آٹھ فروری آئی اور گُزر گئی۔ اس قوم کے ہر مبصر نے کچھ نہ کچھ کہا، سوچا، اور سب ہی کا اندازہ، سوائے دو کے، غلط ثابت ہوا۔ ایک وہ جو جیل سے کھیل رہا ہے، اور ایک وہ جو یہ کالم لکھ رہا ہے۔
الیکشن ہوں گے، عوام باہر نکلے گی اور پھر وہ کرے گی جو اِس کے بُزرگ اپنے یوتھ میں نہ کر سکے۔ اِس وقت بھی ہر طرف عوام کا ایسا دباؤ ہے کہ کل کے کھلاڑی کچھ کھیلیں تو پکڑے جائیں۔ یہ بچے شطرنج کے اِس کھیل کو صرف سمجھ ہی نہیں گئے، اِس پر پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔
خان صاحب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر سسٹم میں خرابیاں ہیں تو ایسے سسٹم میں رہ کر بدلاؤ لایا جا سکتا ہے۔ کسی غیر آئینی قدم کی ضرورت نہیں، سسٹم کو سمجھو، اس میں چالین چلنے والوں کو سمجھو، اور پھر کھیلو۔ یہ کھیل اتنا مشکل نہیں۔ ڈٹ جانا ضروری ہے۔
انگریز کے ہاں، ڈیٹ بڑی مقدس چیز ہے۔ دو سال ڈَٹ کر ظلم دیکھتے رہے۔ جیسے ہی خبر ملی کہ ایک ‘مین’ کی ڈیٹ چوری ہو رہی ہے، ڈٹ کر کھڑے ہو گئے، اور نتائج کے روکنے کے کچھ ہی گھنٹوں میں ایسے الیکشن کی چھان بین کا مطالبہ کر دیا۔ ویسے خان صاحب کی جب بھی رہیں، ڈیٹس کافی تگڑی رہیں۔ یہاں اپنی مرضی کا دینی فکرہ کہہ دیں، ہم سبحان اللہ کہہ دیتے ہیں۔
پنجاب میں ٹام اینڈ جیری کا شو چل رہا ہے۔ اس میں کبھی ٹام، جیری کے سر پر فارم ۴۷ مارے، اور کبھی جیری فارم ۴۵ دکھا کر ٹام کو ٹھینگا دکھائے۔ اس سب کھیل کو سجا کر اِسپائیک اپنے ڈاگ ہاؤس میں آنکھیں بند کر کے سُن رہا ہے کہ ہو جانے دو دینگا مشتی۔ موقع پر جھپٹوں گا دونوں کو۔ ہمیں تو ممّی ٹُو شُوز پسند تھیں اور اُن سے ڈر بھی لگتا تھا۔ وہ افریقی امریکی خاتون جو جھاڑو لے کر ٹام اور جیری دونوں کو ایک ایک لگاتی تھیں، لیکن ہائے، انہوں نے جھاڑو چھوڑ کر، بلا لے لیا۔
گدھے پر سامان لاد کر ایک جگہ سے دوسرے لےجایا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک قدیم طرز کا نقل و حمل ہے۔ آپ چاہیں تو گدھا کر لیں، آپ کی شاید یہی ضرورت ہو گی، لیکن آج کے پاکستان کو نہ آپ کی، نہ آپ کے گدھے کی ضرورت ہے۔ گدھے پر ملک کو لاد کر کہاں تک لے جائیں گے؟ یہ دنیا ہے، آپ کی زراعی زمین نہیں۔
میجارٹی اب بھی پی ٹی آئی ہی کی ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا، سب سے جوان، اور سب سے بہادر الیکشن ہے۔ یہ قوم اب کبھی ووٹ کی طاقت اور اس کی حفاظت کو نہیں بھولنے والی۔ اس عمل میں اب پکی اور مضبوط ہو رہی ہے۔ جیل سے جیتنے والے نے اِن کو یہ سکھا دیا کہ گھر بیٹھ کر معاملات پر قابو نہیں کر سکتے۔ اللہ کی طرف سے خان صاحب ایک رحمت ہیں۔ اور اُن کی اس جیت سے، اللہ نے ملک کو عزت بخشی۔
بادشاہت جاتے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے، جیسے مچھلی پانی سے باہر نکل آئی ہو۔ یہاں تو سمندر نے ان سب گندی مچھلیوں کو اُگال پھینکا ہے۔ اب یہ تڑپ ساری زندگی نہیں جانے والی۔ ہاں، سمندر کا ایک خوفناک عفریت ابھی باقی ہے۔ اِس کے لئے اس سمندر کا دباؤ ہی کافی ہے۔ یہ بھی سنبھل جائے گا۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پیسے سے لے کر پانسہ تک سب چلایا۔ الیکشنز کے رزلٹ دیکھ کر، موومنٹ بڑھ گئی۔ اور ہمٹی ڈمٹی کو جانا پڑا۔ موومنٹ اگلے دن تک چلتی رہی اور پھر بھی رفع حاجت نہ ہوئی۔ کڑوے منہ سے اعلانِ شرافت کیا۔ پھر موومنٹ موشن میں بدل گئی۔
اللہ کی شان ہے۔ پچھلے کالم میں ہم نے کئی شریفوں کا ذکر کیا۔ کالم چھاپنے کے دو دن بعد خیال آیا کہ ایک شریف کا نام لینا تو ہم بھول ہی گئے۔ وہ ایک مختلف ہی شریف تھے، اور یہ قوم اِن کو کبھی نہیں بھولے گی۔ ارشاد شریف شہید۔
الیکشن کی رات دل خوب دُوبا، کہ کیا ہو گا۔ فکر یہ نہیں تھی کہ دھاندلی ہو گی، یا ووٹر نہیں نکلیں گے۔ فکر تھی کہ عمران خان نے سارا داؤ اسی ایک چال پر لگا دیا ہے، اِس قوم کے نوجوانوں اور حقیقت پسند لوگوں پر، کہ اُن کی یہ امید نہ ٹوٹ جائے۔ خان صاحب کے لئے یہ امید نہیں، یقین تھا۔ یہ اُن کو ہی ہوتا ہے جو میدان مارنا جانتے ہیں۔
پاکستان میں چور بھی ہیں، اور سپاہی بھی۔ کبھی چور سپاہی، اور کبھی سپاہی چور۔ اِن میں کچھ کا گہرا گٹھ جوڑ ہے، کسی کا اپنے رب سے، اور کسی کا حقیقی رب سے۔ اِس چور سپاہی کے کھیل میں اب ایک اور طاقت آ چُکی ہے۔ آئیے اِن سے ملتے ہیں:
ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدْ جَمَعُوا۟ لَكُمْ فَٱخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَـٰنًۭا وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ وَنِعْمَ ٱلْوَكِيلُ
یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوگئی ہیں پس اُن سے ڈرو! تو اِس بات نے اُن کے ایمان میں اور زیادہ اضافہ کردیا اور انہوں نے کہا اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔ قرآن ۳:۱۷۳
چور، سپاہی اور،… ایمان دار۔
