ہیں تو کیا کچھ اُن سے اور کام لینا چاہتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ سب کیا؟ معاملے کو رفع دفع کر دے ایک طرف۔ اِس انداز میں آپ دعا مانگیں یا پانی کا گلاس، آپ کو شائد گلاس ہی ملے ماتھے پر، لیکن یہ اللہ ہیں، ہمارے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے پیچھے ہماری نیت اور اِلتجا کو سمجھتے ہیں۔ ایسی کتنی دعائیں اِس وقت اللہ کے دربار میں ہیں، کپتان اور پاکستان کو لے کر۔ خالی ہاتھ ہمیں اللہ کبھی واپس بھیجتے ہیں کیا؟
سوچئے کہ جب ایک اونچی چٹان پر، ایک نو تعمیر کشتی پر، چند اپنے عزیزوں اور چاہنے والے کے ساتھ ایک بنی آدم کھڑا تھا، اور چاروں طرف سے اللہ کے حکم کا تابع پانی، آسمانوں سے اور زمینوں سے اٹھتا، اُبلتا، انسان کو ہولاتا، دوڑاتا، آسمانوں کی طرف اُٹھا کہ آج حکم ہے میرے رب کا کہ سب کچھ مٹا دو، اُس دن، اُس وقت، اُس لمحے، اگر آپ، ہم، یا ہمارے جیسے کوئی ہوتے تو یہی سوچ رہے ہوتے کہ، ابا کی زمین، امی کے بانڈز، چچا کا کاروبار، ہماری ساری سیونگز، بیگم کے زیور، بچوں کی پڑھائی، گھر کی گروسری، گاڑی کا پٹرول، سالانہ زکوٰۃ، پانی کی ٹنکی، اور ٹینکر، نہ جانے کیا کیا، ہاں امیگریشن۔ کہ اگر آفت ایسی ہے کہ تیرا وجود ہی مٹ جائے گا، تو پھر پُکار اپنے رب کو کہ بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ لیکن نہیں۔ بجلی پانی گیس، بجلی پانی گیس۔
روزے آئے اور گئے۔ عید آئی اور گئی۔ کیا پایا، کیا کھویا؟ نہیں، ہم پوچھ رہے ہیں کہ کیا پائے کھائے، یا کھوئے والے لڈو؟ سوال تو یہی ہے ہر طرف۔ جواب ہمارا یہ کہ ہمارے عزیز دوست ثاقب بھائی کے ہاں لذیذ حلیم، کڑاہی اور بریانی، عید کی شام کچھ ڈٹ کر، اور کچھ اُن کی ڈانٹ سُن کر، دبائیں اور کیا خوب۔ کہیے تو کیا، خوب مزا آیا۔
اِس عید پر پہلی بار ہم نے والد صاحب کو مِس کیا۔ اُن کی طبیعت علیل ہے اور ایسی کہ ایک نیا سفر ہے۔ ہم جاتے ہیں اُن سے ملنے اور سلام دعا کے بعد نہ وہ کچھ کہتے ہیں اور نہ ہم۔ پہلے کچھ ایسا معاملہ تھا، کہ سلام دعا، پھر وہ کچھ کہین اور ہم کچھ، ایسے ہی گپ شپ لگا کرتی تھی۔ اِس میں جو مزہ تھا، وہ اب کچھ کم ہے۔ لیکن، چلئے، مومن ہر حال میں خوش ہے، اور ہم بھی۔ ہماری دعاؤں کا خلاصہ یہ، کہ عمر اُن کی دراز کر، ہاں صحت کے ساتھ کا خیال ہمیں آیا تو سہی، لیکن کچھ دیر میں۔
کمپنی کوئی بھی ہو، اچھی ہونی چاہیے۔ اچھے دوست، اچھے احباب۔ اِن کے بغیر، کمپنی تو ہو گی، لیکن فارغ، یا اُس طرز کی کہ آپ کو نفرت تو آئے، پر آپ سوچیں کہ کام بھی چلانا ہے۔ ہم اچھی کمپنی دیکھیں تو خوب مزا کرتے ہیں، اور بُری تو ایسے بھاگتے ہیں جیسے کہ شیر دیکھا ہو۔ کمپنی ایک اور بھی ہے، اِس کا نہ سر ہے نہ پیر۔ یا سَر ہے، اور کیا خوب، لیکن پیر پچھل پیری کی طرح پیچھے دیکھ رہے ہیں۔ اِس سے سب کو ڈر ہے، سوائے اِس کے ایک خاص مہمان کے۔ اور یہ مہمان، مہمان داری بھی کروا رہا ہے خوب۔ اِس عید سے اگلی عید تک، دُعا کیجیے تو اِس بھولے سے میزبان کے لئے، جِس پر پڑا وہ بوجھ ہے، کہ اُٹھائے نہ اُٹھے، جُتائے نہ جُتے، مٹائے نہ مٹے۔
آپ سب کو، اور خاص طور پر، ہر اچھی کمپنی کو، اِس قلم دان کے کَرسَر سے، دِلی ویری ویری لیٹ عید مُوّ بآ رِیک۔ اور ہاں، اگلے رمضان تک روزوں کی فرضیت ختم ہوئی ہے، روزے نہیں۔ ایک آت بے موسم کا روزہ رکھ کر دیکھیے۔ مزا آئے گا۔
