ہرے پاسپورٹ والوں کو ہرا کارڈ چاہیے۔ اِس کے لیے نہ جانے کیا کیا جتن کئے جاتے ہیں، کتنے ہوتے ہیں۔ غالباً ۱۹۹۳ میں ایک گانا مشہور ہوا تھا، تنہائی میں چین نہ آئے، اور دل گھبرائے۔ یہ گانا ہمیں کافی پسند تھا اور ہمیں بھی کہاں چین تھا اُن دنوں۔ اِس گانے کو گانے والے دو شہزادوں میں سے ایک کے ابو کوئی ریٹائرڈ فوجی تھے اور اُن کی اہلیہ نے انہیں کہہ رکھا تھا کہ چاہے تمہیں امریکا جا کر ٹیکسی ہی کیوں نہ چلانی پڑے، تم امریکا چلو۔ وہ امریکا گئے یا نہیں، تنہائی میں چین نہ آنے کے بعد، بینڈ فلاپ ہوگیا۔
ہمیں یہ بات کیسے پتا ہے؟ جانے دیجیے، کچھ کان ہمارے یہاں بھی ہیں اور وہاں بھی۔ لیکن جملہ کیسا کَس کر گال پر لگتا ہے؟ کچھ بھی کرنا پڑے، ٹیکسی چلانی پڑے، تم امریکا چلو۔ ہم کافی دفعہ ایسی ہی ظالم بات کہہ دیتے ہیں کہ پنجابی، لاہور میں پیدا ہوتا ہے اور لندن جا مرتا ہے۔ اِس ملک کی کمان پاکستان میں پیدا ہوتی ہے اور امریکا جا مرتی ہے۔ چلیں، سب نہیں لیکن کئی، کچھ شوق سے، کچھ خوف سے اور کچھ تنگ آ کر قائد کے اِس ملک کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔
اِس زندگی کی کوئی چھ سات دہائیاں گزارنے کے لئے ملک بدلیں، پاسپورٹ بدلیں، طور طریقے بدلیں، کیا کیا بدلیں۔ نہیں بدلتے تو یہ نقش و نگار، یہ سانولا رنگ اور یہ ٹوٹا پھوٹا انگریزی لہجہ ۔ بیڑی وہی بنگالی، پَنی نئی چنگاری۔
پاسپورٹ کی دوڑ میں سب یہ ہی بھول جاتے ہیں کہ آپ کے پاس دنیا کا سب سے خطرناک پاسپورٹ ہے۔ جہاں کسی امیگریشن افسر نے اِسے دیکھا، وہاں سوال شروع کئے ۔کسی ائیرپورٹ پہ آپ کی لائن الگ اور کسی ائیرپورٹ پہ آپ کی لائن صاف۔ کیا جانے کس نمبر پر ہے ہمارا پاسپورٹ، لیکن پھر، ہے تو صحیح، ہرا بھرا پاکولا۔
آج سے کوئی اٹھائیس سال پہلے جب ہم دبئی آئے تو ہمارے والد صاحب سب کو سیر کرانے شارجہ کے ایک دوسرے شہر دِبہ لے گئے۔ بہت ہی خوب سفر تھا اور جب دوپہر کے کھانے کا وقت آیا تو ایک ہوٹل پر رکے۔ وہاں پہلی بار شائد ہم نے بریانی کھائی، جو ملیالم طرز کی تھی، چاول بریانی کے اور اوپر تلی ہوئی مرغی۔ کچھ دو چار باتیں کرنے کے بعد ہوٹل والے نے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں۔ ہم نے جب کہا پاکستان سے تو وہ چونک گیا اور بولا کہ اُس نے اپنی زندگی میں پہلی بار کوئی پڑھا لکھا پاکستانی دیکھا۔ ہم بہت خوش ہوئے اور سوچا کہ آج ملک کا نام خوب روشن ہوا، لیکن اُس کی اِس بات نے ملک کے کئی پوشیدہ راز کھول دیئے ۔پاسپورٹ جو بھی ہو، جہالت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اِس میں ہم سرِ فہرست ہیں۔
حال میں ہی ہمارے والد صاحب سے اُن کے دو بھانجے، منیر بھائی اور ٹیپو بھائی ملنے دبئی آئے۔ دبئی کے ائیرپورٹ پر ویزا امریکی پاسپورٹ رکھنے والے بھائی کو جَھٹ پٹ مل گیا۔ جو دوسرے بھائی ہیں وہ اِس وقت ایک قدر نیچے یعنی ہرے کارڈ کے مالک ہیں تو اُن کا ویزا لگانے کا پوچھا۔ ویزا افسر نے پاسپورٹ دیکھ کر کہا کہ آپ چاہیں تو ۱۵۰ امریکی ڈالر دے کر ویزا اپلائی کر سکتے ہیں لیکن میں اِس کا مشورہ نہیں دیتا۔ وضاحت میں انہوں نے ہرے پاسپورٹ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اصل وجہ یہ ہے۔ سوچیئے تو ہرے کارڈ کے ساتھ ہرا پاسپورٹ ہو تو یہ ہرے کارڈ کی بھی ایسی کی تیسی بجا دیتا ہے۔ بڑا ہی بہادر ہے، یہ ہرا پاسپورٹ۔
یہ سب پڑھ کر اگر آپ لال پیلے ہو رہے ہیں تو ہوئیے، ہم بھی کوئی کم نیلے پیلے نہیں ہو رہے۔ امریکا جا کر آپ ڈونّٹ کھائیں گے تو سو بار جانچئے پہچانئے گا کہ یہ حلال ہے یا نہیں، پھر کھائیے بھی تو کیا مزا اُس ڈونّٹ کے مقابلے میں جو آج پچیس اکتوبر کو ذلیل و خوار ایکسٹینشن کا مارا، عوام چبا کھائے گی۔ ہر لعنتی، معاف کیجیے گا، ہر ڈونّٹ کی طرح یہ بھی اپنے مئیکے ہی جائے گا، انگلستان۔ لیکن وہاں بھی اب اِن کو چین کہاں۔ عوام گزرنے نہیں دیتی، گزری زندگی۔
ہماری چھوٹی ہمشیرہ دبئی آئیں تھیں تو کسی اور ویزا افسر نے انہیں کہا تھا کہ آپ کا پاسپورٹ، جو اُس وقت اُن کا ہرا تھا، مسکین ہے۔ عربی میں مسکین کے جو معنی ہیں وہ غریب ہونے کے ہیں، اپنی عوام کی طرح، غریب پاسپورٹ ہی ہے، بیچارہ۔
ایک دوست نے کل کہا کہ وہ تھائی لینڈ گئے تو ہندوستان کے مسافر ہوا کی طرح امیگریشن سے گزر رہے تھے، اور جب اُن کی باری آئی تو، الامان و الحفیظ، امیگریشن افسر نے نہ جانے کیا کیا چیک کیا۔ تھائیلینڈ میں وُہ داخل تو ہوئے لیکن پوری عزت افزائی کے ساتھ۔ پھر بولے کہ انڈونیشیا نے اماراتی رہائش رکھنے والوں کو انڈونیشیا پہنچنے پر ویزا دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اُن چورانوے ملکوں کی فہرست میں ”پے“ سے شروع ہونے والے شائد سب ہی ملک ہیں، ایک ہمارا پاک پوتر ملک اِس فہرست میں نہیں۔ چنانچہ آپ کو آمد پر ٹھینگا ہی دکھایا جائے گا۔
دنیا میں کبھی ایک وقت تھا کہ پاسپورٹ نہیں ہوا کرتے تھے۔ پھر پاسپورٹ آئے اور ایک خطے میں رہنے والوں کو ایک نام اور لقب دے دیا گیا۔ پھر وہاں کے چند لوگوں نے کالا کیا سفید کیا اور سب پر ہی چھاپ لگ گئی کہ سب چور ہیں۔ ہمارے نزدیک قانون توڑنے والا جو بھی ہو، اُسے سزا ملنی چاہیے اور بس، اُس کی ساری قوم کو نہیں۔ اگر دنیا کا قانون درست ہو تو پھر کیا؟ ایک بین الاقوامی پاسپورٹ ہو جو دنیا کے ہر باشندے کو مل سکے، وہ جہاں بھی رہے، جہاں بھی جائے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں قانون توڑے تو پکڑ لیں اور سزا دیں۔ یہ کیا کہ میں تیتر تو بٹیر، آؤ چلو بیٹھیں پار اُس پیڑ۔ اُس پار ہمیشہ پیڑ نہیں ہوتے۔
زندگی کی کئی سانسیں باقی ہیں، جنت پاسپورٹ کی فکر اور جستجو میں انہیں صرف کر دیں۔ اگر اُس دن آپ کو یہ آپ کے سامنے سے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا، تو آپ خوشی خوشی اپنے گھر والوں کو یہ خبر دینے جائیں گے۔ اِس پاسپورٹ کی تلاش ہر مسلمان کو ہے، اُن کو بھی جو اپنے آپ کو دھوکے سے بہت گناہ گار سمجھتے ہیں۔ آپ گناہ گار ہیں اور اللہ تعالی گناہوں کو ایسے معاف کرتے ہیں جیسے بارش ویران وادیوں کو ہرا بھرا کر دیتی ہے۔ کبھی آسمان کی طرف ہاتھ تو اٹھائیے۔
آخر میں، اپنا عقیدہ درست کیجیے، اِس دنیا میں آپ کو کھلانے، پلانے، بسانے والے ﷲ تعالیٰ ہیں، آپ کا فرنگی پاسپورٹ نہیں۔ نہیں مانتے تو ذرا نظر گھمائیے، آپ جیسے کتنے، بے فرنگی پاسپورٹیے، سکون سے، حلال اور برکت والی زندگیاں گزارتے ہیں۔ اور ہاں، ہم نے کبھی کسی پاکستان سے گئے باہر کا پاسپورٹ رکھنے والے کو کوئی بڑا کام کرتے نہ دیکھا ہے، نہ سُنا ہے، نہ شائد اِن میں دم ہے کچھ کر جانے کو۔ پاسپورٹ ہی اِن کی آخری سیڑھی تھی۔ ہاں اتنا پتا ہے کہ یہ دیسی کہلاتے ہیں، پردیسیوں میں۔
اگلے ہرے بھرے پاسپورٹ رینیوال تک اجازت دیجیے۔ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ
