آزاد

June 11, 2023

وقت ایسے بدلتا ہے
کوئی طوفان جیسے پلٹتا ہے

آسمان سے گرنے والے جب
پکاریں آسماں والے کو تب

فضا کا رخ یوں پلٹتا ہے
مجاہد کوئی جب ڈٹتا ہے

ذرا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھ
مرے لہو کی بھاپ تُو جانچ کے دیکھ

ترے ظلم کا پہاڑ یوں ٹوٹ جائے
عیسیٰ کو دیکھے دجال پگھل جائے

لاٹھی تری آواز کستی ہے
ناحق مارا مجھ سے بے گناہ کو

پنجرے میں کبوتر باندھ دیے
ماںوں کے بیٹے جُدا کیے

ہے درد کوئی درد دل میں ترے
ہیں جگر کسی کے یہ جیسے ترے

بَرس اُس پہ جس نے سِتم کئے
ہیں خوش وہ یوں کہ بھائی لڑے

مرا ملک ترا ملک ہے سب کے لئے
مری جاں تری جاں ہے اِسکے لئے

اب یہ کہ ہو جائیں گے دن
پھر ویسے جیسے ہوا کیے

آئے گی پھر صدا ہر سنگ
آزاد ہوں میں آزاد ہو تم

یاسر مسعود

2 thoughts on “آزاد”

Leave a Comment