مغفرت

دوپہر کے سَوا دو بج رہے ہیں۔ ایک کَوّا کائیں کائیں کر رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم پندرہویں مالے پر ہیں، اور اِس کی زوردار کائیں کائیں سنائی دے رہی ہے۔ یہاں مبارک منزل کے وہ قد آور نیم کے درخت بھی نہیں جو کوئی دس مالوں کی اونچائی رکھتے تھے، اور اِن پر کوّوں اور چیلوں کے گھونسلے تھے۔ لگتا ہے کسی کونے کُھدرے میں اِس کا گھونسلہ ہے۔ یا یہ ہماری کچھ یادیں تازہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

امارت میں کوّۓ نہیں ہوا کرتے تھے۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ اب آپ ساحل کے کنارے جائیں تو کوّۓ نظر آئیں گے، اور روٹی ڈالیں تو خوب کھائیں گے۔ یہاں تک کہ پارک میں جائیے تو وہاں بھی یہ ہر طرف ہیں، اِن کی تعداد یہاں بڑھ گئی ہے، اور کافی۔ کھانے کو خوب ہے، کھانوں کی صحت مند ویرائٹی ہے اور اِنہیں چَھرے کی رائفل سے مارنے کے لئے، ہمارے پاس نہ چَھرے نہ رائفل ہیں۔ گویا، ہتھیار ممنوع ہیں۔

کوئی پُرانی بات کسی کو بتاؤ تو ایک فقرہ ضرور زبان پر آتا ہے، کہ ‘اللہ اُن کی مغفرت‘ کرے۔ چند دن سے گھر میں، پھر اپنے عزیز و اقارب کو کچھ باتیں یاد دلاتے ہُوے، یہ محسوس ہوا کہ جن کو ہم یاد کرتے ہیں، اُن میں سے کئی اب اِس دنیا میں نہیں۔ اکسر خود کو کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اللہ فلان بن فلاں کی مغفرت فرمائے۔ آپ بھی کہا کریں۔ اور ساتھ آمین اور ثم آمین بھی کہیں۔

سوچا یا تو ہم پُرانے ہو گئے، یا قصے پرانے ہو گئے، تو چلو کچھ نئے قصے گھڑیں۔ اپنے بچپن کے دل عزیز اُستاد اور ہمارے والد صاحب کے جگری دوست، انکل یوسف سے کل ملے تو جانے بچپن کے دنوں میں ہی چلے گئے، جب چھوٹے چھوٹے گھرانے یہاں عرب میں آباد تھے۔ سب ایک اِدارے میں کام کیا کرتے، قریب قریب رہا کرتے، اور میل ملاپ رہتا۔ وہ دن ایسے تھے کہ ہم اور ہمارے دوست اور یہ چند خاندان ہی ہماری دنیا تھے، اور شائد اِسکول۔ بس۔

اُن سے ملنے یہ سوچ کر گئے تھے کہ کچھ نئے قصے کہانیاں سُنیں گے، لیکن بچپن کے کتنے قصے کہانیاں واپس لے آئے۔ اور ایسے کہ کیا کہنے، لکھتے جائیں، کہتے جائیں، اور پھر تھک ہی جائیں۔ زندگی یہی ہے، ایک قدم لیتے ہیں تو جانے کہاں کہاں لے جاتی ہے۔ اِس بار اِس نے، کچھ ایسے یاد دلایا، کہ ہاں یاسر، تم کبھی ویسے تھے، ایسے تھے۔

ہمارا استقبال ہوا کہ جیسے کئی دہائیوں بعد بیٹا گھر واپس آتا ہو، یا بیٹی سُسرال سے گھر آتی ہو، یا کوئی بُھولا دوست مل جائے، یا یہ کہ کسی کا فون، دس منٹ اِدھر اُدھر ہونے کے بعد اُسے مل ہی جائے۔ معاف ضرور کیجیے، یہ کالم آج کے نوجوان بھی پڑھتے ہیں، تو آخری فقرہ ضروری تھا، ورنہ، وقت، اِس کی کھینچی ہوی دیواروں، اور اِن کے پیچھے کھوئے چہروں کو، اِنہوں نے کیا کھونا، کیا پانا، کیا ڈھونڈنا ہے۔

ہمیں یاد نہیں تھا کہ آنٹی یوسف کے چنے کی دال ہمیں خوب پسند تھی۔ تو چنے کی زبردست دال تیار تھی۔ ہمیں یاد تھا کہ گلاب جامن وہ خوب ہمارے لئے بناتی تھیں، وہ بھی تیار تھے۔ پہلے دال سے شروع کرتے ہوئے ہم شامی کبابوں کی طرف آئے، پھر مرغی کا پُلائو اور جب گُلاب جامنوں کی طرف آئے تو چھے داغ دئے۔ گھر ہوتا تو گلاب جامن سیدھے ڈِش سے منہ میں جاتے، لیکن، تہذیب سے چمچ سے کھائے۔ یہ گلاب جامن جس نے نہیں کھائے، اُس نے گلاب جامن ہی نہیں کھائے۔

اِس وقت ایک نوالہ، گلاب جامن کو آدھا کر کے منہ میں رکھا ہے اور اب تحریر پھر شروع ہو رہی ہے۔ آتے آتے، مرغی کا پلاؤ، چنے کی دال، دہی بڑے، شامی کباب اور سلاد اُنہوں نے کوئی ایک درجن گلاب جامنوں کے ساتھ پارسل کی۔ یہ گھر کے محبت سے بنائے کھانے، انمول ہیں۔ اِن میں برکت اور محبت دونوں ہی ہیں۔

آنٹی کو ہم نے یہ ضرور کہا کہ بچپن میں امی کو کہ دیا تھا کہ آپ کے ہاتھ کے گلاب جامن آنٹی کے گلاب جامنوں جیسے نہیں۔ امی نے ہمارے جو دو دو کان لئے ہوں گے تو وہ لئے ہوں گے، لیکن یہ بات آنٹی کو انہوں نے بتا دی تھی، اور سبحان اللہ، پھر ہر ہفتے دس دن، یا جب ہم ان کے ہاں جاتے، یا سیر سپاٹوں پہ، گُلاب جامن ہمیشہ تیار ہوتے۔

انکل آنٹی سے کوئی اکتیس سال بعد ملے۔ انھوں نے آنے کی دعوت دی تو دل ہوا کہ اپنے گھر والوں کو انسانوں سے ملایا جائے۔ ورنہ ہر قسم کی مخلوق تو یہاں ملتی اور دِکھتی ہی رہتی ہے۔ یہ ایسی مخلوق ہے جو آج اِس کل یہاں بیٹھے، اور کل اُس کل وہاں بیٹھے، یا نہ بیٹھے، یا کوئی اونچی اُڑان اُڑے۔ ہم سَتر کی دہائی میں پیدا ہوئے، اسی میں ہوش سنبھالا۔ اُن دنوں، انسان ہوا کرتے تھے۔ اب یہ کم رہ گئے ہیں۔

پڑھنے والے سوچیں گے کہ ٹشو لے کر آنسو پونچھیں، یا گُلاب جامن کے شیرے میں ڈوبی انگلیاں۔ شیرے والی انگلیوں سے آنکھیں پونچھ لیں، اِن میں نکھار آ جائے گا اور شائد وہ چمک بھی جو آپ کی آنکھیں اب کھو ہی چکی ہیں۔ ہے نا؟

پچھلے کالم اور اِس کے بیچ کافی کچھ ہوا۔ رمضان کے بعد مِزاج میں شرارت کا عنصر کچھ نمٹ سا ہی گیا تھا۔ پھر سنجیدہ موضوعوں پر لکھنے کا دل نہ ہوا، اور اُن دِنوں کچھ کام بھی ایسے تھے کہ ہم مصروف ہی رہے۔ آپ بچوں کو کوئی ہُنر سیکھنے کو کہیں، مکڑی کے جالے نامی ٹیکنالوجی سے دور ہی رکھیے۔ یہ وقت بھی لیتی ہے، اور مغز بھی۔

کچھ دوستوں نے پوچھا کہ لکھ نہیں رہے۔ ہم نے کہا جلد انشاءاللہ۔ اب کافی خیالات جمع ہو گئے ہیں۔ کچھ سیاسی، کچھ باسی، کچھ تواسی۔ اِن میں کس پر پہلے لکھیں گے، یہ اپنے موڈ پر ہے۔ ویسے ہمارے تایا نے ایک بار ہمارے اِس موڈ والے جملے پر بُرا مانا اور کہا کہ موڈ وُوّڈ کچھ نہیں ہوتا۔ شائد ہم کہنا چاہتے تھے کہ دل نہیں ہے۔ یا دل بھی نہیں ہوتا؟

اتنی مزیدار باتوں کا عنوان مغفرت؟ کچھ عجیب سا ضرور ہے لیکن اس کا خیال یوں آیا کہ ہم سب، جو چلے گئے، اُن کے لئے مغفرت کی دعا نہیں کرتے۔ یا کرتے ہیں تو عزیز و اقارب کے لئے۔ کبھی آپ نے سنا کسی کو کہتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ علامہ اقبال، قائد اعظم، لیاقت علی خان، جوہر برادران اور ایسے کتنے بھلے رہنماؤں کی، بھلے لوگوں کی، مغفرت فرمائے؟

انسان کے لئے اصل اعزاز یہی ہے کہ اللہ اُس کی مغفرت فرمائے اور ہمیں اُن سے جِن سے ہم محبت کرتے ہیں، ایک بار پھر مِلا دے، لَوٹا دے۔ اِس زندگی میں صحیح تو صحیح، ورنہ اُس زندگی میں ضرور۔ جہاں وہ ہوں گے جنہوں نے صبر کیا، بُرائی کو اچھائی سے ڈھانپا اور اُس میں سے خرچ کیا جو اللہ نے انہیں عطا کیا۔

گُلاب جامنوں کی اگلی پلیٹ تک، ہمیں اجازت دیجیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مغفرت فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔

3 thoughts on “مغفرت”

  1. یہ کالم ایک یادوں کے آئینے کی مانند ہے، جو دل کو نرم اور روح کو روشن کر دیتا ہے۔ پرانی یادیں، محبت اور مغفرت کی دعا سبھی مل کر ایک خوبصورت جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ یہ تحریر نہ صرف ماضی کی خوشبو بکھیرتی ہے بلکہ زندگی کے بدلتے رنگوں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کی مغفرت فرمائے، اور ہمیں ان محبتوں اور یادوں کے لمس سے ہمیشہ جوڑے رکھے۔ آمین، ثم آمین۔

    Reply

Leave a Comment