یہ کیسی اُمت ہے، کسی کی عید اِس روز، کسی کی عید اُس روز۔ پھر عید ہو تو، وہ شادی کے کارڈ نُما تصویریںموصول ہوتی ہیں، جن کو دیکھ دیکھ کر مزاج کوفت کھانے لگا ہے۔ دو لفظ ہی لکھ دیں کہ، اُمید ہے آپ کی طرف خیریت ہو گی، ہماری طرف سے سب کو عید مبارک۔ کچھ دوست یہ کرتے ہیں، باقی سب فوٹو بھیجتے ہیں۔ آج جنہوں نے فوٹو بھیجی، ہم نے انھیں وعلیکم فوٹو لکھ کر جواب دیا۔ سوچیں گے کہ یاسر بِدگ رہا ہے۔
دُمبہ دُمبی کا موسم ہے۔ شائد ایک دوست حج پر گئے ہیں، ہمارے شکوے سُن کر نہیں گئے، اب وہاں سے اُوٹ پٹانگ ویڈیوز بھیج رہے ہیں، جَمِ غفیر کی۔ ہم تو حج آن لائن یوٹیوب پر دیکھ رہے ہیں۔ ڈی ایچ ایل کی چھتریوں سے لے کر ہاتھ ہلاتی اُمت کے سینکڑوں سلام کا اجتماعی وعلیکم السلام کہہ رہے ہیں۔
کچھ یاد آیا کہ پچھلے سال حج پر کلام لکھا تھا تو یہ خوشی ہے کہ اِس کالم کو لکھنے کی اب عادت ہو گئی ہے۔ پڑھنے والے پڑھ لیتے ہیں، کچھ بہت سَراہتے ہیں۔ دونوں کا شکریہ۔
ملک کی گیس نکل گئی ہے۔ سوئی جہاں چُبھی، وہاں آج نہ کچھ کھانے کو ہے، نہ پینے کو، نہ اُن لوگوں کی خوشحالی جو سوئی کے رہنے والے ہوں گے۔ بچپن میں ہم سب خوش ہوتے تھے کہ گیس میں خودکفیل ہیں، اب صرف میدے کی گیس رہ گئی ہے۔ جو گیس امپورٹ ہوتی ہے، وہ کڑ ھا ئیوں پر، اور تیزابی کھانوں پر پُھنک رہی ہے۔ کئیوں نے پمپ لگا لئے ہیں کہ تیری گیس، میری گیس، لا دے، اِتھے رکھ۔
یہی حال پانی کا ہے، دریا مَنوں پانی سمندر تک لے جاتے ہیں، لیکن اس پانی کو جب تک کوئی ٹینکر میں محفوظ کر کے مہنگے دام لانہ بیچے، اِس کی کوئی قدر نہیں۔ پھر پانی بھی کیسا پانی، اللہ کی امان، ہم نے تو ٹینکر کا کالا پانی مبارک منزل کے حوض میں ڈلتے دیکھا ہے۔ اس میں کیا کیا تیرتا تھا، بڑے بڑے چِلچٹے، یہ بڑے بڑے سنٹیپیڈ۔ بارش خوب، دریا خوب، پانی ایسا کہ طبیعت پانی پانی۔
عید کا جانور جیل والے کو دے دیا ہے۔ اِس کی قربانی وہ جیل میں کریں گے، یا جیل سے باہر، یقین یہ ہے کہ غریب غرباء کو گوشت مل جائے گا۔ قربانی کوئی دو دہائیوں سے اِس انگریز انسان کو دے دیتے ہیں، کہ نہ یہ کھائے، نہ لگائے۔ جِس کا حق ہے اُس کو پہنچا دے گا۔ اور جس کا حق نہیں، اُس کی بجا دے گا۔
اللّٰہ تعالیٰ نے قائد اعظم کو تو پاکستان بنا دیا تھا۔ اللّٰہ اِس شخص کو نیا پاکستان بنا دیں گے، یہ دیکھنا ہے۔ نہ بھی بنائیں، اَب پاکستان رہ کتنا گیا ہے۔ آدھی گیٹڈ کمیونٹیز ہیں، اور آدھی کچی آبادیاں۔ اِن دونوں کے بیچ وہ رہتے ہیں جو یا تو گُھن کی طرح خوب پِسنا جانتے ہیں، یا ملک سے ہجرت کر جاتے ہیں۔ ملک میں اب صرف ہیجڑت رہ گئی ہے۔
بجٹ بجٹ ایسا کر رہے ہیں کہ جیسے اردو کا لفظ ہو اور غالب نے اِس پر کچھ مصرعے کہے ہوں۔ انگریز کی دُم، یہ سب انگریزی تعلیم پڑھ تو آئے ہیں، لیکن صرف نمبر لانے اور بنانے آتے ہیں۔ اپنا خرچ چلانا، بنانا آتا ہے، بچت بھی، لیکن آئے ہائے، کسی دوسرے کا کوئی فائدہ ہو جائے، یہ کیسے ممکن۔ مرغی دبوچ، پھر بھنبھوڑ۔
ایک روٹی صبح، ایک روٹی شام، کُچھ اچار، کُچھ بادام۔ مل جائے تو کچھ دَلیا، ایک پیالا دہی، دال، دیسی مرغی۔ بھوک کیا ہے، اسے کبھی یاد کر، اِس معدے بدحال کا پُرسانے حال بن۔ ایک ایک لُقمے کا حساب ہے، نہ دے سکا تو عذاب ہے۔ جیل روٹی کھا، کھانے والے سے سیکھ، اِس عید چھوڑ دے کباب سیخ۔ کوئلے کی آگ کیا یاد دلاتی ہے، جنت تجھے روز یوں بُلاتی ہے۔ تین حصے ایسے بنانا، ڈیپ فریزر بھر کے دِکھنا۔ پھر مہینوں گوشت کی بہار آئے، بھوک نہیں ہوس مٹائے۔ رشوت، چوری، سینہ زوری، آپ باہر سیٹلڈ ہیں، ہائے مِری کمزوری۔ ہمارا پاکستان ہے، اِس کی بجا دو، اپنے پَپا کی ملکیت ہے، اِسے اُٹھا لو۔
کَڑوی باتیں سچ، سچی باتیں کَڑوی۔ پڑھ کر کچھ نہ بدلے تو بَس آپ محظوظ ہوئے، اگر کچھ بدلے تو سینے میں دل ہے۔ آسمانوں سے برکتوں کا وقت گیا۔ جو مِل رہا ہے وہ اب بھیک ہی ہے، زیادہ دن نہیں چلنے والی۔ کتنے سالوں سے ملک میں ظلم ہو رہا ہے لیکن ایک عالم دین کُھل کر عوام کی مدد کو نہ آیا۔ اپنے اپنے حفاظتی مُفتی چیک کریں۔ اکثر میں دودھ سے کم جوش اور سوئے سے کم ہوش ہے۔ ہاں بھاری آوازیں، ٹھٹھے مروانے والے فقرے اور کوئی نہ کوئی برانڈ بیچنے کو ضرور ہے۔
قربانی کئے کئی سال ہو گئے، ہاتھ سے نہیں کی۔ اَب نفس کہتا ہے بس بھی کر، مجھے خون دے۔ اِس دن وہ ثواب ہے جو جانور کے ایک ایک بال اور روؤوں پر اللّٰہ نے لکھ دیا ہے، اور پھر دلی خوشی کہ اللّٰہ کے تین انبیاء، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور رسول اللّٰہ محمد ﷺ کی سنت بھی پوری ہوئی۔ گویا اَگنی پَتھ کی طرح خون میں لَت پَت ہونے کو دل چاہ رہا ہے۔ ہاں، عید کے کپڑے بدل کر کسی پُرانے کُرتے شلوار میں۔ یا عید کا جوڑا قربان کر دیں، کیا ہی بات ہو۔
ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کا کچرا نکلا گیا۔ ٹی ٹوئنٹی کے بجائے چائے ٹوئنٹی کا مقابلہ ہوتا تو یہی ٹیم جیت کر دکھاتی۔ پھر اگر ٹی ٹوئنٹی ہی جیتنا تھا تو یہ کیا کیا۔ جس نمونے نے جیل باز سے بیٹ چھینا، وہ یہ بھول ہی گیا کہ اگر ٹیم پاکستان سے بیٹ چھین لیتے تو یہ ایسے جیتے کہ امپائر کی چیخیں ہی نکل جاتیں۔ باولا باولا، دائین بائین پھرتا کہ یہاں تو فارم سینتالیس بھی نہیں، اسکور بدلوں تو کیسے!
عرب میں سب کہتے ہیں عِيد سَعِيد۔ ہمیں لگتا ہے کہ عید صرف سعید کی۔ پھر کہتے ہیں كُلُّ عامٍ وأَنْتُمْ بِخَيْرٍ۔ ہمیں لگتا ہے، آپ سب کے آم اور آپ خیر سے ہیں؟ پھر کہتے ہیں عِید کُم مُبَارَک۔ ہمیں لگتا ہے عید کَم مبارک۔ ہاں عِید مُبَارَک ہمیں سمجھ آتا ہے۔ عربی اُتنی رکھی ہوئی ہے جتنی ہم افورڈ کر سکتے ہیں، یا اِتنی کہ دَٹ کر شاورمہ آرڈر کر سکیں۔ ویسے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عربی بولتا ہے وہ عرب ہے۔ ہم چٹھانک بھر عرب ہیں۔ اور آپ غیر عرب۔
اُونٹ، گائیں، بکرے اور دُمبے اچھے رہے۔ کسی کام تو آئے۔ ہم اشرفُ المَخلُوقَات یہی سوچ رہے ہیں کہ ہمارا اِس دنیا میں ہونے کا مقصد کیا ہے۔ مقصد مل جائے تو اِسے یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ، اِس کا کوئی مقصد نہیں۔ اُمت کا ایک بڑا حصہ آج گول گول گھوم کر دعائیں کر رہا ہے کہ یا اللہ دَوا تُو کر دے۔ اور جو اُمت کی دَوا کر رہے ہیں، وہ دارُو میں دُھت ہیں۔ بڑے ڈھیٹ بھی۔
اپنے سے نچلے طبقے کو دیکھئے اور شرم کیجئے۔ آپ کا کام اِن کو اُٹھا کر اپنے ساتھ بٹھانا ہے، اِن کے اُونٹوں کی ٹانگیں کاٹنا نہیں۔ ٹانگیں تو سب ہی کاٹتے ہیں، کوئی ایسے، کوئی ویسے۔ جب تک یہ قوم مُسلم نہیں ہوتی، اِس میں کوئی نہ کوئی تفرقہ رہے گا۔ مُسلم ہونے کے لئے، اسلام کرنا پڑتا ہے، بیان نہیں سننے ہوتے، شَارٹیں فارورڈ نہیں کرنی ہوتیں، ہر بات پر تبصرہ نہیں کرنا ہوتا۔ زندگی کھیل کا نام نہیں، کھیلنے کا نام ہے، اللہ اور رسول اللہ ﷺکے بتائے گیم کو۔
اِن جلی تپی باتوں، زہر سے کڑوے خیالات، اور مٹھاس نہ گوشت کھائے، بقرعید منانے والے کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے۔ کیا پتا آپ کی کونسی دُعا کب اِسے قربان ہونے سے بچا لے۔
رسول اللہ ﷺ کی اُمت کو دِلی عید مبارک۔
