کَھلبَلی

پاکستان میں اِس وقت سب سے مضبوط پیشہ وکالت ہے۔ اپنے بچوں کو وکیل بننے کو کہیں، ڈاکٹر یا انجینئر نہیں۔ یہ دونوں پیشے پُرانے ہو چکے ہیں۔ وکیل بنیں تو کار و بار دونوں مل جاتے ہیں۔ مارشل لاء ہو یا پارشل لاء، وکیل کی کھپت ہر طرف ہے۔ وکیل نیوٹرل ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ رُخ بدل سکتا ہے۔

ہم کر سکتے تو لاء کر لیتے۔ وہ بھی انگریز کا لاء۔ اس کی کھپت انگلستان میں تو ہو گی ہی، لیکن پاکستان میں دُگنی کھپت۔ انگریز نہیں تو اُس کا پٹھو خوب کھیلتا ہے۔ پٹھو نہ بھی ہو تو وہ عزت مل جاتی ہے جو شاید ملک کے ایک عام وکیل کو نہ ملے۔ انگریز کا دیا ہوا قانون پڑھا تو کیا پڑھا۔ انگریز کا کانون پڑھا تو ہاۓ اللہ۔

پاکستان میں وکالت سے کچھ نہیں تو بےبحری پولیس ہاتھ لگاتے ڈرتی ہے۔ اِس پارشل لاء میں تو  ثابت ہو گیا کہ کھل کر کسی وکیل کو ہاتھ لگاتے ڈر رہے ہیں۔ پچھلی بار ایک چیف جسٹس کو ہاتھ لگایا تھا تو معاملہ منہ کو آ گیا تھا۔ صحیح یا غلط، سچا یا جھوٹا، میمنہ یا دبنگ، وکیل کا ڈر تھامے ہوئے ہے اِس مریض جمہوریت کو۔ کہ وہ کِیل ہی نہ ٹھوک دیں۔

نون لیگ بھی چَنا اُبال اُبال کر کھا رہی ہے۔ اِن کو منشور نہیں مل رہا۔ ارے بھائی، ایک نقطے پر پوری کیمپینگ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اعلان کر دیں کہ ہم حکومت میں آئیں گے تو عمران خان کو رِہا کر دیں گے۔ ہمارا ایک نقاتی ایجنڈا یہی ہے۔ ہمیں ووٹ دیں اور ہم اُسے رِہا کر دیں گے، جس کا آپ کو بڑا انتظار ہے۔

ایک جگری دوست حکومت کے ملازم ہیں۔ نہایت ایماندار اور صاف سُتھرے۔ ہم نے اُن کو کل کہا کہ آپ کے پروفائل کے بارے میں ایک جملہ کہتا ہوں۔ اُس کے بعد آپ جو جملہ لگا دیں، کوئی نہیں مانے گا۔ “آپ پاکستانی حکومت کے ایک ایماندار ملازم ہیں۔” اب آپ یہ بتائیے کہ کسی کو اِس پر یقین آئے گا؟ اِس کے بعد آپ کچھ بھی لکھیں، کہیں، کریں، وہ کھٹے میں پڑ جائے گا۔ نون کھٹے میں پڑ گئ ہے اب۔

شہزادی نے کہا کہ اُن کے ابا کبھی ویل چیئر پر نہیں بیٹھے، نہ ہی پاؤں پر پٹی باندھی۔ چار شادیوں کی اجازت ہے، چار گولیوں کی دے دیں۔ پھر آپ دیکھیے گا عوام کی محبت۔ زمین بوس کر دے گی یہ شہنشاہیت۔

ویسے چار گولیوں کی اجازت مل گئی تو، کوئی پڑھا لکھا کہے گا، گولی ایک ہی اچھی۔ کوئی کہے  گا، دوسری چلانے سے پہلے، پہلی سے پوچھ لوں؟ میری پہلی نشانے پر لگی، تو دوسری کیسی؟ ہماری تو نہیں لگی، پھر کیا؟ ارے تم چلاؤ دوسری گولی۔ فتویٰ نہ لے لوں؟ فتوے مرچ مصالحے کے ساتھ، دو سیر لے لیں، لیکن ہاں، نمک اپنے ذائقے کے مطابق۔ سوچتے ابلیس کی طرح ہو میاں لیکن، فتوے دو ہی اچھے۔  پہلی گولی دیوار میں پچکا دی تم نے، اب کیا دوسری کی اجازات لے کر، غم بھی دو گے اُسے؟ ہماری تو چاروں فائر ہو گئیں۔ واہ میاں سبحان اللہ، کیا کہنے بھائی، کیسے، کب، کیا خوب! نہیں میاں، بَرسٹ آن تھا، چاروں نکل گئیں، یکدم۔

عمران خان نے کہا، قوم کی مرضی ہے اُسے آزادی چاہیے یا غلامی۔ قوم شاید آزاد غلامی چاہتی ہے۔

ایک دوست نے کہا کہ خان صاحب اپنی اننگز فُل ایمان کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ہم نے جواب دیا، ‘ہماری اننگز۔’ اِس پر وہ خوب آگ بگولہ ہوئے اور اُلٹے ٹھینگے کا نشان بھیجا۔ ہم نے پوچھا کیوں، تو کہا، ‘عوام کب کھیلے گی اپنے لیے؟’ ہم نے جواب دیا، ‘خان کو انقلاب نہیں، انتخاب چاہیے۔ اب بھگتو انتخاب۔’ ویسے، انقلاب کے لیے ایمان ہی تو چاہیے۔ وہ کہاں؟

کاش ایمان گھی کی تھیلیوں میں بنٹتا۔ ریلی نہیں تھیلی۔ ایمان لے جاؤ اور ٹھپہ لگاؤ۔ جسم ہلکا اور اعمال نامہ وزنی۔ دو وقت کی روٹی، دِلی نرمی۔ بریانی، نہ بھائی، جمعے کو تہاری۔ بچے پیسہ، گیس،  بیماری۔ ایمان کی طاقت، زندگی تمہاری، سور جائے یہاں، اور وہاں پیاری۔

نون نے اِس ہفتے اپنے جلسے میں گھی بانٹا۔ خود آؤ تو تھیلی۔ گھر والوں کو لاؤ تو بالٹی۔ عوام گھی لینے نہیں آئی۔ کہا جاؤ تیل لینے۔ 

ویسے نام اچھا ہے، ایمان گھی۔اور اَید بھی خوب بنے۔ ایک فیملی کو نماز پڑھتے دکھا دیجئے۔ سلام پھیرتے ہی اَبو کو خوشبو آئے۔ آنکھوں سے بیٹی کو اشارہ کریں کہ کیا پک رہا ہے؟ اس پر بیٹی آنکھیں دکھائیں کہ نماز پر زور دیجئے۔ پھر ایمان کا لوگو آئے اور ایک بھاری، بھری ہوئی آواز دھیمے سے کہے،  آپ کے قریبی پرچون پر دستیاب۔ اب تھیلی بچاؤ پروگرام کے ساتھ۔ خالی تھیلی واپس لائیں اور دو روپے کی بچت کریں۔ آخر میں امی کچن سے گُلگُلوں کی پلیٹ کے ساتھ نمودار ہوں اور کہیں، ایمان، اب دل بڑھاؤ۔

چلئے، اِس ہفتے کراچی سے کچھ عزیز دوست دبئی آئے تو سیاست پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔ ہاں یہ ضرور ایک نے کہا کہ تیار ہو جاؤ نواز شریف چوتھی بار … ہم نے جملہ کاٹا اور کہا، ‘آنے دو۔ ساس کو سب شوق پورے کر لینے دو۔ پھر ہم دیکھیں گے۔’ ابھی کے لیے صرف اتنا ہی، ‘ساسو ماں، تنگ نہ کر!’

مصیبت یہ ہے کہ ہر شخص ہر بات مین پَکا ہے۔ اور ایسا پَکا کہ پتھر پہ لکیر بھی اِس پکے پَن سے پناہ مانگے۔ آقائی خوف کھائے کہ میں تو اپنے رب کے لیے تھی، اِن اربابِ جہالت کے لیے نہیں۔ اللہ نے کتنے رنگ پیدا کیے، لیکن نہیں، میں، میرا رنگ، میرا شِیڈ، میری پسند اور میرا پَکا پَن۔ اپنی زندگی میں کچھ لچک پیدا کیجیے۔ آپ یا آپ کی پسند جائز تو ہے، کسی اور پر فرض نہیں۔ پَکا پَن ایک قسم کی بزدلِی ہے۔

عصر کی نماز کو دیر ہو رہی ہے۔ اذان ہوئی تو ہم نہیں اُٹھے اور لکھتے رہے۔ اب ذہن میں ٹَن ٹَن آواز آ رہی ہے کہ اُٹھو۔ آپ کے ساتھ اگر ایسا ہوتا ہے تو پہلے اُٹھ کھڑے ہوں۔ نماز پڑھ لیں تو وہ کام جسے چھوڑ دیتے ہیں، واپس آ کر بےحد سہل ہو جاتا ہے۔ لیکن ہاں، بہانے نہ ماریے کہ دیر ہو گئی تو خَلّی وَلّی۔

اللہ کے لاء میں، کوئی خَلّی وَلّی نہیں۔ کَھلبَلی ضرور ہے۔

Leave a Comment