ایک دو تین!

May 20, 2023

آج مغرب کی نماز پڑھتے ہوئے ارشاد شریف کا دل میں خیال آیا۔ پھر یہ خیال بھی آیا کہ اگر ارشاد شریف مرحوم خود اپنی موت کی تفتیش کرتے تو وہ کیسی ہوتی؟ بس پھر یہ خیال بھی آیا کہ نماز مکمل کر لوں کیوں کہ نماز میں الله سے لو لگانا مقصود ہے، اپنے جذبات سے نہیں.

دل میں ایک عجیب سا درد ہے. اور ایک گھنٹی بج رہی ہے، جیسے کسی بم کا ٹائمر ہو جو ٹک ٹک کر کے، غصے سے پھٹ جانا چاہتا ہے. یا یہ اللہ سے ایک خاموش فریاد ہے کہ اے میرے رب، ارشاد شریف کی موت کا جواب لے. کیوں کہ ابھی تک صرف سوال ہی ہیں، کوئی جواب نہیں.

ہم میں ایسے ہیں جن کی زندگیوں میں ایک پنسل بھی نہیں ٹوٹی، اور ایسے بھی ہیں جنہیں زندگی کیا ہے، اس کا علم ہی نہیں. لیکن ان دونوں انتہاؤں کے بیچ، ایک بات متفق ہے کہ جو ظلم پچھلے کچھ مہینوں میں ہوا ہے، شاید وہ ہم نے اپنے ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا. کسی کو سرے سے کچل دینے کے تمام حربے استعمال کر کے اس طرح ناکام ہونا پہلے نہیں دیکھا، اور شاید کبھی نہ دیکھیں گے. ارشاد شریف کا گزر جانا، ایسی ہی ایک ناکامی ہے.

ملک سے دور رہ کر ہم اپنے ملک سے محبت تو کر سکتے ہیں، لیکن اس محبت کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی سَو اچھی اور بری باتیں ہمیں ملک میں رہنے والے، تکلیفیں برداشت کرنے والے، بہادر رپورٹر دیتے ہیں. ان میں ہر قسم کے لوگ ہیں، لیکن اگر یہ نہ ہوں تو ملک کی کوئی خبر نہیں ہوگی. فریڈم-آف-ایکسپریشن کا رونا رونے والے، اور مرثیہ پڑھنے والے، چاہے وہ جو بھی ہوں، فریڈم تو چاہتے ہیں، لیکن صرف اپنے ایکسپریشن کا. کسی کی بات اگر غلط ہے تو جانے دیجیے، کچھ وقت میں سچائی سامنے آ جائے گی اور وہ غلط ثابت ہو جائیں گے. لیکن اگر کسی کی بات سچی ہے تو پھر یہ چوبھے گی تو صحیح. کہنے والا برا بھی لگے گا اور اگر وہ اس سچائی پر قائم رہے تو یہ فریڈم آف ایکسپریشن ہے، جتنا چاہے اسے منجن کی طرح استعمال کرے. آپ بھی فری ہیں، جو چاہیں کہیں، ہم بھی برداشت کر لیں گے.

انگریز کا لباس چاہے لندن کی کسی ہائی سٹریٹ سے لے کر پہنو یا لنڈے سے، لباس انگریز کا ہی ہے. آپ کے لباس کا کیا ہوا؟ آپ کی تہذیب کا؟ کُل گول ہو گئی…

آج ١٩ مئی ٢٠٢٣ ہے. اوپر کے چند پیراگراف لکھ کر کچھ دنوں میں مکمل کرنے کا ارادہ تھا. ہم کوئی کالم نگار تو ہیں نہیں کہ مضمون کسی رسالہ کو لکھ کر جمع کروانا ہو. لیکن ارادہ ضرور تھا کہ مکمل کر کے ویب سائٹ پر جاری کروں گا. امید تھی کہ ارشاد شریف کے بارے میں کچھ اور کہوں، لیکن ارشاد شریف کی شہادت ہوئی ہی تھی کہ خان صاحب کو گولیاں لگیں. ایک، دو، تین نہیں، پوری چار.

کسی فلم یا مووی کی طرح، ہر مضمون کا کوئی ایسا ویسا نام لکھ رکھتے ہیں، اور جب اسے مکمل کر لیں تو عنوان منتخب کر لیا جاتا ہے. یہ مضمون انوکھا ہے کہ شروع کیا تھا دل کی کچھ باتیں سنانے کو، دل کا درد ہلکا کرنے کو، لیکن ایک آفت کے بعد دوسری اس ملک پر آتی ہی رہی. عنوان ‘١٢٣’ لکھ کر مضمون چھوڑ دیا تھا کہ پھر مکمل کروں گا. آج جب خیال آیا کہ اسے مکمل کروں تو سوچا عنوان ‘١٢٣’ ہی اچھا ہے کیونکہ کسی بھی دوڑ کا آغاز “ایک دو تین!” سے شروع ہوتا ہے، اور شاید ایک نئے دور کا آغاز بھی ‘١٢٣’ سے شروع ہو.

ارشد شریف گزر گئے، ایک سوال چھوڑ کر، “وہ کون تھا؟” سب کے دلوں پر یہ سوال چسپا کر گۓ. ہم نے اس پر وائٹل سائنز کے ایک گانے کو ٹوڑ مڑوڑ کر پیروڈی بھی بنائی، لیکن شاید سوال کرنے والے کے گزرنے کے بعد، ہم نے سوچا، “ذرا ہلکا ہاتھ میرے دوست”. ایک نا معلوم خاموشی ہو گئی. خان صاحب کو جس طرح اغوا کیا گیا، اور پھر جو جو ہوا، پوری قوم دبنگ ہو گئی. اب دبائی جا رہا ہے. میں نے کہا، دبائی جا رہا، دبئی جا رہی ہے نہیں. مسکرا لیجیے.

آج کی نظر میں دیکھیں تو سوال، “وہ کون تھا” کچھ اور سوالوں کو پیدا کر گیا ہے. جواب دیجئے کہ “وہ کیوں ایسا تھا؟”، “یہ کیوں ایسا ہے؟”، اور “یہ سب کیوں ایسے ہیں؟” سوال تو یہ ہیں. جواب آپ لیجئے گا؟

تم اور ہم کی لڑائی تب ہوتی ہے جب تم تم اور ہم ہم ہوں. لیکن جب معاملہ صرف یہ ہو کہ ہم ہم ہیں اور تم کچھ بھی نہیں، تو سمجھائیے گا کہ ہم کیا کہیں گے؟ “ہم ہم ہیں اور تم کچھ بھی نہیں.” پاکستان اسکول مسقط میں ہم دوستوں کا ایک کہنا تھا کہ “ٹٹ فار ٹیٹ” کی جگہ “ٹٹ فار ٹیٹرا” ہو، یعنی ایک کا جواب تین سے. یہ تو ہم تھے، اور یہ تھی کوئی ١٩٩٠ کی دہائی جب ہم اپنے جگری دوست سے یہ بحث کرتے تھے کہ آیا نواز شریف اچھا ہے یا بینظیر؟

نواز شریف اور بینظیر کے بیچ اگر ہمیں کچھ فرق معلوم تھا تو وہ یہ کہ ہمارے والد صاحب کو پیپلز پارٹی اور خاص طور پر بھٹو سے کچھ عشق تھا، اور ہمیں عمان جیسی شاندار سلطنت میں رہنے والے سیدھے سادھے بچوں کی طرح، اس سے زیادہ کچھ معلوم ہی نہیں تھا. ہمارے دوست مرحوم فیصل منیر جو سب سے پیارے دوست تھے، کھ پڑے نواز شریف اور ہم نے کہ دیا بینظیر. اللہ کا کرنا ہے، جب ہم بینظیر کی سائیڈ پر ہوتے تو نواز شریف جیت جاتے اور جب نواز شریف کی سائیڈ پر ہوتے تو بینظیر. شاید یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کینسر ہسپتال بنا رہے تھے، اور اس کے بننے میں بھی سب مل کر رکاوٹیں ڈال رہے تھے.

جب دل اِن سے لگایا تو وہ بھی ہارتے ہی رہے. غالباً PTV پر کسی ایک پروگرام میں اور اپنے پہلے انتخابات کی کمپینگ پر، عجاز چودھری صاحب کے ساتھ بیٹھے عمران خان سے ہوسٹ نے پوچھا کہ آپ کتنی سیٹیں جیتیں گے؟ یہ بتا دوں کہ، اسٹارٹ انٹرویو کا ایسے ہوا تھا کہ عجاز چودھری صاحب نے اُن قرآنی آیاتوں کو پڑھا، با معنی، جن میں چورں اور ڈاکوں سے نپٹنے کا حکم ہے. ایسی سیدھی اور سٹریٹ-ٹو-دی-پوائنٹ-اوپننگ دیکھ کر ہمارا ننھا دل خوش تو بہت ہوا لیکن، یہ معلوم پڑ گیا کہ خان صاحب کی بیٹنگ نہیں آنے لگی. سوال کا جواب کیا تھا خان صاحب کا؟ ١٤٠ سیٹیں.

یہ پڑھ کر تو پی ٹی آئ کیوٹ بچے اور بچیاں کہ سکتے ہیں کہ ٢٠١٨ میں ملیں نہ اتنی سیٹیں، لیکن یہ ١٩٩٧ کی بات ہے. خان صاحب ورلڈ کاپ جیتے تھے، کینسر ہسپتال بنا چکے تھے، لیکن ١٤٠ یا اِس سے زیادہ سیٹیں لینا قبل از وقت تھا. وہ کچھ اور ہی دور تھا. خان صاحب ہارے، اور پھر ہر ہار پر محسوس ہوتا تھا کہ صرف ہماری وجہ سے ہی ہار رہے ہیں، کیوں کہ جس کی سائڈ ہم لیتے ہیں وہ ہارتا ہی ہے.

پھر جو ہوا وہ کسی پی ٹی آئ کیوٹ بچے یا بچی سے پوچھ لیں، کیوں کہ خان صاحب کی طرح ان سب کو لفظ بہ لفظ کیا کیا ہوا یاد ہے. اکتوبر ٢٠١٠ سے لے کر آج تک کی کہانی ایسے رٹی ہوا ہے جیسے ہمارے پسندیدہ دائی حضرت شیخ احمد دیدات کو نصرانی بائیبل. عمران خان صاحب کی خوبی یہ نہیں کہ وہ یہ ہیں یا وہ ہیں، یہ کر چکے ہیں یا وہ کر چکے ہیں، نہیں، اُن کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ سب سے زیادہ ضدی اور ڈھیٹ ہیں. کسی بھی لیڈر میں یہ دو خوبیاں ہونا لازم ہیں. جب ارادہ کر لے تو اُسے ضد بنا لے، اور جب ارادے کا کوئی منہ موڑنا چاہے تو ڈھیٹ بن کر ڈٹ جائے.

لو جو ہوا سو ہوا، عمران ریاض خان کچھ دن سے غائب ہیں. کافی لوگ جیلوں میں ہیں، ہزاروں کی تعداد ہے. خواتین اس ملک کی فرنٹ لائن ہیروز کے طور پر اُبھری ہیں، اِن کو آپ سب چوڑی بَرداروں کی حمایت نہیں چاہیے، وہ خود ہی مینج کر لیں گی. شیریں مزاری ۷۲ سال کی، رہا ہو کر پھر اندر کر دی جاتی ہیں، ان کی بیٹی زور سے وکٹری سائن نیچے کر دیتی ہیں، دو سیکنڈ بعد شیریں مزاری پھر وکٹری سائن بنا کر ہاتھ اُوپر کر دیتی ہیں. یہ تو شیریں مزاری ہیں لیکن جو ہمت اور جذبہ ملک کی عام خواتین نے دکھایا ہے، اُس کی مثال نہیں ملتی. شاید یہ وہ وقت ہے جب گھر کی ایک عورت یہ تو سمجھتی ہے کہ ملک کی بقا اُس کی بقا ہے، لیکن اِس کا گھر والا نہیں سمجھتا. بچوں کو چھوڑ دیں، وہ اپنے ڈزنی دیکھنے کے دنوں میں، ملک کے سب سے پیارے لیڈر پر حملہ آور کارٹون دیکھ رہے ہیں. جس دن حساب و کتاب شروع ہو گا، اُس دن، ہم دیکھیں گے، سب مل کر ان کی اینڈنگ.

جو اس دنیا سے چلا گیا، وہ شاید بہتر رہا. جو زندہ ہیں، وہ یا تو ٹویٹر دیکھتے ہیں، یا یوٹیوب، یا واٹس ایپ. کچھ میری طرح جب ہو سکے تو دُور بیٹھے دو چار لفظ لکھ دیتے ہیں. جانا ہمیں بھی ہے. سوال یہ ہے کہ کیا آپ تیار ہیں، ایک نئی شراوت کے لئے؟

ہو جاۓ کیا، ایک دو تین؟

2 thoughts on “ایک دو تین!”

  1. مجھے نا کہنا آتا ہے نا لکھنا مگر جرات کر رہا ہوں
    میں دل سے خان صاحب کی عزت کرتا ہوں۔
    شاید اس سے بھی بڑھ کر کرتا ہوں۔
    اور میں یہ مانتا ہوں کہ
    یہی وہ شخص ہے
    جس نے ہمیں آواز اٹھانا سکھایا ہے۔
    لیکن معذرت کے ساتھ
    میں اپنے معمولی شعور کے ساتھ اکثر سوچتا ہوں
    ہم کہیں پوری تاریخ کے بجائے صرف
    Fan Club of Personality Cult
    کا شکار ہو رہے ہیں؟
    پاکستان کی ہسٹری میں جو گزر گئے
    وہ سب بھی ایسی ہی ذلت اور سازشوں کا شکار رہے ہیں۔
    جو دلیر تھے، جیل کاٹ گئے
    جو ڈپلومیٹک تھے، ملک چھوڑ گئے
    جو بے خوف ہیں، وہ ڈٹ گئے
    دکھ تو سب کا سنجھا ہے
    کوئی جھیل گیا، کوئی نہیں
    محبت اور سیاسی عقائد اپنی جگہ صحیح
    تاریخ کی درست سمت کھڑا ہونا بھی ضروری ہے۔
    میرا رقص دوسرے کا مجرا نہیں ہونا چاہئے۔
    ہم بہ حیثیت قوم Alienation کا شکار ہو چکے ہیں۔
    ہمیں تو ساری زندگی یہ چورن بیچا گیا
    کہ مچھلی سر سے سڑتی ہے
    لیڈر ایماندار ہو تو قوم ترقی کرتی ہے
    مگر ہوا کیا ، میرا ناقص تجربہ تو یہ ہے کہ
    جیسا دودھ ہو ویسا مکھن نکلتا ہے
    ہم خود سب کے سب ناقص ہیں
    Optics Products
    کیا آئے گا
    یاسر بھائی ایک بات کہو
    پاکستان سےمحبت پاکستان باہر رھ کر ہی کی جاسکتی ہے
    یہ ویسا ہی ہے گرل فرینڈ کے ساتھ
    intimate relationship
    شادی کا بعد ممکن نہیں رہتا
    غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں ، جاناں

    Reply
    • ہمارے بچے جب ہسٹری پڑھتے ہیں تو اکثر ہم ایک جملہ کہ کر آگے چل دیتے ہیں کہ ‘ہسٹری از ہسٹری.’ اس میں بچوں کے لیے دو سبق ہیں، ایک یہ کہ جو بھی ہوا وہ ہو چکا اور دوسرا یہ کہ آگے چلو، شاید کچھ الگ کر پاؤ. اسے ہم اپنے دین کی روح سے اللہ کی قدر کہتے ہیں. یہ لفظ اللہ کی قدر، عربی معنے میں لیجیے. اردو میں اس کو سمجھانا مشکل ہے. جب کچھ اچھا یا برا ہو تو کہہ دیجیے، قَدَّرَ اللهُ وَما شـاءَ فَعَـل، یعنی، ‘یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے.’ آپ نے کمینٹ لکھا، خوشی ہوئی، کیوں کہ آپ خود اپنے سوالات کا جواب دیتے رہے. ہمیں یہ محسوس ہوا کہ آپ نے سب کے بارے میں اچھا کہا، اور سب اچھے اور بروں کے بارے میں ایک سا سلوک ہونے کا سوچا. لیکن ایک چیز سب ملک میں رہنے والے کہتے ہیں کہ ملک سے محبت شاید صرف باہر رہ کر کی جاتی ہے، یا یہ ایک عزیز نے لکھا کہ آپ کو ویگو کا ڈر نہیں ہے. ملک میں تو ہم گلشنِ اقبال کراچی کی گلیوں میں ریمبو کی طرح اس وقت فلم رینٹ کرنے جایا کرتے تھے جب ١٩٩٤ میں کراچی کے کافی حالات برے تھے، گن فائر سنائی دیتی تھی، دکانیں بند کر دی جاتی تھیں. ہم نے کراچی میں وہ دیکھا جو شاید لوگ آج ٹی وی پر بھی نہیں دیکھنا چاہتے. جلتی بس، کسی کی لاش، گن فائر، ہر روز کی سٹرائیکس، لوگوں کا خوف سے بھاگنا، پولیس کا نیشنل اسٹیڈیم انٹرنس پر شائقین کو ڈنڈے مارنا، رینجرز کی ہر طرف موجدگی، اور رات کو ہو حق ماحول میں اپنی پھوپھی کے گھر سے اپنے گھر جانا. اس گھر میں ہم اکیلے رہتے تھے، بالکل، ریمبو کی طرح. باہر کیوں آۓ؟ تو ڈی ڈی ایل جے کے اوپننگ سین کو سن لیں. ہم جی سی سی میں نوکری کرنے والے پہلی جنریشن کی دوسری جنریشن ہیں. آپ ان سے پوچھیے کہ وہ کیوں ملک سے آۓ؟ کیوں کہ گھروں میں کھانے کو کچھ نہیں تھا، لیکن کمانا تو تھا. آج سب کا یہی حال ہے. جو ملک میں ٢٠ سال انویسٹ کر گۓ ، آج جی سی سی میں نوکریوں کے منتظر ہیں. اور جو جا سکتا ہیں جا رہا ہے. لیکن، ایک کتاب ضرور پڑھیے گا، ‘The Present’ از سپینسر جانسن کی. چھوٹی سی کتاب ہے لیکن آپ کو یہ ضرور کچھ آئڈ یا دے گی. ایک کھلاڑی کا ذہن کیسے چلتا ہے؟ ہار جیت اس کے لیے روز کا کام ہے. عوام کے لیے نہیں. اگر آگے چلنا ہے تو آپ کو ایک لمبی سٹرگل کا سامنا ہے. سمندر آگے، پہاڑ اور وادیاں پیچھے، فرعون اور اس کی فوج غصے اور جبر میں لپٹی ہوئی. موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بیچ میں. حلق خشک ہو گیا… کہا، لاٹھی پھینکو. کس پر؟ فرعون پر؟ فوج پر؟ زمین پر؟ یا ان لوگوں کی طرف جو تم سے سوال کر رہے ہیں کہ ‘اب کیا؟’ کہا لاٹھی پھینکو اس پانی پر. پانی پھٹ پڑا اور سمندر میں ایک وادی پھٹ آئی. ماڈرن تھنکنگ اور ڈائنامکس یہ ہیں کہ جو سامنے ہیں اسے دیکھ کر نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ بھر جاؤ، تن دو، بجا دو، من توڑ دو. لیکن کوئی یہ نہیں سوچ سکتا کہ پانی کے بیچ وادی کھل آتی ہے. آج سامنے کیا ہے؟ کون سی ایسی چیز ہے جو پار نہیں ہو سکتی؟ اور لاٹھی کیا ہے؟ ان سوالوں میں شاید کوئی جواب ہو. اگلے آرٹیکل تک اجازت دیجئے اور لکھتے رہیئے.

      Reply

Leave a Comment