وعدے – ١

کچھ دنوں سے کچھ وعدے یاد آئے۔ سوچا اِن پر آپ سے بات کریں۔ اِس کہانی میں ہمارے دھوبی، ہمارے تایا کے ڈرائیور اور کئی دوسروں کا ذکر ہے۔ کچھ کا ہم بھول جائیں تو کبھی کسی اور وقت لکھیں گے۔ سوچتے یہ ہیں کہ کسی سے کوئی وعدہ کیا، رہ تو نہیں گیا؟ درحقیقت، وعدے اپنے آپ سے ہوتے ہیں۔ اِس میں کسی کو شامل کر لیں تو سوال ہے، کہ وعدہ نبھایا یا نہیں۔ وعدے نہ کیا کریں، اور کریں تو پیچھے نہ ہٹیں۔ وعدے گلے میں پڑ جاتے ہیں۔

ذکر یہ ہے کہ ہمارے آبائی گھر جس کا نام مبارک منزل تھا، اس میں خاندان کے کئی ملازم آیا کرتے تھے۔ یہ سالوں سے ہی آتے، اور اِن سے پہلے اِن کے آباؤ اجداد۔ ایسے ملازم اب نہیں ملتے، جو آپ سے جُڑ ے رہیں اور آپ کے گھر کا حصہ ہی ہوں۔

اِن میں سے کچھ کے نام ہمیں معلوم ہیں اور کچھ کو تو بس جو جیسے پکارتا تھا، ویسے ہی جانتے تھے۔ جیسے، محمودی، اختری کی ماں، اختری، امین کی ماں، بشیرن، وغیرہ۔ دہلی اور اِس کے بعد کراچی میں ایسے کئی ملازم تھے، اور یہ گھر کے مختلف کام کرتے۔ رفتہ رفتہ سب تتر بتر ہو گئے، ہمارے دادا کے کاروبار کے سمٹنے کے بعد۔ جو رہ گئے اُن کی کچھ کہانیاں ہم سنائیں گے۔

ہر سال جب ہم مسقط سے کراچی گرمیوں کی چھٹیوں میں جایا کرتے تو ہر ہفتے دھوبی آتے۔ وہ محبت سے ملتے اور مبارک منزل کے چار گھروں سے کپڑے لے جاتے، پھر اگلے ہفتے آتے، یا کبھی اور دیر۔ بڑی عمر کے تھے، کہ سر کے بال کافی سفید ہوں اور ہلکی سی موچھ بھی تھی۔ کئی دفعہ کچھ کپڑے لانے میں دیر کر دیتے تو ایک آت کان میں بات پڑتی کہ وہ اگلی بار لائیں گے۔ کپڑے کیا ہی خوب دُھلے ہوئے ہوتے اور اِستری شدہ بھی۔ سائیکل پہ لاتے لے جاتے۔

ایک سال انہوں نے ہم سے کہا کہ آپ اگلی بار جب آئیں تو ہمارے لئے وہ عربوں والا کپڑا لائیے گا جو وہ سَر پر پہنتے ہیں۔ ہم نے پوچھا کونسا تو کہنے لگے لال والا، جو تھوڑا سُفید بھی ہوتا ہے۔ سوچا تو ضرور کہ ایک سال بعد آنا ہو گا، لیکن ہم نے کہہ دیا کہ ٹھیک ہے، لے آئیں گے۔

یہ وعدہ کوئی دس مہینے یاد رکھا۔ ہر سال جب چھٹیاں آتیں تو والد صاحب کافی کچھ چیزیں خریدتے تھے کراچی لے جانے کو، تو شاپنگ کا کیا ہی مزا آتا۔ کِٹ کیٹ چاکلیٹ سے لے کر، گھر کی کئی چیزیں، جن میں ایک بار ایک چھوٹا سا ہونڈا کا جنریٹر بھی تھا، سب لے جاتے۔ ایک دن جب ہم رُوّی بازار میں تھے تو ہم نے والد صاحب کو کہا کہ ہمیں وہ سر کا کپڑا لینا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیوں، تو ہم نے کہا دھوبی نے کہا تھا لانے کو۔ والد صاحب نے کہا اُسے یہ کیوں چاہیے؟ ہم نے کہا یہ پتہ نہیں، لیکن وعدہ کر دیا ہے تو لینا ہے۔ انہوں نے ایک دُکاندار سے پوچھا اور پھر ہم نے شائد دو کیفیہ (اِس کا اصل نام) لے لیے، جو باریک پلاسٹک کی تھیلیوں میں تھے۔ ایک لال اور سفید تھا، جو سعودیہ میں دیکھا جاتا ہے، اور دوسرا پورا سُفید ۔ ہاں، ایک کیفیہ کالے اور سُرمئی رنگ کا بھی ہوتا ہے، جو آج کل دنیا کے کونے کونے میں دکھتا ہے، اور فلسطینی ہے۔ اللہ جسے چاہے مقبولیت دے، ویسے، آیت تو عزت کا کہتی ہے۔

اُس سال وعدوں کے سپہ سالار کا جہاز کراچی کے قائد اعظم بین الاقوامی ایئرپورٹ پر اُترا تو دوسروں سے زیادہ دھوبی سے ملنے کا دل تھا۔ ایک آت دِن بعد وہ آ ہی گئے ہوں گے، اور ہم جب اُن سے اوپر کے زینے کی سیڑیوں پر ملے تو کچھ دیر بعد، انہوں نے مسکراتے ہُوئے پوچھا، کہ ہماری وہ چیز آپ کو یاد رہی؟ آپ سب کو ایسا کبھی نہ کبھی محسوس ہوا ہو گا کہ پوچھنے والا سوچتا ہے کہ شائد یاد نہ رہا ہو، یا یہ کہ وعدہ بس سرسری ہی کیا تھا۔

ہم نے کہا کہ جی یاد رہا اور ہم لے آئے ہیں۔ اندر گئے اور اپنے سوٹ کیس سے وہ دو کیفیہ نکال لائے اور دھوبی کو دیئے۔ اُن کی آنکھیں کچھ نم ہو گئیں اور ہم نے خوب کوشش کی کہ انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نے اُن کی نم آنکھیں دیکھ لی ہیں۔ یوں وہ وعدہ جو کوئی دس مہینے یاد رکھا، پورا ہوا۔

اللہ کا شکر ہے، انسان وعدہ کر تو سکتا ہے، اُسے نبھواتا اللہ ہی ہے۔ ہاں، دھوبی کی آنکھیں ایک اور بار بھی نم ہوئی تھیں، لیکن وہ کہانی کبھی کسی اور وقت۔ بس یاداشت کے لئے اتنا ہی کہ ہم اور ہمارے کزن ہمایوں ایک دِن مبارک منزل کے چھوٹے لان کے برابر ڈرائیو وے پہ کرکٹ کھیل رہے تھے۔

پچھلے ہفتے والد صاحب گر گئے اور اُن کے بائیں کولہے کا جوڑ ٹوٹ گیا۔ اِس کا حل صرف سرجری کر کے مصنوعی جوڑ لگانا ہے، جو ہڈی کاٹ کر اِس میں پرویا جاتا ہے۔ کولہے کے جوڑ تک پہنچنے کے لیے کوئی پانچ چھ انچ کا چیرا لگتا ہے اور جوڑ میں ایک قسم کا سیمنٹ بھرا جاتا ہے، جس کے بھرنے کے دوران دل پر زیادہ زور پڑتا ہے۔ یہ دس منٹ کافی خطرناک ہوتے ہیں، لیکن سیمنٹ کے استعمال سے مریض اگلے دن ہی کھڑا اور چل سکتا ہے۔ الحمدللہ، ایسا ہی ہوا اور سب خیریت ہے۔ یہ بڑی سرجری تھی، اور اِس کے بعد خیال کافی کرنا ہے۔

ہر تکلیف اللہ کی طرف سے ہے۔ اِس میں گھبرانا، اِس میں اپنے جذبات کو اپنے اوپر حاوی ہونے دینا، اپنے آپ کو سزا دینا، یا کسی اور کو، یہ اُس وعدے کی وعدہ خلافی ہے جو ہم کبھی کبھی اپنے آپ سے کرتے، دہراتے، اور پھر بھول جاتے ہیں، لا اِلٰہَ اِلَّا اللہ، محمد رسول اللہ۔ اِس وعدے کا تقاضا ہے کہ جب زندگی اللہ نے دی ہے، وہ اِسے چلا رہا ہے، تو اِس کے اُتار چڑھاؤ، تکلیفوں، آزمائشوں، غموں، طوفانوں پر سوچنے، خوف کھانے، وائے ویلا مچانے سے پہلے، ذرا یہ سوچیں کہ، وعدہ پکا کِیا ہے؟

کچھ وعدے یاد رکھنے پڑتے ہیں۔ اِن سے وفا یہی ہے کہ جس سے وعدہ کیا ہے، اُسے ناامید نہ کیا جائے۔ جب تک کہ اللہ کو کچھ اور منظور نہ ہو۔ یا کہ، قیامت ہی نہ آ جائے۔

2 thoughts on “وعدے – ١”

  1. ماشاء الله
    زبردست! بےشک ہر آزماش اللّٰہ ہی کی طرف سے ہے اور وہ ہی اس سے گزرنے کآ حوصلہ بھی دیتا ہے ۔ وہ رحیم ہے وہ کریم ہے ۔

    Reply

Leave a Comment