کیا زمانہ آ گیا ہے، ارٹیفیشل انٹیلیجنس اب ہیومن انٹیلیجنس کو دستک دے رہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ لفظ ارٹیفیشل کے اردو میں لوغوی معنی مصنوعی کے ہیں اور ارٹیفیشل انٹیلیجنس کے مصنوعی ذہانت۔ کہنے کو تو دل بہت کرتا ہے کہ پھٹ پڑیں، لیکن ہماری ننھی منی آڈینس کی خاطر، اور اپنی انسانی ذہانت کی لاج رکھتے ہوئے، صرف یہ کہ دیتے ہیں کہ، آج کل جس کسی کو ملک کے حالات پر بات کرتے سنتے ہیں تو وہ اپنی مصنوعی ذہانت کا پرجوش ثبوت پیش کر رہا یا رہی، ہوتا یا ہوتی ہے۔
خان صاحب ختم۔ اب باری نہیں آنے لگی۔ ریڈ کراس لگ گیاہے ۔ فلانہ کنٹرول میں ہے۔ ڈھماکہ نے سسٹم پر کیپچر کر لیا ہے۔ فتنے جتنے بھی ہوں فتنہ ایک ہی ہے۔ جوڈیشری رات کو عدالت کیوں نہیں لگاتی اب۔ شریف یہ ہوتے ہیں؟ ذ رد-آری ہے سب کے پیچھے،… اور نہ جانے کیا کیا۔ سب انٹیلیجنس کی جمع پونجی کو کھل کر استعمال کر رہے ہیں، اور نتیجہ کیا ہے؟ ایبسولوٹلی ناَٹ، انگر یزی والا، یعنی زیرو۔
جس قوم کے بچے ہمارے بچپن میں سانپ سیڑھی کھیلتے تھے، وہ آج مائین کرافٹ، فورٹ نائٹ اور نہ جانے کیا کیا کھیلتے ہیں۔ کسی گیم میں ان کا گیم اور کریکٹر ختم نہیں ہوتا اور کسی گیم میں کریکٹر ری سپان ہو جاتا ہے۔ مسئلہ بچوں کا نہیں ہے، مسئلہ ان بچوں کا ہے جو سانپ سیڑھی کھیلے بغیر بڑے ہوئے، کیوں کہ آپ کو اگر زندگی میں کوئی کچھ سکھتا ہے تو وہ سانپ سیڑھی اور آپ کی تائی۔ ان سے سانپ سیڑھی کھیلیے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں اگر سانپ سے زیادہ کچھ خطرناک ہے تو وہ ان کی ہنسی کہ جب آپ ٹک ٹک کرتے اپنے مرے سے تین کے نمبر پر گوٹی چلاتے سانپ کے منہ پر آ بیٹھتے ہیں۔ اس وقت آپ کو دو چیزوں سے نپٹنا ہوتا ہے، سانپ کی لمبائی سے اور آپ کی تائی کے کہکہوں سے، جو بیک وقت آپ کو شرمندہ بھی کرتے ہیں اور غصہ بھی دلاتے ہیں۔
سانپ سے گوٹی کٹ کر وہاں پہنچتی ہے جہاں سانپ کی دُم ختم ہوتی ہے۔ اور چوٹ اتنی ہی جتنا سانپ لمبا۔ سب سے بڑے سانپ سے کٹنے والا – اور ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ڈنس جانے والا، کیوں کہ پھر معاملہ دوسری نوعیت کا ہو جائے گا – یہ سوچتا ہے کہ میں نے گیم کیوں کھیلا، یا یہ کہ مجھے کیوں کاٹا، یا یہ کہ لو جی باری ختم، میں ہار گیا۔ سب سے لمبے سانپ سے کٹنے والا شاید سانپ سیڑھی کی اونچی ترین قطار سے آخری قطار میں آن پڑتا ہے۔ دوسرے کھلاڑیوں کی نظر میں اس کا گیم ختم ہو جاتا ہے۔ اور اکثر دوسرے کھلاڑی اس کے بھائی، بہن، کزنز اور ہماری کہانی میں، اس کی تائی ہوتے ہیں۔
سچ پوچھیے تو ان تمام کھیلوں میں ہمیں اتنی بار شکست ہوئی ہے اور ایسے ایسے کہ اب ہم سوائے شطرنج کے کوئی بورڈ گیم نہیں کھیلتے۔ شطرنج بھی اس لئے کہ ہمارے والد صاحب قریب نہیں ہوتے، کہ فَٹ ہمارے مخالف کا ساتھ دے کر کوئی دو چار چالوں میں ہمارا بُھرکس نکال دیں، اور یہ کہ، کبھی کبھی اپنے صاحبزادے کو اس میں ہرانے کا کچھ اپنا ہی لطف آتا ہے۔ یوں دیکھیے تو ہارنے سے بھاگتے ہیں اور ہرانے کا شوق ہے۔ کسے نہیں ہوتا؟
یہی کچھ حال لوڈو کھیلنے والوں کا ہے، یا ڈرافٹس (یہ بھی آپنی تائی کے ساتھ کبھی مت کھیلیے گا)، یا شطرنج۔ یا گیم آف پاکستان۔
اگر آپ ایک محب وطن پاکستانی ہیں تو آپ کا واسطہ لفظ مُفتے سے تو ضرور پڑا ہو گا۔ ہم سے پہلی جنریشن اس لفظ سے ناواقف تھی، یا وقت کے ساتھ، واقفیت ہو گئی ہو، لیکن یہ ہماری جنریشن کی ہی ایجاد لگتی ہے۔ اس لفظ کے معنی ہیں، کچھ مفت خوری کر لینا، خاص طور پر جب پیٹ کا معاملہ ہو۔ کوئی کچھ کھلا پلا دے تو سمجھیے آپ کا مفتہ لگ گیا۔ کہیں کسی کو آپ نے کچھ کھلا دیا اور اس نے پلٹ کر بھی نہیں پوچھا تو کہہ دیا مفتہ (یعنی مفت خور) ہے یہ۔ اگر کوئی کینٹین سے کچھ دوست کے پلے پر کھا رہا ہے تو کہ دیجئے، اوے مفتے، مفتے، یا تو تو مفتہ ہے یار۔
بس ختم۔ اس سے زیادہ آپ کچھ نہیں کہتے، اسے احساس نہیں دلاتے کہ مفت کھانا بند کر، مفت کھانا صحیح نہیں، کبھی کسی اور کو بھی کھلا دیا کر، وغیرہ وغیرہ۔ آپ کیوں کہیں؟ کوئی نہیں کہتا، میری بلا سے، میرا مال نا کھائے بس، مجھے کیا پرواہ۔کبھی سوچا ہے کہ کچھ لوگ ایسے کیوں ہوتے ہیں؟ کسی کے ہاں کچھ کھا کر، ہڑپ کر، اسے اپنی کامیابی کیوں دکھلاتے ہیں؟ اس پر فخر کیوں کرتے ہیں؟ انہیں کیا ملتا ہے؟
کہانی یہ ہے کہ شکاری جب شکار کرتا ہے تو اسے شکار میں وہ سرور آتا ہے جو صرف ایک شکاری سمجھ سکتا ہے۔ آپ اور میں صرف اتنا ہی شکار کر چکے ہوں گے جو شادیوں کے کھانے کُھلنے کے بعد ہم نے ڈشز پر کیا ہو گا۔ آپ بھنی مرغی پر لپکے اور ہم نے اپنی پلیٹ تلے ہوئے پرانوں (بالی وڈ کے خطرناک ویلین پران نہیں)، پرانز سے بھری۔ یہ لطف، یہ مزہ، یہ ایٹریکشن، شکار کرنا، شکار بھمبورنا، ایک شکاری کا روز کا کام ہے۔ وہ دنیا کی فوڈ چین میں، اپنے آپ کو اوپر اور سب چننو مننو لوگوں کو نیچے دیکھتا ہے۔ جب بھوک لگی، شکار کرنے کو نکلا اور جو، جب، جیسے ملا، کھایا اور نگل گیا۔ اس عمل کو سب دیکھتے آئے ہیں، سال ہا سال، لیکن یہ عمل، لفظ مفتے کی ایجاد سے پہلے کا ہے، کافی پہلے کا۔مفتے ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ شاید آپ کچھ سمجھ رہے ہوں۔ یا سمجھ گئے ہوں۔
لو جی، یہ کرتے کرتے ٹوڈے آ گئی، یعنی یہ وقت۔ دنیا کی ایک کمپنی، اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کو ریلیز کیا۔ ہماری تو دنیا ہی بدل گئی۔ جیسے کسی کُنگ فو ماسٹر کو آپ جے ایف-17 تھنڈر، خالد ٹینک اور انضہ میزائل سب پیکیج میں مفت دے دیے گئے ہوں کہ جا بیٹا جو کرنا ہے کر۔ نہیں، یہ ٹیکنالوجی ملک کی دفاع کا سر و سامان نہیں لائی ہے، لیکن ہیومن انٹیلیجنس کو اکٹھا کر کے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دنیا میں ایک بہترین آلہ کار ہے۔ آپ اسے کچھ کہیے کرنے کو اور یہ آپ کا حکم بجا لائے گی۔ اس سے گانا لکھوا لیں، شاعری کرا لیں، اکیلے ہیں تو مکالمہ کر لیں۔ اسے آپ سے غرض نہیں، صرف آپ کے پرامپٹ یعنی جو آپ لکھ کر اسے دیتے ہیں، اُس سے ہے۔
یہاں عرب میں پرچون کی دکان کو بقالہ کہتے ہیں، اور جب آپ کو کچھ گھر کا سامان چاہیے ہو تو ان کو کال یا واٹس ایپ کر کے منگوا سکتے ہیں۔ اُس دن چاٹ مصالحہ نہیں تھا۔ ہمارے ایک دوست جو خود چاٹ مصالحہ بنا کہ عمان سے لے آئے تھے، کووڈ سے پہلے، وہ ختم ہو چکا تھا۔ بسم اللہ کر کے ہم نے کال لگوائی کہ شان کا چاٹ مصالحہ بھیج دیں۔ بھیجنے والے اکثر و بشتہ یہاں “پڑوسی” ملک سے ہیں، اور پرچونوں کی دکانوں سے لے کر ہسپتالوں تک ہر چیز خوب چلاتے ہیں۔ چلیے دو پیکٹ آئے، ایک چنا چاٹ مصالحہ، دوسرا فروٹ چاٹ مصالحہ۔ ملک میں ویسے ہی حالات وحشت والے ہیں، اور اب ایک نئی وحشت تاری ہو گئی۔
اس عمر میں ہم کچھ بڑی عمر کا ہونا محسوس تو کرتے ہیں، لیکن بات ابھی یہاں تک نہیں پہنچی کہ ہر دو دن بعد عوام سے خطاب میں ہم آپ کو ‘میں سیاست میں کیوں آیا’ کےلمبے سفر پر لے چلیں۔ شاید ‘میرے ہم وطنو’ کے ان تین الفاظ کا توڑ ہمیں، خان صاحب کے ان پانچ الفاظ میں ملے کہ وہ سیاست میں کیوں آۓ ۔
دو سیکنڈز کو ہم نے یہ شوچا کہ شاید شان کی اسٹیبلشمنٹ نے چاٹ مصالحہ بنانا ہی ختم کر دیا ہے اور یہ کہ اب یہ جو دو پیکٹ بھیجے ہیں، ان دونوں کو لے لیا جائے۔ کیونکہ لانے والے کا شان مصالحہو ں سے اتنا ہی لگاو ہے جتنا شان کی اسٹیبلشمنٹ کو ان کے کسی اور مصالحہ سے۔ وہ بلکل اس بات سے لاتعلق ہیں کہ ان کا کونسا پیکٹ بکتا ہے۔ پیکٹ سب ہی تو شان کے ہیں ۔ پیکٹ لانے والے کا شکریہ ادا کرایا اور دونوں رکھنے کا حکم دے دیا۔ پھر پیکٹ کھولے اور نہ جانے کس کس چیز پر ڈال کے کھائے ۔ سبحان اللہ، کسی پائے کے مولانا صاحب کی طرح کہیے اور آزمائیں۔
آج بھی دل چاٹ مصالحہ کو روتا ہے۔ کاش ہم لانے والے کو واپس بھیجتے کہ جاؤ اور چاٹ مصالحہ لے کر آؤ، یا خود چاٹ مصالحہ لے آتے سٹور سے، بھرا پڑا ہے۔ لیکن ہم ایسے ہی پاگل ہیں شاید، جو گھر بیٹھے چاٹ مصالحہ چاہتے ہیں۔ ابھی دیکھا تو آمیزون پر یہ کوئی 4.5 درہم کا دستیاب ہے، اور کل بھیج دے گا۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اسے آرڈر کر دیں، یا فی الحال چنا چاٹ اور فروٹ چاٹ مصالحوں سے ہی کام چلائیں۔البتہ جس چاٹ مصالحہ کی اصل طلب ہمیں اور پوری عوام کو ہے، وہ آج کل نظر بند ہے. گردشگاهِ زمان میں.
جس ملک کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد مفت اور مفتے کی لذت پر پلی ہو، جن میں جانباز قابض روز شکار کریں اور شکار کی بھوک میں دیوانے ہوں، اپنے دل اور بائیں جانب قارین کی پھونکوں پر حرکتیں کرتے ہوں، اس ملک میں اگر آپ سانپ سیڑی کے کھل سے واقف نہیں یا کبھی کھیلا ہی نہیں تو جان لیجیے، اس کھیل میں آپ ہار تو جائیں گے، لیکن اس ہار میں وہ جیت ہے جو جنگل کا شکاری نہیں سمجھ سکتا، ٹارزن سمجھتا ہے. کیوں کہ سوال ٹارزن کے لئے کرسی کا نہیں، سیڑھی کا ہوتا ہے.
ہماری قوم کے لئے چیٹ جی پی ٹی کا کیا فائدہ؟ چاٹ جھپٹ اور آگے چل۔ دنیا دور نکل گئی اور اس پاکستان کی وہ عوام جو کبھی ایک خوش حال ملک کا خاب دیکھتی تھی، سوچ رہی ہے کہ کیا کریں۔ کاش ہم نے کبھی ایبسولیٹلی نُوٹ کی جگہ ایبسولیٹلی نَاٹ کہا ہوتا کسی مفتے کو۔مفتے کے لفظ کا استعمال ذو معنی ہے۔ آپ کیا سمجھے؟
اب یہ کر میرے دوست، ہائے۔
سے تُو (say to) چیٹ جی پی ٹی بائے بائے (bye bye)۔
جب تک ہے یہ دنیا باقی۔
جھپٹ تُو چَاٹ، اَنٹل اِٹس (until it’s) باقی ۔
