وقت ایسے بدلتا ہے
کوئی طوفان جیسے پلٹتا ہے
آسمان سے گرنے والے جب
پکاریں آسماں والے کو تب
فضا کا رخ یوں پلٹتا ہے
مجاہد کوئی جب ڈٹتا ہے
ذرا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھ
مرے لہو کی بھاپ تُو جانچ کے دیکھ
ترے ظلم کا پہاڑ یوں ٹوٹ جائے
عیسیٰ کو دیکھے دجال پگھل جائے
لاٹھی تری آواز کستی ہے
ناحق مارا مجھ سے بے گناہ کو
پنجرے میں کبوتر باندھ دیے
ماںوں کے بیٹے جُدا کیے
ہے درد کوئی درد دل میں ترے
ہیں جگر کسی کے یہ جیسے ترے
بَرس اُس پہ جس نے سِتم کئے
ہیں خوش وہ یوں کہ بھائی لڑے
مرا ملک ترا ملک ہے سب کے لئے
مری جاں تری جاں ہے اِسکے لئے
اب یہ کہ ہو جائیں گے دن
پھر ویسے جیسے ہوا کیے
آئے گی پھر صدا ہر سنگ
آزاد ہوں میں آزاد ہو تم
یاسر مسعود

!So awesome
آزاد ہوں میں آزاد ہو تم ۔۔۔ اور آزادی کی قیمت دینا پڑتی ہے