آپ نے کبھی ہیڈسیٹ پہن کر نماز پڑھی ہے؟ وہ موسیقی والے ہیڈسیٹ جو کانوں کو پوری طرح ڈھانپ لیتے ہیں؟ جی ہاں وہی۔ ہم نے دو بار یہ ہیڈسیٹ پہن کر نماز پڑھی ہے۔ ایک بار گھر میں اتنی چہل پہل اور شور تھا کہ سر پر یہ لگا لیے اور نیت باندھ لی۔ یاد ہے والد صاحب نے دیکھا تو کچھ چونکے لیکن پھر ایک پل میں سمجھ گئے۔
دوسری بار جب ہیڈسیٹ پہنے جب ایک نئے پڑوسی خوب موسیقی بجا رہے تھے، تو پہلے اُن کو جا کر کہا کہ تھوڑا کم بجائیں، لیکن پھر بھی آواز آنے پر اپنے ہیڈسیٹ پہنے اور نیت باندھ لی۔ نماز ہو گئی؟ یہ آپ بتائیں۔ جو آپ نتیجہ اخذ کریں گے، اِسی کو فتویٰ کہتے ہیں، یعنی آپ کی رائے۔ اِس سے منسلک ایک دینی اصطلاح ہے، اہل الرائے، یعنی وہ علماء جو حدیث کے فقدان کی وجہ سے اپنی دینی رائے کی بنا پر کوئی فتویٰ دیا کرتے تھے۔ یہ طریقہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود نے اپنایا اور بعد میں حضرت امام ابو حنیفہ نے بھی۔
حدیث کی فراوانی مدینہ شریف میں تھی اور وہاں فقہ حدیث کے بل بوتے پر پروان چڑھا۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس نے اِس طریقے کو اپنایا اور قرآن اور حدیث کی بنا پر دینی مسائل کا حل فرمایا۔ اِس کی دینی اصطلاح اہل الحدیث پڑی اور ہندوستان میں بیسویں صدی میں ہمارے آباؤ اجداد نے دہلی میں اِس کے فروغ کے لیے مدرسہ رحمانیہ قائم کیا۔ اِس مدرسے نے ہندوستان میں اہل الحدیث مکتب فکر کی بنیاد رکھی۔
کل یہاں عجمان سٹی سینٹر میں مغرب پڑھنے کا موقع ملا، جو اکثر ہی ملتا ہے۔ سٹی سینٹر کی مسجد کافی بڑی ہے اور ایک جماعت ہو جائے تو پھر دوسری ہوتی ہے، پھر تیسری، تب تک کہ اِکّا دُکا نمازی رہ جائیں۔ جب ہم پہنچے تو شائد دوسری جماعت نے سلام ہی پھیرا تھا اور بس تیسری شروع ہوئی تھی۔ تیسرے امام نے، جو میں یا آپ کوئی بھی ہو سکتے ہیں، ہماری طرف اقامت کرتے ہوئے یوں دیکھا کہ آپ پڑھانا چاہتے ہیں تو ہم نے آنکھوں سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ بسم اللہ کریں۔
یوں نماز شروع ہوئی لیکن ایک چیز ہمیں معلوم تھی کہ جس صف میں ہم کھڑے ہیں اُس کے پیچھے ایک آت صف اور ہے اور کیونکہ مسجد ترچھے انداز میں بنی ہوئی ہے، تیسری صف آدھی ہی ہے۔ خیال یہ تھا کہ ہفتے کا دن ہے اور ابھی تو نمازی کافی آئیں گے۔ پھر یہی ہوّا کہ نمازی آتے رہے یہاں تک کہ وہ سوچیں کہ کیا کریں۔
ہم نے ملیشیا میں ایسا ہوتا دیکھا ہے کہ نمازی الگ الگ مختلف جماعتیں کر رہے ہیں، کیونکہ مسجد کی پہلی جماعت ہو چکی ہوتی ہے۔ یہاں یہ رواج نہیں اور نہ ہی اِس کا کوئی سر پیر لگتا ہے، ایک جماعت ہو رہی ہے تو سب مل کر ہی پڑھیں۔
چلیے، دیکھتے ہی دیکھتے نمازی بھر گئے۔ ایک صاحب نے یوں کیا کہ امام صاحب کے ساتھ جا کر کھڑے ہوئے اور امام صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا کہ آپ آگے کی صف میں چلے جائیں۔ امام صاحب نے فوراً دو قدم لئے اور اگلی صف میں چلے گئے، امامت جاری رکھی، اور یہ سب صورت پڑھتے ہوئے ہوا، قراۃ میں کوئی کمی بیشی نہ ہوئی۔
جونہی ہم سے آگے والی صف خالی ہوئی تو نمازی اِسے بھرتے ہوئے جماعت میں شامل ہو گئے۔ ہم نے سوچا کہ بھائی اپنا پہلی صف میں حاضر ہونے کا ثواب تو تیل لینے گیا۔ لیکن اچھا ہے کچھ نمازیوں کو جگہ مل گئی۔ پھر اور نمازی آتے رہے اور ہمیں نہیں معلوم کب لیکن امام صاحب ایک صف اور آگے چلے گئے، ایک نئی صف بن گئی۔
ہم اِس سب کو ہوتا دیکھنے کے علاوہ نماز بھی پڑھ رہے تھے تو بس اب کچھ لؤ اللہ سے لگائی۔ آخر جب نماز ختم ہوئی تو دوسرے سلام کے بعد ہم سے آگے کی صف والے سب کھڑے ہونے لگے، یہ بعد میں آئے تھے اور ہم پہلے، تو سب نے اپنی نماز پوری کرنی تھی۔ پھر یہ احساس ہوا کہ ہم چوتھی صف میں ہیں اور یہ کہ امام صاحب کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ ہو سکتا ہے لوگ امام صاحب کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے ہوں، یعنی شانہ بشانہ، جو ہم نے یہاں کبھی کبھی ہوتے دیکھا ہے۔ یا شائد امام صاحب سلام پھیر کر چلے ہی گئے ہوں، ایسا بھی کبھی کبھی ہوتے دیکھا ہے۔ یوں مغرب کی نماز پوری ہوئی۔ البتہ نماز ہو گئی؟ یہ آپ بتائیں۔ آپ کا کیا فتویٰ ہے؟
فتویٰ فتویٰ کرتے کرتے ہو نہ جائیں دیوانے۔
ایسا نہ ہو جائے کہ ہم خود کو ہی نہ پہچانیں۔
فتوے جب دینی اعتبار سے کوئی عالم دینے لگیں تو انہیں مُفتی کا درجہ یا عنوان مل جاتا ہے، جس کے بعد آپ چاہیں تو اِن کے فتوے پر عمل کر یا کروا سکتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فوج میں، وہ بھی یہ انگریزی فوج میں شروع ہوا کہ جب فوجی عام شہری لباس پہن لیں تو اِسے مُفتی کہا جاتا ہے، اور یہ اصطلاح ہندوستان میں شروع ہوئی، انگریز ہندوستانی لباس پہنتے جو ہمارے مُفتیوں کے لباس سے مشابہت رکھتا تھا۔ یوں انگریزی فوج میں غیر فوجی لباس کا نام مُفتی پڑ گیا۔ شائد اِسی لیے فوج میں مُفتی حضرات کی کچھ زیادہ رسائی نہیں۔ کام کاج کے بعد ہر فوجی اپنے ہی مُفتیوں میں ہوا کرتا ہے۔
فتوے مضبوط کرنے ہیں تو دین کی تعلیم کیجیے۔ آپ کو کوئی مُفتی نہیں کرنا پڑے گا۔ اور اگر مُفتی ہی کرنا ہے تو پھر سوچیے کہ رسول اللہ ﷺ کے کئی سو سال بعد تک کوئی مُفتی کے عنوان والا مُفتی ہی نہ گزرا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے یہ دین مکمل کر دیا۔ جتنا آپ سیکھ چکے یا سکھا دیئے چکے ہیں یہ درحقیقت کم ہی ہے لیکن کچھ تو کثرت کیجیے، کچھ تو وقت صرف کیجیے کہ اللہ کی کتاب کو سمجھیں، حدیث کو سمجھیں اور اِن میں علم بڑھے۔ ورنہ ہماری عمر کے اکثر دوستوں کی تعلیم ہندوستانی فلموں سے زیادہ اور اللہ کی کتاب سے کچھ کم ہی ہے۔ زندگی کے معاملات اِسی لئے فلمی زیادہ اور دینی کم ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں بے حد ایسے واقعات ہیں کہ اگر آپ پڑھیں تو سر ہی پکڑ لیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کیسے کیسے انداز سے آپ ﷺ کی ہر بات کو سمجھنے اور اِس پر عمل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ جب وقت گزرا تو آپ ﷺ کی احادیث کو جمع کرنے اور اِن کو ڈھونڈنے کہاں کہاں نہ گئے۔ اِن سب میں ہی وہ ہدایات ہیں جن پر عمل کریں تو زندگی کی تقریباً سب ہی پریشانیاں ختم ہو جائیں اور اِس معاشرے میں کچھ ٹھہراؤ اور صبر آئے۔ کیا ہی خوشگوار سماں ہوگا کہ ہر کوئی علم رکھنے والا ہوگا اور ہر کوئی اِس علم کی بنا پر رائے دینے کے قابل ہوگا۔ گھر گھر عالم، گھر گھر مُفتی ۔ ہماری ؤن پارٹی بنی تو منشور میں یہ لکھوا دیں گے کہ زور علم پر ہوگا، رٹا بازی اور فرنگی تابعداری پر نہیں۔
علم کا دور دورہ ہوتا، فتوے کڑوڑہا نہ ہوتے۔
رسول کے تابعدار ہوتے، گھر گھر پیارے مسلمان ہوتے۔
