پہلا پِسِآر

May 20, 2022

آپ نے بلکل ٹھیک ہی پڑھا. پہلا پی سی آر،… پہلا پیار نہیں. انسان کیا پڑھتا ہے اور کیا سمجھاتا ہے، یہ اُس کی پرورش، تعلیم، تربیت، ماحول، اور شائد عصبیت کا ایک نچوڑ ہوتا ہے. اِس مضمون میں پہلے پیار اور اس کی خرافات کا ذکر نہیں، تو زیادہ خوش نہ ہوں.

اِس ہفتے ہمیں شارجہ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ، جِسے یہاں عربی میں مَروُر کہتے ہیں، جانا پڑا. عرب میں ہر سال آپ کو گاڑی کی رجسٹریشن کرانی ہوتی ہے، جس کے لئے، گاڑی کی انشورنس پہلے، اور ایک ٹیسٹ بھی کرانا ہوتا ہے. انشورنس آپ کو حادثے کی صورت میں مالی نقصان سے بچاتی ہے، اور گاڑی کا ٹیسٹ آپ کی جان کو. اِن دونو کے بعد آپ آن لائن یا مَروُر کی مشین سے اپنی گاڑی کی رجسٹریشن مکمل کر کے، رجسٹریشن کارڈ یا تو کوریئر کروا سکتے ہیں، یا ہاتھوں ہاتھ مشین پرنٹ کر کے آپ کو کارڈ دے دیتی ہے. یوں رجسٹریشن مکمل ہو جاتا ہے، اور آپ کو گاڑی چلانے کی اجازت مل جاتی ہے. اور شاید حادثے کی صورت میں آپ، مُکّہ بازی، گالم گلوچ، مار پیٹ اور جان گوانے جیسے کئی نتائج سے بچ بھی جاتے ہیں. یہ ایک مختلف دنیا ہے.

اگر سب ٹھیک بھی ہو، تو بھی آپ کی قَدر آپ کو ہلاتی جُلاتی رہتی ہے. آپ آن لائن، گھر بیٹھ کر اپنی رجسٹریشن رنیو کرا رہے ہوں تو سسٹم آپ کو کہتا ہے کہ آپ کا موبائل نمبنر ٹھیک نہیں تو ذرا مَروُر جا کر حاضری دیں اور نمبر اپڈیٹ کریں. آپ کتنا بھی چاہیں نہ جائیں، آپ کو جانا ہوتا ہے، پڑتا ہے. آپ اپنی مرضی کے مالک نہیں، اپنی قدر کے غُلام ہیں. صرف اِس بات کی اجازت ہے، کہ آپ منتخب کر لیں، کہ آپ جانا چاہتے ہیں یا نہیں. یہ چوئیس آپ کو دی گئی ہے. اور نہ جانے، نہ کرنے کے، نتائج بھی انسان اور اُس کا نفس جانتا ہے.

اِس تمام پینک میں ہم نے منسٹری آف انٹریر، جو اِس سب کو دیکھتی ہے، کی ہیلپ لائن پر فون بھی کیا کہ شائد فون پر ہی موبائل نمبر اپڈیٹ ہو جاۓ. لیکن مجھے بتایا گیا کہ آپ کو مَروُر جا کر ہی اپڈیٹ کرانا ہو گا. کوفت کی بات یہ ہے، کہ یہی اپڈیٹ ہم نے چند سال پہلے کرایا تھا. شاید پچھلے سال، مگر کرایا ضرور تھا. انسان عدالت میں چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ میں بےقصور ہوں، اور عدالت کہتی ہے، جج نَاٹ. خیر عدالت کو چھوڑیے. وہ اب کام کر رہیں ہیں. فنگرز کراَسڈ.

چلئے دو منٹ کا کام ہے. ہمارے بچوں کے اسکول کے پاس ہی تو ہے مَروُر، کر آتے ہیں اپڈیٹ، کوئی بات نہیں. تو اِس اَزم کے ساتھ ہم نکل پڑے. مزے سے گاڑی پارک کی اور اندر گۓ، تو سامنے پولیس آفیسر کھڑے کچھ چیک کر رہے تھے. ہم قریب گۓ تو انہوں نے وہ تین حروف کہے جو ہم کبھی سننا ہی نہیں چاہتے تھے. پی سی آر. یعنی وہ نیزل، ناک کا ٹیسٹ جس نے سب کی ناکوں میں صرف درد ہی نہیں کیا، بلکہ کسی کو ڈراۓ رکھا، کسی کو رُلایا، کسی کو چھینکیں لگائیں، کسی سے کرونا کو گالیاں نکلوائیں اور کسی کو ہماری طرح اتنی دور رکھا کہ نہ ملنے آۓ، نہ ملنے گۓ اور نہ ملنے دیا. ویسے یہ عجیب سی بات لوگوں کو اپنے بارے میں کہتے سنا ہے، کہ نہ ملنے آۓ، نہ ملنے گۓ اور نہ ملنے دیا. اور بڑے تعجب کے بعد اِس نتیجے پر پہنچے کہ، آنے جانے، کا تصور ہمارا سٹار ٹریک کے ٹیلی پورٹیشن ڈیوائس کی طرح ہے. جب تک ہم اس طرح آ اور جا نہیں سکتے، شاید لوگوں کو اپنے شِکووں سے ہی ملاقاتیں رکھنی پڑیں. لیکن، اِس بات کا دارومدار صرف کسی کے گھر وِزٹ کرنے تک ہے، ورنہ ہم سارا سال گھومتے پھرتے، کھاتے پیتے تو رہتے ہی ہیں.

پی سی آر؟ آفیسر صاھب نے کہا، بالکل. اب اردو میں بات نہیں ہو رہیں تھی، آدھی انگلش میں، اور آدھی عربی میں. نچوڑ یہ ہے کہ ہم نے اَلحُسن اَیپ نکال کر دکھائی اور پوچھا کہ، ویکسین کہ تین ٹیکے لگے ہوۓ ہیں، یہ کافی نہیں؟ تو آفیسر بھی مزے میں بولے کہ اب یُو اے ای میں ٹیکے چار. یعنی، آپ کا ایک ٹیکا کم ہے. ہمیں باخوب معلوم ہے کہ چوتھا ٹیکا صرف بزرگوں اور اُن لوگوں کے لئے ہے، جن کا امیون سسٹم کمزرو ہو، یا وہ وہاں جانا چاہتے ہوں، جہاں فائزہ چلتی ہے. معاف کیجیے گا، فائزہ نہیں، فائزر ویکسین. لیکن چلئے، اِس موبائل نمبر کے اپڈیٹ کی خاطر، دنبے اور چھری کے مابین فاصلہ کم ہو رہا تھا اور یہ اب اُسے صاف دکھائی دے رہا تھا.

ایک اور آفیسر جو اِن آفیسر سے کچھ دور کھڑے تھے دیکھا تو انہوں نے آنکھ سے اشارہ کیا پوچھتے ہوۓ کے آؤ کیا ماجرہ ہے. ہم بھی بیوقوف کے دو قدم آگے جا کر کہ دیتے کہ موبائل اپڈیٹ کرنی ہے، لیکن نہیں. گھر بیٹھے بیٹھے، اور ہر کام آن لائن کرتے کرتے یہ حال ہو گیا ہے کہ اصل دنیا میں ہم آف لائن ہو کر رہ گۓ ہیں. دوسرا یہ کہ پہلے آفیسر ہمارے دائیں دو فٹ پہ کھڑے تھے، تو کہیں گیم نہ بج جاۓ، شاید اس لئے ہم آگے نہ بڑھے. یہ ہمارے مُلک کے تُلّے نہیں. یہ آفیسر ہیں، اِن کا ٹُل سے کوئی واسطہ نہیں. پھر بھی ہم نے ایک آخری بار، وہیں کھڑے کھڑے دوسرے آفیسر سے پوچھا، پی سی آر؟ تو وہ بولے، لازم، فَار مِی آلّسَو. کیسی ظالم گفتگو ہے، آدھی عربی اور آدھی انگریزی. لیکن میسج مل گیا. پی سی آر ٹیسٹ کرانا اور اِس رذلٹ دکھانا لازم ہے اور میں نے بھی کرا رکھا ہے. جب پولیس افسر قانون کی پاس داری کریں، تو ہم تو نہ پولیس ہیں، اور نہ ہی افسر. صاف ظاہر تھا کہ پہلا پِسِآر اب ہو کر ہی رہے گا.

چند گھنٹوں میں ہم پی سی آر ٹیسٹ ڈرائیو تھروح چلے گۓ. کورونہ جب اپنی انچائی پر تھا تو یہ ڈرائیو تھروح اور کئی ٹیسٹ سینٹر بھرے ہی ہوتے تھے. جہاں ہم گۓ وہاں کوئی سو، دو سو گاڑیاں لائن میں ہوتیں تھیں اور چار قطاروں میں ٹیسٹ چل رہے ہوتے. آج یہاں صرف کل تین گاڑیاں تھیں، جن میں ایک ہماری تھی. یہ الله کا بڑا کرم ہوا کہ یہ وبا آئ اور اب کچھ تھم سی گئی ہے. لیکن ہے ضرور. کچھ کیس روزانہ ہو جاتے ہیں. پازیٹو ٹیسٹ پچھلے ہفتے ٢٠٠ کے قریب چل رہے تھے، اب دو دنو سے ٣٥٠ کے قریب ہیں.

پی سی آر ٹیسٹ کے دام اب صرف ٤٠ درہم رہ گۓ ہیں. یہ صرف بینک کارڈ سے ہی پَے ہوتے ہیں. اور کیش کا کوئی سین نہیں. آپ کی جب باری آتی ہے تو آپ گاڑی کا شیشہ گرا کر اپنا ایمیریٹس آیڈی مشین میں ڈال دیتے ہیں، پھر ایک اٹینڈنٹ آپ کی جانب کارڈ مشین کر دیتا ہے اور آپ کارڈ ٹاپ کر کے پیمنٹ کرتے ہیں. مشین سے پھر ایک آواز آتی ہے اور ایک صاحب آپ سے آپ کا فون نمبر لیتے ہیں. بس اس کے بعد آپ کی کوئی ٢٠ – ٣٠ فُٹ پہ شامت آنے والی ہوتی ہے. اور آ ہی جاتی ہے.

اِس وقت آپ کو فوٹو یا ویڈیو بنانا منا ہے، لیکن آپ کے بچے اگر چاہیں تو وہ یہ کام جاسوسی سے سر انجام کر سسکتے ہیں. چنآچہ ایک فوٹو ہمارے پی سی آر کے دوران لی گئی، جو بعد میں بچوں کہ اٹھتے کہکہوں میں ہمیں دکھائی بھی گئی. سر بالکل اُوپر اور پیچھے ٹِکَا ہوا، آنکھیں تقریبن بند، اور نَاک میں ایک لمبی ڈنڈی جس کی دونو طرف کپاس کے کچھ گالے. اِس پر آپ نہ جانے کیوں ہنسیں، لیکن ہنسنا بنتا ہے. کیوں کہ بچوں کو معلوم ہے کہ ان کے ابا، کوئی دو سال سے ڈِزنی کی کسی شہزادی کی طرح کسی بلند ٹاور کے کسی کمرے میں قید تھے. فرق صرف یہ تھا کہ، چند سیاسی پارٹیوں کی گِیدڑگِپ کی طرح، یہ ایک قسم کا سلف ایکزایل یا بھگوڑا پن ہے.

ٹیسٹ ہو گیا، بائیں نتھنے میں طوفان سا آیا، جیسے کسی نے ناک میں گُدگُدی کی، اور آپ کو چھیکنے کا آرڈر دیا، مگر چھینک نہ آئ. پھر آپ نے سانس لینا چاہا، لیکن کُھجلی سے آپ کھانسنا چاہے اور وہ بھی نہیں ہوا. پھر ہم نے ٹشو لے کر ناک سُنکی تو کچھ آرام آیا، اور ایک آت منٹ میں حالات کچھ نارمل کی طرف جانا شروع ہوۓ.

ایک دن بعد ٹیسٹ کا رسالت نیگیٹو آیا. اَلحُسن ایپ میں ہمار سٹیٹس گرین ہو گیا. پھر اگلے دن ہم صبح بچوں کو اسکول چھوڑ کے مَروُر پہنچے. ایک افسر ڈیوٹی پہ تھے. ایسا محسوس ہوا کہ وہ صرف ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں، اور پی سی آر چیک کرنا اِس وقت اُن کی ترجیح نہیں. پھر بھی ہم نے سینہ تان کے اَلحُسن ایپ کھولی اور گرین سٹیٹس دکھا دیا. افسر نے موبائل اپڈیٹ کا سنا اور سامنے کوئی ١٠ فُٹ پہ بیٹھی اٹینڈنٹ کی جانب اِشارہ کرتے ہوۓ وہاں جانے کو کہا. دو منٹوں میں اپڈیٹ ہو گیا. ہم نے پوچھا کہ یہ اس بار بھی کرانا کیوں پڑا تو انہوں نے کہا کہ شاید آپ کا ڈرائیونگ لائسنس دبئی کا ہے، اس لئے یہ ہو جاتا ہے. بس کچھ بٹن دبے، موبائل نمبر اپڈیٹ ہو گیا اور پھر انہوں نے ہمیں مشین کی طرف جانے کو کہا. مشین پر ایک افسر مدد کے لئے کھڑے تھے، انہوں نے ہمارا ایمیریٹس آیڈی لے کر مشین میں ڈالا اور کہا کے باقی سٹیپس آپ مکمل کر لیں. مشین نے گاڑی کی نمبر پلیٹ دکھائی، پھر کارڈ سے پیسے دینے کو کہا، اور آخر میں کارڈ پرنٹ کر کے دے دیا. یہ ہائی سیکورٹی والا، پلاسٹک کارڈ ہوتا ہے، جو سونے کے رنگ کا ہوتا ہے. بس یہ گاڑی میں رکھیں اور اِس سب کو ایک سال کے لئے بھول جائیں.

جو قومیں سسٹم نہیں بنا سکتیں، اُسے چلا نہیں سکتیں، ایسے افسر پیدا نہیں کر سکتیں جو آپ کی خدمت کرنے کو اپنا فرض سمجھیں، اور ان کے لیڈر بڑی بڑی باتیں کریں، تو معلوم دیتا ہے کہ ساری توجہ مرکوز کل کِسی فرضی مثالی دنیا کی بات پر ہے. ابھی، اسی وقت لوگوں کے کام کرنے اور کرانے پہ نہیں. کل بھی وہ، جو دو چار ووٹوں یا لوٹوں کی مار ہو. ایسا کل کس نے دیکھا ہے؟

کل نہیں، یہ آج کی دنیا ہے.

4 thoughts on “پہلا پِسِآر”

  1. Bhai, maza aa gya…..Nicely scripted….Haaza Mazboot!!!

    Hum ne bhi teeno language may comment kia hai cuz it goes without saying that you need to know Urdu, Arabic and English if you are in U.A.E 😀
    Regards,
    MB

    Reply

Leave a Comment