حج کا موسم ہے اور آج عرفات کا دن۔ جاننے والوں میں شاید کوئی حج پر نہیں گیا۔ اور اگر گیا ہے تو معافی مانگ کر نہیں گیا۔ اس پر ہمیں کافی خفگی ہے۔
ہمیں حج کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔ آج حج مہنگا ہے، اور جب سستا تھا تو ہمیں آج کی طرح، احساس ہی نہیں تھا کہ حج کرنا ہے۔ جب بھی حج کرنا یاد آتا ہے، تو وہ حج کے موسم میں۔ بھلا آپ ایسے میں، لاسٹ منٹ تب ہی حج کر سکتے ہیں کہ کافی امیر ہوں، یا ملک کے صدر۔
کئی دوستوں نے شادیوں کے بعد حج کر لیا تھا۔ آج اُنہیں ایک بار پھر حج کرنا چاہیے۔ اُس دن سے آج تک کے گناہ جو دُھلوانے ہیں۔ یا کیا پتا، بعد میں کیے عمروں سے دُھل گۓ ہوں۔
ہماری مُامانی نے ایک بار کہا کہ حج زندگی کے آخری حصّے میں کرنا چاہئے۔ کہ اُن کی والدہ نے اُسی عمر میں کیا تھا۔ کیونکہ مُامانی برطانوی ہیں، وہ آخری حصّے میں حج کر آئیں۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ آخری وقت ملے نہ ملے، اِس کی کیا گارنٹی ہے۔
ایک دوست دو بار، ایک سال کے بعد دوسرے حج کر آۓ ۔ اُس وقت ہمیں یہ یاد آیا کہ ہمارے نانا حامِد حسن مرحوم نے تقریباً ٣٠ بار حج کیا، ہر سال۔ جب ہم یہ اپنی امی سے کہتے ہیں تو وہ کہتی ہیں کہ ٢٨ بار، اور آخری سال، یعنی اکیسویں بار وہ علیل ہوئے اور حج سے پہلے ہی واپس آ گئے۔ یہ سعادت کافی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اور ہم اس وقت صفر پر ہیں۔
ایک دوست کہتے ہیں کہ بچپن میں ہی حج کر لیا، جب والد صاحب کے ساتھ گئے تھے۔ ہم نے کہا کہ ساری دنیا گھومتے ہو، حج کر لو۔ کہنے لگے، کر لیا بھائی، بچپن میں ہی۔ ہم نے کہا، کر لیا، ٹھیک، لیکن اب اپنی کمائی سے بھی جاؤ۔ آج کل انگلستان میں ہیں۔ وہاں کی سئی ہو رہی ہے۔
١٩٨٦ میں ہمارے والد صاحب ہمیں حج کے سفر پر لے گئے تھے۔ ہماری عمر دس سال تھی۔ اس سال سے ایک سال قبل، ہماری امی نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، اور یہ محسوس کیا کہ جیسے آپ ﷺ نے فرمایا حج پر جاؤ۔ یہ ایک خوب کیفیت تھی۔
ہمارے والد صاحب نے اپنی والدہ کو خط لکھ کر اجازت مانگی کہ اِس سال اگر کراچی نہ آؤں، تو کیا حج پر جا سکتا ہوں؟ خط کا جواب آیا کہ ضرور جاؤ۔
حج کا سفر ٹویوٹا کرولا ڈی ایکس ١٩٨٣ کے ماڈل میں جون ٢٠، ١٩٨٦ کو شروع ہوا۔ گاڑی ٹھیک ١٠ بجے صبح روانہ ہوئی۔ ہمیں خدا حافظ کہنے کے لئے،ہمارے پڑوسی انکل سیمہن، آنٹی سیمہن، اور ان کے دو بیٹے، سانیو اور سونی گھر کے باہر کھڑے رہے اور جب تک ہماری گاڑی کمپاؤنڈ سے نکل نہیں گئی، خوشی سے ہاتھ ہلاتے رہے۔ اللہ ان کو دینِ پاک کی ہدایت دیں، آمین۔
یوں وہ سفر شروع ہوا جس نے ہمیں وہ سبق سکھایا، جو بچے آج کل گھر بیٹھ کر نہیں سیکھ سکتے۔ انسان کو اللہ نے اس کررہ ارض پر اِس لئے اُتارا کہ وہ اِسے بہتر بنا سکے۔ کسی ڈیوائس کے سامنے بیٹھ کر کبوتر کی طرح ٹھونگیں مارنے کے لئے نہیں – چاہے انگلیوں سے ہی کیوں نہ۔
ہمارے دل عزیز کزن اور اُستاد ایک بار کراچی کی اُس میز پر بیٹھے تھے، جو ہمارے دادا حاجی عبدالوہاب صاحب کے ڈائننگ روم سے آئی تھی۔ ہم سے شیئر کیا کہ حج پر جا رہے ہیں، اپنے والدین کے ساتھ۔ ہم بڑے خوش ہوئے اور پوچھا کہ کیا ہماری بھابی بھی جا رہی ہیں؟
ان کا مزاحیہ جواب سن کر ہم میں وہ غصے کی لہر دوڑ گئی، جو آپ میں آج کل ملک کے حال احوال کا پڑھ کر دوڑتی ہو گی۔ کچھ دو تین جملے ہم نے کہے، جو یہاں نہیں دوہرانا چاہتے، لیکن یاد ضرور ہیں، ڈاکٹر زاکر نائیک کی طرح۔ اگلے دن صبح اُٹھے تو دیکھا کہ بھابی انتہائی خوش اور یہ کہ ہمارے کزن سنجیدہ انداز میں کچھ دستاویزات جمع کر رہے ہیں۔ جیسے سمجھیں، جسٹس صاحب کے حکم پر کبھی انتظامیہ عمل کیا کرتی تھی۔
پوچھنے پر ہمیں بتایا گیا کہ بھابی کی حج درخواست پر عمل درآمد ہو رہا ہے، اور یہ کہ وہ بھی حج پر جائیں گی۔ ہمارے جملے نے کام کر دکھایا تھا، اور اس کے بعد ہم نے کبھی کسی سے یہ بات ہی نہیں کی، ایک دو بار مُسکارے ضرور ہوں گے۔ جب آپ کا کام ختم، تو آگے چلیے، کوئی اور کام کیجیے۔
ایک دوست نے مشورہ دیا کہ سب ایک ہی سال حج کرتے ہیں، مل کر۔ ہم نے سوچا کہ پھر حج ہی کیا ہوگا۔ بچپن کے دوست ہیں، مل کر حج کریں گے تو حج نہیں ہنگامہ زیادہ ہوگا۔ اور پھر اگلی بار کیا کریں گے؟ دوست یاد آئیں گے اور حج پھیکا پھیکا سا لگے گا۔ استغفراللہ!
حج کے مناسک اکثر سب بھول جاتے ہیں۔ جن کو یاد ہیں، اُن سے ہماری اِس موضو پر بات نہیں ہوتی۔ آج بچوں سے پوچھا، پھر جب ان کو بھی صحیح یاد نہیں تھا تو ہم نے کہا ویڈیو ڈھونڈو ’Haj in 5 minutes‘۔ ایسی ایک ویڈیو ملی اور جب دیکھی تو الحمد للہ مناسک یاد آگئے۔ البتہ یاد رہے، حج پانچ منٹ نہیں، پانچ دنوں پر مشتمل ہے۔
انگریزی میں پڑھیں تو دار السلام کی کتاب ’Getting the Best out of Al-Hajj‘ ابو منیر اسماعیل ڈیوڈز کی بہترین کتاب ہے۔ البتہ ہم نے ابھی پڑھی نہیں ہے، شیلف سے یہ جملہ لکھنے کے لئے نکالی ہے۔ کافی سال سے ہمارے پاس ہے، اور اس لئے خریدی کیونکہ ڈیوڈز کی دوسری کتاب ’The Ultimate Guide to Umrah‘ ٢٠٠٨ کے عمرہ پر مدینہ شریف سے خریدی، پڑھی اور کافی کام آئی۔ اِن دونوں کتابوں کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اِن میں کچھ زبردست چیک لسٹس ہیں، جن کو فالو کرکے آپ اپنے عمرے اور حج کو خوب منیج کر سکتے ہیں۔ یہ دو کتابیں ضرور خریدیں اور پڑھیں۔
کئی سال پہلے، ١٩٩٣ یا ١٩٩٤ میں ڈان نے حج کے موقع پر رسول ﷺ کا خطبہ انگریزی میں شائع کیا تھا۔ جی ہاں، ڈان اخبار جو کہ ایک آزاد خیال اخبار سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے اُس وقت اِس خطبے کو اخبار سے کاٹ کر، لیمنیٹ کروا لیا تھا۔ کئی سال یہ کراچی میں ہماری امی کی فرج پر مگنیٹ سے لگا رہا، اور پھر ہمارے گھر میں یہاں بھی۔ آپ کے لئے انگریزی میں اِس خطبے کی فوٹو نیچے لگا رہا ہوں۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔ پڑھیے اور سوچیے کہ ہم اور ہمارا ملک، اِس خطبے کے احکامات سے کتنے دور ہیں۔
حال ہی میں ایک پاکستانی لڑکا چھے ماہ کے سفر کے بعد، با قدم، حج کے لۓ پھنچا، اور کافی مصیبتیں بھی جھیلیں۔ ہمارے دادا اور دادی غالبن حج کے سفر پر بھری جہاز سے گۓ تھے۔ اُس زمانے میں اپنے گھر والوں کو الله حافظ کہ کر روانہ ہوا جاتا تھا، کیوں کہ اتنے لمبے سفر میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔
عرب میں بُلٹ ٹرین اور ہائپر لوپ آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے، ہمارا حج پر جانا اِن پر لکھا ہو۔ آپ کی دُعا اور ہماری دوا درکار ہے۔
رہی بات اس مضمون کے عنوان کی، تو ہمارے دوستوں نے ہمیں مٹکے کا خطاب کالج میں دیا تھا، جو ہمارے فزکس کے اُستاد نے آفیشل کر دیا تھا۔ ہم نے سوچا، حج کر لیں گے تو حاجی مٹکا ہو جائیں گے۔ اور پوچھیے مت، اِس وقت ملک کو مٹکوں کی ضرورت ہے، لوٹوں کی نہیں۔

