آج کچھ تھک ہار کر یوٹیوب پر سارے سیاسی چینل ان سبسکرائب کر دئے ۔ صابر بھائی کا چینل تو پہلے ہی ان سبسکرائب کر دیا تھا، وہ تو حد ہی کر دیتے ہیں، ویلاگ پہ ویلاگ، ویلاگ پہ ویلاگ۔ پھر کچھ دنوں سے ہم ہر ویڈیو کی تھمب نیل سے ہی خبریں لے رہے تھے۔ پاکستانی ویلاگ کی تھمب نیل، ڈان یا جنگ کے پہلے صفحے کی سرخیوں سے کچھ کم نہیں ہوتی۔ اگر اِنہیں پڑھ لیں تو ویڈیو کا خلاصہ مل جاتا ہے، پھر ویڈیو کیا دیکھنی؟
یہ کرتے کرتے ہم کچھ دنوں سے کوئی ویڈیو ہی نہیں دیکھ رہے تھے۔ ابھی ایک ہیڈلائن پڑھی تو سوچا کہ جو بچے کُچے چینل ہیں اِن سے بھی جان چھڑائیں، تو ہارون رشید صاحب کا، اور سمیع ابراہیم صاحب کا چینل ان سبسکرائب کر دیا۔ یاد آیا کہ حبیب اکرم صاحب کا مستقبل چینل ان سبسکرائب کرنا بھول گئے، وہ بھی کر دیں گے۔
ایک دوست عمرہ کرنے گئے تو انہوں نے واپسی پر کہا کہ مدینہ شریف یاد آ رہا ہے۔ ہم نے کہا وہ تو ضرور یاد آئے گا لیکن یہ بتائیں کہ کراچی کیسا لگ رہا ہے واپسی کے بعد؟ بولے، زبردست! ہم نے پوچھا کہ کہیں وہ زبردستی والا زبردست تو نہیں؟ تو آگے سے حَیرت والا ایموجی بھیجا۔
پھر ہمیں شرارت سوجھی تو پوچھا کہ آپ سعودی عرب گئے اور واپس پاکستان آئے، بادشاہت اور غلامی میں کیا فرق محسوس ہوا؟ اِس سوال پر تو ہم خود سوچتے رہے کہ واہ یاسر، کیا خوب یارکر ماری ہے، وکٹیں، بندہ اور گیم تینوں ہی رفوچکر کر دئے!
جنوری میں یہ مضمون لکھنا شروع کیا اور پھر ایک نئے شوق کی وجہ سے مضمون دھرا کا دھرا رہ گیا۔ ایک دوسرے دوست کو اپنے نئے چینل کی ویڈیو کا لنک بھیجا تو بولے کہ بھائی، ایک اور چینل؟ ہم نے اپنے عمر شریف اسٹائل میں سوچا کہ ”غریب کچھ نہیں بنا سکتا، چینل تو بنا سکتا ہے!“ عمر شریف صاحب نے چینل کی جگہ سوچ کا لفظ استعمال کیا تھا، کہ ”غریب کچھ نہیں کر سکتا، سوچ تو سکتا ہے“، لیکن اب سوچتا کون ہے؟
اِنہی دوست کو ہم نے جوش میں بول دیا کہ ٹھیک ہے، اب ہر روز ایک نئی ویڈیو آئے گی۔ اِس شوق میں کافی وقت صرف کرتے ہوئے اپنے چینل کو کچھ دوڑ لگائی۔ آج کوئی پینتالیس دن ہونے کو ہیں اور ہر روز کوئی نہ کوئی ویڈیو بن رہی ہے اور اپنے ہی نامی چینل پر اپلوڈ ہو رہی ہے۔ آپ چاہیں تو یہ لنک کلک کر کے یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ یوٹیوب کے علاوہ ہمیں کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہیں بھاتا، اور اِس کی کئی وجوہات ہیں۔
لکھنا بھی اسکول کے ہوم ورک کی طرح ہے، یا بیوی کی طرح۔ دستک دیتا رہتا ہے کہ ہوم ورک کرو اور نہ کرو تو سر پر ٹَن ٹَن گھنٹی بجتی رہتی ہے۔ بیوی کی طرح یوں کہ اگر چائے ٹھنڈی ہو جائے تو دوسری بار گرم کر کے لانے پر، ٹَن ٹَن، ٹَن ٹَن۔
ایک دوسرے دوست کہتے ہیں کہ یار، تیرے مضمون اور ڈرامے کافی ٹائٹ ہیں، اِن کو یوٹیوب پر نشر کرتے ہیں اور پوری طرح فلم کر کے ڈالتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ بھائی، اِس بلاگ میں کیا کیا، اور کیسی کیسی چُبھتی باتیں لکھ بیٹھے ہیں، کہیں کسی کی گستاخی ہی نہ ہو جائے۔ ویسے بھی آج کل بلاوجہ کے گستاخ سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔
سچ پوچھئے تو یہ بلاگ دوست ہی چلوا رہے ہیں!
مہینہ ہونے کو ہے کہ کوئی بھی سیاسی ویڈیو نہیں دیکھی۔ ملک کے ساتھ ساتھ، اِس کی سیاست اور تمام ہی پروگرام فارغ ہو چُکے ہیں۔ لفظ تو وَڑ کا اِس جملے میں بنتاہے لیکن چلئے، اُردو کو اُردو ہی رہنے دیں ۔
شروع میں دل تو کافی کیا کہ کر دو ویڈیو کلک، دیکھو کیا خبریں ہیں۔ یہ تبصرے دیکھ، سن کے انسان کی سوئی، ڈوبی اُمید کو ڈھارس ملتی ہے۔ اِس کا اپنا ہی نشہ ہے اور اپنی ہی لَت۔ آج الحمدللہ، یہ ہُوک سسٹم سے باہر ہو چکی ہے۔ دل میں صرف ایک دعا ہے کہ ایک شیر کا سورج غروب ہو اور دوسرے کا طلوع۔ ہاں، اِن دونوں کے جھگڑے میں، جس نے کُتْ ڈالی ہے، وہ اللہ کی حفظ و امان میں لپٹ لپٹا کر، کام کرے تو اپنا، ورنہ یہاں تو ٹانگ سبھی سب کے کاموں میں اَڑاتے آئے ہیں۔
لکھو تو کوئی کہتا ہے کہ کون پڑھے گا؟ فلمکاری کرو تو کوئی کہتا ہے کہ کیا ملے گا؟ ارے، رائٹر رائٹر ہوتا ہے، اور ڈائریکٹر ڈائریکٹر ۔ نہ لکھے تو اندر ہی اندر شعلوں سے کھیلتا ہے، اور فلم نہ کرے تو اِس کا دل مرتا ہے۔ ہم، آپ سب میں ایک رائٹر اور ایک ڈائریکٹر چُھپا ہے، بس آپ سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں ہی فارغ ہیں۔
اگلے زیر ؤ زبر تک، سلام ؤ دعا، پیش پیش۔
