بارش

ہر سال یہاں بارش کوئی ایک آت  دن پڑتی ہے۔ اس کا کوئی موسم یہاں نہیں کہ آپ کہیں  بارش کا موسم ہے۔ ہاں جس دن بادل ہوں، اُس دن آپ کہ سکتے ہیں کہ بارش کا موسم ہے۔ اِس وقت موسلا دھار بارش ہو رہی ہے، اور بیٹی نے کہا کہ صبح چار بجے گرج چمک خوب ہوئی اور پھر بارش ہوئی، موٹی موٹی بوندوں کے ساتھ۔ گرج چمک سے اُٹھ گئیں۔

بارش کی گرج چمک سے وہ اُٹھے جو اِس سے نا واقف ہو، یا یہ کہ گرج چمک ملایشیا، انڈونیشیا والی ہو کہ انسان کو جھنجھوڑ ہی دے۔ لیکن ہم نہیں اُٹھتے کیونکہ ہر روز رات کو، جب سے الیکسا  آئ ہے، ہم اسے کہہ دیتے ہیں کہ گرج چمک والی بارش کی امبینٹ ساونڈ لگا دو، تو یہ اُسے جھٹ پٹ لگا دیتی ہے، اور کمرے میں طوفانی گرج چمک شروع ہو جاتی ہے۔ اِس میں سونے کا ایک الگ ہی مزا ہے۔ ہاں کوئی ایک آت بار اِس کی کسی گرج چمک نے ہمیں اُٹھا دیا ہو گا، لیکن مزا خوب آیا۔

عرب میں بارش رحمتوں کی ہے، رزق کی ہے، سلامتی کی ہے، اور دُھول مٹی کی۔ ہوا چل جائے تو پورے ماحول میں صرف گرد ہی گرد ہوتی ہے، اور یہاں متحدہ عرب امارات میں زیادہ کیوں کہ یہ صحرا ہے۔ مسقط میں پہاڑ ہیں تو یہ ماحول وہاں کبھی نہیں دیکھا، کہ آسمان پہ گرد آلود ہو اور سڑکوں پر مٹی ایک جانب سے دوسری جاتی ہو، ہر طرف مٹی کے انبار ہوں اور آپ سوچیں کہ کہاں آ گئے۔ ایسے میں بارش ایسی لگتی ہے کہ اللہ کی رحمت۔ اِس سال خوب ہو رہی ہے، دعائیں مانگے بغیر۔ دعا مانگیں تو بارش کم ہی ہوتی ہے، اور استغفار کریں تو خوب۔ ہاں، نمازِ استسقاء پڑھیں تو کوئی امید ہو کہ بارش ہو۔ یہاں کچھ سال پڑھی گئی، اور جہاں تک ہمیں یاد ہے بارش کُھل کر نہیں پڑی۔ ایسا بھی ہوتا ہے، کوئی بات نہیں۔

نوح علیہ سلام کی کہانی میں، انہوں نے اپنی قوم سے کہا، اپنے رب سے معافی مانگو، وہ بخشنے والا ہے، کہ آسمان تم پر بارش برسائے گا (سورہ نوح)۔ کئی سال پہلے، یہ آیت پڑھی تو خوب دل پر اثر ہوا کہ بارش اور اللہ کی نعمتوں کا راز استغفار میں ہے۔ ہم بارش کے ندیدے جو ہیں۔

کچھ سال پہلے، شام کا وقت تھا، بادل تھے، صبح کچھ بارش ہو چکی تھی، گھر والے سب باہر نکلے تھے کہ کچھ گھوم پھر لیں۔ ہم نے عصر نہیں پڑھی تھی تو عصر پڑھنے اُٹھے۔ دل میں خیال اِسی آیت کا تھا، کہ استغفار کرو تو بارش برسے گی۔ بادل کچھ تھے، کچھ نہیں، کچھ آتے، چلے جاتے۔ کھڑکی سے باہر دیکھا، یہ سب سوچا اور نیت باندھی عصر کی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا، ایک دم کچھ آواز آئی اور بارش کے کچھ بادل ہوں گے، بیتاب برسنے لگے، اور کیا ہی برسے۔ سچ پوچھیں تو ہمیں یقین نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا۔ خوب تین چار منٹ کو برسے اور پھر چپ ہو گئے، چلے گئے۔ نماز کے بعد جو دیکھا تو یہ عالم تھا کہ چاروں طرف صرف ہمارے علاقے کے ارد گرد برس گئے۔

یہ اوپر کا ٹکڑا لکھ ہی رہے تھے کہ بارش اور تیز ہو گئی۔ ایک کمرے کی کھڑکی سے پانی اندر آ رہا ہے، ہمارے اِس کمرے میں سب ٹھیک ہے۔ اُس کمرے میں کچھ تولیے لگا دیے ہیں، جو اپنا کام کر رہے ہیں۔ بارش اتنی تیز ہے کہ سارے علاقے میں پانی جمع ہو رہا ہے اور ابھی بیٹی نیچے سے ہو کر آئیں ہیں تو اُن کی کلفی ہی جم گئی ہے۔ بیٹے کو اُن کے دوست مل گئے تو وہ کچھ اور دیر بارش کا مزا لے رہے ہیں۔

دل تو کرتا ہے کہ بارش میں نکل جائیں۔ ہم اکثر بارش ہو تو نیچے نہیں اُترتے، کہ نیچے اترو تو بارش رُک جاتی ہے۔ آج وہ والی بارش ہے جو کراچی میں ہوتی تھی۔ بس ہُوئے جا رہی ہے، اپنا پلان بنا کر آئی ہے کہ شوق پورا کر کے ہی جائے گی۔

بارش کی کئی کہانیاں ہیں یاد کرنے کو۔ اکثر کراچی کی ہی ہیں۔ ہماری پیدائش طوفانی بارش میں ہوئی۔ اس کی تصدیق سب بڑے کرتے ہیں، جب بات نکلتی ہے۔ ہمارے دوسرے مامو کہتے ہیں کہ طوفانی بارش میں امی کو ہسپتال لے کر گئے، اور گاڑی کے وائپر ٹوٹے ہوئے تھے، تو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے اِسی حالت میں گاڑی چلائی، کبھی سر کھڑکی سے باہر نکال کر، کبھی ہاتھ کو وائپر کی طرح اِستعمال کر کے۔ ہماری بڑی پھوپی مرحوم، اللہ ان کی مغفرت کریں، کہتی تھیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسی طوفانی بارش نہیں دیکھی تھی، جیسی اُس رات، اٹھارہ جولائی انیسو چھتّر کو ہوئی۔ کوئی صبح سویرے ہماری پیدائش ہوئی۔

زندگی بھر کچھ کرو، پھر زندگی بھر کچھ اور کرنے کو دل کرتا ہے۔ صحرا میں ساری زندگی گزار کر دل کرتا ہے کہ ایسی جگہ جائیں جہاں ہر روز بارش ہو۔ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں، جن میں تقریباً ہر روز بارش ہوتی ہے اور یہ عام معمول ہے۔ بارش اپنے ساتھ خوبصورتی لاتی اور لے جاتی ہے۔ کل یہاں کا منظر یہ ہو گا کہ سورج پورے زور سے نکل چکا ہو گا، بس شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا نظر آئے گا۔ بارش ایک دن ہو، تو کئی بار دوسرے دن نہیں لگتا کہ ہوئی۔ ہمیں تو بارشوں کے مونسون کی عادت ہے۔

سردی جب آئی جب یہاں سردی ختم ہوتی تھی۔ جِس سال ٹام کروز کی فلم گھوسٹ پروٹوکول آئی، اور اس میں انہوں نے دبئی میں ایک خوفناک صحرائی طوفان دکھایا، تو اِسی سال سب سے زیادہ دُھول کے طوفان آئے۔ ہمیں یاد ہے کہ فروری کے وسط میں گرمی اور دُھول اڑنے لگی۔ یہ عجیب اتفاق تھا کہ ان کی اس فلم کی ٹائمنگ اتنی ٹھیک تھی۔ اِس سال ہم سوچتے ہی رہے کہ سردی کہاں ہے۔ دسمبر گیا، جنوری گئی، کچھ راتیں ٹھنڈ ہو جاتیں، لیکن وہ سردی نہیں تھی، جو ہوّا کرتی۔

فروری کے پہلے ہفتے میں اچانک بارش پڑی اور سردی ہوئی۔ اُس دن سے آج مارچ کا دوسرا ہفتہ ہے اور سردی ہے۔ رات کو ہی زیادہ محسوس ہوتی ہے، ہم بجلی کا ہیٹر جلا کر سو جاتے ہیں۔ لیکن یہ یہاں کی سردی ہے۔ پاکستان میں سب اِسے دیکھ کر ویسے ہی ہنسیں گے جیسے ہر بار ہنستے تھے، کہ آپ سے زیادہ ہم ملک کے وفادار ہیں۔ ہمارے لئے پاکستان سب کچھ ہے، تم لوگ تو باہر رہتے ہو۔ ہم یہاں رہتے ہیں، یہاں آؤ اور دیکھو، وغیرہ۔ اب سب منتظر ہیں کہ ملک میں یہ دہکتی آگ کچھ بھج جائے، یا کہیں دُور چلے جائیں۔ ہنستے اب بھی ہیں، اپنی پھوٹتی قسمت کو۔

ابھی دیکھ کر آئے تو بارش کا رخ پلٹ گیا۔ صبح بائیں سے بارش پڑ رہی تھی اب دائیں سے پڑ رہی ہے، تیز ہوا کے ساتھ۔ بائیں جانب کچھ روشنی ہے، تو شاید بادل دائیں کی طرف ہونے کے بعد، یُو ٹَرن لئے اب واپس پلٹ رہے ہیں۔ ہم نے بیٹی سے کہا کہ یہ تو گھومتا واپس آ رہا ہے۔ کیا ہی خوبصورت موسم ہے۔ ہَوا سے زوردار سیٹی بج رہی ہے، کسی کھڑکی کی چوکھٹ میں سوراخ ہے۔ ایسے ہی ایک سیٹی بجتی ہے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے، ہر کچھ دن، زوردار۔

پچھلی گرمیوں کے بعد بیٹے کو کہا تھا کہ جب جب بارش ہو تو دن اور تاریخ لکھ لینا، تا کہ ہمیں یاد رہے کہ بارش ہوتی ہے، اور ہم نا شکری نہ کریں۔ وہ لکھ رہے ہیں، اور ہم آج بھی یاد دلا دیں گے کہ آج کی تاریخ بھی رقم کر لو، کہ آج موسلا دھار بارش ہوئی تھی۔ اِس وقت جناب اپنے دوست کی فیملی کے ساتھ ایک شامی ریستوراں چلے گئے ہیں، جیپ میں بیٹھ کر۔ کیا ہی مزا ہے اس موسم میں گرم گرم کواب کھانے کا۔ سبحان اللہ۔

انگریز نے تباہی پھیرا دی ہے۔ ابھی ابھی آپ کی بھابی اِس موسم میں ایک پلیٹ آدھی کٹی ہوئی گاجروں، اور آدھے کٹے ہوئے کھیروں کی لائی ہیں۔ چالیس سال پہلے، مبارک منزل میں اب تک تلے ہوئے میٹھے گلگلوں کی پلیٹ آ چکی ہوتی اور ہم دبا کے کھا رہے ہوتے۔ انگریز نے سب کو چکمہ دے دیا ہے کہ بچُّو یہ سب کھاؤ گے تو مر جاؤ گے۔ ہم سوچتے ہیں کہ کون مرتا تھا، گلگلے، پکوڑے، سموسے کھانے سے؟

اب بادل چھٹ رہے ہیں، بارش رک گئی ہے، ہوا خوب تیز ہے، کوئی دس منٹ ہی ہوئے ہیں کہ جب یہ خوب برس رہی تھی۔ بادلوں کی اب کہیں اور اپوائنٹمنٹ ہے، ہم انہیں جانے دیں گے، روکیں گے نہیں۔

اللہ کا کتنا شکر کریں کم ہے۔ دو دن قبل شارجہ کے زاہیہ مال کے باہر لگے مختلف پیڑوں کو دیکھ کر سوچتے ہی رہے، کہ اللہ نے کیا کیا پیدا کیا ہے۔ کیسی کیسی چیزوں کی خلق کی ہے۔ انسان جان بھی مار دے تو کچھ چیزوں کے نام ذہن میں آتے ہیں، بس، اِن  سے زیادہ کچھ نہیں بنا سکتا اور اِن میں بھی ہزاروں نقص ہیں۔ اِس صحرا کے ایک مال کے دامن میں نیم، بادام، کھجور، چمبیلی اور کئی اور قسم کے پیڑ پھل پھول رہے ہیں، ایک قطار میں، ایک اونچائی کے، ایک پیارے انداز سے۔ یہ اُس ملک میں جہاں بارش نہیں ہوتی، میلوں صحرہ ہے، اور گرمی ہو تو ایسی کہ آپ بھاگے اندر جائیں۔

افق پر گہرے بادل نظر آ رہے ہیں۔ ایک قطار میں کالے اور دوسری میں سفید۔ ٹھنڈ اتنی ہے کہ مزا آ رہا ہے اور گھر کی دونوں کھڑکیوں کے چبوتروں پر کبوتروں کے لیے دانا ڈال دیا ہے۔ کھڑکیاں کھلی تھیں تاکہ ہوا اور ٹھنڈ دونوں آتی جاتی رہیں۔ ایک گھنٹہ میں عصر ہے، دل تو ہے کہ باہر نکلیں، شائد شام میں۔ ابھی اِس وقت کے ٹھہراؤ کا لطف اُٹھا رہے ہیں۔

آپ کے ہاں بارش نہیں ہوتی تو اللہ سے استغفار کرئے۔ استغفار کے بعد بھی بارش نہ ہو تو، کلمہ پڑھئیے، پھر استغفار کرئے۔ استغفار کے معانی ہمارے پُھپّا عبداللہ مرحوم سے ہم نے ایک بار پوچھے، تو انہوں نے اپنے محبت بھرے انداز میں کہا، میاں یاسر ، اِس کے معنی ہیں کہ اللہ مجھے معاف کر دے۔

کیا ہی پیارے معنی ہیں، اگر دل سے کریں تو کیا ہی پتہ، بارش آپ کے گِرد ہی ہو۔ اور آپ سوچیں، کہ یہ کیا ہوا؟

کوئی ڈیڑھ گھنٹہ ہوا ہے کالم مکمل کئے، بارش خوب برس رہی ہے۔ آپ سب ہوتے، تو ہم آپ کو گلگلے ضرور کھلاتے۔ اگلی بار تک، سب کو کہئے، آج سے استغفار آن ہے!

Leave a Comment