ہم پاکستانیوں کو دو لوگوں کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ دو ایسے لوگ جنہوں نے پچھلے سَو سالوں میں پاکستان کو خوب متاثر کیا۔ ایک قائدِ اعظم، اور دوسرا میاں محمد نواز شریر۔ معاف کیجیے گا، شریف۔
سنا ہے بلَے کا بلّے بلّے ہو گیا۔ اب ہر امیدوار مختلف انتخابی نشانوں پر لڑے گا۔ ہمارے بس میں ہوتا تو دہلی کے کچھ مشہور کھانوں کے نشان دیتے۔ نہاری، قورمہ، شب دیگ، وغیرہ۔ اِن نشانوں کا کسی کی صحت پر اثر نہ ہوتا، اور ڈاکٹر بھی کسی مصیبت کو جھیلنے سے بچ جاتے۔ نشان کچھ یوں دیتے:
• شاہ محمود قریشی صاحب رس ملائی کا نشان۔ بالوں کی سفیدی کو دیکھتے ہوئے۔ اور ہاں اُن کے نرم مزاج کو بھی۔
• شیر افضل مروت صاحب کو نہاری کا نشان۔ اُن کے مزاج کی گرمی کو دیکھتے ہوئے۔
• گوہر علی خان صاحب کو ربڑی کا نشان۔ ماحول کی تیزی میں مستقل مزاج اور میٹھے ہونے کا۔
• شیخ رشید صاحب کو پائیوں کا نشان۔ کیونکہ اگر کوئی ۷۰ سالہ بزرگ آج بھی پائیے دبا کر کھا سکتا ہے تو وہ صرف شیخ صاحب۔ اور ہاں، کبھی کبھی پائیے دبانے کے لیے بھی۔
• لطیف کھوسہ صاحب کو شیرمال کا نشان۔ اُن کا ایک لمحے دودھ کی طرح میٹھا ہو جانے پر۔ اور دوسرے لمحے جھٹ پٹ لال روٹی کی طرح سرخ ہو جانے پر۔
ایک دن میں کیا کیا مشہور ہو گیا۔ بَلا نہیں اللہ۔ ایک نشان نہیں، اڑھائی سو نشان۔ نشان بلا نہیں، عمران خان۔
قائدِ اعظم کو اقبال واپس ہندوستان لے آئے تھے۔ شاید یہ کہ آئے تھے کہ آپ انگریز اور ہندو سے نپٹ لیں۔ پھر اِن کی باقیات کے لیے عمران خان نامی شخص پیدا ہو گا، جو ان سب کو نپٹا دے گا۔ نپٹا تو دیا ہے۔
پاکستان میں ایک آتشفشاں اُبل رہا ہے۔ سب کے دلوں میں کراہیت پیدا ہو گئی ہے۔ اس بار سیاست دانوں کے لیے ہی نہیں، ملک کے تمام اداروں کے سربراہان کے لیے۔ دِلی اور گہری کراہیت۔ جمہوریت کا حاصل یہ ہے کہ آ کر وہی بیٹھ جاتا ہے جو اِس پیچیدہ سسٹم کو خوب جانتا ہے۔ یا وہ جو کھیل خوب کھیلتا ہے۔
کبھی سوچتے ہیں کہ شاید جو کچھ ہوا ہے، اِس کی اسکرپٹ ہماری کسی ایجنسی کے فرد نے ہی لکھی ہو، تا کہ یہ سسٹم لپیٹ کے کوئی دوسرا پائیدار سسٹم لایا جا سکے۔ اِس کے کچھ شواہد تو موجود نہیں، لیکن اگر ایسی اسکرپٹ لکھی گئی ہے، تو واہ بھائی، کیا کہنے۔ تمام کرپٹ اور بےغیرت سیاسی پارٹیاں ختم۔ ملک کا، یا کہیے مسلم اُمّت کا ایک مقبول اور ایماندار سیاست دان جیل میں محفوظ۔ عوام کی نظر میں اداروں کے سربراہ کمزور، اور یہ صاف ظاہر کہ ادارے اِن کے محکوم۔ اسکرپٹ تو اچھا ہے۔ خیال بھی کافی اچھا ہے۔
اِس وقت سب یہ سوچ رہے ہیں کہ گیند کس طرف سوئنگ کرے گی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ گیند سوئنگ کرنے کے قابل ہو گئی ہے۔ گیند باز کچھ نئے ہیں، لیکن سوئنگ تو ہو گی۔ پھر دیکھیے سامنے بَلا لے کر کون کھڑے ہیں۔ سپرائٹ کی ٹھنڈی بوتل ہاتھ میں تھما دیں تو جُھرجُھری چڑھ جائے۔ یہ بلے بازی کیا کریں گے۔
فلامنگو نے کراچی میں پبلک کو ۴۴۰ وولٹ کا جھٹکا دے مارا ہے۔ اِس سے اب مُردے کے دل میں کرنٹ دوڑتا ہے یا نہیں، یہ تو وقت بتائے گا، البتہ، شیر افضل مروت نے شیر کی طرح للکارا تو ہے۔ وقت اپنے اپنے ہیرو لے کر آتا ہے۔
الیکشن اس لیے ہو رہے ہیں کہ خان صاحب الیکشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اپنی عزت، آزادی، چیئرمین شپ اور پارٹی داؤ پر لگا دی۔ انسان وہی بھلا ہوتا ہے جو ڈٹ جائے۔ ورنہ آپ اور ہم تو روز ہی کوئی نیا بہانہ ڈھونڈتے ہیں اپنی تکلیف سے بچنے کو۔ عمران خان کا نام صدیوں تک لیا جائے گا۔ ٹیپو سلطان اور قائدِ اعظم اور اقبال کے ساتھ۔
سُنا ہے کہ اللہ کے ایک رسول ﷺ پر بھی تین بھاری سال آئے تھے۔ سُنا ہے کہ اُنہیں اپنے شہر سے نکال دیا گیا تھا۔ سُنا ہے کہ انہیں کسی گھاٹی میں پناہ لینی پڑی۔ سُنا ہے کہ اُس دوران اُن کے ساتھیوں پر سخت تکالیف آئیں۔ سُنا ہے اِن دنوں اُن کے تایا اور شریکِ حیات اُن سے جدا ہوئے۔ سُنا ہے نہ کھانے کو تھا نہ پینے کو۔ سُنا ہے کہ پھر قریش کا وہ عقد دیمک کھا گئی۔ صرف اللہ اور اُس کے رسول کا نام رہ گیا۔
یہ عمران خان کی زندگی کے کچھ ایسے ہی سال ہیں۔ یہ گزر جائیں گے۔
پھر اُمید کی کرن وہاں سے پھوٹے گی جہاں سے کوئی اُمید نہیں رکھتا۔ پھر کوئی اور جناح آئے گا، کوئی اور کپتان آئے گا۔ پھر ہو گی بلے بلے۔

بلے بلے بامقابلہ سارے دلے۔۔۔ Game bauth interesting ho giya hai so is your writing… phir bol raha hun mughey is ki video audio rights dey day thakur .., dono ka bhala ho ga 😍
جو دے اُس کا بھلا، جو نا دے اُس کا۔۔۔ 😆
You must send it to newspapers. This need to be read by more & more people. A master piece
ہارون رشید صاحب نے کہا کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ کالم لکھو، لیکن کالم کوئی نہیں پڑھتا۔ سوشیل میڈیا کا زمانہ ہے، آپ شیئر کر دیں۔
The chances are very bleak for PTI. They don’t have right to minority and women’s reserved seats. And without a party the elected members of parliament will be prone to horse trading
One must give credit where it is due. It is a well written article. I suggest you send it to a reputed newspaper for proper publication