٢٠١٨ میں عمران خان اتنے قائم و دائم نہیں تھے، جتنے آج ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ آج وہ ایک نئ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کے دوسرے قائدِ اعظم، یعنی قائدِ اعظم 2.0۔ فرق یہ ہے کہ قائدِ اعظم پورا کھیل سمجھتے تھے، ایک پائے کے وکیل تھے، اور پچھلے سَو سال میں اُن جیسا کوئی مسلمان پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ اُن کا مقابلہ بھی پائے کے کھلاڑیوں سے تھا۔
اگر عمران خان کوئی کھیل جانتے تھے، تو وہ صرف ایک، کرکٹ۔ جب وہ کھیل چھوڑا تو بدل ہی گۓ۔ عام کرکٹر ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ہے؟ کچھ نہیں۔ جیسے بارش کے موسم میں پر والی چونٹی جو صرف بارش کے موسم میں ہی نکلا کرتی ہے، بوٹ پہنے بغیر۔
عمران خان کا ہر عمل یکے بعد دیگرے، انھیں ایک قدم آگے لئے گیا، یہاں تک کے وہ سیاست میں آئے۔ یہاں اُن کا مقابلہ ایک دوسری نوعیت کے کھلاڑیوں سے تھا، اور اب بھی ہے۔ سیاست سے پہلے ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ کافی لوگ کہتے تھے کہ اسکول ٹھیک کریں، کیوں کہ کینسر ہسپتال بن چکا تھا، تو اگلا مسلہ بچوں کی تعلیم کا ہی لوگ سمجھتے تھے کہ حل ہو۔ لیکن الله کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
۱۹۹۲ میں وہ کرکٹ ورلڈ کپ صرف اس لئے جیتے تھے کہ اُن کو جتایا گیا۔ پاکستان ورسز انگلینڈ میں دونو ٹیموں کو ایک ایک پائنٹ ملنا۔ نو پا ئنٹس کے ساتھ نیوزی لینڈ کو ہرا کر بیٹھنا اور آسٹریلیا ورسز ویسٹ انڈیز کا میچ دیکھنا، کہ ویسٹ انڈیز جیتے تو ہم سیمی فائنل کی طرف بڑھیں۔ انگلینڈ اور ساؤتھ افریقہ میں بارش کے بعد ایک گیند پر ساؤتھ افریقہ کو ۲۱ رن بنانے کا ہدف ملنا۔ نیوزی لینڈ کے سیمی فائنل میں، انضمام الحق کا سوتے سے جاگ جانا (پیٹ خراب ہونے کے باوجود)۔ معین خان کا چھکّا، جس کا ریپلے آپ آج دیکھیے تو گیند ٹاپ آف دی بیٹ سے ایسے چھکّے کی طرف جاتی ہے کہ کیا بیان کیجیے گا۔ اور ورلڈ کپ فائنل میں، شولڈر انجری اور انجکشنز کے باوجود، وہ ٧٢ رنز بنانا، جنہوں نے اس گیم کی بنیاد رکھی، جو اُس دن شروع ہوا، اور آج بھی جاری ہے۔
لوگ دو باتیں نہیں جانتے، ایک یہ کہ ١٩٩٢ ورلڈ کپ سے پانچ سال پہلے عمران خان ریٹائر ہو چکے تھے، ١٩٨٧ میں۔ اُن کو جنرل ضیاء الحق صاحب، جن کا انسٹیٹیوشن آج کل پی ٹی آئی کے چھکّے چھڑانے میں مصروف ہے، واپس کرکٹ کھیلنے پر آمادہ کر کے لائے۔ دوسرا یہ کہ عمران خان کی نظر ورلڈ کپ جیتنے پر تھی۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانا تھا، جس کے سارے کوپن ورلڈ کپ سے پہلے واپس آ چکے تھے۔ کسی نے ڈونیشن ہی نہیں دی تھی۔
عمران خان کو ١٩٩٢ ورلڈ کپ ایک دوسری اسٹیبلشمنٹ نے جتایا تھا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کسی دوسرے کی ہے۔ نہ بدلتی ہے، نہ بہکتی ہے، نہ ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی مارتی ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ اُس وقت کام کرتی ہے، جب کسی دور فاصلے پر، کسی دور وقت کے چوراہے پہ، کسی سے جب کچھ کام لینا چاہتی ہے، تو اُس وقت سے سالوں، دہائیوں پہلے ہی فعال ہو جاتی ہے۔ آئیے سنیے سورہ قصص* کی شروع کی چند آیتیں:
شروع الله کے نام سے جو نہایت رحم والا ہے۔
1. طٰسٓمّ۔
2. یہ کتابِ روشن کی آیتیں ہیں ۔
3. آے محمّدﷺہم تمہیں موسیٰ اور فرعوں کے کچھ حالت مومن لوگوں کے سنانے کے لئے صحیح صحیح سناتے ہیں ۔
4. کہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔ اُن میں سے ایک گروہ کو یہاں تک کمزور کر دیا تھا کہ اُن کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور اُن کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔ بیشک وہ مفسدوں میں تھا۔
5. اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں اور انھیں ملک کا وارث کریں۔
6. اور ملک میں اُن کو قدرت دیں، اور فرعوں اور ہامان اور اُن کے لشکر کو وہ دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔
٧. اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اُس کو دودھ پلاؤ۔ جب تم کو اِس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو، تو اِسے دریا میں ڈال دینا اور نہ تو خوف کرنا اور نہ رنج کرنا۔ ہم اُس کو تمھارے پاس واپس پہنچا دیں گے، اور پھر اُسے پیغمبر بنا دیں گے۔
٨. تو فرعون کے لوگوں نے اُس کو اٹھا لیا، اِس لئے کہ نتیجہ یہ ہونا تھا، کہ وہ اُن کا دشمن اور اُن کے لئے موجبِ غم ہو۔ بے شک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چُوک گئے۔
فرعون کو ختم کرنا تھا تو موسیٰ علیہ اسلام کی والدہ کو الہام کیا’اسُے دودھ پلاؤ۔‘ اور پاکستان کے والی وارثوں کو ختم کرنا تھا تو صدرِ پاکستان جنرل ضیاء الحق کے دل میں ڈالا کہ اِسے واپس لاؤ اور کرکٹ کپتان بناؤ۔
پاکستان کے والی وارث گھوڑوں پر سوار عمران خان اور اُس کی قوم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب آسمان پھنٹے گا یا زمین، یہ اسٹیبلشمنٹ جانے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔
قائدِ اعظم 2.0 تو وہ اب بن چکے، آپ کو اچھا لگے یا برا، یہ آپ کی ذہنی کیفیت پر مبنی ہے۔
*پوری سورہ قصص ترجمے کے ساتھ یہاں ضرور سنے ۔

Wah Zabar10 ماشاء الله
Really enjoyed reading it good comparison bro 👍🏻
It’s the truth…