ڈیڑھ لوٹا

اگر سوچا جائے تو مسلم شاور کا زمانہ ہے. لوٹا تو کب کا بے چارہ اپنی موت سی مر گیا. شاید یہ بات غلط ہے. کیوں کہ صرف کچھ انگریزی پڑھا لکھا مسلمان ہی مسلم شاور استعمال کر رہا ہے. اگر کسی قسم کی تحقیق کی جاۓ تو یہ پتا چلے گا کہ اکثر و بیشتر ملک میں لوٹے کا ہی استعمال ہے. جو حال ہی میں کچھ بڑھ سا گیا ہے. چلیے چھوڑئیے. ہمیں کیا لینا دینا کسی لوٹے سے. اگر یہاں عرب میں کبھی لوٹا نظر بھی آیا ہے تو مسجد کے کسی غسل خانے میں. اور کیا چھپانا، ہم نے اِسے استعمال بھی کیا ہے. لیکن تاریخ اور دن کا کچھ اندازہ نہیں. شاید کچھ سال ہوے ہوں گے. لیکن مسلم شاور کا دور دورہ ہے. البتہ پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر لوٹے نے بھرپور اینٹری دکھائی ہے. اور شاید ایسی انٹری جس نے پورے ملک کو سوتے سے جگا دیا ہے.

یہ سب سوچ کر کچھ دنوں سے انور مقصود صاحب اور موئن اختر صاحب مرحوم کی کچھ شرارتی باتیں یاد آ رہی ہیں اور اِن کی یاد میں کچھ ڈائلاگ بھی ذہین میں آتے ہیں. پھر ’رمضان ہے‘ کا نارہ لگا کر میں اِنہیں کچھ دیر کے لئے سُلا دیتا ہوں. اس سب میں میرے ذہن کی کچھ مداخلت ہے، کیوں کہ شیطان بند ہیں، تو سازش تو ہونے سے رہی. ہفتہ ہے اور یہاں چُھٹی. ایک عجیب سا سکون ہے. گھر والے سب سو رہے ہیں اور ابھی ابھی ظہر کی آذان ہوئی ہے. رمضان کا کچھ یہی ہالل رہتا ہیں، جب اسکول بند ہوں تو نیند کچھ زیادہ مل جاتی ہے. میں نے کافی سوچا کہ جو ذہن میں آتا ہے وہ لکھوں یا نہیں. پھر سوچا لکھ ہی دوں. شائد کسی کے چہرے پہ کوئی مسکراہٹ ہی آ جاۓ.تو آئے آج کی سنسناتی تحریک کے پیش نظر، اس نا چیز کی تھوڑی سی ہمّت کہ وہ انور مقصود صاحب کا جیسا مکالمہ لکھنے کی ایک ناکام سی کوشش کرے.

ملک کے ایک بڑے چینل پہ دو پاکستان کے پایۂ کے فنکار ایک ٹیبل پر تشریف فرما ہیں. ایک انٹرویو لینے کی تیاری میں ہیں اور دوسرے اپنے فون کو دیکھتے کچھ دہانی انگلی سے کر رہے ہیں. انٹرویر کا نام ’انور‘ اور جو انٹرویو دے رہے ہیں،اُن کا نام، آئے اُن سے ہی پوچھتے ہیں.

شو شرو ہو چُکا ہے…

انور: آپ سب کا شو پر پہ آنے کا شکریہ. آج ہمارے ساتھ ملک کی  ایک سیاسی شخسیت موجود ہیں. اِن پہ نیب کے کوئی کیس نہیں. اِن کی آمدن خاندانی ہے، اور ٹیکس وغیرہ کی چوری کے الزامات ان کو چُھو کر بھی نہیں گئے. لیکن اِن پر ایک الزام ہے کہ اپنی پارٹی سے روٹھ گۓ. سوشل میڈیا پہ بچوں نے ان کو نہ جانے کیا کیا نہیں کہا. لیکن وہ یہ سب پی گۓ. ایک لفظ نہیں پِیا جاتا. وہ ہے …

گیسٹ: … بات کاٹتے ہوۓ  … مت لینا وہ نام ورنہ شو چھوڑ کر چلا جاؤں گا. مت لینا.

انور: لیکن لوگ تو لے رہے ہیں. یوتھ لے رہی ہے.

گیسٹ: تم کوئی یوتھ ہو؟ اپنی عمر کی بات کرو. کوئی دیکھے گا تو کہے گا کہ یوتھ تو تم کو چھو کر بھی نہیں گئی قریب سے.

انور: آپ پرسنل ہو رہے ہیں.

گیسٹ: کیوں نہ ہوں پرسنل؟ سب مجھ سے بھی پرسنل ہو رہے ہیں. ’ریٹرنڈ‘ ’ریٹرنڈ‘ بول کے.

انور: ریٹرنڈ؟

گیسٹ: پڑھے لکھے نہیں ہو تم شائد انور، ریٹرنڈ انگلش والا.

انور: آپ کی مراد فارن ریٹرنڈ سے ہے؟

گیسٹ: تم یہ شو کیسے چلا رہے ہو؟

انور: الله کا کرم ہے. چل رہا ہے.

گیسٹ: لیکن تمہیں تو ریٹرنڈ کے معانی نہیں معلوم. گوگل میں اردو میں لکھو وہ انگریزی زبان میں بتا دیتا ہے.

انور: آپ فارن ریٹرنڈ ہیں، آپ کو اردو کا سہارہ نہیں لینا چاہیے. باہر انگریزی بولی جاتی ہے.

گیسٹ: اردو میں لکھو لَوٹا گوگل پہ.

انور: جھینپتے ہوۓ … آپ نے کہا نام نہیں لینا لوٹے کا، اور اب آپ کہ رہے ہیں، لوٹا گوگل کرو.

گیسٹ: آنکھیں نکلتے ہوۓ … لے لیا نہ تم نے نام اُس چیز کا. میں خوب جانتا ہوں تم جیسوں کو. تمہاری یہ دکان ہی ایسے چلتی ہے.

انور: دکان نہیں شو.

گیسٹ: تم کیونکہ پڑھے لکھے نہیں ہو، اس لئے آج مجھ سے سیکھ لو. نکالو یہ طمنچہ (فون دکھاتے ہوے) اور گوگل پہ ترجمہ کرو ’لَوٹا‘.

انور: کوفت کھاتے ہوۓ … آپ کر لیں گوگل. میرے پاس اس وقت فون نہیں.

گیسٹ: انگریزی میں بولتے ہوۓ … لَوٹا مینز ’ریٹرنڈ‘.

انور: یہ لفظ مختلف ہے. لَوٹا. لَوٹنے سے. یعنی کسی کا لَوٹ جانا. میرا آج کا موضو ہے لوٹا.

گیسٹ: منہ کھول کے کہو یہ لفظ. کیا نکلتا ہے؟ لَوٹا. جیسے انگلش والا لفظ ہے law اس کے آگے ٹا لگا دو. ’لَوٹا‘.

انور: law پر نہ جائیں کافی مشکل میں آ جائیں گے.

گیسٹ: اترتے ہووے … کون آۓ گا مشکل میں؟

انور: میں نے کہا کافی. کافی مشکل میں آ جائیں گے.

گیسٹ: کیسی مشکل؟ منہ کول کر نہیں بول سکتے تم؟ اور کوئی مشکل نہیں آتی، صرف رمضان میں کچھ گیس…

انور: بات کاٹتے ہوۓ … فیملی شو ہے … پلیز …

گیسٹ: پھر وہ کرو جو میں کہ رہا ہوں. گوگل میں لکھو ’لَوٹا‘.

انور: آپ نے لکھ لیا کافی ہے. آگے چلیں.

گیسٹ: ٹیبل پہ ہاتھ مارتے ہوۓ … لَوٹا مینز ’ریٹرنڈ‘.

انور: وہ دوسرا لفظ ہے.

گیسٹ: گوگل کو یہ نہیں پتا؟ گوگل نہیں جانتا؟ گوگل کیا اَن پڑھ ہے؟ تمہاری طرح؟

انور: سنجگیدی سے… لوٹا کیا ہے؟

گیسٹ: ریٹرنڈ. جو لَوٹ جاۓ-

انور: کس کو دیکھ کر لَوٹ جاۓ؟

گیسٹ: تمہارا اشارہ کس کی طرف ہے؟

انور: جو لُوٹ جاتا ہے.

گیسٹ: سمبھال کے مسٹر انور، میں ابھی بھی سیٹ پر ہوں.

انور: سیٹ آپ نے کسی اور کے نام پر لی.

گیسٹ: تلملتے ہوۓ… کیسے سمجھاوں تم کو میں یہ کہ میں لَوٹ چکا ہوں… انگریزی میں بولتے ہوۓ  … آئ ہیو ریٹرنڈ.

انور: آپ واپس آ گۓ. لیکن سیٹ پر ابھی بھی ہیں. استعفیٰ دیں. جس پارٹی کو چاہیں جوین کریں.

گیسٹ: ارے انور چاروں طرف لُوٹ پڑی ہے. دونو ہاتھوں سے لُوٹو. سمجھے؟

انور: کتنا لُوٹا آپ نے؟

گیسٹ: تم نہیں سوچ سکتے کتنا لُوٹا. زندگی میں ایک بار لُوٹو. کھل کے لُوٹو.

انور: ہمارا آج کا ٹوپک ہے لوٹا.

گیسٹ: ہاں تو میں نے کہا، میں نے لُوٹا.

انور: لَوٹے بغیر آپ لُوٹ نہیں سکتے تھے؟

گیسٹ: تم اس عمر میں نہیں سمجھو گے.

انور: کس عمر میں سمجھوں گا؟

گیسٹ: انور یہ تمھارے بس کی بات نہیں.

انور: پیسہ ٹریس ہو جاتا ہے.

گیسٹ: پیسہ نہیں لیا.

انور: ڈالر؟

گیسٹ: تم پُرانی سوچ پہ چل رہے ہو.

انور: پیسہ نہیں لیا، ڈالر نہیں لئے. تو کیا لیا؟

گیسٹ: دیکھو تمہارے زمانے میں ایک لفظ ہوتا تھا، کٹو. اس سے ہی ملتا جلتا لفظ ہے.

انور: کٹو؟ میرے زمانے کا لفظ؟ ذرا تمیز سے بات کریں.

گیسٹ: اب کھائی نہ تم نے خار. ایسا ہی ہوتا ہے جب دوسروں کو لفظ نکلتے ہو تم اور ذرا سا تم کو کچھ کہا تو نکلی چیخیں.

انور: یہ اردو زبان کا کیا کر رہے ہیں آپ لوگ؟ نکلی چیخیں؟ کسی نے کہا کانپی ٹانگیں. اور آپ کے کپتان نے بھی دہرا دیا.

گیسٹ: میرا کپتان نہیں. تمہارا کپتان ہے وہ.

انور: یہ شو ہے، اِس کا ڈائریکٹر ہوتا ہے.

گیسٹ: آپ کس کو کپتان مانتے ہیں؟ معاف کیجیے گا، … کس کو لیڈر مانتے ہیں؟

گیسٹ: میرا کپتان وہ جس نے اس ناچیز کو لُوٹنے کا موقع دیا.

انور: کتنے میں لَوٹ گۓ آپ؟

گیسٹ: ہاتھ پھیلاتے ہوۓ… اتنے میں.

انور: کیسے لیا؟

گیسٹ: کٹو … جیسا لفظ ہے. سوچو.

انور: کرپٹو؟

گیسٹ: اب آۓ نا تم لائن پہ. کرپٹو میں یہاں سے وہاں. اور وہاں سے یہاں.

انور: پیسہ.

گیسٹ: ارے تم پیسے پہ پھنسے ہوۓ ہو.

انور: آج کی اصطلاح میں لوٹا کیا ہے؟

گیسٹ: تم بتا دو.

انور: آپ گیسٹ ہیں، آپ بتا دیں سب کو.

گیسٹ: سب کو پتا ہے. تم کو نہیں معلوم؟ گوگل پر چیک نہیں کر سکتے تو کسی سے چیک کروا لو.

انور: لوٹا لفظ کیوں بُرا لگتا ہے آپ کو؟ آپ تو ابھی بھی پارٹی میں ہیں.

گیسٹ: ہاں تو لوٹا نہ ہوا نہ میں … بول کر ٹسمساۓ.

انور مقصود صاھب کے اِیر پیس میں پروڈیوسر صاھب کی آواز آتی ہے.

انور: جی، ٹھیک ہے …

گیسٹ: کیا آ گیا فون اوپر سے؟ اب پتا چلے گا بچو.

انور: پروڈیوسر صاحب ہیں. کہ رہے ہیں کے میں آپ سے آپ کا نام پوچھنا بھول گیا.

گیسٹ: تم بند کر دو یہ شو. تم سے اب نہیں چلے گا. کسی اور کو آنے دو.

انور: کوئی اور آ کر وہی کرے گا جو میں کر رہا ہوں. شکر ہے سٹوڈیو ہے، پارلیمان نہیں. یہاں علم کو ترجیح دی جاتی ہے.

گیسٹ: اور تم عالم بنے بیٹھے ہو لوٹے کے.

انور: آپ نے کہا لوٹا، میں نے نہیں.

گیسٹ: تم ایک سوال کا جواب دو انور.

انور: یہاں میرے سوال ہوں گے. آپ جواب دین.

گیسٹ: سو سوال تمہارے اور میرا ایک سُری جیسا سوال. کیا کہتے ہو، منظور ہے؟

انور: پوچھئے…

گیسٹ: یہ بال کیوں نہیں رنگوا لیتے تم؟

انور: خفا ہوتے ہوۓ… آپ پھر پرسنل ہو گۓ. سوال کرنے دیں.

گیسٹ: ہاہاہا اب دیکھو کیسے تیوری پہ بل آ رہے ہیں تمہارے. تم کوئی چاہے سوال کر لو اور ہم کو برا بھی نہ لگے.

انور: میرا کام ہے آپ کی بات پہچانا. لاکھوں لوگ دیک رہے ہیں.

گیسٹ: سواۓ تمھارے. تم صرف لوٹے سے متاثر ہو.

انور: لوٹا آج کل ٹرینڈ ہو رہا ہے. ہر طرف ہے. یوتھ کے لبوں پہ ہے.

گیسٹ: سنا نہیں یوتھ ’اِلل انفورمڈ‘ ہے؟

انور: سنا. اسی لئے شو کر رہے ہیں. تا کہ انفارمیشن شیر ہو.

گیسٹ: شیر تو تم بنے بیٹھے ہو یہاں.

انور: شیر کا زمانہ ہے.

گیسٹ: شیر کا زمانہ کبھی ہو گا نہ پرانا، انو ڈر تجھے کس کا ہے؟ تیرا تو ووٹ …

انور: انو؟ انور! آپ کنٹرول کریں پلیز. آپ کسی جلسے میں نہیں ہیں. شو براہراست جا رہا ہے.

گیسٹ: اب ہر طرف شو لگے گا. عدالت ڈال لو.

انور: عادت.

گیسٹ: وہی کہ لو.

انور: کان میں کچھ سنتے ہوۓ، … آپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا …

گیسٹ: ناچیز کو ضمیر کہتے ہیں.

انور: آپ جاگ رہے ہیں یا سو رہے ہیں؟

گیسٹ: ایبسلوٹ قسم کے سوال نہ پوچھو.

انور: ہاں کہیں یا نہ.

گیسٹ: ایبسلوٹلی ناٹ.

انور: عیب کی بات ہے. کچھ عوامی جذبات کا خیال کریں.

گیسٹ: عوام اور تم جاؤ ڈیزل لینے.

انور: ٣٠ فیصد کم مل رہا تھا، تیل.

گیسٹ: تم سمجھے نہیں. پورے پیسے لیتا اور ٣٠ فیصد کم تیل دیتا.

انور: آپ کیسی بات کر رہے ہیں؟ بلکل غلط، …

گیسٹ: اب ایسی ہی باتیں ہوں گی میاں انور.

انور: فری نہ ہوں. آپ صرف انور کہیں.

گیسٹ: میاں انور … یہ تو بتاؤ تمہیں اس لفظ سے چڑ کیوں ہے؟

انور: یہ شریفوں کو سوٹ کرتا ہے.

گیسٹ: تم شریف نہیں ہو؟ بڑے شریف بنے بیٹھے ہو اتنی دیر سے.

انور: یہ آپ کا انٹرویو ہے. آپ سنجدگی کا مظاہرہ کریں.

گیسٹ: سنجیدہ مظاہرے تم دیکھ رہے ہو نہ آج کل. زرا سی کروٹ کیا لی ہم نے…

انور: لوٹا پھر جاتا ہے. بے پیندے کا.

گیسٹ: ابے تبے شرو مت کرو ورنہ بہت سنو گے.

انور: آپ کو تو آج کل یوتھ کافی سنا رہی ہے. کیسے مقابلہ کریں گے؟

گیسٹ: یوتھ کے سپاہ سالار ہو تم؟ پتا ہے تمہاری یوتھ کو ہم کیا کہتے ہیں؟ ’یوتھیئے‘.

انور: یوتھ آپ کو کیا پکارتی ہے؟

گیسٹ: اب حد تم کراس کر رہے ہو. ’یوتھ از الل انفورمڈ‘.

انور: جی آپ یہ کہ چکے ہیں. یوتھ نے اسے قبول نہیں کیا. وہ خودمختار ہیں.

گیسٹ: ہم بھی خودمختار ہیں، اس لئے چل دے. فریڈم آف ایکسپریس گاڑی ہے.

انور: ایکسپریس گاری نہیں، ایکسپریشن.

گیسٹ: ہاں فریڈم آف ایکسپریس گاری. جیسے جونسی ریل گاڑی لینا چاہو، لے لو. کبھی اس پر چڑھے کبھی اس پر چڑھے.

انور: فریڈم وف ایکسپریشن کا لوٹوں سے کوئی تعلق نہیں.

گیسٹ: آج میں نے بنا دیا تعلق، اب تم بھی سمجھ لو… انگریزی میں بولتے ہوۓ … آئ کین ریٹرن بائی اینی وچ وے.

انور: کیا کہا آپ نے؟

گیسٹ: میں جس پارٹی کے ساتھ ہونا چاہوں، ہو لوں.

انور: آپ آزاد ہیں. آپ کا ضمیر قید ہے.

گیسٹ: ابسولٹلی یس!

انور: لوٹوں کو کوئی نصیحت؟

گیسٹ: کھل کے لوٹو. بلکہ، بے باک ہو کر لوٹو.

انور: یہ پارٹی سے بے وفائی ہے؟

گیسٹ: پارٹی وہ جس میں کچھ کھا سکیں. تم بتاؤ، کوئی تمہیں پارٹی پہ بلاۓ اور صرف بسکٹ ہی کھالے، تو تم کتنی دیر ایسی پارٹی میں رہو گے، مسٹر انور؟ بھوک سے بلک جاؤ گے.

انور: میں سیاسی پارٹی کی بات کر رہا ہوں. کسی دعوت کی نہیں.

گیسٹ: کب تک سچ سے چھپو گے تم انور؟ سیاسی پارٹی ایسی ہو جو سب کو کھلاے. مجھے دیکھو، چار سال کی بھوک سے بلک گیا.

انور: کس چیز کی.

گیسٹ: نوٹوں.

انور: لیکن لوگ آپ کو ووٹ دیتے ہیں. ووٹ کافی نہیں؟

گیسٹ: ایک ایک ووٹ کا ایک ایک نوٹ.

انور: یہ پارٹی کے ووٹ ہیں…

گیسٹ: تم شیر کی طرح تاک میں بیٹھو، ایسے … شیر کی طرح دونو ہاتھوں کے پنجے کھولتے ہوۓ … پھر جب موقع آۓ تو پل پڑو.

انور: کیا ملا آپ کو یہ سب کر کے؟

گیسٹ: سیب.

انور: سیب؟

گیسٹ: فون کا لوگو دکہاتے ہوۓ …. سیب.

انور: اور؟

گیسٹ: بہت کچھ. کبھی گھر آؤ اور خود دیکھ لو.

انور: جی شکریہ.

گیسٹ: ٹکٹ لے لو گے؟

انور: جی شکریہ مجھے سیاست سے کچھ لگاو نہیں.

گیسٹ: ایئر کا ٹکٹ. گھر آؤ گے تو جہاز لینا پڑے گا. دور تک.

انور: کہاں ہے گھر؟

گیسٹ: دور اس سر زمین سے. اس پار.

انور: کوفت کھاتے ہوۓ … آپ کا گھر آپ کو مبارک.

گیسٹ: پھر خار کھائی تم نے. اتنا وسیع و عریض گھر ہے. مینشں کہو انور، مینشں.

انور: گھر کی یاد آتی ہے؟

گیسٹ: نہ پوچھو.

انور: گے کیوں نہیں؟

گیسٹ: ضمیر نے روک لیا.

انور: کیا کہا ضمیر نے؟

گیسٹ: ہوائیں تیز ہیں. لَوٹ آؤ.

انور: اور آپ لَوٹ آۓ پُرانی پارٹی کی طرف.

گیسٹ: اکرم کی طرح سوئنگ. جیسے گیند سوئنگ ہوتی ہے میاں انور، ویسے ہم بھی سوئنگ ہو گے.

انور: منہ بناتے ہوۓ … آپ لیٹ سوئنگ ہوۓ.

گیسٹ: اور گلی گرا دی. تم بڑا کرکٹ جانتے ہو. کہیں اُس پارٹی کے تو نہیں؟

انور:  آپ کی پارٹی ہے، یوتھ پارٹی.

گیسٹ: چھپاؤ مت. تمھارے بھی دل میں یوتھ اچککیں مار رہا ہے.  آنکھ مارتے ہوۓ … میری طرح ریٹرن ہو جاؤ.

انور: آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں. میرا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں.

گیسٹ: تو پھر سیاست دان کو کیوں بلایا تم نے. نیوٹرل ہو جاؤ. مت کرو یہ پروگرام. کوئی خاکہ لطیفہ لکھو گھر بیٹھ کے.

انور: یہ عوامی پروگرام ہے، سب دیکھتے ہیں. عوام نیوٹرل نہیں ہیں.

گیسٹ: ’وہ‘ تو ہیں.

انور: انہوں نے تین آپشن دے. نیوٹرل کیسے ہوۓ؟

گیسٹ: ایبسولوٹلی … مندرجہ عبارت میں خانہ پر کریں.

انور: یس اور نو کا سوال ہے.

گیسٹ: نہیں انور، ایک تیسرا  انتخاب بھی گوگل دیتا ہے، ’پرفر ناٹ ٹو سے‘ …

انور: ایبسولوٹلی پرفر ناٹ ٹو سے؟ یہ آپ کا جواب ہے؟

گیسٹ: اِس سے زیادہ آگے مرے پر جل جائیں گے.

انور: کوئی لوٹا کہے تو کیسا لگتا ہے؟

گیسٹ: آگ سے کھیلنا چاہتے ہو تم انور؟ اپنی حد سے تجاوز نہ کرو.

انور: کہیں لوٹے کا لفظ سنیں تو کیسا لگتا ہے؟ سنی انسنی کر دیتے ہیں؟

گیسٹ: لال بگولا ہوتے ہوۓ … میں تمہیں عدالت سے نوٹس بھجوا دوں گا… انگریزی میں بولتے ہوۓ … ریسٹریں یورسلف مسٹر انور، ورنہ لینے کے دینے پڑ جائیں گے.

انور: عدالتیں مصروف ہیں.

گیسٹ: لیکن کھل رہی ہیں. اس کا شکر کرو.

انور: سو شکر کہ عدالتیں رات گۓ کُھلنے لگی ہیں.

گیسٹ: سب پہ تمہاری طنز ہے.

انور: آخری چند منٹ ہیں.

گیسٹ: کلمہ پڑھ لو.

انور: پھر آپ نے اُلٹی بات کی. پروگرام کے آخری چند لمحے ہیں. بتائیے لوٹے کس طرف دیکھ رہے ہیں؟

گیسٹ: تم بتاؤ، لوٹا کس طرف دیکھتا ہے؟

انور: سوال آپ سے ہے. میرے سوال کا جواب دیں.

گیسٹ: لوٹا صرف سیییییدھی طرف دیکتھ ہے. آنکھیں بند کر کے.

انور: آنکھیں بند کر کے اور پھر جھپکاتے ہوۓ …  یعنی مستقبل کی طرف. آپ کا مستقبل کیسا ہے؟

گیسٹ: خوبصورت. سب ختم ہو جاۓ تب بھی تم لوٹے کو ہی تلاش کرو گے.

انور: مسلم شاور کا زمانہ ہے. لوٹے کم استعمال ہوتے ہیں.

گیسٹ: لیکن جب ہوتے ہیں تو …

انور: بات کاٹتے ہوۓ … ہمارا موضو سیاسی لوٹا ہے. آپ شائد صرف لوٹے پر گفتگو کر رہے ہیں.

گیسٹ: سیاسی لوٹے ہو گے تم. کیا سمجھ رکھا ہے تم نے ہم کو؟ یہاں تمھارے سوالوں کا جواب دیں؟ وہاں سوشل میڈیا پر تم ہماری بُرایاں کرو. کیا مشن ہے تمہارا؟ کچھ لینا چاہتے ہو کیا؟

انور: آپ کیا دے سکتے ہیں؟

گیسٹ: اب آۓ نہ تم لائن پر. یہ سب ڈھکوسلا تم نے پیسے بٹورنے کے لئے سجا رکھا ہے.

انور: یہ صرف ایک شو ہے. آپ کے آنے کا شکریہ.

گیسٹ: دو آنے بھی نہیں دوں میں تم کو. یہاں بُلا کر … انگریزی میں کہتے ہوۓ … یو ٹوک می فار أ رائیڈ انور. یہ شو تمہارا میں بیند کرا دوں گا.

انور: یہ اُن کا زمانہ نہیں ہے. وقت کافی آگے نکل چکا ہے.

گیسٹ: ہاں دیکھا تم نے تمھارے اس نۓ وقت میں ہم نے کیسے حکومت کو ١٨٠ کی مقدار سے گھما دیا. تمہارا شو بھی دو سیکنڈ  میں گھما دیں گے. بچ کر رہو … بچو.

انور: دونو ہونٹ آپس میں ملاتے ہوۓ … دو سیکنڈ ہو گۓ. آپ کے لَوٹنے کا وقت آ گیا ہے.

گیسٹ: آگ بگولا ہوتے ہوۓ … لَوٹنے بول رہے ہو لیکن مطلب تمہارا کچھ اور ہے.

انور: جو آپ صحیح سمجھیں.

گیسٹ: شو تم بند کرو گے یا میں خود کر دوں؟

انور: آپ کے بند ہونے کا ٹائم آ رہا ہے، کچھ لمحوں میں. میرا مطلب ہے… شو کے بند ہونے کا ٹائم آ رہا ہے چند لمحوں میں. ایک آخری سوال. دنیا کے تمام لوٹے آپ کو سن رہے ہیں. اِن کے لئے کوئی پیغام؟

گیسٹ: مغرب میں، پانی استعمال نہیں ہوتا. نایاب سمجھا جاتا ہے.

انور: کیا استعمال ہوتا ہے؟

گیسٹ: ٹشو پیپر.

انور: غصّہ ہوتے ہوۓ …  بڑے شرم کی بات ہے. آپ ایک لوٹے ہیں. آپ نے حکومت گرانے کے لئے پیسہ لیا. آپ کے ساتھیوں نے بھی پیسہ لیا. حکومت گر گئی. عوام نالاں ہیں. آپ اس شو پر اس لئے آۓ کہ عوام کو اپنے کرتوتوں کی صفائی پیش کر سکیں. آپ سوالوں کے جواب صحیح صحیح دیں.

گیسٹ: دونو ہاتھوں کو سامنے مَلّتے اور جھاڑتے ہوۓ … یہ لو، صفائی پیش ہو گئی. اب تم تاریخ کے کسی ناقص سے صفہ پہ لکھ دو کہ ہم نے تمھارے ہیرو پرائم منسٹر کی حکومت مل کر صاف کر دی، اس ٹیبل کی طرح. اور یہ یاد رکھو کہ تاریخ اپنے آپ کو پھر دوہراتی ہے. ونس مور. ونس مور.

انور: تاریخیں لگنے والی ہیں. آئندہ ونس مور نہیں ہوا کرے گا. معاشرہ اب جاگ چکا ہے. لوٹوں کی اب کوئی جگہ نہیں. پاکستان بدل چکا ہے.

گیسٹ: انور اگر اوپر والے کو منظور ہو تو راستہ نکل آتا ہے.

انور: آپ کا اشارہ وردی کی طرف ہے؟

گیسٹ: اپنی طرف اشارہ کرتے ہوۓ … ایم ری کا.

انور: امریکا کیوں نہیں کہتے؟

گیسٹ: وہ بات یہ ہے مسٹر انور، بیگم مجھے محبت سے ’ایم ری کا‘ پُکارتی ہے. وہ کہتی ہے کہ چاہے تم کو امریکا جا کر ٹیکسی ہی کیوں نہ چلانی پڑے، تم امریکا چلو. اور میں کہتا ہوں کہ جو عزت امریکا نے ہمیں یہاں دی ہے، وہ وہاں جا کر کیوں کھو دوں؟ پھر اسے میں بیلینس دکھا دیتا ہوں. اور وہ محبت سے کہتی ہے ’میرے ایم ری کا‘.

انور مقصود صاھب کے دونو ہاتھ اپنے سر پر ہیں. سین ان کی طرف کٹ ہوتا ہے تو وہ سر اٹھا کر کیمرے میں کہتے ہیں.

انور: آپ نے لوٹے کو اتنا بیباک کبھی نہیں پایا ہو گا. ہر دور میں لوٹا  ابھر کر ایک منفرد انداز میں نمودار ہوتا ہے. آپ نے دیکھا کہ اس بار لوٹے استعمال نہیں ہوۓ، صرف دکھائے گۓ اور حکومت گر گئی. آج ہم نے آپ کی ملاقات ایک ایسے ہی لوٹے سے کرائی. امید ہے آپ ان سے متاثر، … معاف کیجیے گا، ان سے محظوظ ضرور ہوۓ ہوں گے. اگلی بار تک کے لئے خدا حافظ.

پرورگام آف ایئر ہو جاتا ہے. گیسٹ ایک آخری جملہ کہتے ہیں.

گیسٹ: ویسے انور، میں بھول گیا… ٹشو پیپر کے علاوہ باہر بِڈڈے بھی ہوتا ہے. آرام سے بیٹھو. بٹن دباؤ. پانی آتا ہے. اور بٹن دباؤ، اور پانی آتا ہے. اور اگر پانی ٹھنڈا ہو تو، کانپیں ٹانگیں. سمجھے نہ؟

انور: خدا کا شکر، شو  آف ایر ہو گیا…

مصنف کا نوٹ: یہ تحریر ٣ اپریل ٢٠٢٢ سے ٢٤ اپریل ٢٠٢٢ کے بیچ لکھی گئی تھی.

6 thoughts on “ڈیڑھ لوٹا”

  1. Brilliant…

    Reminded me of old days. Very well scripted and seems ot the same writer. AALA !!!

    Keep this show continue and name it

    STUDIO PONAY CHAAR

    Reply
  2. Finally I managed 😜 very well written 👍🏻 A good combo of current affairs and humor with bit of satire…Keep up the good work 👏🏻👏🏻👏🏻

    Reply

Leave a Comment